جو بویا تھا ... - فرح رضوان

میت کو غسل دیا جاچکا تھا؛ نورین کی لاڈلی بہن مہرین اس کے بچپن کی ساتھی، جو وقت کے ساتھ اس کی جیٹھانی بھی بنی، اس کے بچوں کی خالہ بھی، تائی بھی اور اس کے بیٹے کی ساس بھی، اس کے پوتوں کی نانی بھی، اب اسی یک جان ہستی کو خود سے جدا کر کے اس کے رفیق الاعلی کے سپرد کرنے کی تیاری آخری مراحل میں تھی، ساتھ ہی نورین کے ذہن میں فلیش بیک کے پے در پے، دل پر چلتے وار بھی کسی صورت تھمنے کو تیار نہ تھے۔

بچپن میں بابا کے دونوں بازوؤں میں جھولتی یہ تتلیاں، امی سے جوجتی چپکتی، سکول سے یونیورسٹی تک کا ساتھ، اور ساتھ ہی دونوں کی شادیاں، محبتیں، حماقتیں، رفاقتیں، وہ بے اختیار مسکرائی اور ساتھ ہی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
مہرین کا یوں چھوڑ جانا کوئی پہلی بار تھوڑا ہی تھا۔ قریبا پندرہ سال پہلے جب سب ہنسی خوشی بھرے پرے ایک ڈریم جوائنٹ فیملی میں رہ رہے تھے، اس کو دورہ پڑ گیا تھا کہ بس اب اسے "اپنےگھر" میں رہنا ہے۔

یہ بات ماچس کی تیلی ثابت ہونی ہی تھی، پھر بھی نہ جانے کیوں اور کس طرح مہرین نے ہمت کر لی تھی، ہنگامہ طوفان لییے یہ بحث کئی روز چلی، سب ایک طرف تھے مہرین کی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی ایک طرف؛ نجانے کس کی نظر لگ گئی تھی اسے! ورنہ وہ ایسی تو نہ تھی۔

بیٹے، بہو، بھانجے بھانجیاں، شوہر، دیور، نندیں، کسی ایک کی، کوئی ایک بات جو مانی ہو اس سر پھری نے؛ جو کوئی بھی اسے مشورہ دیتا، وہ اسے بڑے پیار سے کہتی، آپ کو ایسے اچھا لگتا ہے آپ ایسے ہی کرنا، اپنے گرینڈ بلکہ گریٹ گرینڈ کڈز کے ساتھ رہنا، ہر انسان مختلف ہوتا ہے میں آپ کو بدلنے تو نہیں کہہ رہی نا! ،اپنی راہ، اپنے جینے کا ڈھنگ بدلنا چاہتی ہوں۔ تمام عمر میلوں جھمیلوں میں گزری اب مجھے تنہائی درکار ہے،جائنٹ فیملی میں یکسو نہیں ہو پا رہی، آئے دن کسی کی برتھ ڈے کسی کی منگنی، کبھی کسی کے مہمان اور بدلے میں میزبان بننے کی باریوں میں تمام وقت اور ذہنی یکسوئی کا خاتمہ ہوتا جائے، تو پھر خاتمہ بالخیر کی طلب ادھوری ہی سمجھو۔

نورین کو طارق اور مہرین کا ٹاکرا بھی یاد آگیا، جب سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ ضدی بہن کی خود غرضی کا ساتھ دے یا مجبور بہنوئی کے حق کا؛ بالآخر شدید جھڑپ اور دھمکیوں کے بعد مہرین نے بری طرح رونا شروع کر دیا تھا، اور اب التجا پر اتر آئی تھی،
"طارق! آپ محدود آمدنی والے انسان ہوتے، تو بات مختلف تھی،یہ ساری سہولتیں اور صلاحیتیں اللہ تعالیٰ ہی کا رزق ہیں، جس میں سے حکمت کے ساتھ دوسروں کو بانٹنا ایمان کا حصہ ہے۔''
طارق بھائی بھڑک ہی اٹھے تھے،
"تم مجھے کافر سمجھتی ہو! چار لفظ کیا پڑھ لیے ......."
اس دم مہرین کے پاس تیز برسات میں جھک جانے والی گھاس بن جانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا تھا۔

مگر یہ طوفان اگلے ہفتے پھر اٹھ کھڑا ہوا تھا، جب مہرین نے ایک نوٹ لکھ کر طارق بھائی کو دیا کہ سننا سمجھنا، تحمل اور دلیل سے قائل کرنا انہوں نے سیکھا ہی نہ تھا، اور مہرین کو اپنی بات بہرحال کہنی ہی تھی،
"طارق! میں احسان نہیں جتانا چاہ رہی کہ اس سے نیکی برباد ہو جاتی ہے، لیکن سوچنے والی بات ہے نا کہ "شوہر مجازی خدا ہوتا ہے" والے تصور کے ساتھ نو عمری سے ایک لڑکی اپنی زندگی شوہر کے ان فیصلوں کے لیے بھی وقف کرتی چلی جائے، جسے نماز روزے کے سوا دین کا شعور ہو، نہ ہی ادراک حاصل کرنے کی کوئی اہمیت جانے، نہ تمنا کرے نہ ہی کوشش؛ بیوی ایک عرصے تک ساس سسر کی خدمت کو عبادت کے درجے پر کرتی جائے، پھر نندوں دیوروں کی شادیاں کروا کر ان کے گھر بسنے تک کمر بستہ رہے، اور ڈھلتی عمر تک اپنے بچوں کے گھر بسانے تک دوڑ دھوپ کرتی جائے، پھر بھی مزید جیتی رہے تو ان کے بچوں کی نگہداشت میں مصروف ہو جائے، صرف اور صرف اس لیے کہ ہمارے ہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔
دیکھو طارق! جو بھی اسے اہم سمجھیں وہ شوق سے کریں، لیکن اس ایک مین میڈ "فرض" کو معیار بنا کر ہر عورت کو اس کسوٹی سے گزارنا بھلا کہاں کا انصاف ہے؟
اسی گھرانے میں یونیورسٹی کا بچہ چار چار سال سب سے دور رہ کر ہاسٹل میں پڑھ سکتا ہے، دنیا بھر میں کہیں مہنگی جاب آفر آجائے تو خود گھر والے مجبور کرتے ہیں کہ جاؤ بیٹا موقع بار بار میسر نہیں آتا۔ مجھے بھی تو زندگی میں موقع سے فائدہ اٹھانے کا حق ملنا چاہیے نا! میں صحت رہتے اپنے رب کی طرف یکسو ہونا چاہتی ہوں، بیماری میں بستر سے لگ کر یا قبر میں مر کر ہی الگ ہونا کہاں کا دستور ہے ؟"
افف خدایا! طارق بھائی اتنی زیادہ گھٹیا زبان اور تیکھا لہجہ بھی اختیار کر سکتے تھے اس بات پر۔

پھر کچھ ہی عرصے میں باقی سب گھر والے بھی مہرین سے روٹھ گئے تھے کہ وہ انہیں پیار نہیں کرتی، وقت نہیں دیتی، خود غرضی پر اڑی ہے، مگر وہ اللہ کی بندی بھی ٹوٹ کر نہ دی کہ کوئی نازک کونا ہاتھ لگتا تو اسی پر ضرب مار مار کر اس کے اندر کا نرم پھل پایا جا سکتا۔ البتہ نورین اسے نمازوں میں بہت روتا ہوا پاتی، تو سوچتی کہ اتنی رونق اور محبت کے بیچ مہرین کو کس خلش نے مار ڈالا ہے کہ ناکام عاشقوں والی درگت بن چکی ہے۔

"میت کا منہ دیکھ لیں خالہ"
بھانجی کی آواز پر وہ بری طرح چونکی، سیدھی کلیجے پر ضرب پڑی تھی، کسی کی چہیتی خالہ کسی کی لاڈلی پھوپھو، ایک پل میں میت بن گئی تھی۔ نورین چکرا سی گئی، تو بھانجی نے سہارا بھی دیا اور اس کا پرس بھی سنبھالا کہ ایسے مواقع پر چوریاں ہوتے دیر نہیں لگتی۔ نورین کو اچانک مہرین کے انداز کے ساتھ بہت کچھ یاد آگیا، جب فنکشنز میں لوگ اپنے فون، پرس اور زیور کی حفاظت کرتے، وہ ہنس کر کہتی،
"دل کی حفاظت کر لو بہنا، یہ چوری ہو جانا ہے اس چکاچوند اور رونق میلے میں۔ ارے نہیں بابا! مجھے نہیں دیکھنی یہ مائیوں مہندی کی پکس، چلے ہی نہیں جاتی اس سے تو؟ نہ بابا دیکھ کر اچھی لگ گئی تو پھسلنے کا ڈر، اور بری لگیں تو غیبت اور خود پسندی کا ڈر، میں تو باز ہی آئی۔ دیکھو نا! پنک آئی سے آنکھیں ملیں تو بھی آشوب چشم ہوجاتا ہے، زکام زدہ کی محفل میں بیٹھنا خود کو بیمار کر لینا ہے؛ دنیا پرستی کا وائرس بھی آنکھ چار ہونے پر دل تک اتر جاتا ہے۔ ارے نہہیں بھئی میں نہیں دیکھ رہی یہ سب، مجھے نہیں بیٹھنا ٹی وی کی ٹی بی زدہ کنگ کے ساتھ "

نورین، بیٹی کے سہارے جھولتی جنازے تک خود کو کھینچ لے جانے میں کامیاب ہو ہی گئی تھی، سامنے مہرین کا چمکتا دمکتا چہرہ پھر اسے یادوں میں دھکیلنے کو کافی تھا۔ مہرین روز جب برآمدے کے پردے ایک طرف سرکاتی اور تیز دھوپ یکایک اندر آتی تو دیر تک دعا کرتی، یا اللہ پاک! ہمارے وہ سارے گناہ معاف فرما دے جو عقل پر پردہ بنے پڑے ہیں، اور تیرے قرآن کے نور اور ہدایت کی روشنی کو ہم تک آنے سے روک دیتے ہیں۔ پچھلے کچھ سالوں سے وہ سب محسوس کرتے کہ گویا اس کی یہ دعا شرف قبولیت پا چکی ہو۔ یہ موت ایک شہید کی موت لگتی تھی جس نے زندگی کے ہر میدان عمل میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کا جہاد کیا، ہر فنکشن میں شہادت دی کہ اللہ ایک ہے اللہ ہی بڑا ہے۔

نورین کے صبر کے تمام بند ٹوٹ چکے تھے؛ اس پر غشی طاری ہونے لگی تو بچوں نے شور مچایا، ماما تھوڑا سا کچھ کھا لیں، کوئی فاسٹ فوڈ کے باکس لے آیا تھا۔ ارم نے اسے تھماتے ہوئے کہا مما یہ برگر لے لیں پلیز ! ہاں اس روز بھی تو یہی ہوا تھا نا آخری بار، برگر کھاتے ہوئے گھوڑے کے گوشت کا ذکر آگیا، تو مہرین بولی گھوڑا حرام نہیں بلکہ اس کے کام بہت سے ہیں اور بہت شاندار ہیں، اس بات کی تکریم میں اسے بے وجہ کاٹ کھانا مکروہ ہے، بلکہ اونٹ کا معاملہ بھی کم و بیش یہی ہے کہ فقط زبان کے چٹخاروں کے لیے اتنے کارآمد مویشی کو بھیڑ بکری کی طرح نہ کاٹا جائے، ہاں میرے رب نے تو گھوڑے کی قسم بھی کھائی ہے مگر، مریل، بوجھ ڈھوتے کی نہیں، بےمقصد ریس کے گھوڑے کی نہیں، بلکہ وفادار، جی دار، درست محاذ پر کمربستہ گھوڑوں کی۔ پھر طارق کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بہت مدھم لہجے میں بولی، ہر عورت بھی مختلف ہوتی ہے، سبھی کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا، بھیڑ بکری سا سلوک روا رکھنا کہاں کی عقلمندی ہے ؟ ہم قرآن کی آیات کا ترجمہ کرتے وقت کہ لوگوں کو دین سے روکنا کفر ہے، میں فقط کافر کو مجرم گردانتے ہیں جبکہ اپنے خود ساختہ کلچر کے تحت عقل لگا کر جی بھر کر دین کے کاموں میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہوتے ہیں۔

معلوم نہیں کیسے! مگر طارق کے دل کو اللہ تعالیٰ نے پھیر دیا، مہرین کے الگ گھر کی چابی سرپرائز گفٹ کے طور دیتے طارق بھائی کو کیا خبر تھی کہ یہ خود ان ہی کی اعلی جنت کی چابی بن سکتی ہے۔ مہرین کی لگن، انتھک کوشش، اس کے آنسوں رائیگاں نہ گئے۔ سچ کہا ہے کسی نے کہ ایڑیاں رگڑنے پر ہی زمزم عطا ہوتا ہے۔ گزشتہ پندرہ سالوں میں قدرت نے دونوں ہی میاں بیوی کو ان گنت نیکیوں کی توفیق عطا فرما دی، یہ برکت رواں چشمے کی مانند، ان کے بچوں اور آگے ان کے بچوں میں دیکھی جاسکتی تھی، پھوار جیسی روٹھی محبتیں زرخیز بارشوں میں بدل چکی تھیں۔
..........................................
نورین پچھلے کچھ ماہ سے چھوٹی دیورانی اور بیٹے سے خفا ہو کر بھائی کے گھر بظاہر شادی کی تیاریاں کرانے گئی ہوئی تھی۔ اس کی دو بہوئیں ملازمت کرتیں، جس کی تھکن دور کرنے جب موقع ملتا سوتیں، جاگنے پر خوب سوشلائیز کرتیں۔ بیٹوں کو ان کی تھکن دکھائی دیتی تھی، جبکہ نورین تو ان کے نزدیک خوش نصیب تھی کہ سارا دن گھر پر ہی ہوتی، "اپنے سود کے ساتھ، جو اصل سے پیارا کہلاتا ہے"، مہرین اس قسم کے جملے پر اکھڑ جایا کرتی تھی، اصل سے سود پیارا کسی مسلمان کا جملہ کیسے ہو سکتا ہے؟ جبکہ سود اللہ سے جنگ کے برابر، اللہ نے کسی دوسرے جرم پر ایسا نہیں کہا! کیا ہم کچھ اور نہیں کہہ سکتے !

اب تو پورا پورا دن نورین کے اعصاب بچوں کے شور، لڑائی، اودھم اور رونے مچلنے سے تن جاتے، بچے کو کبھی ایک خراش بھی آجاتی تو اس کی مجرمانہ غفلت قرار پاتی، اس کے سوا لفظ قرار اب اس کی زندگی میں کہیں نہ رہا تھا؛ اس کی نفیس طبیعت ہر وقت اور ہر طرف بکھرے گھر کو دیکھتے سہتے خود ہی بکھر کر ریزہ ریزہ ہو چکی تھی۔ مہرین اکثر اس سے کہتی تھی، اس عمر میں تو عورت کو، اللہ تعالیٰ نے اولاد کی آزمائش سے از خود رعایت دی ہوتی ہے، نعمت کو فتنہ تو ہم اپنے ہی طرز عمل سے بنا لیتے ہیں۔

اب تو گھر میں وہ شور رہتا کہ کسی سے کوئی ڈھنگ کی بات نہ ہو پاتی، دوا کھا کر بھی پرسکون نیند نہ ہو پاتی، نہ نماز سکون والی ہوتی نہ ہی تلاوت سن پاتی نہ کسی کا لیکچر؛ آنکھیں تو پہلے ہی کمزور ہو چلی تھیں، جوڑوں کے درد کے سبب اب جب بچے گودوں نہ کھلا پاتی تو بیٹے کا لہجہ اور بہو کا مزاج اکھڑ جاتا، جبکہ شوہر سارا سارا دن چپکے چپکے سکرین پر نہ جانے کیا دیکھتے رہتے؛ سب سے چھوٹے داماد نے الگ ناک میں دم کر رکھا تھا؛ جائنٹ فیملی میں بچے بزرگوں کے سائے تلے تو فقط پھسپھسا نعرہ ثابت ہو رہا تھا، کیونکہ بچے سکول، پھر ٹیوشن، پھر پارک، پھر ٹی وی چاہتے تو ان کی تربیت میں دادو بھلا کب اور کیسے حصہ بٹاتی؟ شوگر اور فکر، دونوں اسے زندہ نگل چکے تھے، اب تو کوئی الگ جانے بھی نہ دیتا۔ بڑے فیصلوں کے بیج بونے کا موسم گزر چکا تھا، اب تو جو کچھ بویا تھا، اس فصل کی کٹائی کا وقت آن دھمکا تھا۔

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.