1979ء کی تدفین - مفتی منیب الرحمن

یہ سطور میں اہل سنت کے جواں عمر علماء کے لیے لکھ رہا ہوں۔ ہمارے علماء اپنی دنیا میں مگن ہیں، یہ امریکہ اور برطانیہ میں ہوں یا پاکستان میں، گرد و پیش سے بے نیاز رہتے ہیں، ’’سُکھیکی‘‘ میں رہتے ہیں، امت کے دکھ درد کو محسوس کر کے اپنا سکون برباد نہیں کرتے، سوشل میڈیا پر بھی ان کی اپنی دنیا ہے، ایک دوسرے کا مذاق اڑانے یا دامن تارتار کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ دوسری طرف جہادی فکر کے علمبردار ہیں، انہوں نے اپنی سوچ کے مطابق باطل کو فیصلہ کن شکست دے دی ہے اور صفحۂ ہستی سے ان کا نام و نشان مٹ جانا زیادہ دور کی بات نہیں ہے۔

1979ء میں جب صدام حسین نے ایران پر حملہ کیا اور سوویت یونین نے افغانستان پر یلغار کی، یہ جدید جہادی فکر کا نقطۂ آغاز تھا، اس واقعے کو تقریباً انتالیس سال بیت چکے ہیں۔ اس دوران افغانستان، عراق، لیبیا اور شام وغیرہ میں تباہی و بربادی، جانی ومالی نقصان کے صحیح اعداد و شمارکہیں بھی میسر نہیں ہیں، بعض رپورٹس کے مطابق مجموعی جانی نقصان مِلین سے متجاوز ہے۔ ہمارے پاس خبریں مغربی میڈیا کے توسّط ہی سے آتی ہیں، ہمارا اپنا کوئی رپورٹر یا نمائندہ برسرِ زمین موجود نہیں ہوتا۔ مصر میں بھی عارضی طور پر جمہوریت قائم ہوئی اور جمہور اب تک اس کی قیمت چکا رہے ہیں۔ پاکستان ایران اور افغانستان کا براہِ راست پڑوسی، ترکی اور سعودی عرب کا قریبی اتحادی اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا شریکِ کار ہونے کی وجہ سے اس تباہی کے اثرات سے محفوظ نہیں ہے، ہمارے جانی و مالی نقصانات کے بھی صحیح اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں، بس اندازے ہیں، قیاسات ہیں اور دعوے ہیں ۔

ساٹھ اور ستّر کے عشرے میں جب ہمارے ہاں ایشیا سبز ہے، ایشیا سرخ ہے، لہو کا رنگ سرخ ہے وغیرہ کے نعرے لگ رہے تھے، اس وقت بائیں بازو کے صحافی اور دانشور مذہبی جماعتوں اور علماء کو سامراج کا ایجنٹ قرار دیتے تھے۔ جب بائیں بازو کے دانشوروں سے مکالمہ ہوتا تو وہ جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کو امریکہ کا ایجنٹ قرار دیتے اور یہ کہ انہیں وسائل امریکہ مہیا کر رہا ہے، ان سے پوچھا جاتا کہ اس کا طریقہ کیا ہے، وہ کہتے: امریکی مولانا مودودی کی کتابیں بڑی تعداد میں چھپواکر خریدتے ہیں اور پھر سمندر برد کر دیتے ہیں اور جماعت کو وسائل ملتے رہتے ہیں۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اگر یہ الزام درست ہے توبراہِ راست نوازشات میں امریکہ کے لیے کیا مشکل تھی۔ اگر یہ سوال کیا جاتا کہ شاہِ ایران جب امریکہ اور مغرب کا انتہائی وفادار، ان کی تہذیب کا علمبردار اور اس خطے میں ان کا پولیس مین ہے، تو امریکہ اس کے خلاف تحریک کو کیوں پنپنے دے رہا ہے، تو ہمارے دانشور جواب دیتے کہ ملّا آخر میں امریکہ کی گود میں بیٹھ جائیں گے، اس لیے امریکہ اس پر مطمئن ہے کہ لوگوں کے دلوں کا غبار بھی نکل جائے گا اور اس خطے میں امریکی مفادات کو کوئی زَک بھی نہیں پہنچے گی۔ لیکن بالآخر اس کے برعکس ہوگیا، ایران کی مذہبی حکومت کا امریکہ سے تصادم شروع ہوا جو اب تک جاری ہے، ایران میں حکومت کے خلاف جو ارتعاش زیرِ زمیں نمو پا رہا تھا، اب اس کی لہریں برسرِ زمین نمودار ہو رہی ہیں۔ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ ایران نے سعودی عرب کے خلاف اپناحلقۂ اثر بڑھانے کے لیے اپنے آپ کو مشرقِ وُسطیٰ میں بہت زیادہ مصروف کر لیا ہے اور اب اس کی معیشت بہت دباؤ میں ہے، مہنگائی اور بےروزگاری کے سبب عوام کے ضبط کا بندھن ٹوٹ رہا ہے۔ یہ امر تو عیاں ہے کہ دوسرے ملکوں میں لڑی جانے والی بلا واسطہ یا بالواسطہ جنگ بہت مہنگی پڑتی ہے، اس کا دباؤ امریکہ بھی محسوس کر رہا ہے، سوویت یونین تو اسی کے بوجھ تلے شکست و ریخت سے دوچار ہوگیا۔ اب ایسے اشارات مل رہے ہیں کہ ایران اور سعودی عرب میں تبدیلیاں وقوع پذیر ہونے جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر پاکستان کا خوبصورت ادھورا حصہ - ملک صداقت فرحان

ٹامس فرائیڈمین امریکہ کے نامور مصنف اور صحافی ہیں، حال ہی میں ان کا ایک آرٹیکل ’’ایرانی اور سعودی نوجوان 1979ء کو بھول جائیں‘‘ کے عنوان سے نظر سے گزرا۔ یہ اصحابِ بصیرت کے لیے چشم کشا ہے اور اس میں مسلم دنیا کی نوجوان نسل کو اسلام کی لبرل تعبیر کی امید دلائی گئی ہے۔ یہ تاثر دیا گیا ہے کہ 1979ء عالم اسلام میں مذہبی تصلُّب اور شدت پسند تبدیلیوں کے لیے ایک سنگِ میل تھا، مگر اب اس کی تدفین ہو رہی ہے اور اس کے بطن سے ایک نئی اور روشن خیال مسلم دنیا وجود میں آ رہی ہے۔ ٹامس فرائیڈمین لکھتے ہیں:
’’لیکن اب ایران اور سعودی عرب میں کچھ چیزیں مشترک ہیں، ان کی آبادیوں کی اکثریت کی عمریں تیس سال سے کم ہیں، سوشل میڈیا نیٹ ورک اور اسمارٹ فون کے ذریعے نوجوان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کی بڑی تعداد اس بات سے تنگ ہے کہ بدعنوان اور گلا گھونٹنے والے علماء کے ذریعے انہیں بتایا جائے گا کہ اپنی زندگی کیسے گزاریں، وہ 1979ء کے ماضی کو دفن کرنا چاہتے ہیں اور ہر اس چیز کو دفن کرنا چاہتے ہیں جو 1979ء کے واقعات کے ردِّ عمل کے نتیجے میں ظہور میں آئی ہے‘‘،
وہ لکھتے ہیں:
’’ایران میں پہلی مرتبہ ’’مرگ بر حزب اللہ‘‘ اور ’’مرگ بر آمر‘‘ کے نعرے لگے۔ میں سعودی عرب گیا تو نوجوانوں کے یہ خیالات سنے: ’’میں چاہتی ہوں کہ مولوی میرے سامنے سے ہٹ جائیں، میں اپنی زندگی بغیر کسی مداخلت کے گزارنا چاہتی ہوں، میں اپنی قوت کو بھرپورطریقے سے عمل میں لانا چاہتی ہوں، میں چاہتی ہوں کنسرٹس میں جاؤں، اپنی گاڑی چلاؤں، اپنا کاروبار کروں، صنفِ مخالف سے میل جول رکھوں، سینما دیکھوں‘‘،
فرائیڈمین لکھتے ہیں:
’’مذہبی پولیس کو بازاروں سے ہٹانا، سعودی عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دینا، علماء ومفتیان کی طاقت کو محدود کرنا، عورتوں کو اجازت دینا کہ مردوں کے ساتھ کھیلوں میں حصہ لے سکیں، سینما گھر کھولنا، مغربی اور عرب فنکاروں کو اجازت دینا کہ وہ مملکت میں آ کر اپنے فن کا مظاہرہ کریں، اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ سعودی عرب میں قدامت پسندی کوماڈریٹ اسلام میں تبدیل کردیں گے، یہی محمد بن سلمان کا وژن 2030ء ہے ۔ محمد بن سلمان درحقیقت چین کی طرح ’’ایک ملک دو نظام‘‘ کے خاکے کا سعودی چربہ تیار کر رہے ہیں۔ مجھ سے ایک سعودی تاجر نے کہا: محمد بن سلمان کا وژن یہ ہے: ’’اگر آپ مذہبی ہیں اور مکہ جانا چاہتے ہیں تو آپ کو راستہ ہموار ملے گا اور اگر آپ ڈزنی ورلڈ جانا چاہتے ہیں تو آپ کے لیے وہاں جانے میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی‘‘۔
یہ وہی وژن ہے جو ماضی میں ہماری فلموں میں دکھایا جاتا تھا: ایک اداکار تھوڑی دیر پہلے چوری کر رہا ہوتا، ڈاکہ ڈال رہاہوتا، کچھ دیر بعد نظر آتا کہ وہ مصلّیٰ بچھائے نماز پڑھ رہا ہے، تسبیح پر ورد کر رہا ہے، کوئی سوال کرتا کہ یہ کیسا تضاد ہے؟ وہ جواب دیتا: وہ میرا پیشہ تھا،یہ میرا مذہب ہے، یعنی اب معاشرے میں خیر و شر کے نفوذ کے لیے یکساں مواقع دستیاب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   نیوزی لینڈ میں کیا اور پاکستان میں کیا ہو رہا ہے! انصار عباسی

اس ثنویت کو قبول کرنے کے لیے ولی عہد محمد بن سلمان نے مذہبی طبقے پر بھی محنت کی ہے، حقیقت یہ ہے کہ مذہبی طبقے میں اب وہ عزیمت نہیں رہی، قانونِ قدرت ہے کہ عشرتیں اور راحتیں انسان کو تن آسان بنا دیتی ہیں اور اس کی مزاحمتی قوت کو مضمحل کر دیتی ہیں، پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ ڈھیر ہوجاتا ہے اور مزاحمت کے بجائے مفاہمت کو قبول کرلیتا ہے تاکہ عشرتیں اور راحتیں جاری رہیں، کیونکہ مزاحمت کی صورت میں عشرتوں سے دستبردار ہونا پڑتا ہے جو مشکل کام ہے، لہٰذا اب عزیمت مفقود ہے۔ جمعرات کے اخبار میں یہ خبر پڑھ لیجیے:
’’سعودی شہزادے محمد بن سلمان نے امریکہ کے اپنے حالیہ دورے میں واشنگٹن پوسٹ کوانٹرویو دیتے ہوئے کہا: ’’سرد جنگ کے دور میں مغرب کی درخواست پر سعودی عرب نے دنیا بھر میں وہابی ازم پھیلانے کے لیے فنڈز فراہم کیے تاکہ سوویت یونین کا مقابلہ کیا جا سکے۔ مغربی اتحادیوں نے سرد جنگ کے دور میں درخواست کی تھی کہ مختلف ملکوں میں مساجد اور مدارس کی تعمیر میں سرمایہ لگایا جائے تاکہ سوویت یونین کی جانب سے مسلم ممالک تک رسائی روکی جاسکے۔ ماضی میں سعودی حکومتیں اس منزل کے حصول میں راستہ بھٹک گئیں، ہمیں واپس صحیح راستے پر آنا ہے۔ قدامت پسند مذہبی رہنماؤں کو میں نے بڑی مشکل سے اس بات پر قائل کیا ہے کہ ایسی سختیاں اسلامی ڈاکٹرائن کا حصہ نہیں ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اسلام سادہ اور دانش مندی پر مبنی مذہب ہے، لیکن کچھ لوگ اسے ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مذہبی علماء کے ساتھ طویل مباحثے مثبت ثابت ہوئے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ مذہبی اسٹبلشمنٹ میں ہمارے اتحادیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔‘‘، یعنی مزاحمت دم توڑ رہی ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ انکشاف کرنے میں تامّل نہیں کیا کہ دنیا بھر میں عالیشان مسجدوں کا پھیلاؤ مغرب کی خواہش پر سوویت یونین کا راستہ روکنے کے لیے تھا، ظاہر ہے کہ عہدِ حاضر میں جہاں مسجد و مدرسہ بنے گا، اس کا جواز پیدا کرنے کے لیے مسلک کی چھاپ ضرور ہوگی، چنانچہ برانڈڈ مذہب کی مارکیٹنگ ناگزیر ہوجاتی ہے۔ شہزادے نے سعودی تاریخ میں پہلی بار مذہبی اسٹیبلشمنٹ کا نام لے کر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اب تک سعودی عرب کے مذہبی رہنما کافی طاقتور تھے، وہ مقتدرہ کا حصہ تھے، کیونکہ سعودی حکومت آلِ سعود اور آلِ شیخ کے اشتراک سے قائم ہوئی تھی، ان کے درمیان تقسیمِ اختیارات کی بھی ایک روایت چلی آرہی تھی، مگر اب سب کچھ بدل رہا ہے۔ پس ٹامس فرائیڈ مین نے 1979ء کو مذہبیت کے غلبے کی معراج سے تعبیر کیا اور یہ بتایا کہ مسلمان اب اسے بھول جائیں، وہ لبرل ازم کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کرلیں، مذہب کو اپنی ذات تک محدود رکھیں۔ مسلمانوں سے آج مغرب کا مطالبہ یہی ہے اور اب شہزادہ محمد بن سلمان پورے عزم کے ساتھ اس مشن کو لے کر چل پڑے ہیں، اس سلسلے میں امریکہ ان کا پشتیبان ہے۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.