استاد کے نام - شبیر بونیری

اس نے جو کہانیاں مجھے سنائیں، وہ میں کئی دفعہ سن چکا تھا، اس لیے کوئی اضافی حیرت نہیں ہو رہی تھی۔ وہ کہہ رہا تھا کہ
"ملک روم کے کمرہ عدالت میں جیسے ہی اشفاق احمد کی آواز گونجی کہ پیشے سے میں استاد ہوں تو پورا کمرہ عدالت بشمول جج احترام میں کھڑے ہوگئے تھے۔ آپ کو پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ مغرب میں استاد کو بہت عزت دی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ زندگی کے ہر شعبے میں ہم سے آگے ہیں۔''
اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، اس نے مغرب کے احترام اور محبت میں زمین و آسمان کے قلابے ملانا شروع کر دیے اور اپنی دوسری کہانی شروع کر دی:
"اب دیکھو نا! ابن انشاء بھی ایک دفعہ اپنے استاد دوست سے ملنے یورپ گیا تو ان دونوں کے پیچھے اس کے دوست کے شاگرد اچھل اچھل کر جا رہے تھے۔ ابن انشاء نے وجہ پوچھی تو اس کا دوست کہنے لگا کہ میرا سایہ کہیں ان کے پاؤں تلے نہ روندا جائے، اس لیے یہ اچھل اچھل کر جا رہے ہیں۔"
ابن انشاء کو کتنی حیرت ہوئی تھی، اس کا تو پتہ نہیں، لیکن کہانی سنانے والا سر تا پا حیرت میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ مزید کہہ رہا تھا:
"ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم استاد کو عزت نہیں دیتے اور یاد رکھو! استاد کو عزت دینے ہی میں عزت اور کامیابی ہے۔"

میں جب بھی یہ دو کہانیاں سنتا ہوں تو میری حیرانی کی انتہا نہیں رہتی کیونکہ آج تک کسی نے بھی ان کہانیوں کے بعد یہ بات نہیں بتائی کہ روم کے کمرہ عدالت میں موجود لوگوں اور ابن انشاء کے شاگردوں کو یہ بات سکھائی کس نے کہ استاد ہی عزت کا اصل حقدار ہے اور جب تک ہم استاد کو عزت دیتے رہیں گے تب تک دنیا کی کوئی طاقت ہمیں زیر نہیں کرسکتی۔

میں جب بھی یہ کہانیاں سنتا ہوں تو تخیل کی ڈور مجھے باندھ کر سوچوں کے بحر عمیق میں دھکیل دیتی ہے اور میں کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن ناکام ہوجاتا ہوں۔

قصہ کوتاہ! سوچتا ہوں کیا ہمارے پیغمبر ﷺ خود ایک استاد نہیں تھے؟ اور کیا جو معاشرہ آپﷺ نے بنایا تھا اور اس لٹے پٹے معاشرے کو جو افراد دیے تھے، کیا معاشرے نے ان کو صدیق، فاروق، اور غنی کے االقابات سے نہیں نوازا تھا؟ اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو میری الجھن یہاں پر ختم ہوسکتی ہے، اور میں ببانگ دہل یہ کہہ سکتا ہوں کہ معاشرہ اگر جمود کا شکار ہو، اور اگر افراد دن بہ دن ذہنی پستی کی طرف گامزن ہو تو اس میں کوئی شک نہیں رہتا کہ استاد اپنا کام بھلا چکا ہے، اور بجائے ذہن سازی کے وہ پڑھاکو لوگ ہی تیار کر رہا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ تو ہمارے ہاں بہت زیادہ ہیں، لیکن سلیقہ مند، مثبت سوچ رکھنے والے، ملک سے محبت کرنے والے، جذبے سے بھرپور اور پرامید لوگ بہت کم ہیں۔

استاد کے اوپر اتنی بڑی ذمہ داری ڈالنا ہماری مجبوری ہے، کیونکہ یہی ایک طبقہ ہے جن کے ہاتھوں میں اس ملک کی اصل باگ ڈور ہے۔ یہ اگر چاہیں تو قوموں کو آسمان کی بلندیوں میں لے جاسکتے ہیں۔ ہماری عظمت رفتہ کیا ہمارے سامنے نہیں؟ ہمارے بزرگوں نے پوری دنیا پر حکمرانی استاد ہی کی وجہ سے کی، لیکن جب ایک مخصوص لابی نے اس طبقے کو غلط فہمیوں میں مبتلا کیا تو مجبوراۤۤ ہم یہ کہنے لگے کہ
بھلادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

استاد اتنا اہم کردار کیسے ادا کرسکتا ہے؟ اس سے پہلے استاد لفظ کو ڈیفائن کرنا چاہیے۔

استاد ہر اس شخص کو کہتے ہیں جو زندگی کے تمام مسائل سے بالاتر ہو کر اس انسان کے بارے میں صبح شام سوچے جو ایک الگ حیثیت میں اس کے سامنے قدرت کی طرف سے ضرورت مند بن کر بیٹھتا ہے۔ استاد ہر اس شخص کا نام ہے، جو زندگی کے تمام اتار چڑھاؤ کا از خود جائزہ لیں اور اپنے شاگردوں کو وہ تمام گر سکھائے جن کی وجہ سے ان اتار چڑھاؤ میں زندگی بطریق احسن گزاری جا سکتی ہے۔ استاد اس محترم ہستی کا نام ہے جس کی زندگی جہد مسلسل اور اوڑھنا بچھونا ہی بچے کی شخصیت اور اس کی نشوونما ہوتی ہے۔ استاد ایک بہترین منصوبہ ساز ہوتا ہے جو زندگی کے تجربات سے سیکھتا ہے، اور شاگردوں کو اچھے برے کی تمیز سکھاتا ہے۔ میں کیا کہوں کہ کائنات کا جو سب سے خوبصورت اور افضل انسان تھا، وہ بھی ایک بہترین استاد تھا۔ استاد کو چاہے محبت کہو، امید کی کرن کہو، گھٹاٹوپ اندھیرے میں روشنی کہو، عزت کہو، سہارا کہو، کچھ بھی کہو لیکن استاد لفظ کا صحیح احاطہ ممکن نہیں۔ یہ استاد ہی ہوتا ہے جس کے چہرے پر ایسی پرنور روشنیاں ہوتی ہیں کہ سامنے بیٹھے طالب علم کی نظریں جب اس پر پڑتی ہیں تو زمانے بھر کے تمام روگ، تمام ڈر اور تمام مایوسیاں ختم ہوجاتی ہیں، اور ایک ایسی تسکین میسر آجاتی ہے کہ اس کی کوئی حد معلوم نہیں۔ ان اوصاف کو دیکھ کر یہ کہنا مبالغے کے زمرے میں آئے گا کہ ہمارا استاد ان تمام صفات پر پورا اترتا ہے۔ سقراط بھی استاد تھا جس نے افلاطون پیدا کیا، اور افلاطون جب استا د بنا تو ارسطو جیسا فرد معاشرے کو دیا۔ ارسطو استاد کیا بنا، اس نے تو تمام حدیں ہی پار کر دی۔ سکندر کے سینے میں جب مچلتے ہوئے خوابوں کو دیکھا، تو ان تمام خوابوں کو امید کی کرن کچھ ایسی دکھائی کہ سکندر جو ایک عام بادشاہ کا عام بیٹا تھا، فاتح عالم کہلایا۔

اب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ اپنے معاشرے کا جس میں جمود کے سائے ہیں اور جہاں ذہنی پسماندگی اور پستی روز بہ روز بڑھ رہی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ کیا ہمارا استاد اپنا کام نہیں کر رہا یا کچھ اور وجوہات ہیں۔ وجوہات کچھ بھی ہو، لیکن ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ہمارا استاد اپنا کام نہیں کر رہا، اور یہی وجہ ہے کہ پرائمری میں پڑھنے والے بچے بھی الجھنوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

یہ بات مانی جاسکتی ہے کہ ہمارے ملک میں مسائل بےشمار ہیں، جس میں سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے، لیکن میں ہمیشہ یہ بات سوچتا ہوں کہ چالیس یا پچاس منٹ کے کلاس میں ایسی کون سی بڑی مجبوری ہوتی ہے، یا ایسے کون سے ریسورس کی کمی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بچوں کی ذہن سازی نہیں ہو سکتی۔ کیا صرف پڑھاکو اور رٹا مار ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔ پرائمری لیول کا اگر ہم جائزہ لیں تو یہ انسانی زندگی کا ایک اہم دورانیہ ہوتا ہے جس میں اگر ہمارے اساتذہ بچوں کی ذہن سازی پر کام کرے تو کوئی شک نہیں کہ اس جمود کا خاتمہ ہو سکے۔ استاد کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ لمحے لمحے کے لیے گولز سیٹ کرتا ہے اور جس کی وجہ سے وہ ہر وقت مشاہدے میں لگا رہتا ہے کہ اس سے سیکھنے والے کرتے کیا ہیں، سوچتے کیا ہیں اور زندگی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

آپ ﷺ کے ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ "انسان زندگی کے پہلے پانچ سالوں میں جتنا سیکھتا ہے، اتنا پوری زندگی نہیں سیکھ سکتا۔"
سیکھنے کے اس عمل کے لیے استاد کا ہونا بےحد ضروری ہے اور استاد بھی ایسا کہ جس کی زندگی کا مقصد معاشرے کو بناؤ کی طرف لے جانا ہو۔

سب سے اہم کام ذہن سازی ہے اور وہ بھی ایسی کہ دین و دنیا میں مددگار ہو۔ ہمارا طالب علم استاد سے شاید سب کچھ سیکھتا ہے لیکن زندگی کے ڈھنگ نہیں سیکھتا اور نہ استاد کھبی یہ کوشش کرتا ہے کہ اصل کام ذہن سازی ہے جو جب ہوجاتی ہے تو پڑھنا پھر آسان ہوجاتا ہے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا استاد تنخواہ اور مراعات کے لیے تو چستی دکھاتا ہے لیکن بچوں کی ذہن سازی تو دور کی بات ان کی حوصلہ افزائی بھی وہ نہیں کرپاتا۔ سب سے پہلے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے مسائل کا کوئی حل نکالے اور بعد میں شاگرد کے مسائل سنے۔ ہمارے استاد کی ترجیحات میں جب شاگرد پہلے آئے گا تو پھر اس جمود سے چھٹکارا بھی مل ہی جائے گا۔

ہارون الرشید کے دونوں بچوں کے درمیان استاد کے چپل سیدھا کرنے پر توں توں میں میں ہوئی اور جب بات ہاتھا پائی تک پہنچی تو فیصلہ یہ ہوا کہ دونوں کو ایک ایک چپل دی جائے۔ دونوں کو جب ایک ایک چپل ملی اور وہ استاد محترم کے قدموں میں رکھی گئی تو خوشی سے دونوں کے چہرے کھل اٹھے۔ بات جب خلیفہ تک پہنچی تو استاد کو بلایا گیا۔ استاد کے دل میں یہ ڈر تھا کہ کہیں یہ بات بادشاہ کو ناگوار تو نہیں گزری لیکن جب وہ خلیفہ کے سامنے پیش ہوا تو خلیفہ نے اس کا بہت شکریہ ادا کیا کہ میں آپ کا بہت مشکور ہوں کہ آپ نے ہمارے بچوں کو زندگی کے ڈھنگ سکھائے۔

مختصر سی بات یہ ہے کہ ہمارا یہ معاشرہ تلوار کی تیز دھار سے نہیں بدل سکتا، یہ استاد کی تربیت اور کوشش سے ہی بدلے گا۔ استاد ہی وہ واحد امید ہے جو اگر چاہے تو کچھ ہی سالوں میں اس معاشرے کا رخ بدل سکتا ہے۔ اس قوم کو استاد کی بہت ضرورت ہے اور جہاں تک اہمیت کا تعلق ہے تو میرے خیال میں استاد سے زیادہ اہمیت کسی کی بھی نہیں۔ حوصلہ افزائی اور ذہن سازی ہی وہ دو اہم کام ہیں جو اگر ہمارے اساتزہ شروع کرے تو کوئی شک نہیں کہ یہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔