پاکستانی جو بھی کھاتے ہیں، وہ خالص ہے؟ ابو انصار علی

یقینی طور پر آغاز تکلیف دہ بات سے نہیں کرنا چاہیے، لیکن اس سچائی کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ موت ہر نفس کو آنی ہے، اللہ رب العزت کو ماننے والا ہو یا سیکولر اور ملحد، سب نے اس دار فانی سے بہر حال کوچ کر جانا ہے، چاہے وہ امیر ہو، غریب ہو، طاقتور ہو یا پھر کمزور، بہادر ہو یا بزدل، ماضی اورحال اس کلیے کی تصدیق کرتے ہیں، اور مستقبل میں بھی اس کی تردید کے امکانات تاحال مخدوش ہیں۔

ہاں ایک بات ہے، کچھ بہادر انسان یہ ضرور طے کرسکتے ہیں کہ ان کی موت کی حالت اور کیفیت کیسی ہو، وہ اپنے عزیز و اقارب کو خوشحال چھوڑ کر جائیں یا بدحال، وہ اپنی یاد اچھوں میں رکھنا چاہتے یا بروں میں، وہ یہ بات بھی طے کرسکتے ہیں۔ ان کی اولاد کو وہ ویسی دنیا دینا چاہتے ہیں جیسی انہیں ملی یا پھر اس سے بدتر یا بہتر۔

لیکن ہم یہ بات پھر دہرا دیتے ہیں یہ کارنامہ بھی بس کچھ بہادر لوگ ہی انجام دے پاتے ہیں، باقی سوچتے رہ جاتے ہیں کہ ’کہیں ایسا نہ ہوجائے، کہیں ویسا نہ ہوجائے‘۔

اس پوری تمہد کا حاصل کیا ہے؟ بات کو اس پیرائے میں کرنے کا مدعا کیا ہے؟ تو کہہ دیتے ہیں، معاملہ تھوڑا حساس ہے، غور و فکر کے ساتھ عمل کا تقاضا کرتا ہے، ابلاغ کا اظہار چاہتا ہے، کچھ احساس اجاگر کرنے اور انھیں اپنی اور دوسروں کی زندگی کا حصے بنانے کا محکم ارادہ مانگتا ہے۔

اچھا! بات کیا ہے؟ بات دراصل ان سے ہے، جن کی عمریں 28 سے 40 کے درمیان کی ہیں، جن کے دو سے چار بچے بھی ہوگئے ہیں، جو اس بات سے باخبر ہیں کہ اعداد و شمار کے مطابق ایک پاکستانی 66 سال کی عمر تک اپنے عزیز و اقارب کو زندہ چھوڑ جاتا ہے۔

کیا وہ جاتے ہوئے، دنیا کو کچھ اچھا دے کر گیا؟ کیا وہ اپنے بچوں کے لیے یہ دنیا رہنے کی جگہ چھوڑ کر گیا؟ کیا اس نے ایسے کارنامے انجام دیے جس سے دوسروں کی زندگی میں آسانی پیدا ہوئی ہو؟ ان کی راہ کی تکلیفوں کو دور کرنے کا بندوبست ہوگیا ہو، جس کی زندگی کی فکر ہو کہ وہ کم از کم اپنوں کی زندگی میں روشنی کرکے جا رہے ہیں، پھر ان کا نعرہ مستانہ ہو کہ ’اب تمہارے حوالے یہ بہتر دنیا ساتھیو‘۔

ویسے پوچھا تو یوں بھی جاسکتا ہے کہ آپ کے پردادا اور داد ا، ان بیماریوں کا شکار کیوں نہ ہوئے، جو آج آپ کے اردگرد موجود بچوں اور بڑوں کو ہر روز تکلیف دیتی ہیں؟ آج سے 30 یا 40 سال پہلے کے لوگوں کی قوت مدافعت اتنی مضبوط کیسے تھی جو آج کے نوجوان کی بھی نہیں؟ دراصل وہ لوگ کچھ خالص غذائیں کھاتے تھے، جن میں گندم، جو اور باجرے کی روٹی، دیسی گھی، مکھن اور دیسی مرغ، صاف ستھرے مصالحے اور میلوں پیدل سفر ان کی صحت کا راز تھا۔

اب بات یہ ہے کہ آپ کیا کھاتے ہیں؟ اور دنیا چھوڑتے وقت اپنی اولاد کے لیے کس طرز کا کھانا چھوڑ کر جائیں گے؟ بھلا ہو، سپریم کورٹ کا، جس کی سماعت سے پتا چلا کہ ہم تو دودھ کے نام پر کچھ اور ہی پی رہے تھے، کراچی جیسے شہر میں بھی خالص دودھ ملنا محال ہوچکا ہے، اوپر سے ہر روز دودھ مہنگا کرنے کی خبریں عام ہیں۔

سپریم کورٹ کی کارروائیوں کی روداد سے پتا چلا کہ کراچی، راولپنڈی اور لاہور جیسے بڑے شہروں کی 80 فیصد سے زائد آبادی مضرصحت پانی پی رہی ہے، جو لوگ صاف پانی پیتے ہیں، وہ بھی خریدتے ہیں، یعنی قدر ت کی انمول نعمت پانی بھی لوگ خرید کر پیتے ہیں۔ آج تک ہم نے تو نہیں سنا کہ کسی منرل واٹر کمپنی نے’ایچ ٹو او‘ کے فارمولے سے پانی تخلیق کیا ہو، سب لوگ ملک میں بہہ رہے دریائوں سے پانی لیتے ہیں اور اپنا کاروبار چمکاتے ہیں، پوچھنے والے (حکمران یا انتظامیہ) خاموش تماشائی یا حصے دار۔

یہ بات بھی مشاہدے میں تھی، لیکن اسے خبر یا اطلاع حکمرانوں نے نہیں بلکہ سپریم کورٹ نے بنایا کہ فارمی مرغی کی افزائش کا عمل ناقص ہے۔ جن دکانوں سے ہم یہ گوشت خریدتے ہیں، ان کی حالت صحت کو خراب کر دینے کے لیے کافی ہے۔ جو سبزیاں ہم لوگ کھا رہے ہیں ان کے متعلق یہ رپورٹس آچکی ہیں کہ وہ گندے نالے کے آمیزش زدہ پانی سے نشوونما پاتی ہیں۔ نمک اور مرچ سمیت دیگر مصالحے بھی ملاوٹ زدہ ہیں۔ اب تو یہ خبریں بھی گردش میں ہیں کہ آپ نے بازار جو کھایا ہے یا گھر پر پکایا ہے، وہ گوشت بکرے یا گائے کے بجائے گدھے کا نہ ہو۔

آپ کے اردگرد شہد خالص ہے نہ ہی چائے کی پتی، اور تو اور اب تو آٹے اور چاول میں پلاسٹک کی ملاوٹ یا پلاسٹک یا کیمیکل زدہ چاول کی خبر گرم ہے، اور عام آدمی کے پاس کوئی معیار نہیں کہ وہ ان چیزوں کو پرکھ سکے، ان کی خرابی پر آواز اٹھائے اور باقی لوگوں کو اس جانب متوجہ کرسکے۔ کیوں؟ اس لیے جن لوگوں نے کام کرنا تھا، وہ کیوں نکالا، سینیٹ میں فتح و شکست اور اس جماعت کو توڑو اسے بناؤ، یہ اتحاد نہیں چلے گا وہ چلے گا، میرا بیانیہ معتبر اور میرا کہا قانون، کی غلام گردش میں پھنسے ہوئے ہیں۔

یہ تاثر اب عوام میں یقین کا درجہ پا چکا ہے کہ ہمارے کھانے معیاری نہیں رہے، اس حوالے سے چیک اینڈ بیلنس کا نظام مؤثر نہیں، عوام کے متعلق سوچنا اب مقتدر حلقوں کا کام نہیں رہا، لیکن سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ پنجاب میں محکمہ فوڈ کی کارروائیاں تو کافی عرصے سے چل رہی ہیں، انھیں ہم جیسے کچھ عناصر سلیکٹڈ بھی کہہ لیتے ہیں، لیکن سندھ حکومت اتنی دیر سے کیوں جاگی؟ خیبرپختونخوا کی کارکردگی رپورٹ کیوں منظر عام پر نہیں آ رہی؟ بلوچستان کیوں اس معاملے پر بھی پسماندہ ہے؟ کراچی شہر کے میئر صاحب کو کیا اس معاملے پر بھی فنڈز درکار ہیں؟ یا پھر اس بارے میں نظریں کہیں اور لگنا درست ہوگا؟

درست بات ہے کہ سڑکیں بنوانا، پی ایس ایل کے پرامن میچز کرانا، دہشت گردی کو کنٹرول کرنا اور ٹیکس کی شرح بڑھاتے چلے جانا، حکمرانوں کے کرنے کے کام ہیں، لیکن کیا صحت بخش اور ملاوٹ سے دودھ، صاف پانی، معیاری گوشت اور پلاسٹک سے پاک آٹا اور چاول کیا غیبی مخلوق سے مانگا جائے؟ پیسے دینے کےبعد اگر صحت کو نقصان پہنچانے والی اشیا ہی ملیں تو پھرمقتدر لوگوں کو عیش کی زندگی دیتا یہ سسٹم عام آدمی کے کس کام کا؟

جن سے بھاری بھر کم ٹیکس لیاجاتا ہے، اُس عوام کو اس یقین سے روشناس کون کرائے گا کہ وہ گدھے کا نہیں گائے کا گوشت کھا رہےہیں، ان کی کڑاہی میں ڈالنے والی مرغی ذبح سے پہلے زندہ تھی ٹھنڈی نہیں، ان کی ہانڈی میں بکرے کا ہی گوشت ہے، وہ بازار میں جو بریانی کھا رہے ہیں وہ کوے کی نہیں، ان کے بچوں کو جو دودھ ملا ہے، وہ صحت بخش ہے، جو پانی ان کے نل میں آتا ہے وہ مضر صحت نہیں۔

اب بھی اگر کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم سب کچھ خالص کھا رہے ہیں، 50 سے 60 روپے کلو ملنے والے آٹے میں یا 100 سے 200 روپے کلو میں دستیاب چاول میں، 400 روپے کلو میں ملنے والی پلاسٹک شامل نہیں ہوسکتی، یا خسارہ سرمایہ دار نہیں برداشت کرسکتا تو پھر ملک میں کینسر کےمریضوں کی تعداد بتدریج کیوں بڑھ رہی ہے؟ طرح طرح کی بیماریاں کیوں پھیل رہی ہیں؟ مدافعت کا نظام کمزور کیوں پڑ رہا ہے؟ یہ یا اس نوعیت کے دیگر سوالات مقتدر حلقوں کے لیے یقینی طور پر الارمنگ ہیں۔

یہ سارے سوالات اور باتیں، بنیادی نوعیت کے ہیں، ہمیں اس حوالے سے چوکنا رہنا ہوگا، ان مسائل سے نجات کا راستہ تراشنا ہوگا، لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا، سوچنا ہوگا کہ یہ معاملات حکومتی تبدیلی سے ممکن ہیں یا نظام میں بنیادی نوعیت کا بدلاؤ زیادہ کارگر ہوگا۔ ہمیں پاکستان کے لیے، اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے، ایک قدم بڑھانا ہوگا، صحت مند پاکستان کی طرف۔