ایک ’’غیر محب وطن‘‘ کی کہانی- یاسر پیر زادہ

ہوا یوں کہ امریکیوں نے ایک روسی جاسوس پکڑ لیا، جاسوس کا نام روڈولف ایبل تھا، سرد جنگ اُس وقت اپنے عروج پر تھی اور ایک روسی جاسوس کا امریکی سرزمین سے پکڑا جانا بہت بڑی خبر تھی۔ یہ صاحب نیویارک کے ایک ہوٹل میں قیام پذیر تھے جب 15جون 1957کی صبح سات بجے موصوف کے کمرے میں گھس کر ایف بی آئی والوں نے اسے دبوچ لیا، جناب اُس وقت نیم برہنہ حالت میں کھڑے منجن کر رہے تھے، ایف بی آئی کی ٹیم کو دیکھ کر موصوف کے اطمینان میں کوئی فرق نہیں آیا، پُرسکون انداز میں انہوں نے کپڑے پہنے اور ایف بی آئی والوں کے ساتھ چل پڑے۔ بعد ازاں تفتیش کے دوران امریکیوں نے کچھ ایسی دستاویزات اور ثبوت مسٹر ایبل سے برآمد کر لئے جس سے انہیں یقین ہو گیا کہ یہ شخص سوویت یونین کے لئے جاسوسی کر رہا تھا۔

اب روڈولف ایبل پر مقدمہ چلانے کا مرحلہ آیا، بروکلین بار ایسوسی ایشن نے کئی ممتاز وکلا سے رابطہ کیا کہ روڈولف ایبل کو وکیل مہیا کیا جا سکے مگر کسی نے اُس جاسوس کا وکیل دفاع بننے پر آمادگی ظاہر نہ کی۔ بالآخر جیمس ڈونوون نامی نیویارک کا وکیل روڈولف ایبل کا مقدمہ لینے پر رضامند ہوا، یہ ایک قابل

اور نیک نام وکیل تھا، وکالت کے علاوہ مذاکرات کرنے میں بھی ماہر سمجھا جاتا تھا اور بار ایسوسی ایشن میں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا تاہم جیسے ہی جیمس ڈونوون نے سوویت جاسوس کا مقدمہ لڑنے کی ہامی بھری اُس پر چاروں طرف سے لعن طعن ہونے لگی، اخبارات میں اُس کے خلاف سرخیاں لگائی گئیں، مضامین لکھے گئے، وہ جہاں جاتا لوگ اسے نفرت بھری نگاہوں سے دیکھتے، خود اُس کے گھر والے اور دوست اُس کے خلاف ہو گئے، ایف بی آئی والوں نے اسے ہراساں کرنا شروع کر دیا، اس کے گھر پر حملے کئے گئے، لیکن وہ ڈٹا رہا۔

اُس کا کہنا تھا کہ امریکی آئین ہر شخص کو دفاع کا پورا موقع دیتا ہے اور اگر آج ہم نے ایک شخص کو محض اس لئے بغیر کسی فیئر ٹرائل کے سزا سنا دی کہ اُس پر امریکی زمین پر جاسوسی کا الزام ہے تو پھر اس آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں اڑ جائیں گی۔ جیمس ڈونوون نے پوری دلجمعی سے روڈولف ایبل کا مقدمہ لڑا، اُس کی کوشش تھی کہ کسی طرح روڈولف ایبل کو سزائے موت نہ ہو، اُس کا موقف تھا کہ روڈولف ایبل سوویت یونین کے لئے قیمتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں امریکہ اِس شخص کے عوض اپنا کوئی جاسوس وہاں سے چھڑانے میں کامیاب ہو جائے۔ مقدمے کا فیصلہ سنایا گیا جس کے نتیجے میں ایبل کو تیس سال قید ہو گئی، اِس فیصلے کے خلاف جیمس ڈونوون نے سپریم کورٹ میں اِس بنیاد پر اپیل کی کہ چھاپے کے وقت ایف بی آئی کے پاس تلاشی کا وارنٹ نہیں تھا۔ اپیل 5-4کے ووٹ سے مسترد کر دی گئی اور ایبل کو جیل بھیج دیا گیا۔

ایبل نے جیل میں وقت گزارنا شروع کیا، وہ مصوری کرتا، شطرنج کھیلتا، اِس عرصے میں اُس نے چند دوست بھی بنا لیے۔

اِس دوران امریکہ نے اپنا U-2 جہاز جس میں جاسوسی کے آلات نصب تھے، سوویت یونین کی فضا میں بھیجنے کا منصوبہ بنایا، اس جہاز کے بارے میں امریکیوں کا خیال تھا کہ یہ ایسی بلندی پر اڑتا ہے جسے روسی طیارے پکڑ نہیں پائیں گے، اس جہاز کو پاکستان کی سرزمین سے پشاور کے قریب اُس وقت لانچ کیا گیا جب سرد جنگ اپنے جوبن پر تھی (یہ ایک الگ کہانی ہے کہ سوویت یونین نے اِس حرکت پر پاکستان کو کس قسم کی دھمکیاں دیں) کرنا خدا کا یوں ہوا کہ اس جہاز کو روسیوں نے مار گرایا، اُس کا پائلٹ جو پیرا شوٹ سے چھلانگ لگانے میں کامیاب ہو گیا تھا سوویت فوج کے ہاتھ لگ گیا، اُس کا نام گیری پاورز تھا، اُس پر مقدمہ چلایا گیا اور سزا سنا دی گئی۔

یہاں سے کہانی میں نیا موڑ آتا ہے، سوویت اور امریکی حکومتوں کے درمیان غیر رسمی رابطہ ہوتا ہے جس میں یہ عندیہ دیا جاتا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے جاسوس رہا کر دیں، گویا اُن کا تبادلہ کر لیا جائے۔ وہی جیمس ڈونوون جسے امریکی عوام، معاشرہ، میڈیا اور وکلا چند سال پہلے تک اس لئے غدار کہتے تھے کہ اُس نے روسی جاسوس کا مقدمہ لڑا تھا، اب مشرقی جرمنی جاتا ہے جہاں وہ نہایت تناؤ بھرے ماحول میں روڈولف ایبل کے عوض نہ صرف امریکی پائلٹ کو رہا کروا کے لے آتا ہے بلکہ ایک اور امریکی طالب علم کو بھی رہا کروا لیتا ہے جو مشرقی جرمنی میں دیوار برلن کے پار پکڑا گیا تھا۔

جہاں اِ ن قیدیوں کا تبادلہ ہوا اُس پُل کا نام Glienicke Bridge ہے، برلن کے نواح میں یہ جگہ مجھے دیکھنے کا اتقاق ہوا ہے، اب وہاں کوئی رکاوٹ ہے اور نہ کوئی چیک پوسٹ، ساٹھ کی دہائی میں البتہ یہ حال تھا کہ دیوار برلن عبور کرنے والوں کو گولیوں سے بھون دیا جاتا تھا۔ مذاکرات میں جیمس ڈونوون کی مہارت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے 1962میں کیوبا بھیجا جاتا ہے تاکہ وہ 1,113امریکیوں کی رہائی کے بارے میں بات چیت کر سکے، ڈونوون صدر ٖفیڈل کاسترو کا اعتماد جیتنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، اور جب مذاکرات کا نتیجہ نکلتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہی جیمس ڈونوون جسے چند برس پہلے امریکی غدار کہتے تھے، 9,703قیدیوں کی رہائی کا بندوبست کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ (حالانکہ اُس کے ذمہ صرف 1,113قیدیوں کی رہائی تھی) ان خدمات کے عوض جیمس ڈونوون کو امریکی سی آئی اے ذہانت کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازتی ہے۔

یہ اُس ملک کی کہانی ہے جو ہم سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہے، اُن کے عوام، مبینہ طور پر ہی سہی، آئین اور قانون کی پاسداری کرنے والے لوگ ہیں، اُن کا معاشرہ ’’ہر شخص بے گناہ ہے تاوقتیکہ اُس پر عدالت میں جرم ثابت نہ ہو جائے‘‘ کے اصول پر کھڑا ہے، لیکن اِس کے باوجود وہاں جیمس ڈونوون کو غدار کا ہمدرد اور دوست سمجھ کر ملک دشمن کہا گہا، حالانکہ وہ صرف امریکی آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کروانا چاہتا تھا، اگر امریکی پائلٹ روسیوں کے ہاتھ نہ لگتا اور دونوں جاسوسوں کے تبادلے کی نوبت نہ آتی تو شاید اسے کبھی ہیرو نہ سمجھا جاتا۔ لیکن یہ جیمس ڈونوون کی دور اندیشی کے ساتھ ساتھ خوش قسمتی تھی کہ اُس کی کہی ہوئی بات سچ نکلی، امریکی قوم اُس کی احسان مند ہوئی، جیمس ڈونوون نے یہ ثابت کیا کہ آئین اور قانون کی بالادستی کے لئے کھڑا ہونا چاہئے بھلے حالات کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں، سچ کا دریا سب کو بہا لے جاتا ہے۔

دوسری بات، غداری کے سرٹیفکیٹ امریکہ میں بھی بانٹے جاتے تھے مگر پھر انہوں نے سیکھ لیا کہ یہ بات درست نہیں، اب ہر وہ شخص محب وطن ہے جو آئین اور قانون کی پاسداری کرتا ہے۔ مثالیں ہم امریکہ کی ضرور دیتے ہیں مگر امریکہ سے یہ سبق آج تک نہیں سیکھ پائے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ماضی میں اگر ہم نے کسی کی حب الوطنی پر شک کیا تھا تو اُس کا تاریخ میں کیا موقف تھا اور کیا بعد ازاں اُس کی بات درست ثابت ہوئی! کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اپنے ملک میں بھی ’’جیمس ڈونوون‘‘ تلاش کریں اور اُن تاریخی غلطیوں کی معافی مانگیں جن کی بدولت آج ہم اِس حال کو پہنچے ہیں۔ غلطیوں کو تسلیم کرنے اور اُن کی معافی مانگنے میں کوئی حرج نہیں، چاہے وہ کسی فرد کی طرف سے ہوں یا ادارے کی طرف سے۔ کاش کوئی پہل کر لے۔

کالم کی دُم:استاد شاگرد سے، یہ بتاؤ ڈاکٹر کی مونث کیا ہوتی ہے؟ شاگرد (معصومیت سے) ڈاکٹرائن!
نوٹ:اِس لطیفے کا کسی ڈاکٹرائن سے کوئی تعلق نہیں، تاہم یاد رہے کہ لطیفے کے جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں، قارئین نوٹ فرما لیں۔