عورت کی حاکمیت کیوں قبول نہیں - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

یہ معاشرہ اپنی من مرضی سے فیصلے کرنے والی عورت کو برداشت نہیں کرتا۔ وہ عورت با کردار بھی ہو تب بھی آوارہ کہلاتی ہے۔ مرد قوام ہے، اس لیے نہیں کہ وہ عقل تعلیم یا طاقت میں زیادہ ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ اپنی عورت کی اپنی تمام تر طاقت اور صلاحیت کے ساتھ حفاظت کرتا ہے۔ حفاظت چھپا دینا نہیں، حفاظت تو پرسکون اور مناسب ترین ماحول میں کسی باصلاحیت کو اپنی صلاحیت کے اظہار کے مواقع فراہم کرنا بھی ہے۔ کسی عورت کو اس کی صلاحیت کے اظہار سے حفاظت اور معاشرے کی زبان کے خوف سے یا اپنی اتھارٹی پریکٹس کرنے کے لیے روک دینا مرد کی مردانگی پر سوال ہے۔

اکثر لڑکیاں عموما زندگی بھر اپنے نکاح نامے کو دیکھ ہی نہیں پاتیں، عموما اس کی دو تین وجوہات ہوتی ہیں:
1 - والد / ولی پر اعتماد
2 - جاننا چاہیے، اس بات کا شعور نہیں ہوتا، وجہ کم عمری، امیچورٹی یا تعلیم کا فقدان
3 - اس معاملے میں لب کھولنا بےشرمی یا بغاوت سمجھی جاتی ہے

ایک اور مزیدار حقیقت یہ بھی ہے کہ عموما لڑکا بھی اس سب سے باخبر نہیں ہوتا۔ یہ کام گھر کے بڑوں کے سپرد کر دیا جاتا ہے اور اپنی زندگی کا اہم ترین معاہدہ بنا اپنے شعوری علم اور بغیر اپنی مرضی کی شرائط کے طے ہونے دیا جاتا ہے۔ یہ بھی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

کسی بھی جنس کی حاکمیت تبھی ممکن ہے جب دوسرے کو غلام یا ماتحت بنا لیا جائے، اور یہ آزاد انسانی سرشت کے خلاف ہے۔ ایسی صورت میں ماتحت کی صلاحیتیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اگر کبھی حاکم صرف اپنی جنس کی بنیاد پر حاکم ٹھہرے اور ماتحت صرف جنس کی بنیاد پر ماتحت، تو ترقی رک سی جاتی ہے۔ لیکن اگر ہر دو میں برابری ہو اور بہتر فیصلے کو ماننے کا رحجان ہو تو بہتر فیصلے اور بہترین نتائج کا فائدہ بھی دونوں کو ملتا ہے۔ عموما دبی ہوئی خاتون اگر اپنی بات منوا نہ سکے تو وہ منفی طرف چلی جاتی ہے، اس کا دل، ذہن اور زبان پھر صرف نہ کہنا سیکھ لیتی ہے۔ ایسی عورت شکر گزار نہیں رہتی، بلکہ رنج، غصہ اور شک شبہ پالنے والی چڑچڑی عورت میں ڈھل جاتی ہے۔ بعینہ اگر مرد ماتحت ہو تو یہی سب کردار اس کے حصے میں آ جاتے ہیں۔ دو قابل بھروسہ دوستوں کی طرح زندگی گزارنے کا فن کوئی کوئی سیکھ پاتا ہے، ہر کوئی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بیٹی کے سوال، والد کے جواب - احسن سرفراز

بیٹے کی ترقی ماں باپ دونوں چاہتے ہیں، بیٹی کو بادشاہ بنانے کا خواب صرف باپ دیکھ سکتا ہے، کیونکہ اس خواب کی تعبیر حاصل کر پانا اس معاشرے میں صرف مرد یعنی باپ کے لیے ممکن ہے۔ یہ معاشرہ لڑکی کو اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کے لیے زمین بھی مہیا نہیں کرتا، لیکن باپ اپنی شہزادی بیٹی کو مستقبل کا بادشاہ بنانے کے لیے اپنے کندھوں پر کھڑا کرتا ہے۔ ہاں وہی بادشاہ بیٹی جب دنیا سے اپنے حصے کی زمین حاصل کرنے کے قابل ہوتی ہے، تب اس کی زندگی میں آنے والا دوسرا اہم ترین شخص، اس کا شوہر ہوتا ہے، جس کا کردار اس عورت کی بادشاہت کے دوام یا اختتام کا فیصلہ کرتا ہے۔ اگر شوہر دوست اور اعتماد دینے والا ساتھی ہے تب تو عورت کی شہنشاہی مسلم ہے، لیکن اگر شوہر حاکم یا حاسد طبیعت ہے، تو ہر دو صورت میں وہ اپنی عورت کو اپنے سے کم تر درجے میں اپنے پیچھے چلتا دیکھنے کا طلبگار ہوگا۔ تب معاشرے کا کردار بس ایک کے ٹالسٹ جیسا ہو جاتا ہے، اصل مقابل شوہر ہوتا ہے جو خاتون کے پیروں تلے سے اس کی اپنی کمائی زمین بھی کھینچ کر نکال لیتا ہے۔ خاتون کی ذاتی پہچان کو اپنے نام کے بینر تلے ڈھانپ لیتا ہے اور اپنی عورت کو یہ یقین دلاتا ہے کہ اسی میں تمھاری نیک نامی ہے، اسی میں تمہاری جیت ہے۔ سچ کہوں تو ایسا مرد صرف اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لیے خود کے برابر یا خود سے بہتر عورت کو مسل کر سکون حاصل کرتا ہے، کیونکہ اس نے برس ہا برس اس معاشرے میں یہی سب ہوتے دیکھا ہوتا ہے، یہی سیکھا ہوتا ہے۔ اس معاشرے سے شاباش وصول کرنے کی خاطر ہمارے گھروں میں ہیروں کو مٹی میں رول دیا جاتا ہے۔ جانے کتنی ہی باصلاحیت شخصیات رسوم و رواج کی بندشوں میں بھیڑ بکری کی مانند جکڑ کر زندگی گزار جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   شوہر فحش ویڈیوز دیکھنے پر مجبور کرتا ہے! - حافظ محمد زبیر

عورت جس رشتے میں بھی ہو، وہ اپنے سے متعلق مرد کے رنج و غم خود پر جھیل کر مرد کو سکون دینے کی خواہش رکھتی ہے۔ یہ مرد کوئی بھی ہو سکتا ہے، باپ، شوہر، بیٹا یا محبوب۔ اپنے مرد کے کاندھے کا بار اپنے سر پر اٹھانا اسے راحت لگتا ہے اور یہی اس کا نصب العین ہوتا ہے۔ مرد کے دیے بوجھ کو وہ کسی سے بھی بانٹنا پسند نہیں کرتی، چاہے وہ شریک، بوجھ عطا کرنے والا مرد خود ہی کیوں نہ ہو۔ رنج و غم کا یہ "محبوب بوجھ " وہ کسی اور عورت سے بھی کبھی نہیں بانٹتی، پھر چاہے یہ دوسری عورت اس کی ماں ہو یا بیٹی، بہو ہو یا سوکن۔

عورت اپنی ملکیت کے لیے بےحد پوزیسسو ہے، وہ اپنے رشتے اور احساسات کے خزینے میں کسی کی شراکت برداشت نہیں کرتی۔ جان و مال لٹا کر بھی اپنے رشتے بچانے کی چاہ اسے من چاہی عورت بنا دیتی ہے۔ ایسی عورت وہ انمول ہیرا ہوتی ہے جو غیور مرد کی غیرت بن جاتی ہے، جسے کھونا بادشاہ کو فقیر اور فقیر کو رذیل کر دیتا ہے۔ سو قدردان مرد اپنے انمول ہیرے کی حفاظت میں کوتاہی کا مرتکب نہیں ہوتا اور اگر کبھی ایسا ہو جائے تو آخر دم تک خود اپنے ضمیر کی عدالت میں مجرم ہی ٹھہرتا ہے۔

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • اسلام و علیکم
    یہ مضمون جیسا کہ عنوان سے ظاہر تھا اسکا حق ادا نہ ہوسکا۔ کیوں ؟
    ؀ ۱۔ اسکی ترتیب روانی کی کمی کا احساس ہر پیراگراف پر ہوتا ہے۔
    ؀ ۲۔ حالانکہ اپنے احساس کو جس طرح آپ نے قرطاس پر اُتارا ہے۔ وہ واقعی قابل تعریف ہے۔ لیکن اس احساس کو سجایا نہیں گیا اور اسے سلسلے وار جوڑا نہیں گیا۔
    ؀ ۳۔۔ اور آخر میں مضمون پوری ہونے سے پہلے ختم ہوگئی۔