قائد اعظم سیکولر تھے یا مذہبی؟ عظیم الرحمن عثمانی

یہ سوال قیام پاکستان سے لے کر آج تک دو طبقات فکر کے درمیان گونجتا رہا ہے۔ ایک کے نزدیک قائداعظم محمد علی جناح (رح) ایک سیکولر دماغ کے انسان تھے جن کا مقصد پاکستان کی صورت میں ایک 'پروگریسو سیکولر' ریاست کا قیام تھا، دوسرے گروہ کے نزدیک وہ ایک مذہبی دماغ کے ساتھ ایک ایسی اسلامی ریاست کے قیام کے متمنی تھے جہاں قرآن و سنت کے احکام کا اطلاق کیا جاسکے۔ یہ دونوں گروہ ایک دوسرے پر تاریخ مسخ کرنے کا الزام لگاتے ہیں اور اپنی اپنی رائے کے دلائل میں محمد علی جناح کے خطبات و تحریری یادداشتیں پیش کیا کرتے ہیں۔ پریشان کن امر یہ ہے کہ جناح کی تقاریر میں جہاں جابجا ایک 'اسلامی' قوانین پر مبنی ریاست کی خواہش کا اظہار ہوتا ہے، وہاں کچھ مقامات ایسے بھی ہیں جہاں اس نئی ریاست سے متعلق ان کے نظریات سیکولر محسوس ہوتے ہیں.

سیکولر طبقہ فکر اپنے مؤقف کے حق میں گیارہ اگست کی تقریر سے اقتباسات پیش کرتا ہے۔ ایک نمونہ درج ذیل ہے:
"آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔"

مگر اس تقریر کے بعد کی وہ تقاریر جو ریکارڈ پر موجود ہیں، بتاتی ہیں کہ جناح پاکستان کو ایک مکمل اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے، جیسا کہ 30 اکتوبر1947ء کو یونی ورسٹی اسٹیڈیم لاہور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ:
"اب میں آپ سے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ہر شخص تک میرا یہ پیغام پہنچا دیں کہ وہ یہ عہد کرے کہ وہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے اور اسے دنیا کی ان عظیم ترین قوموں کی صف میں شامل کرنے کے لیے بوقتِ ضرورت اپنا سب کچھ قربان کردینے پر آمادہ ہوگا۔"

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کی بھٹو، ضیاء اور قائداعظم سے ملاقات کا احوال - اسامہ الطاف

اسی طرح 25جنوری 1948ء میں کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا کہ:
"وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ لوگوں کا ایک طبقہ جو دانستہ طور پر شرارت کرنا چاہتا ہے، یہ پروپیگنڈا کررہا ہے کہ پاکستان کے دستور کی اساس شریعت پر استوار نہیں کی جائے گی۔ آج بھی اسلامی اصولوں کا زندگی پر اسی طرح اطلاق ہوتا ہے جس طرح تیرہ سو برس پیشتر ہوتا تھا۔‘‘

یہ دونوں مؤقف رکھنے والوں کی جانب سے ایک دو مثالیں ہیں، ورنہ ایسی ہی اور بہت سی شہادتیں دونوں طبقہ فکر پیش کرتے ہیں۔

ہماری دانست میں بناء کسی جانبداری کے جب ہم اس پورے سلسلے کا جائزہ لیتے ہیں تو کچھ بنیادی باتیں سامنے آتی ہیں۔ سب سے پہلے تو اس حقیقت کا انکار ممکن نہیں ہے کہ قائداعظم پہلے دن سے ایک دیانتدار، ذہین اور سچے مزاج کے حامل تھے مگر ان کی زندگی کا بیشتر حصہ کسی روایتی مذہبی انسان کا نہیں ہے۔ مغربی چال ڈھال اور رہن سہن ان کی زندگی سے واضح تھا۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ اپنی زندگی میں مذہب سے بالکل ہی دور رہے ہوں لیکن مذہب سے غیر معمولی لگاؤ بھی نہیں محسوس ہوتا۔ قائداعظم کی سوچ میں انقلابی بدلاؤ علامہ اقبال سے رفاقت کے سبب ہوا۔ یہ اقبال ہی تھے جنہوں نے انھیں لندن سے واپس ہندوستان آنے پر مجبور کیا، ورنہ وہ ہندوستانی سیاست سے کنارہ کش ہوکر لندن جا چکے تھے۔ علامہ اقبال اپنی فراست سے یہ جانتے تھے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو جس قیادت کی ضرورت ہے، وہ قائداعظم ہی کی صورت میں انھیں میسر آسکتی ہے۔ ان دونوں عالی دماغوں نے موجود صورتحال کا جائزہ لے کر بلآخر اس امر پر اتفاق کرلیا کہ مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن ناگزیر ہے۔ جناح کی جانب سے اقبال کو بھیجا گیا ایک خط اس کا ثبوت ہے۔ اس دور میں قائداعظم اپنی تقاریر میں اسلام کے نظریات پر بات کرتے، عوامی مقامات میں اسلامی روایات کا ذکر کرتے۔ وہ علامہ اقبال کی سوچ سے کس حد تک متاثر تھے، اس کا اندازہ 1940ء میں کی گئی ان کی ایک عوامی تقریر سے لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اگر مستقبل میں ہندوستان میں ایک مثالی اسلامی مملکت قائم ہوئی اور مجھ سے کہا جائے کہ اس طرز حکمرانی اور اقبال کے کام میں بہتر کون سا ہے تو میں، مؤخر الذکر کو ہی چنوں گا۔" علامہ اقبال کے انتقال کے بعد تحریک پاکستان میں قائداعظم کے دست بازو کے طور پر علامہ شبیر احمد عثمانی رح کھڑے نظر آتے ہیں۔ علامہ عثمانی کی وہ اتنی قدر کرتے تھے کہ غیر مسلک ہونے کے باوجود اپنے ایام انتقال میں یہ وصیت کر گئے کہ ان کی نماز جنازہ علامہ شبیر احمد عثمانی ہی پڑھائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ''ہاں! قائد اعظم کو پتہ تھا''، جاوید چوہدری کو جواب - عالم خان

یہ ممکن ہے کہ نوجوانی میں مغربی فلسفوں یا سیکولرازم کا رنگ آپ کی فکر پر رہا ہو، مگر اوپر درج اور اس جیسے کئی اور امور اسی حقیقت کی غمازی کرتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح رح کی اصل جدوجہد کے آخری سال ایک مذہبی یا مسلم دماغ کے حامل رہے ہیں۔ یہ خارج از امکان نہیں کہ آخری دور تک ان کی گفتگو میں کچھ جھلک ان کے سابقہ خیالات کی بھی نظر آجاتی ہو، مگر اسے جھٹلانا ممکن نہیں کہ بطور قائد وہ پوری دیانتداری سے ایک ایسی ریاست کے خواہاں تھے جہاں قرآن و سنت کے اصولوں کا اطلاق کیا جاسکے۔گو انہیں زندگی نے اس کے پورے اظہار کی مہلت نہ دی۔

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.