صوبائی اوروفاقی حکومت کی توجہ کے لئے- عطا ء الحق قاسمی

میرے ایک دیرینہ دوست نے اورنج ٹرین پر اٹھنے والے اخراجات کی تفصیل ارسال کی ہے جو ظاہر ہے کہ بلینزمیںہے اور ان اخراجات کاموازنہ تعلیم اور صحت پر خرچ ہونے والے اخراجات سے کیا ہے، جو اورنج ٹرین سے کہیں کم رکھے گئے ہیں۔ اول تو اب میں سوشل میڈیا کو افواہ سازی اور من گھڑت اعداد وشمار اور شرفا پرگندے الزامات کا ایک بدترین گٹر سمجھنے لگاہوں۔

اگرچہ سوشل میڈیا پر بہت عمدہ چیزیں بھی پڑھنے اور دیکھنے کو ملتی ہیں مگر ایک گروہ نے اسے جھوٹ پھیلانے کا ایک ’’موثر‘‘ ذریعہ بھی بنا لیا ہے۔ تاہم اگر اورنج ٹرین پر زیادہ اورتعلیم اورصحت پر کم بجٹ رکھنے کی بات درست ہے، تو بھی میرا سوال یہ ہے کہ ماضی کی ساری حکومتیں پنجاب میں بسوں میں دھکے کھانے والے اور ویگنوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح سفرکرنے والے عوام کو سفر کی بہترین سہولتیں دینے کی بجائے ساری رقم صحت اورتعلیم پر ہی خرچ کرتی تھیں؟ ظاہرہے ایسا نہیں تھا اور صورتحال یہ بھی نہیں ہے کہ ان دنوں تعلیم اورصحت کے شعبوں کو نظرانداز کیا جارہاہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس حوالے سے بھی بہت بہتری آئی ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران مجھے پائوں کے فریکچر کی وجہ سے دو تین اسپتالوں میں جانے کا اتفاق ہوا اور مجھے خوشی ہوئی کہ حالات پہلے سے کہیں بہتر ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے

سڑکوں، لنک روڈز، اوور ہیڈ برج سے موٹر ویز اور انڈر پاسز سے عوام کوبہترین سہولتیں دی ہیں۔ اب دور دراز قصبوں اور گائوں کو جانے کے لئے سات آٹھ گھنٹوں نہیں صرف دو تین گھنٹوںکا سفر کرنا پڑتاہے۔ اسی طرح میٹرو بس اور اب اورنج ٹرین سے عوام کی سفری تکلیفوں میں بے پناہ کمی واقع ہوگی۔ ان سہولتوں کا اندازہ ہم کاروں میں سفر کرنے والے نہیں کرسکتے۔ اس کا اندازہ ان عوام کو ہے جنہیں آج تک بھیڑ بکریاں سمجھاجاتا رہاہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ اب شاہدرہ سے لاہورایئرپورٹ صرف پندرہ منٹ کے فاصلے پر رہ گیا ہے اور یہی صورتحال موٹر وے کے ذریعے آٹھ آٹھ دس دس گھنٹوں کا سفر آدھے سے بھی کم وقت میں طے ہونے لگاہے!

بات یہ نہیں کہ معترضین اس حقیقت سےواقف نہیں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ انہیں عوام کو دی گئی ان سہولتوں کا پورا ادراک ہے جس کی وجہ سے وہ پریشان ہیں کہ آنے والے انتخابات تک جب لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوچکا ہوگا، دہشت گردی اب برائے نام رہ گئی ہےاور اس میں بھی مزیدکمی واقع ہوگی، اگر کوئی بیمار ہے تو ایک فون پرایمبولنس اسے گھر سے لےکر اسپتال کی ایمرجنسی تک چھوڑ کر آئےگی، ابتدائی طبی امداد کے لئے موٹرسائیکل اسکواڈ بھی موجود ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ(ن) کے رہنمائوں کو ایسی صورتحال میں مبتلا کیا جارہاہے کہ انہیں اپنی پڑجائے اور وہ انتخابات میں بھرپور کردار ادا نہ کرسکیں۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تمام تر دبائو اور رکاوٹوں کے باوجود مسلم لیگ کے ایم پی اےاور ایم این اے پوری استقامت سے کھڑے نظرآتے ہیں۔

ان دنوں ایک افواہ بھی سننے میں آرہی ہے کہ حکومت اور حکومت سے باہر کچھ عناصر الیکشن سے کچھ پہلے اور بعد میں زبردست ’’لوڈشیڈنگ‘‘ کا ’’اہتمام‘‘ کریںگے تاکہ عوام کو یہ تاثر دیاجاسکے کہ حکومت نے لوڈشیڈنگ کے جو دعوے کئے تھے وہ سب غلط تھے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے بجلی وافر مقدار میں تیار کر رکھی ہے اور کسی سازش کے بغیر لوڈشیڈنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح سوئی گیس کے نئے اور پرانےکنکشنز کے حوالےسے بھی بہت کچھ سننے میں آ رہا ہے جس سے عوام کو گیس کے پرابلم سے بھی واسطہ پڑے گا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ چوکس رہے! شہباز شریف تمام منصوبوں کی تکمیل کے لئے دن رات کام کرتے ہیں، اس وقت میں سے کچھ وقت ان سازشوں کے سدباب کے لئے بھی نکال لیں تو بہترہوگا!

اتنے سنجیدہ کالم کی ’’دف‘‘ مارنے کےلئے ایک بالکل انوکھی غزل جو فیصل آباد سے منور حسین نے مجھے ارسال کی ہے۔ شاعر کا نام انہیں بھی نہیں پتا، البتہ تخلص ان کا احمد ہے سو احمد صاحب کے شکریئے کے ساتھ یہ انوکھے قافیے اور ردیف والی غزل نذرِ قارئین ہے؎
لمس کی آنچ پہ جذبوں نے اُبالی چائے
عشق پیتا ہے کڑک چاہتوں والی چائے
کیتلی ہجر کی تھی، غم کی بنائی چائے
وصل کی پی نہ سکے ایک پیالی چائے
ہم نے مشروب سبھی مضر صحت ترک کئے
ایک چھوڑی نہ گئی ہم سے یہ سالی چائے
میرے دالان کا منظر کبھی آ کر دیکھو
درد میں ڈوبی ہوئی شام، سوالی چائے
میں یہی سوچ رہا تھا کہ اجازت چاہوں
اس نے پھر اپنے ملازم سے منگا لی چائے
اس سے ملتا ہے محبت کے ملنگوں کو سکوں
دل کے دربار پر چلتی ہے دھمالی چائے
رنجشیں بھول کے بیٹھیں کہیں مل کر دونوں
اپنے ہاتھوں سے پِلا خیرسگالی چائے
عشق بھی رنگ بدل لیتا ہے جانِ احمد
ٹھنڈی ہوجائے تو پڑ جاتی ہے کالی چائے