افغانستان کانفرنس- جاوید چوہدری

ازبکستان میں 26 اور 27 مارچ کو 25 ملکوں کی کانفرنس تھی‘ یہ کانفرنس ’’کابل پراسیس‘‘ کی تیسری میٹنگ تھی‘ مجھے اس میں شریک ہونے کا اتفاق ہوا‘ یہ کانفرنس ازبکستان میں کیوں ہوئی اور اس میں پہلی بار سینٹرل ایشیا کے پانچ ملک کیوں شریک ہوئے؟ یہ ایک دلچسپ داستان ہے اورہم پہلے یہ داستان ڈسکس کریں گے۔

یہ کہانی 2001ء میں اسٹارٹ ہوئی‘ 11 ستمبر کو نیویارک کے ٹوئن ٹاورز پر حملہ ہوا اور تاریخ کا دھارا بدل گیا‘ امریکا نے افغانستان اور عراق پر حملے‘ لیبیا‘ مصر‘ تیونس اور شام میں حکومتوں کی تبدیلی اور پاکستان‘ ایران اور سعودی عرب کو کمزور کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ 7 اکتوبر2001ء کو افغانستان پر حملہ ہوا‘ طالبان کی حکومت ختم ہوئی اور امریکا نے افغانستان پر قبضہ کر لیا‘ آج اس قبضے کو17سال ہو چکے ہیں۔

امریکا نے اس عرصے میں افغانستان پر ڈیڑھ سو بلین ڈالر خرچ کیے‘ نیٹو کی پوری فورس استعمال ہوئی‘ آج بھی نیٹو کے 13ہزارفوجی موجود ہیں‘ امریکا اپنی افغان حکومت بھی لے آیا‘ ملک میں انفرااسٹرکچر بھی بچھا دیا اور یہ ہر سال اربوں ڈالر امداد بھی دیتا ہے لیکن اس کے باوجود افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکا‘ یہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عالمی ناسور بنتا جا رہا ہے‘ یہ اب پوری دنیا کو بیمار کر رہا ہے۔

امریکا بری طرح تھک چکا ہے‘ یہ اب کمبل چھوڑنا چاہتا ہے لیکن کمبل اسے نہیں چھوڑ رہا‘ افغانستان میں 17 سال کی کوششوں کے باوجود آج بھی نصف ملک افغان حکومت کے قبضے سے باہر ہے‘ افغانستان میں اوسطاً روزانہ دو خودکش حملے ہوتے ہیں اور ان حملوں میں درجنوں لوگ مارے جاتے ہیں‘ آج بھی افغان گھر سے نکلنے سے قبل ایک چٹ پر اپنا نام‘ پتہ اور ٹیلی فون نمبر لکھتے ہیں‘ یہ چٹ جیب میں ڈالتے ہیں اور پھر باہر قدم رکھتے ہیں‘ کابل میں کسی شخص کو یقین نہیں ہوتا یہ کل کا دن بھی دیکھ سکے گا۔

امریکا نے قیام امن کے تمام طریقے استعمال کر کے دیکھ لیے‘ افغان فوج تک بنائی‘ ساڑھے تین لاکھ فوجیوں پر 75 بلین ڈالر خرچ ہوئے‘ جدید ترین ہتھیار دیے لیکن یہ دنیا کی سست اور چور ترین فوج ثابت ہوئی‘ یہ لوگ اپنے ہتھیار تک بیچ دیتے ہیں۔

امریکا کوشش کے باوجوداچھی پولیس اورکارآمد بیورو کریسی بھی ڈویلپ نہیں کر سکا‘ انڈسٹری اور ٹریڈ بھی ترقی نہیں کر پائی‘ نوکریاں بھی نہیں ہیں اور تعلیم اور صحت کا کوئی جامع نظام بھی نہیں چنانچہ افغانستان کی معیشت آج بھی جنگ‘ امداد اور منشیات پر چل رہی ہے‘ اگر آج جنگ بند ہو جائے‘ اگر آج امداد رک جائے اور اگر آج منشیات کے روٹس ختم ہو جائیں تو افغان بھوکے مر جائیںگے لہٰذا امریکا افغانستان میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔

ہمیں آگے بڑھنے سے قبل چندمزید حقائق بھی دیکھنا ہوں گے‘ پہلی حقیقت پاکستان ہے‘ افغانستان کی سلامتی پاکستان اور پاکستان کا استحکام بدقسمتی سے افغانستان سے جڑا ہوا ہے‘ سلگتا ہوا بے امن افغانستان پاکستان کے لیے خطرناک ہے‘ ہم اس جغرافیائی حقیقت سے واقف ہیں چنانچہ دنیا میں اگر کوئی ملک افغانستان کو سمجھتا ہے اور اگر کوئی ملک افغانستان میں امن قائم کر سکتا ہے تو وہ پاکستان ہے۔

دنیا بھی اب اس حقیقت کو جان چکی ہے لہٰذا امریکا اور نیٹو تین برسوں سے افغانستان میں امن کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈال رہے ہیں‘ یہ دباؤ پاکستان میں ضرب عضب اور ردالفساد کی کامیابی کے بعد مزید بڑھتا چلا جا رہا ہے‘ امریکا کا خیال ہے پاکستان اگر سوات‘ فاٹا اور بلوچستان میں امن قائم کر سکتا ہے‘ یہ اگر ملک کے اندر چھپے دہشت گردوں کا خاتمہ کر سکتا ہے تو یہ افغانستان کو بھی پرامن بنا سکتا ہے۔

پاکستان یہ کر سکتا ہے لیکن ہم یہ خدمت’’مفت‘‘ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ہم امریکا سے کہتے ہیں آپ افغانستان میں ڈیڑھ سو ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ناکام ہیں‘ آپ ہمیں اس کا ایک چوتھائی حصہ دے دیں‘ افغانستان میں بیٹھے ہمارے دشمن ہمارے حوالے کر دیں اور انڈیا کو پاکستان کے خلاف افغان زمین استعمال کرنے سے روک دیں‘ ہم آپ کو افغانستان کلیئر کر دیتے ہیں لیکن امریکا فوج کو ایک اور ’’مارشل لاء‘‘ کا جھانسہ دے کر اپنا الو سیدھا کرنا چاہتا ہے‘ پاکستان اس بار اس چکر میں نہیں آ رہا۔

یہ پیش کش جنرل راحیل شریف کو بھی ہوئی اور امریکا اب جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی مسکرا مسکرا کر دیکھ رہا ہے‘ دو‘ افغانستان پوری دنیا کے لیے ٹائم بم بن چکا ہے‘ طالبان اور داعش سمیت دنیا کی 20 خطرناک تنظیمیں افغانستان میں بیٹھی ہیں‘ ان کے پاس اسلحہ بھی ہے‘ دولت بھی اور لوگ بھی‘ یہ لوگ کسی بھی وقت پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں چنانچہ تاریخ میں پہلی بار دنیا کی تینوں سپر پاورز امریکا‘ روس اور چین افغانستان کی طرف متوجہ ہیں‘ یہ پرامن حل چاہتے ہیں۔

تین‘ افغانستان کے ایشو پر روس‘ چین‘ ترکی‘ پاکستان اور امریکا پانچوں ملکوں نے اپنی اپنی سطح پر کوشش کی لیکن یہ ناکام رہے‘ آخر میں فیصلہ ہوا افغانستان کو خود میدان میں اترنا ہو گا‘ یہ امن کے لیے کوشش کرے اور پوری دنیا اس کی مدد کرے چنانچہ جون 2017ء میں ’’کابل پراسیس‘‘ شروع ہوا۔

28فروری 2018ء کو کابل میںاس عمل کا دوسرا اجلاس ہوا اور تیسرا اجلاس ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں 26 اور 27 مارچ کو تھا‘ میں ازبکستان حکومت کی دعوت پر اس کانفرنس میں شریک ہوا‘ چار‘ افغانستان کا سب سے بڑا ایشو خود افغانستان ہے‘ افغانستان امداد‘ سپر پاورز اور منشیات کی دولت یہ ان تینوں علتوں کا شکار ہے۔

یہ امریکا کو اپنی سرزمین پر انگیج بھی رکھنا چاہتا ہے اور یہ منشیات کی اسمگلنگ بھی جاری رکھنا چاہتا ہے‘ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی پاکستان نے پچھلے 9ماہ میں افغانستان کی سرحد پر 976 کلو میٹر لمبی باڑ لگا دی‘ پاکستان نے 70 چوکیاں بھی بنا دیں جب کہ افغانستان کی طرف سے صرف 216 کلو میٹر باڑ لگی‘ چمن کی طرف 648 کلو میٹر رقبے پر کوئی باڑ ہے اور نہ ہی پوسٹ‘افغانستان جان بوجھ کر سرحد کو غیر محفوظ رکھ رہا ہے اور آخری حقیقت افغانستان کا دھواں اب سینٹرل ایشیا کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

ازبکستان‘ تاجکستان‘ کرغیزستان‘ ترکمانستان اور قزاقستان خود کو طالبان اور داعش کا اگلا ٹارگٹ سمجھ رہے ہیں چنانچہ ازبکستان نے میدان میں کودنے کا فیصلہ کیا‘ نئے ازبک صدر شوکت میرزائی متحرک‘ انقلابی اور وژنری شخصیت ہیں‘ یہ آگے بڑھے‘ افغانستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کیا اور افغان امن پر تاریخ کی سب سے بڑی کانفرنس منعقد کر دی‘ یہ ایک بڑا اینی شیٹو تھا۔

ہم آگے بڑھنے سے قبل دو اور حقیقتوں کا تجزیہ بھی کریں گے‘ افغانستان کے امن کے راستے میں دو رکاوٹیں مزید بھی ہیں‘ پہلی رکاوٹ طالبان ہیں اور دوسری رکاوٹ بھارت‘ انڈیا پاکستان میں بدامنی کے لیے افغانستان کو استعمال کر رہا ہے‘ یہ کسی قیمت پر افغانستان میں امن نہیں چاہتا‘ افغانستان میں امن کا مطلب ہو گا پاکستان کی آدھی فوج افغان بارڈر سے بھارتی سرحد پر منتقل ہو جائے۔

پاکستان میں دہشت گردی بھی ختم ہو جائے اور یہ ترقی بھی کرے‘ یہ بھارت کو قبول نہیں اور دو‘ طالبان افغانستان کے سب سے بڑے اسٹیک ہولڈرز ہیں‘ آپ طالبان کو طاقت تسلیم کیے بغیر امن قائم نہیں کر سکتے لیکن امریکا کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے طالبان چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تقسیم ہو چکے ہیں‘ ملا عمر طالبان کے سربراہ ہوتے تھے‘ یہ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔

ملا منصور نے طالبان کی عنان سنبھالی لیکن امریکا نے انھیں ڈرون حملے میں مار دیا یوں طالبان کی سینٹرل لیڈر شپ ختم ہو گئی اور یہ چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تقسیم ہو گئے‘ یہ آدھے سے زیادہ افغانستان پرقابض ہیں‘ ازبکستان طالبان کے تین بڑے گروپوں کو کانفرنس میں دعوت دینا چاہتا تھا لیکن بھارتی وفد نے اس کی شدید مخالفت کی‘ یہ بار بار کہہ رہا تھا طالبان پہلے افغان حکومت کے سامنے سرینڈر کریں‘ یہ اشرف غنی کو تسلیم کریں اور پھر انھیں دعوت دی جائے۔

بھارت کی مخالفت اپنے منہ سے ’’انڈین ڈاکٹرائن‘‘ کا ثبوت دیتی رہی ‘بھارتی اور افغان مخالفت کی وجہ سے طالبان کانفرنس میں شریک نہ ہو سکے اور یوں یہ کانفرنس بھی ثمرآور ثابت نہ ہوئی‘ کانفرنس میں پاکستان کا وفد سب سے بڑا اور طاقتور تھا‘ پاکستان نے وزیرخارجہ سمیت اپنے تین وزراء تاشقند بھجوائے‘ دو سفیر بھی تھے‘ سیکریٹری خارجہ بھی تھیں اور ماہرین کا ایک طاقتور گروپ بھی تھا‘ ازبکستان حکومت اور میڈیا نے اس وفد کی بنیاد پر پاکستان کو ’’سنجیدہ ترین اور مثبت ترین ملک‘‘ قرار دیا۔

ازبکستان افغانستان کے ایشو پر ایک نیا‘ توانا اور سنجیدہ فریق بن کر سامنے آ رہا ہے‘ یہ افغانستان کو بجلی فراہم کر رہا ہے‘ ازبکستان سے مزار شریف تک ریلوے لائن بھی موجود ہے‘ یہ اس ریلوے لائن کو ہرات اور پھر چمن تک وسیع کرنا چاہتا ہے یوں گوادر ازبکستان سے صرف تین دن کے فاصلے پر رہ جائے گا‘ افغانستان میں اگر امن قائم ہو جاتا ہے اور گوادر کی پورٹ ایکٹو ہو جاتی ہے تو ازبکستان دنیا کے ساتھ جڑ جائے گا‘ ازبکستان اس وقت اپنا زیادہ تر مال ایران کی بندرگاہ عباس کے ذریعے امپورٹ کرتا ہے‘ یہ اسے مہنگا پڑتا ہے‘ گوادر کی وجہ سے یہ قیمتیں آدھی ہو جائیں گی چنانچہ ازبک ’’سی پیک‘‘ کو دلچسپی سے دیکھ ر ہے ہیں۔

یہ افغانستان میں امن اور انفراا سٹرکچر میں بھی سیریس ہیں‘ افغانستان میں امن ہو جائے اور ازبکستان اپنی ریلوے لائین چمن تک لے جانے میں کامیاب ہو جائے تو سینٹرل ایشیا گرم پانیوں سے جڑ جائے گا اور یہ وہ خواب تھا جسے دیکھتے دیکھتے سینٹرل ایشیا اور روس بوڑھا ہو گیا‘ پاکستان کو ازبکستان کو اس نیک کام میں مدد دینی چاہیے‘ ہم دے بھی رہے ہیں لیکن افغانستان اور بھارت ازبک کردار سے مطمئن نہیں ہیں‘ یہ اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کریں گے اور یہ سازش اگر کامیاب ہو گئی تو پورا خطہ بحران کا شکار ہو جائے گا۔

افغانستان کے تنور کی آگ پورے سینٹرل ایشیا تک پھیل جائے گی چنانچہ میں سمجھتا ہوں بھارت پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے‘ یہ مستقبل میں دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہوگا‘ ریاستی دہشت گرد۔