ترقی کے چار اہم ستون - ڈاکٹر عطاء الرحمٰن

موجودہ دور میں سماجی و معاشی ترقی کا واحد اوراہم ترین ستون علم ہے۔ اب قدرتی وسائل کی اہمیت کم سے کم ہو رہی ہے اور سائنس، ٹیکنالوجی و جدت طرازی قوموں کی ترقی کے لئے کلیدی اہمیت کے حامل ہوچکے ہیں۔ جن ممالک نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے وہ انسانی وسائل کو اعلیٰ ترین درجے تک لے جانے کے لئے سرمایہ کاری کررہے ہیں ، تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہیں اور انہوں نے جلد ہی کئی اقوام کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

اس کی ایک مثال فن لینڈ کی ہے اس کی آبادی کراچی کی آبادی کے چوتھائی کے برابر ہے اس کی صرف ایک کمپنی نوکیا ( Nokia) کی ایکسپورٹ 2010ء میں پاکستان کی کل ایکسپورٹ سے دگنی تھی۔ تیس سال قبل ملائشیا نے اپنے بجٹ کا 30 فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج ملائشیا کی برآمدات کا حصہ اسلامی ممالک کی کل اعلی ٹیکنالوجی کی مصنوعات کا87.5%فیصد ہے ۔ اسی طرح کوریا نے تعلیم کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا1960 میں کوریامیں 17سے 23 سال کی عمر کے صرف پانچ فی صد نوجوان اعلیٰ تعلیمی اداروں تک پہنچ پاتے تھے (جیسا کہ 2001میں پاکستان کی صورت حال تھی )اور 1960 میں کوریا کی برآمدات صرف3ارب امریکی ڈالر تھی۔ لیکن اب کوریا کے نوجوانوں کی اعلیٰ تعلیم میں شمولیت 80فیصد تک بڑھ گئی ہےجو کہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

آج کی دنیا میں

ترقی کے چار ستون ہیں (1) اعلیٰ معیاری تعلیم (2) سائنس اور ٹیکنالوجی (3) جدت طرازی اور(4)صاحب بصیرت اور ایماندار اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے ماہرقیادت جو کہ علم پر مبنی معیشت کی اہمیت سے واقف ہو اور تیز رفتار اور شفاف انصاف پر عمل پیرا ہوسکے۔

1۔ تعلیم :
پاکستان اپنے جی ڈی پی کا صرف 2.2 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے (اس کے مقابلے میں ملائشیا میں یہ شرح30فیصد ہے) یہ ایک جوہری طاقت کے حامل ملک کے لئے قابل شرم بات ہے ۔افسوس کہ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس کے مطابق پاکستان کا شمار 188ممالک میں 147ویں نمبرپرہوتاہے۔ اس کی وجہ پاکستان میں جاگیر داروں کا پارلیمان پر قبضہ ہے کیوں کہ ایسی پارلیمنٹ تعلیم کو نچلی ترین ترجیح میں رکھتی ہے۔

2002 میں پاکستان نے اعلیٰ تعلیم میں عمدہ پیش رفت کی تھی اور اعلیٰ تعلیمی کمیشن کا قیام عمل میں آیا تھا۔ 2008 میں پہلی دفعہ پاکستان کی بعض جامعات دنیا کی 400بہترین جامعات میں اپنا مقام بنا سکیں جن میں NUST 273ویں پر اور، UETلاہور 281ویں نمبرپر تھی، تاہم2008کے بعد ترقی کا یہ عمل رکنا شروع ہوا جب ایچ ای سی کے بجٹ میں 50 فیصد تک کٹوتی کردی گئی جس کی وجہ سے اس کی ترقی کا عمل نوے فی صد تک رک گیا۔نومبر 2010میں حکومت نے ایک حکم نامے کے ذریعے ایچ ای سی کے ٹکڑے کر کے صوبوں میں تقسیم کرنے کی کو شش کی تھی تاکہ اس کے بدعنوان اراکین اسمبلی میں رہ سکیں ۔ ایچ ای سی نے 53 قومی ممبران پارلیمنٹ کی ڈگریوں کو جعلی قرار دیا تھااور 250کی ڈگریاں مشتبہ قرار دی گئی تھیں۔ لہٰذا ان سیاست دانوں نے اس کمیشن کے خلاف سازش تیار کی تاکہ HECکو ٹکروں میں تقسیم کرکے اس کو کمزور کیا جائے، اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں میں نے اپیل دائر کی تاکہ اس قومی تباہی سےبچا جاسکے۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ HEC کی تحلیل کا فیصلہ غیرآئینی ہے اور HEC کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے۔

اس وقت بنیادی ، ثانوی اور تکنیکی تعلیم جو صوبوں کے پاس ہے وہ مکمل بربادی کا شکار ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی بہتری کی امید نظر آتی ہے۔ محض کاغذوں میں اسکول موجود ہیں جن کے اساتذہ کی تنخواہیں جاگیرداروں کے ذاتی ملازمین کو جاتی ہیں اس لئے ناخواندگی بڑ ھتی جارہی ہے۔

2۔ سائنس اور ٹیکنالوجی:
پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے اداروں کی تباہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2002 میں جب میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا وزیر تھا اس وقت اس وزارت کا ترقیاتی بجٹ 6ارب روپے تھا جبکہ اب یہ کم ہوکر 2ارب رہ گیا ہے۔ جو ملک سائنس اور ٹیکنالوجی میں کمزور ہوگاوہ ہمیشہ اپنی ٹیکنالوجی کی ضروریات کے لئے دوسروں کا محتاج رہے گا۔ انجینئرنگ، دفاع اور صنعت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

فروری 2008 میں ایکنک جو حکومت کے منصوبے منظور کرنے کا اعلی ترین ادارہ ہے نے ایک شاندار منصوبہ منظور کیا تھاجس کے تحت کئی غیر ملکی انجینئرنگ جامعات کا قیام عمل میں آنا تھاجن کے ساتھ ہی ٹیکنالوجی پارکوں کا قیام عمل میں آتا، ان ٹیکنالوجی پارکوں میں غیر ملکی ادارے نئی مصنوعات کی تیاری کے لئے تحقیق اور ترقی کے مراکز قائم کرتے ۔ جرمنی ، فرانس ،سوئڈن، اٹلی، آسٹریا،چین اور کوریا وغیرہ پاکستان کے مختلف شہروں میں اپنی جامعات قائم کرنے پر رضامند ہوگئے تھے جہاں ہمارے طلباکو بیرون ملک جائے بغیر ڈگری کا حصول ممکن تھا، اس طریقے سے پاکستان کے سالانہ 100ارب روپے کی بچت ہوتی جو کہ پاکستانی والدین اپنے بچوں کو بیرون ملک تعلیم کے لئے باہر بھیجنے پر خرچ کرتےہیں۔

اس اسکیم کو 2008میں ختم کردیا گیاکیوں کہ حکومت کے پاس تعلیم کے علاوہ بہت سی دوسری ترجیحات تھیں، اسے عظیم قومی سانحہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ تاہم ابھی KPKاور پنجاب کی حکومتوں نے میری تجویز کو منظور کیا ہے جس کے تحت آسٹریا اور اٹلی کی انجینئرنگ جامعات کا قیام عمل میں آئے گا۔ یہ 2018-19میں اپنے کام کا آغاز کریں گی۔

:3جدت طرازی
جب تک لیبارٹری ریسرچ کو مارکیٹ کے قابل مصنوعات میں تبدیل نہیں کیا جاتا علمی معیشت کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اس کو ممکن بنانے کے لئے کئی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اس میں سب سے پہلا کام یہ کہ پاکستان میں سائنس ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کی واضح پالیسی تشکیل دی جائے، دوسرے قومی ٹیکنالوجی پالیسی میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ فوری طور پر مارکیٹ میں لانے کی بنیاد پر منظور نہیں کیا جائے گاجب تک ٹیکنالوجی کی حقیقی منتقلی کو ہر منصوبے کا لازمی حصہ نہ بنایا جائے ، تیسرے پرائیو ٹ RD کوترغیب کے عمل کے ذریعے فروغ دیا جائے گا۔

آخر میں ہماری نچلے درجے کی سستی مصنوعات کی معیشت کو اعلیٰ درجے کی علمی معیشت میں تبدیل کرنے کے لئے واضح لائحہ عمل(روڈ میپ) تیار کرنا ضروری ہے۔ یہ لائحہ عمل میری قیادت میں تیار کیا گیا تھا۔یہ320 صفحات پر مشتمل دستاویز ہے جس کا عنوان
(Technology Based Industrial Vision, Strategy and Action Plan for Socio Economic Developement)
ہے اور اس کو اگست 2007میں کابینہ نے منظور بھی کرلیا تھا۔

اس حوالے سے ایک بین الوزارت کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی تاہم ان سفارشات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اور یہ محض ایک خواب بن کر رہ گئیں۔

:4۔ گورننس / انتظامی امور :
کم آمدنی والی معیشت سے طاقت ور علمی معیشت میں تبدیلی کا سفر اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ہمارے پاس صاحب بصیرت تکنیکی ماہرین موجود نہ ہوں۔

چین اور کوریا کی کابینہ میں ملک کے مایہ ناز سائنس دان اور انجینئر شامل ہیں آسٹریا اور کوریا میں اعلیٰ تعلیم اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیروں کو نائب وزیر اعظم کا عہدہ دیا گیا ہے موجودہ برطانوی پارلیمانی نظام حکومت بار بارناکام ہوا ہے، ہمیں لازماً صدارتی طرز حکومت کا قیام عمل میں لانا ہوگا تاکہ صدر اپنی مرضی کے ماہرین کو کابینہ میں شامل کرسکے اس کے علاوہ ہمارے ادارے مثلاً NAB, FIA, Railway, Steel Mills, FBR, الیکشن کمیشن ،وغیرہ کو مکمل طورپر آزاد کرناہوگاتاکہ حکومت کے دباؤ سے آزاد ہوکر اپنی گورننگ باڈیز کے تحت اپنے افعال ایمانداری سے انجام دے سکیں۔ ان اداروں کے سربراہان کی تقرری کا نظام مکمل طور پر میرٹ پر ہونا چایئے۔

یہ کام سپریم کورٹ کے تحت قائم کی جانے والی ایک کمیٹی کے تحت انجام دیا جائے ۔ وزرا اپنے شعبوں میں اعلیٰ ترین ماہر ہوں جن کا تقرر براہ راست صدر کرے نہ کہ ان کو پارلیمنٹ سے لیا جائے، پارلیمنٹ کا کردار صرف قانون سازی تک محدود کیا جائے۔

اراکین اسمبلی کے پاس لازماًماسٹرز ڈگری ہونی چاہئے جیسا کہ ایران میں ہے اور چین کی طرح بدعنوانی پر سزائے موت کا قانون متعارف کردیا جائے۔ ایک صاحب بصیرت، ایماندار اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے ماہر حکومت جو کہ انصاف اور میرٹ پر یقین رکھتی ہو کے بغیر پاکستان کی ترقی کا خواب پورا کرنا ناممکن ہے۔