غیبت و عیب جوئی اور مکافات ِعمل کی سائنس - مجیب الحق حقی

کسی کی غیر موجودگی میں اس پر تنقید کرنا یا اس کے عیوب کا تذکرہ کرنے کو اخلاقی طور پر غلط کہا جاتاہے۔ قرآن میں بھی غیبت کی مذمّت کے لیے ایک بہت کریہہ مثال دی گئی کہ ایسا کرنا اپنے مرے بھائی کا گوشت کھانا ہے۔
" اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ دیکھو، تم خود اس سے گِھن کھاتے ہو۔ اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے۔" (الحجرات)

مزید یہ کہ انسان کو جتایا بھی گیا کہ اس کائنات میں تم کوئی غلطی تلاش نہیں کرسکتے۔
"جس نے تہ بر تہ سات آسمان بنائے۔ تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کی بےربطی نہ پاؤگے۔ پھر پلٹ کر دیکھو، کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟ بار بار نگاہ دوڑاؤ، تمہای نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئے گی۔" (الملک)

انسان کو یہ بھی بتا دیا گیا کہ انسان کی اپنی ساخت کی مینا کاری بہترین اجزاء سے کی گئی۔
لَقد خَلقنا الانسانَ فی احسنِ تقویِم (التّین)
"ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا"

کبھی آپ نے غور کیا کہ کسی کی عیب جوئی کو اللہ نے کیوں اتنا ناپسند کیا؟
یہ ہمارا تکبّر ہے جو کسی کی عیب جوئی کر کے تسکین پاتا ہے۔
دیکھیں جناب!
اللہ نے کائنات اور اس میں موجود تمام اقسام ِ زندگی بےعیب و پرفیکٹ بنائی ہیں، لہٰذا جب ہم کسی کی شکل کا مذاق اُڑاتے ہیں یا کسی جسمانی کمی پر ہنستے یا تبصرہ کرتے ہیں یا کسی کی عیب جوئی کرتے ہیں کہ اس میں فلاں فلاں خامیاں ہیں تو ہم بالواسطہ خالق پر تنقید کے مجرم بھی بنتے ہیں۔ کیا یہ خالق پر تنقید نہیں؟ یہ تو انسان کی اپنی فطرت بھی ہے کہ کوئی مالک یا چیف ایگزیکٹو اپنے کسی ملازم کی تنقید درگزر نہیں کر تا تو بھلا خدا اپنے پر تنقید کو کیسے نظرانداز کر سکتا ہے۔

اب اس معاملے میں یہاں پر ہماری توجّہ کا مرکز قرآن کا یہ فرمان ہے کہ:
وماَ اصاَبکُم مِن مّصیبۃ فبِما کسبَت اَیدیِکم ( الشوریٰ ۳۰:)
تم پر جو مصیبت آئی تمھارے ہاتھوں کی کمائی سے آئی۔"

یعنی انسان پر کوئی برا وقت اس کے اعمال کی وجہ سے آتا ہے۔ ہمارے اعمال میں اخلاقیات اور معاشی و معاشرتی رویّے شامل ہیں۔ غیبت کے حوالے سے دیکھیں تو قرآن کے فرمان کی روشنی میں اس غلط فعل کا نتیجہ بھی کسی نہ کسی مصیبت یا پریشانی کی شکل میں آسکتا ہے۔ مثلاً کیا خبر کہ کسی کی پیٹھ پیچھے برائی انسان کو خود بھی رفتہ رفتہ بے سکون کرتی ہو! بےسکون ہونا بھی برا وقت ہی ہے۔ یا اس معاملے میں حد سےگزرنے والا رسوا بھی ہو سکتا ہے۔ بہت سی ضرب المثال اسی پیرائے میں انسان کے تجربات کے تئیں مشہور ہیں مثلاً انسان جیسا بوتا ہے ویسا ہی کاٹتا ہے، آج کا دیا کل کام آئے گا، برے کام کا برا نتیجہ، اسی ردّعمل کے نظام کی سمت اشارہ کرتی ہیں۔ یعنی انسانی تجربات تصدیق کر رہے ہیں کہ ردّعمل کا کوئی نظام ہے۔ ہماری دلچسپی یہ ہے کہ اگر ایسا ہے تو اس کی سائنس کیا ہے؟ ممکن ہے کہ ایسے سسٹم کی جانکاری ہمارے لیے مثبت ثابت ہو اور اس کو کچھ سمجھ کر شاید ہم اپنے اعمال میں محتاط ہوجائیں۔

آئیں اس کو سمجھنے کے لیے اس قرآنی فرمان کی روشنی میں ایک مفروضے کے تحت غور کرتے ہیں اور وہ یہ کہ:
"عمل ایک غیر مرئی اورغیر مادّی مظہر ہے جو کائنات کے پسِ پردہ سسٹم میں نفوذ کی طاقت رکھتا ہے اور کسی ممکنہ ردّعمل کے پیرائے تشکیل دیتا ہے۔"
گویاردّعمل ایک ایسا بائی پراڈکٹ، مظہری ا توانائی ہے جو خود کو کسی عمل یا مظہر کی شکل میں عیاں کرتا ہے۔
یہ تو ہوا ردّعمل کی پیرا سائنس کا نظریہ یا مفروضہ۔
اس مفروضے کی سائنسی دلیل یہ ہے کہ سائنسی تشریح کے مطابق ہمارے خیالات جو کسی بھی عمل کی بنیاد بنتے ہیں کسی "انجانی تحریک" پر کیمیائی ری ایکشن سے پیدا ہوتے ہیں اور اس انجانے مظہر کا علم فی الوقت جدید سائنس کو نہیں۔ لہٰذاجس عمل کے منبع کا علم جدید علوم کے حاملین کو نہیں وہ بالیقین کوئی پیرا سائنس parascience ہی ہوسکتی ہے۔ لہٰذا ہمارا مذکورہ بالا مفروضہ غیر سائنسی بھی نہیں بلکہ انسانی خیالات کے منبع کے حوالے سے سائنسی ابہام کا ایک منطقی جواب بھی ہوسکتا ہے۔

وضاحت اس کی یہ ہے کہ عمل اور ردّعمل کا ایک خفیہ نظام ہمارے چاروں طرف فعّال ہے۔ یہ کوئی ایسا ہائی ٹیک سسٹم ہے جس کے پیرائے ابھی ہمارے علم سے باہر ہیں جس کی وجہ سے ہم اس بات کو نہیں جان پائے کہ کسی عمل کی کوئی پیرا فزیکل ہیئت بھی ہوسکتی ہے یا نہیں۔ اس کو ذرا آسان طریقے سے یوں سمجھیں کہ عمل ایک فعّال مظہر ہے جو انسان خود پیدا کرتا ہے۔ یعنی ہر عمل کے ساتھ نظر نہ آنے والی کوئی انجانی فریکوئنسی ایک دورخی فعّال active ہیولے کی طرح انسان کی ذات کے ساتھ منسلک رہتی ہے اور اپنی اچھی یا بری سرشت کے تئیں محدود دائرے میں اطراف کے ماحولیاتی نظام اور دیگر انسانوں کے خیالات و جذبات پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ دو رخی (مثبت و منفی) ہیولا انسان کے ہر ہر عمل کے بموجب کسی مثبت یا منفی ردّ عمل سے چارج ہو کر اس کو نشر کرتا رہتا ہے۔ یہ انوکھا مقناطیسی یا پیرا مقناطیسی چارج یا توانائی اطراف کے افراد اور انسان کے متعلقہ رشتوں کے دماغ میں سرائیت کرکے ویسے ہی جذبات اور اعمال کی تحریک پیدا کرنے کی سرشت رکھتا ہے۔ مثلاً ایک مثبت پیرا مقناطیسی paramagnetic لہر یا توانائی دوسرے انسانوں میں اپنی کمیّت کے حساب سے مثبت جذبات اور عمل کی ایک لہر کو جنم دے گی جس کے خوشگوار اثرات انسان کے اندر اور چہرے پر قدرتاً ظاہر ہوں گے۔ منفی اعمال، منفی چارج اور عمل کی تحریک پیدا کریں گے جس سے دوسرے انسان قدرتاً منفی ردّعمل دینے کی طرف مائل ہوں گے۔ یا اس کی دوسری ممکنہ تشریح یہ ہو سکتی ہے کہ ہمارا ہر عمل فضا میں ایک مثبت اور منفی لہر کو جنم دیتا ہے جو ہماری ذات کا ایک کوڈ لیکر فضا میں بکھر تو جاتی ہے لیکن ہماری فریکوئنسی سے منسلک و آشنا ہوتی ہے۔ یہ لہر دوسرے انسانوں کے خیالات میں ہمارے متعلق مثبت اور منفی جذبات کی تحریک کا باعث بنتی ہے اور ویسا ہی کوئی ردّ عمل ہماری فریکوئنسی پر سفر کرتا ہم تک واپس آن پہنچتا ہے۔ واپسی کا یہ سفر مستقبل میں وقت کے کسی بھی نامعلوم ثانیے میں ظاہر ہوتا ہے۔ گویا یہ ارتعاش کسی نامعلوم وقتی ضابطے کا پابند ہے جو مخفی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   شعور کے مراحل اور کامیابی کا راستہ - سید قاسم علی شاہ

مزید یوں سمجھیں کہ ہر شخص اپنے شجرے یا اپنی نسلی لائن lineage کی ایک شاخ ہے جو نسلِ انسانی میں ایک تشخّص رکھتی ہے، یہی کسی فرد کا نسلی کوڈ یا فریکوئنسی ٹاور ہے جو اس کے اعمال کے تئیں مثبت اور منفی اعمال کے سگنل بھیج اور وصول رہا ہے۔ یہی سگنل اس درخت کی ہر شاخ کی آبیاری کرتے ہیں جس کے تئیں وہ درخت میٹھے اور کڑوے پھل دیتا ہے۔ اب ہر شخص جس جس عمل سے منسلک ہے، وہ اس کے بموجب پھل پاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماں باپ اور اجداد کے اچھے اور برے اعمال کی لہریں بھی کہیں سے اچھے یا برے اثرات لیکر پلٹ کر آتی ہیں، اور اسی ارتعاشی محور پر آکر ردّعمل کا چکّر مکمّل کرتی ہیں۔ اسی نظام کے تحت ایک جابر و ظالم انسان کی اولاد انہی حالات سے دوچار ہوسکتی ہے کہ جیسے معاملات وہ دوسروں سے کرتا رہا، یا ایک حرام کی دولت سے پلنے والی اولاد خود اپنے ماں باپ سے سرکش ہوسکتی ہے۔ کسی نیک انسان کی بے لوث نیکیاں اور خدمت خلق اس کی آئندہ نسلوں کو فیض پہنچاتی رہتی ہیں۔ ہاں مگر کوئی برے افعال کا خوگر ہوتے ہوئے حالات کے بھنور سے بچ رہا ہے تو اس فریکوئنسی پر یہ اس کے والدین اور اجداد کے ممکنہ طاقتور مثبت اعمال کی ڈھال بھی ہو سکتی ہے۔

مزید غور کریں تو ہمارے اعمال ہی دنیا کی ہلچل کی بنیاد ہیں ورنہ کائنات اور زندگی ساکت رہتے۔ اس اہم ترین مظہر یعنی عمل کی درست ادائیگی کی سمت کے تعیّن کے لیے اگر ایک طرف خدا اور رسول کی ہدایات کا دائرہ ہے جس میں انسان کی فلاح کے مثبت اشارے ہوتے ہیں تو دوسری طرف انسانی فکر میں ایک اور منفی قوّت شیطان بھی تصرّف رکھتا ہے جو خیالات پر اثر انداز ہو کر انسان کو نقصانات کی طرف ہانکتا ہے۔ انسان کی زندگی کا یہ کھیل جو اس کے مثبت و منفی اعمال اور ان کے ردّعمل سے منسلک ہے، ہر وقت جاری و ساری ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ردّعمل کی سائنس یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان اپنے لیے عمل ہی نہیں بلکہ اکثر ردّ عمل بھی چن سکتا ہے مثلاً گالی کا ردّعمل گالی ہے، اس ردّعمل کا ردّعمل گالی سے بڑھ کر بھی ہوسکتا ہے، مگر گالی سننے والا غصّے سے پرہیز کرتے ہوئے گالی دینے سے اجتناب کرے اور اس کو نظر انداز کرکے دھیمے لہجے میں کوئی مثبت بات کہے تو اس کا ردّعمل گالی سے مختلف ہوگا۔ غصّے سے بچنے کی ہدایت کے ساتھ ردّعمل کے فطری قوانین کی روشنی میں یہ پیغمبرانہ ہدایت ہے کہ "برائی کا جواب برائی نہیں"۔ حالانکہ یہ ہدایت عام فطری ردّعمل سے ہٹ کر ہے لیکن اپنے اندر فلاح کے سامان لیے ہے۔ اور نبی ﷺ کا یہ فرمان کہ جو کٹے اس سے جُڑو، بھی اپنے اندر ذاتی و معاشرتی فلاح کے خزانے رکھتا ہے، بس یقین اور عمل کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ ابھی ہم نے جانا کہ ہم بہت حد تک دوسروں کا ردّعمل بھی خود چنتے ہیں کے مصداق ہمارا وہ ردّعمل جو رسول ﷺ کی ہدایت کے بموجب ہوگا، اپنے اندر مثبت پیرا مقناطیسی چارج لیے ہوتا ہے، جو دوسروں پر مثبت اثر ڈال کر شیطانی اور منفی اعمال کو ہی زائل کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   شعور کے مراحل اور کامیابی کا راستہ - سید قاسم علی شاہ

قرآن کے ردّعمل کے اس انتباہ کو کل انسانیت پر بھی لاگو کیا جاسکتا ہے اور اس ضمن میں اس کو ذرا پھیلاکر دیکھیں تو اس وقت دنیا میں انسانیت جن تکالیف میں مبتلا ہے، اس کے پیچھے انسان کا کوئی فعلِ قبیح ہی نظر آئے گا۔ کیا ہزار سال قبل اتنی پیچیدہ بیماریاں تھیں؟ کیا پہلے اتنے زلزلے اور طوفان آتے تھے؟ یہ حضرتِ انسان کی کارگزاریاں ہیں جن کے ردّ عمل کا ہم شکار ہیں۔ ملاوٹ زدہ خوراک، کیمیاوی ترکیبی ادویات، نت نئے سائنسی تجربات اورایٹمی دھماکے جو زیر زمین ہوں یا زیر سمندر، کیا اپنے اثرات نہیں رکھتے ہوں گے؟ کیا گلوبل وارمنگ فطرت میں دخل اندازی کا نتیجہ نہیں؟ جب زلزلوں اور سونامی کی طرف اشارہ کیا جائے کہ یہ اللہ کا عذاب ہے، تو جدید نیم تعلیم یافتہ کہتے ہیں کہ یہ تو قدرتی آفات ہیں۔ سب جان لیں کہ اللہ کے عذاب کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب آپ ایک فطری سسٹم کو پورا جانے بغیر اس میں چھیڑ خانی کریں گے تو ردّعمل میں غیر متوقع حالات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ ابھی کیونکہ انسان کو کائناتی سسٹم کے تمام پیرایوں کا علم نہیں لہٰذا فطرت پر اثر انداز ہونے والے تجربات کے ردّعمل پر کسی ناگہانی کا ذمّہ دار انسان ہی ہوگا کیونکہ کسی زیرِزمین ہائیڈروجن بم کا دھماکہ کتنے عرصے میں طبعی ردّعمل کب اور کہاں کہاں ظاہر کرے گا، ہم ابھی اس سے لاعلم ہیں، کیونکہ زیر زمین ساخت کا مکمّل علم نہیں۔

مختصراً، یہ خدا کا بنایا فطری قانون ہے کہ اعمال تغیر پذیر flexible اور اُن کے ردّعمل قدرتاً محکم constant ہوتے ہیں۔ یعنی انسان کو عمل پر اختیار ہے جو بدلتا رہتا ہے لیکن اس کے ردّعمل قدرتاً ظاہر ہوتے ہیں جن پر براہِ راست اختیار نہیں۔ ہاں مگر انسان جب اپنی طرف منسوب کوئی بیرونی عمل جذب کرتا ہے تو اس کے ردّعمل کا اختیار رکھتا ہے جو انسان کے اپنے ارادے کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ اسی اختیار کے استعمال میں احتیاط کے لیے انسان کی فلاح کے اُلوہی اشارے اور پیغمبران کی ہدایات ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ ہر عمل اپنی ایک سرشت یا جبلّت رکھتا ہے، اور وہ انسان کی نیت ہوتی ہے۔ گویا اس خودکار پیرا سائنسی نظام میں اپنی عافیت کے سامان یا پریشانیوں کے اسباب انسان اپنے ارادے سے خود متعیّن کر سکتا ہے، بس اہم یہ ہے کہ ارادے کو کس نہج پر رکھتا ہے، احکامات ِخداوندی و ہدایات ِپیغمبر کی حتی الامکان پیروی یا شیطان کے اکسانے کی پیروی۔

اس مفروضے کے سو فیصد درست ہونے کا دعویٰ تو نہیں کیا جاسکتا لیکن ان گزارشات سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان اپنی لاعلمی کی وجہ سے برائیوں کو نہیں چھوڑ رہا کیونکہ ابھی انسان وہ علم حاصل نہیں کر پایا جو اعمال کے اثرات کی سائنسی پیمائش کر سکے۔ جس دن انسان ایسا علم پا گیا تو جان جائے گا کہ جس جس کام سے اللہ اور اس کے نبی وﷺ نے منع کیا، ان کے ردّعمل کے اثرات انسان کے اپنے لیے ہی برے ہیں۔

لیکن یاد رکھنے کی انتہائی اہم بات یہ ہے کہ کسی فرد کے بارے میں منفی عمل کا ارتعاش یا کوئی لہر اُس مذکورہ شخص کی طرف سفر کرتی اور ردّعمل لیکر واپس آتی ہے، لیکن غیبت اور عیب جوئی کی منفی لہر تو خالقِ انسان کی طرف بھی سفر کرے گی جس نے تنبیہ کے ساتھ کہا ہے کہ مجھ سے ڈرو، مگر کہ وہ توبہ قبول کرتا ہے۔
کیا مسلمان خدا کی صنّاعی میں تنقید کی جراٗت کر سکتا ہے؟
تو مشتری ہوشیار باش!

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.