حضرت جی مولانا محمد یوسف رحمۃ اللہ علیہ - سید متین احمد شاہ

حضرت پیرِ ہندی رحمۃ اللہ علیہ ’’زبورِ عجم‘‘ کے دوسرے حصے کی غزل 12 میں فرماتے ہیں:


عمرہا درکعبہ وبُت خانہ می نالَد حیات

تازِ بزمِ عشق یک داناے راز آید بروں

طرحِ نوَ می افگنَد اندر ضمیرِ کائنات

نالہ ہاکز سینۂ اہلِ نیاز آیَد بروں


(زندگی ہزروں برس کعبہ و بت خانہ میں فریاد کرتی ہے، تب کہیں جا کر عشق کی محفل سے کوئی داناے راز ظاہر ہوتا ہے۔ اہلِ نیاز کے سینوں سے جو نالے بلند ہوتے ہیں، وہ کائنات کے ضمیر میں ایک نیا طرز استوار کرتے ہیں۔)

حیاتِ انسانی کا ظاہر و باطن جب معاصی کی گرمی سے جھلس جاتا ہے، انسان اپنے خالق کو پہچاننے کے بجائے مخلوق کو اپنا قبلہ و کعبہ بنا لیتا ہے اور قلبِ انسانی کا ریگ زار ہدایتِ سماوی کی بارش کو ترس جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا غیبی نظام ِرحمت جوش میں آتا ہے، اس صحرا میں کوئی مردِ قلندر اپنی صدا بلند کرتا ہے جس کے سوزِ یقین، گرمیِ افکار اور دردِ دل سے انسانی دلوں کی بنجر کھیتی لہلہا اٹھتی ہے، صورتوں کے بجائے صورتوں کے کردگار سے شیفتگی پیدا ہو جاتی ہے، دنیا کے بجائے جنت کی تمنا زندہ ہوتی ہے، قلب گرما جاتے ہیں اور روح تڑپ اٹھتی ہے۔ اسی طرح کا ایک نظامِ رحمت اللہ نے اپنے ایک نحیف و نزار جسم والے بندے مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے جاری کروایا، جس نے اپنی دعوت کی محنت سے ایک عالم کے انسانوں کے لہو کو سوزِ یقیں سے گرمایا۔ اس مردِ قلندر کو اللہ نے ایک بیٹا ایسا فقید المثال اور عجیب کمالات کا حامل دیا جسے مولانا الیاس ؒ والی ایمانی محنت کرنے والے بندے ’’حضرت جیؒ‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں، اس بیٹے کا حقیقی نام محمد یوسف تھا۔

حضرت جی ؒ مولانا محمد یوسف (1917ء- 1965ء) کی تفصیلی اور ضخیم سوانح حیات، مولانا سید محمد ثانی حسنیؒ کے قلم سے ہے، جسے اس داناے راز سے محبت رکھنے والے ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح ماہ نامہ’’ الفرقان‘‘ کی آپ پر خصوصی اشاعت بھی اس سلسلے کی خاص چیز ہے۔ یہاں ان کے یومِ وفات (2 اپریل 1965ء) کی مناسبت سے ان کے کچھ علمی و عملی اوصاف کا تذکرہ کیا جاتا ہے کہ اس پست ہمتی کے دور میں اربابِ عزیمت کی سیرتوں کا مشک بار تذکرہ ہمتوں کو جلا بخشتا ہے اور شمعِ ایمانی کو فروزاں کرتا ہے۔

حضرت جی مولانا محمد یوسف 2 مارچ 1917ء کو پیدا ہوئے۔ اپنے والد مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد 12 جولائی 1944ء کو تبلیغ کا کام سنبھالا اور اکیس سال تک برابر اسی کام میں لگے رہے۔ اس مختصر مدت میں اتنی زبردست کامیابی حاصل کی کہ وہ تحریک جو میوات کے ان پڑھ مسلمانوں کو کلمہ و نماز سکھانے کی تحریک کے نام سے مشہور تھی، اس کو پہلے ملکی اور پھر بین الاقوامی تحریک بنا دیا اور ہر طبقہ اور ہر ذہنی سطح کے لوگوں کو اس کثرت سے متاثر کیا کہ ایک بزرگ کے الفاظ میں ’’اس کی نظیر قریب کی پچھلی صدیوں میں مشکل سے ملے گی۔‘‘ (مولانا وحید الدین خان ، ’’تبلیغی تحریک‘‘، ص 36)

مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ کی وفات سے پہلے حضرت جیؒ کا زیادہ تر انہماک علمی کاموں میں تھا۔ آپ نے حدیث کی مشکل کتاب ’’شرح معانی الآثار‘‘ کی شرح ’’امانی الاحبار‘‘ کے نام سے لکھی اور اس کے ساتھ ’’حیات الصحابہ‘‘ جیسی کتاب بھی لکھی۔ اکتوبر 1999ء میں حضرت مولانا طارق جمیل صاحب (جن کی دعوتی تاثیر اور دعا کی تڑپ میں مولانا محمد یوسف ؒ کے کمال کا عکس نظر آتا ہے۔) نے جامعہ فریدیہ اسلام آباد میں ایک بیان کیا جسے راقم اپنے درسِ نظامی کے سفر کے دوران میں اکثر سنتا رہا ہے۔ اس میں مولانا نے فرمایا کہ جب ان کی کتاب ’’حیات الصحابہ‘‘ بعض عرب علماء نے دیکھی تو انھوں نے کہا تھا: كاد الرجل أن يكون مجتھدا (یہ شخص تو مجتہد ہونے کے قریب ہے۔)
اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں قدیم سوانحی کتابوں (جیسے امام ذہبی کی ’’سیر اعلام النبلاء‘‘) کی طرح ایسے نہیں کیا گیا کہ ایک شخصیت کا نام لے کر اس کے احوال جمع کر دیے جائیں، بلکہ اس کی تین ضخیم جلدوں میں حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی زندگیوں سے علم وعمل کے عناوین قائم کر کے ان کے تحت احوال درج کیے ہیں۔ یہ کام اس اعتبار سے بہت مشکل اور پتا ماری کا ہے کہ ایک عنوان کے تحت کئی کئی مصادر کو کھنکال کر گوہر مقصود کو یک جا کرنا ہوتا ہے جو حدیث، سیرت، تاریخ وغیرہ کے مصادر پر نہایت وسیع نظر اور عمیق دست رس کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ حضرات صحابہ کی زندگیوں سے اس غیر معمولی شغف کی وجہ سے حضرت جی ؒ کے بارے میں مولانا علی میاں ؒفرماتے ہیں کہ وہ ان واقعات سے ایسے ایسے نتائج کا استخراج کرتے تھے کہ حیرانی ہوتی تھی۔

مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’پرانے چراغ‘‘ میں حضرت جیؒ کے بارے میں فرمایا ہے کہ میں نے عالمِ اسلام کے بہت سے لوگوں کو دیکھا اور پڑھا ہے اور اس وسیع واقفیت کے بعد یہ کہنے کی جرأت کرتا ہوں کہ ’’ایمان بالغیب کی دعوت، دعوت کے شغف اور انہماک اور تاثیر کی وسعت و قوت میں اس ناکارہ نے اس دور میں مولانا محمد یوسف صاحب ؒ کا کوئی ہمسر اور مقابل نہیں دیکھا۔‘‘ ۔۔۔ ’’ان کی ان مجالس میں کبھی کبھی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے مجالسِ وعظ کی جھلک نظر آنے لگتی تھی، جن کی غیر اللہ کی نفی سے لبریز تقریروں نے ہزاروں دلوں اور دماغوں پر گہری چوٹ لگائی۔‘‘ (مولانا ابوالحسن علی ندوی، ’’پرانے چراغ‘‘، ج3 ، ص 65، 66۔ یہ تعزیت نامہ، حضرت جی کی سوانح از مولانا محمد ثانی حسنی ؒ کے مقدمے کے طور پر شامل ہے۔)

حضرت جیؒ کی وفات کے موقع پر مولانا امین احسن اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ نے ماہ نامہ ’’میثاق‘‘ میں ایک خوب صورت تعزیت نامہ لکھا، جس میں ان کے اخلاص للہ اور دعوتی کمال پر روشنی پڑتی ہے۔ مولاناا صلاحی فرماتے ہیں:
’’مولانا مرحوم کو اپنے مقصدِ زندگی، تبلیغِ دین سے جو سچا لگاؤ تھا، اس کی مثال مشکل ہی سے مل سکے گی۔ وہ اس معاملے میں اپنے نامور باپ مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کے سچے جانشین تھے۔ وہ ایک لمحہ بھی اس مشن سے الگ ہو کر زندگی گزارنا گناہ سمجھتے تھے۔ ان کی تقریروں کے فقرے فقرے سے ان کی طبیعت کا جوش اور عزم ابلتا تھا۔ ان کے وعظ و بیان میں ایسی تاثیر و تسخیر تھی کہ وہ عام آدمیوں کے اندر سے تبلیغ و دعوت کے لیے بے شمار بوڑھوں اور جوانوں کو کھینچ لیتے تھے۔‘‘
حضرت جی کی مرجعیت کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’میں نے محسوس کیا کہ (تبلیغی اجتماع میں) صرف عوام ہی نہیں ہوتے، بلکہ علماء، طلبہ، جدید تعلیم یافتہ، تاجر، کاروباری، ملازمت پیشہ غرض ہر طبقے کے لوگ ہوتے ہیں اور ان سب کو ایک جنگل میں کھینچ کر جمع کر لینے والی ہستی صرف مولانا مرحوم کی پر کشش ہستی تھی۔ بس ان کا نام سن کر لوگ جمع ہو جاتے تھے اور ان کے وعظوں سے بہتوں کے اندر تبلیغِ دین کے لیے اتنی گرمی پیدا ہو جاتی تھی جو سال بھر ان کو متحرک رکھتی تھی۔ ایسی بافیض ہستی کا اچانک ہمارے اندر سے یوں اٹھ جانا دینی نقطۂ سے ایک عظیم سانحہ ہے۔ اس زمانے میں دین کے نام پر کاروبار کرنے والوں کی تو کمی نہیں ہے، لیکن بے لوث و بے غرض اور صرف اجرِ آخرت کے لیے کام کرنے والوں کی بڑی کمی ہے۔ مولانا مرحوم دین کے ایک بےغرض و بے لوث خدمت گزار تھے جن کی بے نفسی و بےلوثی کا گہرا اثر دوسروں تک متعدی ہوتا تھا۔‘‘ (مولانا امین احسن اصلاحی،’’ مقالاتِ اصلاحی‘‘، مقالہ 42، ج 2، ص 417)

حضرت جی کا آخری سفر براستہ لاہور ڈھاکہ کے اجتماع میں شرکت کے لیے تھا۔ اللہ سے سچی محبت رکھنے والوں کی زندگی کے آخری دور کے احوال کی ادا ادا سے ان کے کوچ کرنے کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور یہ چیز اہلِ دل کے سوانحی تذکروں میں جا بجا ملتی ہے۔ حضرت جیؒ کے اس سفر کے بارے میں میاں جی محمد عیسی (بستی نظام الدین دھلی) نے ایک مختصر کتابچہ قلم بند کیا ہے۔ حضرت جی ؒ کی صحت بالکل اچھی تھی اور ابھی، مولانا اصلاحیؒ کے بقول جوانوں میں شمار کیے جانے کے مستحق تھے، لیکن اس آخری سفر میں ان کے احوال کی اداؤں سے لگتا ہے کہ وہ اپنی امانت سپرد کر چکے، اللہ کے دین کی خاطر جو کچھ کہنا تھا، وہ کہ چکے اور اب ان کا وقتِ رحیل ہے۔ چناں چہ بلال پارک لاہور میں اپنی زندگی کی آخری تقریر کی اور پھر اس کے بعد آخرت کے سفر پر چل دیے۔

آپ کی تقریر اور بیان بالکل سادہ انداز کا ہوتا تھا، لیکن سراپا درد و محبت؛ ایک اسی طرح کے موقع پر ایک بڑے عالم نے کہا کہ اگر میں قسم کھاؤں تو شاید حانث نہیں ہوں گا کہ اس وقت اللہ کی ذات پر اس قدر اعتماد سے بولنے والا شاید کوئی دوسرا نہ ہو۔ حضرت جی ؒ کے ارشادات بے شمار ہیں۔ ایک قول پر اس تحریر کو ختم کیا جاتا ہے۔ دین کی اصل روح، اخلاص کی ان کے ہاں کیا قدر و قیمت تھی، اس حوالے سے مولانا وحید الدین خان ان کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’جب تک یقین اور علمِ نبوت کے مطابق عبادات درست نہ ہو جائیں، اخلاق نہیں آتے اور جب تک ہم میں اخلاق نہیں آئیں گے، دوسروں تک دین نہیں پھیلے گا۔ اغراض کے لیے کسی سے سلوک کرنا اخلاق نہیں ہے، بلکہ کوئی کام بھی جب تک اس میں اخلاص نہ ہو، اس کی قطعا کوئی قیمت نہیں ہے۔ عمل اخلاص کے بغیر مردہ ہے اور دیکھو! گھروں، بازاروں، دفتروں، یہاں تک کہ مدارس ومساجد میں بھی ایسے مرداروں کے ڈھیر لگ رہے ہیں۔‘‘(تبلیغی تحریک، ص 44)


زندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ تر

خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر

مثل ایوانِ سحر مرقد فروزاں ہو ترا

نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے