بہشت کا ٹکٹ - نصرت یوسف

مارچ ہو اور سورج کراچی میں آگ سا لگے تو سمجھ لو کہ بہار یہاں سے کنی کترا کر گزر چکی ہے، اب گرمی مہارانی کا طویل راج چلےگا، جس نے خواتین کے لیے لان تیار کرنے والوں پر دست شفقت رکھ کر آنکھیں موند لی ہیں۔

ہم نے بھی 39 ڈگری پر ہائےگرمی کہتے تیز رفتار گھومتے پنکھے کو اور الماری میں لٹکے کپڑوں کو دیکھا، جو جاذب نظر تو تھے لیکن جاذب گرمی محسوس نہیں ہو رہے تھے۔ حیرت ہے پچھلے برس موسم گرما میں کیا ہم انٹارکٹیکا میں تھے، جو یہ سب بنائے گئے، ہم نے اپنی یادداشت کھنگالی، لیکن نہ اگلو میں رہنا یاد آیا اور نہ برف گاڑی پر پھسلنا۔
''یہ رنگ برنگے سوتی ملبوسات تم انٹارکٹیکا میں پہن کر زندہ رہ جاتیں تو دنیا کے بیوقوف تمھاری پوجا میں لگ جاتے بی بی، اتنا بھی نہ ہا نکو جو دیوانی لگو۔''
دماغ نے خوب جھڑکا اور ہم نے ایک لمبی سانس لے کر فوری طور پر قریبی لگنے والے ہفتہ واری بازار سے لان خریداری کا فیصلہ کر لیا۔ ایسی لان جس کو ہم کچن سے لے کر تپتی دھوپ میں پہن سکیں، ورنہ ایسے سوٹ تو موجود ہی تھے جن کو لان کے نام پر خرید کر اے سی سے باہر آنا سزا لگتی ہے۔ ڈھیروں کڑھائی اور سوت کی کوئی انوکھی سی قسم، گرمی میں سکھ کے بجائے بھرم بازی کی پون۔

چیتا پرنٹ ہو اور نگاہ نہ ٹکے، ذرا کم ہی ہوتا ہے، سو خریداری سے فارغ ہو کر جب دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے ہم واپس آ رہے تھے تو ایک محترمہ کو دھانی رنگ میں خوب پھیلا پھیلا کر دیکھتے پایا، نہ جانے پرنٹ غضب کا تھا یا پسند کا سحر، بس جی، دل اٹک گیا۔ قیمت پوچھی تو حیرت ہوئی، اس بازار کی عمومی قیمت سے بڑھ کر تھی، نہ کپڑے کا فرق اور نہ طول و عرض کا۔
''بھائی یہ اس قیمت کا کیوں ہے؟'' ہم نے معلوم کرنا چاہا۔
بھائی نے خشمگیں نگاہ ڈالی اور ہمارے ہاتھ میں تھاما کپڑا اپنی جانب کھینچ لیا۔
''لینا ہے تو لو ورنہ آگے جاؤ، قیمت یہی ہے'' نامناسب لہجے کے ساتھ الفاظ کی مزید 'گلکاری' کرتے حضرت رخ ہی پھیر کر کھڑے ہوگئے۔
ہم نے اپنے اندر ہڑبڑا کر جاگتے طیش کے آتش فشاں کو ہاتھ میں تھامی پانی کی بوتل سے غٹاغٹ پانی چڑھاتے دبایا،
''اب تو نہیں لینا، لیکن اگر آپ تمیز سے معاملہ کرتے تو اچھا ہوتا''
سامنے والے کے فہم کے حساب سے جملہ ادا کرتے ایک اور پانی کا گھونٹ بھرا۔ اس بات کو سن کر وہ حضرت ایسے تڑپ کر مڑے گویا ہم نے ان کی شان میں انتہائی درجہ کی گستاخی کر دی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   بچے،جنت کے پھول- ڈاکٹر ساجد خاکوانی

''تم بی بی تم!'' غصہ کی انتہا کی وجہ سے ان کا جملہ بھی پورا نہ ہوا، ''اب تم جیسے ہمیں گورے کے اخلاق کے قصے سنائیں گے، ان کی تمیز تم لوگوں کے سر چڑھا ہے سر''
انہوں نے یہ کہتے ہوئے پیشانی کو اپنی انگلیوں سے تھپتھپایا اور ناگواری سے ہم پر نگاہ ڈالی۔ قریب سے گزرتا لڑکا بھی یہ ڈرامائی منظر دیکھ کر تھم گیا، ہم نے خفت کی نمی اپنی ہتھلیوں میں پھیلتی محسوس کی اور ان کی بات کو سنی ان سنی کر کے قدم بڑھا دیے تو وہ پھر بول اٹھے،
''جواب دو ہمیں ایک بات کا، پھر جانا''
ہم نے پلٹ کر استہفامیہ انداز میں دیکھا،
''یہ بتاؤ کہ عقیدہ جنت میں لے جائےگا یا اخلاق؟''
''گورا جنت میں جائے گا یا کلمہ پڑھنے والا؟''
''تمیزدار جنتی ہے یا سچا؟''
یہ ایک بات تو نہ تھی، تین باتیں تھیں اور تینوں سمجھنے اور سمجھانے کے لیے نہ وقت تھا اور نہ یہ مقام۔
ہم نے اپنے اطراف پر نگاہ ڈالی، ارد گرد کئی آنکھیں اور کئی کان اس تماشے سے محظوظ ہو رہے تھے۔
سوال کرنے والا فاتحانہ انداز کے ساتھ تھا، جواب بس اتنا تھا؛
''بہشت کا ٹکٹ بس اس کا، فضل جس پر رب کا"

قدم آگے بڑھ چکے تھے لیکن سوالوں نے اللھم لبیک کہنے والی 'نیک امت' کے اسباب زوال کا دیباچہ لکھ ڈالا تھا۔

ٹیگز

Comments

نصرت یوسف

نصرت یوسف

نصرت یوسف جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل ہیں. تنقیدی اور تجزیاتی ذہن پایا ہے. سماج کو آئینہ دکھانے کے لیے فکشن لکھتی ہیں مگر حقیقت سے قریب تر. ادب اور صحافت کی تربیت کے لیے قائم ادارے پرورش لوح قلم کی جنرل سیکریٹری ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.