یہ منہ اور مونگ مسور کی دال! ثناء اللہ خان احسن

آج کل گھروں میں اکثر چکن بنایا جاتا ہے۔ بچے اور نوجوان دال سبزی کے نام پر ناک بھوں چڑھاتے نظر آتے ہیں۔ کچھ خواتین بھی کاہل اور تن آسان ہوگئی ہیں کہ ڈبے کے مصالحوں اور فارمی چکن سے آدھے پونے گھنٹے میں مختلف ذائقوں کے سالن تیار ہو جاتے ہیں تو بھلا کیا ضرورت گھنٹوں مختلف اقسام کے روایتی کھانے ان کے اصلی مصالحوں اور اجزا کے ساتھ تیار کرنے کی۔ مجھے سخت حیرت ہوتی ہے کہ یہ کیسی بد نصیب جنریشن ہے جو دال جیسی لذیذ اور مفید غذا سے محروم ہے۔ دال کو اگر درست طریقے سے بنایا جائے اور اس کے ساتھ ضروری لوازمات بھی پیش کیے جائیں تو دال بھی قورمے اور متنجن سے کسی طرح کم نہیں لگتی۔ کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں مٹی کے ہانڈی میں پکی کھٹی دال جس پر رائی زیرہ سرخ مرچ کا تڑکا دیا جاتا تو محلہ محلہ بگھار کی خوشبو پھیل جاتی۔

دالیں کئی اقسام کی ہوتی ہیں جیسے کہ مونگ، مسور، ماش، کالی مسور جس کو انڈیا میں راجما بھی کہا جاتا ہے، ارہر، چنا، وغیرہ۔ ماش یعنی اڑد کی دال خشک اور پھریری بنائی جاتی ہے۔ دال ماش پر پیاز کے بگھار کے ساتھ سبز مرچ، ادرک کی ہوائیاں اور پودینہ ہرا دھنیا بھی کاٹ کر گارنش کیا جاتا ہے۔ پھریری یعنی بکھری بکھری خشک ماش کی دال بنانا بھی سگھڑ خواتین کا ہی کام ہے ورنہ اکثر اس میں پانی کی مقدار کا اندازہ نہیں کر پاتیں اور لیسدار لئی گوند جیسی دال بن جاتی ہے۔ یو پی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی گھرانے عموما' شامی کبابوں کے ساتھ ماش کی دال بھی بناتے ہیں ۔ باہر ہوٹلوں وغیرہ پر عام طور پر چنے کی دال ملتی ہے۔ لیکن چنے کی دال ہر ایک کو موافق نہیں ہوتی اور اکثر ہاضمے کے مسائل پیدا کردیتی ہے۔ مسور کی دال مزاج میں سرد خشک اور سوداوی ہوتی ہے جو خون کو گاڑھا کرتی ہے۔ مسور کی دال کے مضر اثرات کو خوب سارے لہسن اور دیسی گھی کے تڑکے سے کم کیا جاسکتا ہے۔ اکثر گھرانوں میں پنچ میل دال بھی تیار کی جاتی ہے جس میں پانچ دالوں کو برابر برابر مقدار میں لے کر پکایا جاتا ہے۔ ان میں مونگ، مسور، ماش، چنا اور ارہر کی دال شامل ہوتی ہے۔ مونگ کی دال کو ماہرین مفید ترین بتاتے ہیں کہ یہ گرم تر ہوتی ہے، زود ہضم اور مقوی۔ اکثر کھچڑی بھی مونگ کی چھلکوں والی ہری دال یا دھلی دال سے بنائی جاتی ہے۔ کھچڑی بناتے وقت دال ہمیشہ دو حصہ اور چاول ایک حصہ ہونے چاہییں۔ کمزور مریضوں کے لیے مونگ کی دال کی کھچڑی میں کم نمک اور کالی مرچ میں بنا بکرے کے گوشت کا شوربہ یا مرغی کا شوربہ ڈال کر کھلانا مقوی اور مفید ہوتا ہے۔ یوپی سے تعلق رکھنے والے اکثر گھرانوں میں سردیوں میں ماش کی چھلکوں والی دال کی کھچڑی جس پر خوب ساری پیاز اور دیسی گھی کا بگھار ہو لہسن ہرے دھنیے کی چٹنی اور شلجم کے اچار کے ساتھ کھائی جاتی ہے۔

اگر دال کا صحیح لطف اور بھرپور فائدہ اٹھانا ہے تو پھر مونگ اورمسور کی دال ملا کر بنائیے۔ دونوں دالیں برابر مقدار میں آدھی آدھی لے کر ان میں ہلدی، لال مرچ، لہسن، کتری ہوئی پیاز، اور نمک کے ساتھ پانی ڈال کر چڑھا دیجیے اور درمیانی آنچ پر پکنے دیجیے۔ پانی اتنا رکھیے کہ دال خوب اچھی طرح گلنے کے بعد بھی پتلی رہے۔ گاڑھی دال ذرا بھی مزیدار نہیں لگتی۔ کچھ لوگ یہ مصالحے پہلے بھونتے ہیں اور پھر اس میں دال پانی ڈال کر پکاتے ہیں۔ اب یہ آپ کی پسند اور ذائقے پر منحصر ہے۔ جب دال خوب اچھی طرح گل جائے تو اس کو ہلکا سا گھوٹ لیجیے۔

اب دال کے تڑکے یا بگھار کی باری آتی ہے۔ اس کے لیے فرائنگ پین میں تیل کے ساتھ رائی، سفید زیرہ، پیاز کے لچھے، دو چار ثابت لال مرچ، لہسن اور کچھ لوگ چند کڑھی پتے بھی ڈالتے ہیں۔ جب یہ سب اشیا تیل میں کڑکڑا جائیں اور پیاز گلابی ہوجائے تو یہ دال کے اوپر الٹ کر فورا' پتیلی کا منہ ڈھک دینا چاہیے، اور تین چار منٹ تک نہیں کھولنا چاہیے تاکہ بگھار کی مہک اور ذائقہ دال میں اچھی طرح رچ بس جائے۔ کچھ لوگ بگھار کے ساتھ چار پانچ باریک گول ٹماٹر کے قتلے بھی ڈال دیتے ہیں جو الگ مزہ دیتے ہیں۔ عام طور پر ڈھابوں اور ہائی وے ریسٹورنٹس میں دال دیتے وقت اس پر لازمی بگھار کے ساتھ ٹماٹر کے قتلے بھی ڈالے جاتے ہیں ۔ ان تلے ہوئے ٹماٹروں سے دال مزید مزیدار ہوجاتی ہے۔

گرما گرم تازی روٹی پر دیسی گھی لگا کر ہرے دھنیے کی چٹنی کے ساتھ بھی دال انتہائی مزیدار لگتی ہے۔ راجما یا کالی مسور کی دال جس میں کچی کیری یا املی ڈال کر خوب گھوٹا گیا ہو۔ اس کے ساتھ پودینے کی چٹنی اور ابلے چاول اور اچار گرمیوں کی دوپہر کے لیے بہترین اور ہلکا لنچ ہے۔اس کے ساتھ اگر سرکے میں کتری ہوئی پیاز اور ہری مرچ ہو تو کیا کہنے۔

ہماری پسند کی دال وہ ہے کہ جب دال بگھارنے کے بعد فرائنگ پین میں زرا سا کچھ بگھار اور تیل باقی رہ جاتا ہے تو فورا ہی بگھاری دال کی پتیلی سے دو تین ڈوئی دال نکال کر واپس گرما گرم فرائی پین میں ڈالی جاتی ہے تو چھن کی آواز کے ساتھ فرائی پین میں دال کے اندر ایک زبردست قسم کا ابال آتا ہے۔ بس یہ چھن والی فرائی پین کی دال ہماری پسندیدہ ترین ہے۔ اب آپ ایک ڈونگے یا گہری پلیٹ میں تازہ کرما گرم پھلکے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے ڈالیے اور اس کے اوپر فرائی پین والی دال انڈیل دیجیے۔ تین چار منٹ رہنے دیجیے تاکہ دال روٹی کے ٹکڑوں میں رچ بس جائے۔ اگر دال کم لگے تو اور ڈال لیجیے۔ اب اس دال میں بھیگے پھلکے کے ساتھ ٹماٹر، پیاز، کھیرے اور پودینے کا کچومر سلاد، ذرا سا آم لہسوڑے کا اچار یا پھر مصالحہ بھر کر تلی ہوئی خستہ کراری ہری مرچ دال روٹی کے ساتھ چمچے کی مدد سے کھائیے اور بتائیے کہ کون کافر دال کو ناپسند کرسکتا ہے۔ چاولوں کے شوقین دال اور ان لوازمات کو ابلے ہوئے سفید چاولوں یا زیرہ پیاز والے بگھارے چاولوں کے ساتھ تناول فرمائیں۔

دال کے ساتھ دہی مرچ بھی انتہائی لذیذ لگتی ہے۔ دہی مرچ پاپڑ کی طرح کرکری اور چٹپٹی ہوتی ہے۔ اس کو بنانے کا طریقہ بہت آسان ہے۔ ضرورت کے مطابق تازہ سبز مرچیں لے لیجیے۔ اب ایک پاؤ دہی میں کچھ چاٹ مصالحہ خوب اچھی طرح پھینٹ کر مکس کر لیجیے۔ اب ہری مرچوں کو لمبائی کے رخ ایک سائڈ سے چیرا لگا کر ان میں یہ دہی بھر دیجیے۔ مرچیں بھرنے کے بعد ان کو صحن یا چھت پر کسی اخبار یا صاف ستھرے کپڑے پر پھیلا کر ان کے اوپر باریک ململ کا کپڑا ڈھک کر دھوپ میں سکھا لیجیے۔ تین چار دن میں جب بالکل خشک ہو جائیں تو کسی جار یا ڈبے میں محفوظ رکھیں۔ جب ضرورت ہو تو حسب ضرورت مرچوں کو تیز کڑکتے تیل میں تل لیجیے۔ بالکل پاپڑ کی طرح کراری ہوجائیں گی اور ہر طرح کی دال یا سالن کے ساتھ بہترین لطف دیں گی۔

لیکن یہ لوازمات انھی گھروں میں ملتے ہیں جہاں کی خواتین رکھ رکھاؤ والی سگھڑ اور گھر کے لوگوں کی پسند اور خوراک کا خیال رکھتی ہیں۔ صرف نمک مرچ ڈال کر دال ابال کر اس پر پیاز کا بگھار لگا کر دال بنا کر دستر خوان پر پٹخنے والیاں اپنے گھر والوں اور دال دونوں پر ظلم کرتی ہیں اور ایسی ہی پھوہڑ اور کاہل خواتین کی وجہ سے دال بدنام ہوئی ہے۔ ہر وقت فون پر لگی یا فیس بک پر مصروف خواتین کے پاس بھلا دہی مرچ، بھری ہوئی کراری ہری مرچیں اور کچومر سلاد بنانے کا وقت کہاں۔

‎میں نے کراچی میں ایسے گھرانے بھی دیکھے ہیں جہاں دوپہر کے کھانے کے ساتھ دال چاول لازمی بنتے ہیں۔ یعنی روزانہ کے روٹی سالن کے ساتھ دال چاول بھی ہوتے ہیں۔ انڈیا اور بنگال میں تو دال بھات ایک مقبول اور روز مرہ کی عام غذا ہے۔ انڈیا میں سامبھر دال بہت مقبول ہے۔ انڈیا بنگلہ دیش اور سری لنکا میں سامبر مصالحہ انتہائی مشہور اور مقبول عام ہے۔ یہ بازار میں تیار شدہ پیکٹس میں بھی دستیاب ہے لیکن پاکستان میں نہیں ملتا ۔کوئی بھی دال بنانی ہو یا سبزی اس میں سامبر مصالحہ اس کے ذائقے کو دوبالا کردیتا ہے۔ بھارتی خواتین ہمیشہ گھر میں سامبر زیادہ مقدار میں بنا کر ڈبوں میں محفوظ رکھتی ہیں ۔ دال بناتے وقت خاص طور پر یہ مصالحہ ڈال کر دال بنائی جاتی ہے۔

آئیے آپ کو یہ سامبر مصالحہ بنانے کی ترکیب بتاتے ہیں۔
سامبر پائوڈر اجزا:
400 g dried red chilli peppers چارسو گرام ثابت سرخ مرچ
200 g dried coriander seeds دوسوگرام ثابت دھنیا
2 - 3 sprigs curry leaves تین سے چار کڑھی پتہ
100 g fenugreek seeds سو گرام میتھی دانہ
100 g channa dhal سو گرام دال چنا
50 g cumin seeds پچاس گرام سفید زیرہ
50 g black peppercornپچاس گرام کالی مرچ
5 g whole asafoetida or hing powder پانچ گرام ہینگ یا ہینگ یا پاؤڈر

ترکیب تیاری:
ان تمام مصالحوں کو آپ نے الگ الگ خشک توے یا فرائنگ پین میں بھوننا ہے۔ زیرہ کالی مرچ اور لال مرچ کو الگ الگ دو منٹ بھونیے۔ میتھی دانہ پانچ منٹ اور دال چنا دس منٹ بھونیے۔ بھونتے وقت مستقل چمچ سے چلاتے رہیں تاکہ کوئی چیز جلنے نہ پائے۔ کڑھی پتہ اور ہینگ کو ذرا سے گھی یا تیل میں بھون کر کرارا کر لیجیے۔ اب ان سب کو بھوننے کے بعد ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھ دیجیے۔ ٹھنڈا ہونے پر ان تمام اشیا کو ملا کر اچھی طرح گرائنڈ کر کے پاؤڈر بنا لیجیے۔ لیجیے آپ کا سامبر تیار ہے۔ اس مصالحے کو کسی ائیر ٹائٹ جار میں محفوظ رکھیے۔ یہ مصالحہ آپ کی دال یا سبزی میں ایک ایسا ذائقہ اور مہک بھردیتا ہے کہ جس کا ذائقہ ایک مرتبہ کھانے والا ہمیشہ یاد رکھتا ہے۔

سامبر کی مدد سے دال یا سبزی بنانے کا طریقہ:
مثال کے طور پر آپ مونگ مسور کی دال بنا رہے ہیں تو ایک پاؤ دال میں ایک درمیانی پیاز اور دو ٹماٹر اور نمک لہسن وغیرہ ڈال کر پانی شامل کر کے ابالنے کے لیے رکھ دیجیے۔ جب دال خوب گل جائے تو اچھی طرح گھوٹ کر اس میں پہلے سے تیار شدہ سامبر دو کھانے کے چمچ یا تین کھانے کے چمچ یا حسب ذائقہ شامل کر کے پتیلی ڈھک کر پانچ سے دس منٹ ہلکی آنچ پر پکا لیجیے۔ اس کے بعد دال پر حسب معمول پیاز لہسن کڑھی پتہ رائی زیرہ اور ثابت مرچ کا بگھار لگا دیجیے۔ بہترین ذائقہ دار سامبر دال تیار ہے۔ اسی طرح کوئی بھی سبزی بنانے کے لیے سبزی میں نمک، پیاز ٹماٹر ڈال کر تیز گرم تیل میں پکا لیجیے اور پکنے سے پانچ منٹ پہلے اس میں حسب ذائقہ سامبر مصالحہ اور املی کا پیسٹ شامل کر کے ڈھک کر پانچ منٹ ہلکی آنچ پر پکا لیجیے۔

کچھ لوگ دال میں لوکی یا ٹنڈے یا بینگن اور ٹماٹر وغیرہ ڈال کر پکاتے ہیں اور پھر پکنے پر اس میں سامبر شامل کر دیتے ہیں جس سے آپ کو غذائیت سے بھرپور دال سبزی کا سالن مل جاتا ہے۔ دال یا سبزی میں حسب ذائقہ کچھ مقداراملی کا پیسٹ بھی شامل کرسکتے ہیں۔ جس سے ذائقے میں کھٹاس اور چٹخارہ پیدا ہوجاتا ہے۔ املی کا پیسٹ بھی سامبر شامل کرتے وقت ڈالنا چاہیے۔ امید ہے کہ اب آپ کے گھر میں کوئی دال کو دیکھ کر ناک بھوں نہیں چڑھائے گا۔