ایک غریبی یہ بھی تھی- عبدالقادر حسن

بعض انسانوں کی زندگی میں کوئی وقت ایسا بھی آجاتا ہے جب زندگی ناقابل برداشت ہو جاتی ہے اور اسے ختم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا۔ اس طرح کی موت کو خود کشی کہتے ہیں۔ اگرچہ مسلمانوں میںخود کشی حرام ہے اور اسے واضح طور پر حرام موت قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے ہاں خود کشی کی کوئی نہ کوئی واردات ہوتی ہی رہتی ہے۔

کسی نامراد عاشق نے خود کشی کر لی، کسی لاڈلے کو باپ نے کسی غلطی پر ڈانٹا تو اس نے اپنی جان لے لی، کوئی امتحان میں فیل ہو گیا تو گھر والوں کے ڈر سے موت لے لی یا کسی بیمار نے لا علاج بیماری سے تنگ آکر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

ہم تو ایک غریب ملک کے شہری ہیں جن کو لاتعداد مسائل کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود خوشحال مغربی ممالک میں خود کشی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ سکینڈے نیویا جیسے بہت ہی خوشحال ممالک میں خود کشی اپنی بلند ترین شرح پر ہے لیکن اس کی وجہ یہ سمجھی جاتی ہے کہ لوگ اپنی خوشحال زندگی سے بے زار ہو جاتے ہیں، ان کی خوشحالی تمام مسائل کو ختم کر دیتی ہے جدوجہد کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور زندگی بے کار دکھائی دیتی ہے۔

جاپان میں کسی بڑی غلطی پر خود کشی کر کے اس کا کفارہ ادا کیا جاتا ہے اور آخروی نجات حاصل کر لی جاتی ہے ۔ مگر ہمارے ہاں پاکستان کے مسلمان معاشرے میں جب زندگی حرام ہو جاتی ہے زندگی کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی تو باپ کے لیے بچوں کی حالت ناقابل برداشت ہو جاتی ہے اور وہ ایسی زندگی سے منہ موڑ لیتا ہے۔

ایسی حرام زندگی کو حرام موت کے منہ میں ڈال دیتا ہے، کوئی ماں اپنے معصوم بچوں سمیت خود کشی کر لیتی ہے یا کوئی پورا خاندان زندگی کے مقابلے میں تھک ہار کر زندگی کی بازی ہار جاتا ہے۔یہ تو وہ حالات ہیں جن میں ہمارے جیسے غریب ملک کے لوگ اپنے حالات سے تنگ آ کر اپنی حلال زندگی کا فیصلہ کرتے ہوئے دکھوں سے نجات کے لیے حرام موت کو ترجیح دیتے ہیں۔

میں نے اس ملک میں برسہا برس تک اخباری رپورٹنگ کی ہے بہت ہی کم کبھی کوئی خود کشی کا واقعہ ہوتا تھا اور جب کوئی خود کشی کرتا تھا تو بڑی محنت کرکے اس کی خود کشی کے اسباب یاکسی سبب کا کھوج لگایا جاتا تھا کیونکہ یہ بہت ہی غیر معمولی واقعہ ہوتا تھا ۔ خبر ایسی بنائی جاتی تھی کہ خود کشی کی وجوہات ختم کرنے پر معاشرے کو اکسایا جائے اور آیندہ کے لیے خود کشی کے اسباب کو پیدا ہونے سے روکا جائے۔

آج کی طرح نہیں کہ مرچ مصالحہ لگا کر ایسی خبریں بار بار ٹی وی پر دکھائی جاتی ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے میں خود کشی کرنے والے کی خود کشی کی حالت کی تصاویر تک دکھا دی جاتی ہیں ۔

مجھے آج تک یاد ہے کہ خود کشی کی خبر بناتے وقت اپنے آپ سے شرم آتی تھی کہ ہم کیسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں کوئی مسلمان حرام موت کو قبول کر لیتا ہے لیکن کن الفاظ میں بیان کیا جائے کہ آج غربت کی وجہ سے زندگی سے جان چھڑانا خود کشی ایک معمول بن چکی ہے ۔بھوک ایمان والوںکو کفر کی طرف دھکیل رہی ہے بلکہ اب تو ہماری اشرافیہ بھی اس خود کشی میں غریب لوگوں کے ساتھ شامل ہو گئی ہے اور آئے دن کسی نہ کسی بااثر شخصیت کی خود کشی کی خبر نظر سے گزر جاتی ہے۔

ہمارے پیغمبرﷺ نے اپنی مقدس زندگی انتہائی مفلوک الحالی میں بسر فرما دی لیکن دو جہانوں کے سردار کی یہ فقیری ایسی تھی کہ حضورﷺنے دولت اور امارت کو گویا اپنے ذات مبارک کے لیے ممنوع فرما دیا تھا ورنہ ان کے لیے اسباب زندگی کا حصول کچھ مشکل نہ تھا ۔ اکثر صحابہ کرام نے بھی زندگی کے اصل مقصد کو ہی سامنے رکھا اور اسی مشن کی خدمت میں قربانی دیتے رہے لیکن اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس لیے خودحضورﷺنے غربت اور جہالت سے پناہ مانگی۔

یہ بھی فرمایا کہ فقر اور افلاس انسان کو کفر کے قریب کر دیتا ہے ۔ پھر ایسے بے شمار احکامات اور تعلیمات ہیں جن میں کسی بھائی کی غربت کو اپنی غربت سمجھنے کی تاکید کی گئی ہے یہاں تک فرمایا گیا کہ اگر کسی گاؤں یا محلے میں کوئی خالی پیٹ سوتا ہے تو خدا اس محلے یا گاؤں سے بری الزمہ ہو جاتا ہے یعنی اس سے اپنی رحمت کا سایہ اٹھا لیتا ہے۔

میرے لیے دولت مندوں کی سنگدلی ناقابل فہم ہے اور مجھے کسی ایسی خواب آور گولی کا علم نہیں ہے جسے ہمارے حکمران کھا کر خود کشیوں کو بھول کر سوجاتے ہوں گے۔ ہماری پوری انتظامیہ نے جو ہماری جان و مال کی سلامتی کی ضامن ہے اور ہمارے چھوٹے بڑے حکمرانوں نے جو ہم پر حکمرانی کو اپنا حق سمجھتے ہیں مجھے اس ایک پیسے کے بارے میں بتائیں جس کے خرچ میں انھوں نے کمی کی ہو اور جس کو خرچ کرتے وقت انھیں اپنی قلمرو میں کسی فاقہ کش کی لاش دکھائی دی ہو۔ پیداوار میں کمی کی وجہ سے پاکستان اس وقت شدید ترین مالی بحران میں مبتلاء ہے لیکن میں ایک بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہمارے حکمران عوام کی غریبی میں بھی شرکت پر تیار ہو جائیں تو ہم فاقہ کشی سے لازماً بچ سکتے ہیں ۔

ہر روز کروڑوں روپے کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی بات پر ضایع ہو رہے ہیں۔ہم سب یہ دیکھ رہے ہیں لیکن اس برائی کو ہم نہ ہاتھ سے روک سکتے ہیں نہ زبان سے اس کے خلاف بات کر سکتے ہیں اور شاید دل میں بھی اسے برا نہیں سمجھتے جو کمزرو ترین ایمان کی نشانی ہے۔ اللہ ہی ہمارے حال پر رحم فرمائے مگر کیوں؟جب ہم اپنے حال پر رحم نہیں کرتے۔ اپنے کسی غریب پڑوسی کی غربت کو ایک تفریح سمجھ لیتے ہیں اور خود اس سے کہیں زیادہ خرچ کر لیتے ہیں۔ اتنا ہی لکھا کہ سرکار دوجہاں ﷺ کا ایک واقعہ یاد آگیا۔

کسی خوشحال پڑوسی کے ہاں دعوت تھی ۔ کھانا ختم ہوا تو حضور پاک نے ایک صاحب کو بلایا اور پلیٹ میں تھوڑا سا گوشت کا سالن ڈال کر کہا کہ جاؤفاطمہ(حضور کی صاحبزادی) کو دے آؤ وہ دودن سے بھوکی ہے ۔ آج اس بھوکی کا نام لینے والوں کو خدا نے جو خوشحالی عطا کی ہے اس کو سامنے رکھ کر حضور پاکﷺ کی اس صاحبزادی کو کون یاد کرتا ہے جن کے اور جن کے خاندان کے نام پر ہم لاکھوں کروڑوں قربان کر دیتے ہیں اور انھیں خاتون جنت کے نام سے یاد کرتے ہیں۔