پنجاب گڈ گورننس کا بھانڈا، بیچ بازار… ایاز امیر

چیف جسٹس صاحب نے خادمِ اعلیٰ کا ذاتی تشہیر کا ڈرامہ بند کروا دیا ہے۔ اس سے بڑی زیادتی پنجاب حکومت کے ساتھ ہو نہیں سکتی۔ یہ حکومت چل ہی اشتہار بازی پہ رہی تھی۔ گڈ گورننس کا سارا ڈھونگ اِنہی اشتہاروں میں پنہاں تھا۔ آئے روز اور کام تو ہوتا نہیں تھا لیکن بڑے بڑے اشتہارات نکالے جاتے‘ یہ باور کرانے کیلئے کہ دنیا بھر میں اگر کوئی منتظم ہے تو وہ پنجاب کے چیف منسٹر، میاں محمد شہباز شریف ہیں۔

یہ سلسلہ تو بہت پہلے رُکنا چاہیے تھا لیکن جنگل کے بادشاہ خادم اعلیٰ تھے اور پوچھنے والا کوئی نہیں تھا۔ کبھی ہیٹ پہنے اپنی تصویریں قائد اعظم کے ساتھ جوڑ دیتے اور پھر یہ تصویریں لاہور مال کی زینت بن جاتیں۔ اُوپر ہیٹ پہنے قائد اعظم اور نیچے ہیٹ پہنے جناب شہباز شریف۔

ایک بجلی جو اِس حکومت پہ گری وہ پانامہ پیپرز کی شکل میں تھی۔ دوسری بجلی چیف جسٹس صاحب کی صورت میں نمودار ہوئی ہے۔ اشتہار بازی کا ڈرامہ بند کرنا ایک طرف رہا، چیف جسٹس صاحب نے چند بنیادی سوال اُٹھائے ہیں۔ ایک یہ کہ پینے کا صاف پانی پنجاب کے عوام کا بنیادی حق بنتا ہے یا نہیں۔

اگر جواب اثبات میں ہے تو یہ ذمہ داری کس کی بنتی ہے، پنجاب حکومت کی یا کسی اور مخلوق کی؟ دوسرا بنیادی سوال جو چیف جسٹس صاحب نے اُٹھایا‘ وہ یہ ہے کہ صحت اور تعلیم کے بارے میں کچھ کرنا حکومتوں کی ذمہ داری بنتی ہے یا نہیں؟ ایک دو ہسپتالوں کا اُنہوں نے دورہ کیا کیا، سارے کے سارے نظام کی ابتر حالت سامنے آ گئی۔

صحت کے میدان میں پنجاب حکومت کی ساری کارکردگی اشتہار بازی تک محدود تھی۔ اس شعبدہ بازی پہ یقین کیا جاتا تو گمان ہوتا کہ پنجاب میں صحت کا نظام پیرس اور لندن سے کہیں آگے ہے۔ ایک زیادتی اشتہاروں کا بند ہونا تھا۔ دوسری چیف جسٹس صاحب کے ہسپتالوں کے معائنوں سے ہوئی۔ نتیجتاً بھرپور کوشش سے بنائی گئی گڈ گورننس کی خیالی عمارت دھڑام سے بیچ چوراہے آن گری۔

اشتہار کیا بند ہوئے‘ لگتا ہے منظر سے پوری پنجاب حکومت ہی غائب ہو گئی ہے۔ کارکردگی زیاد ہ تر کاغذوں میں ہی تھی۔ کاغذوں کا سلسلہ بند ہوا تو دیکھنے کو کچھ نہیں رہا۔ بس ایک میٹرو ہے جس کو چلانے کیلئے ہر ماہ خزانے سے بھاری سبسڈی مہیا کرنی پڑتی ہے ۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے سالوں میں لاہور، ملتان اور راولپنڈی کی میٹرو بسوں پہ جو ماہانہ خرچہ اُٹھے گا، پنجاب کی کوئی حکومت اِس کا بوجھ نہ اُٹھا سکے گی۔ دوسری کارکردگی اورنج لائن ٹرین کی رہ گئی جس نے لاہور کو اُجاڑ کے رکھ دیا ہے۔ ان مہنگی عیاشیوں کی لاہور کو قطعاً ضرورت نہ تھی۔ کسی منظم طریقے سے شہروں میں بسیں چلائی جاتیں تو عوام کی تکلیف دُور ہو جاتی اور عیاشی کا خرچہ خزانے پہ نہ پڑتا۔ لیکن مقصود تھی ڈرامہ بازی اس لئے جتنا پیسہ پنجاب میں تعلیم صحت پہ خرچ ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ ان دو عیاشیوں پہ لگا دیا گیا۔

چیف جسٹس صاحب نے بھی اس طرف دھیان دلایا کہ پینے کا صاف پانی لاہور میں میسر نہیں لیکن میٹرو بسیں، فلائی اوورز اور انڈر پاسز بنائے جا رہے ہیں۔ ان سب چیزوں کی اپنی اہمیت ہوتی ہے؛ تاہم کہیں بھی حکومتیں ایسا نہیں کرتیں کہ بنیادی سہولتوں کیلئے وسائل مہیا نہیں لیکن جو وسائل ہیں وہ عیاشیوں پہ برباد کر دئیے جائیں۔ دنیا کے بڑے شہروں میں زیر زمین ٹرینیں چلتی ہیں۔ عوام کی سہولت کیلئے انڈر پاسز اور فلائی اوورز بھی ہوتے ہیں‘ لیکن یہ معرکہ کہیں نہیں ملتا کہ صاف پانی میسر نہ ہو، سرکاری سکول اور ہسپتال برباد حالت میں ہوں اور محدود صوبائی وسائل غیر ضروری چیزوں پہ صرف ہو رہے ہوں‘ یہ یقین دلانے کیلئے کہ شیر شاہ سوری کے بعد اگر کوئی منتظم آیا ہے تو وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں۔

چیف جسٹس صاحب نے ایک اور زیادتی بھی کی۔ عوامی شکایات اُن تک پہنچتی ہیں۔ وہ اُنہیں سنتے ہیں اور فوری ایکشن کا حکم دیتے ہیں۔
یہ کام تو حکمرانوں کا ہے۔ عوام کو کسی سے رجوع کرنا چاہیے تھا تو وہ صوبے کے چیف منسٹر ہوتے‘ لیکن اُن تک کوئی پہنچے کیسے؟ جاتی امرا کی پبلک روڈ عوام کیلئے بند کر دی گئی تھی‘ بالکل ویسے ہی جیسے کراچی میں بلاول ہاؤس کے ارد گرد سڑکوں سے عوام نہیں گزر سکتی تھی۔

بلاول ہاؤس کا حصار تو رینجرز نے توڑا اور سڑکوں پہ کھڑی کی گئی رُکاوٹیں رینجرز کے دباؤ کے تحت ہی ہٹائی گئیں‘ ورنہ کون مائی کا لال تھا جو ایسے کروا سکتا۔ بلاول ہاؤس کے ارد گرد مکان اور جائیدادیں بھی سستے داموں لوگوں کو بیچنی پڑیں کیونکہ زرداری صاحب کے پراپرٹی ایجنٹ عزیر بلوچ بنے ہوئے تھے‘ اور اُن کی طرف سے کسی دروازے پہ دستک ہوتی تو کون ہے جو بیچنے سے انکار کر سکتا؟ لاہور میں حکمرانوں کے گھروں کے ارد گرد رُکاوٹیں چیف جسٹس صاحب کی مداخلت سے ہٹائی گئیں۔ بیچارے آئی جی پولیس چیف جسٹس صاحب کے سامنے کہتے رہے کہ حفاظتی ضروریات ہیں جس کے تحت رکاوٹیں کھڑی کرنا ضروری ہیں۔ چیف جسٹس صاحب نے ایک نہ سُنی اور کہا کہ شام تک رُکاوٹیں ہٹائی جائیں، میں کسی حمزہ شہباز کو نہیں جانتا۔ شام تک رکاوٹیں ہٹ گئیں اور شریفوں کا آدھا رعب وہیں ختم ہو گیا۔ یہ تو اچھی بات ہے کہ چیف جسٹس صاحب کو اب تک خیال نہیں آیا کہ لاہور کی تقریباً آدھی ایلیٹ فورس جاتی امرا پہ تعینات ہے، نہیں تو وہ بھی ہٹا لی جائے اور رہا سہا رعب بھی جاتا رہے۔

افسوس بہرحال رہنا چاہیے کہ یہ اُمور اور مسائل میڈیا اور اپوزیشن جماعتوں کو اُٹھانے چاہئیں تھے‘ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ چیف جسٹس صاحب ہی آئے‘ جنہوں نے اِن امور سے پردہ اُٹھایا جس سے پنجاب حکومت کی گڈ گورننس کی الف لیلوی داستانیں بے نقاب ہو گئیں۔ پھر بھی جس طریقے سے شہباز شریف کی حکومت نے بیشتر میڈیا کو رام کیے رکھا‘ اُس کی داد دینی چاہیے۔ سستی روٹی سے لے کر دانش سکولوں تک اور وہاں سے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم تک شہباز شریف کی ایک پالیسی بھی کامیاب نہ ہو سکی۔

ہر ایسی سکیم ڈھول بجاتے ہوئے شروع کی گئی اور پھر ادھوری چھوڑ دی گئی‘ لیکن اشتہاری مہم سے یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ وزیر اعلیٰ بہت بڑے منتظم ہیں۔ اب نقاب ہٹتا جا رہا ہے تو پیچھے کچھ نہیں بالکل اُسی طرح جیسے پرانی کہانی میں بادشاہ سلامت کپڑے پہنے بغیر باہر نمودار ہوئے اور درباریوں نے کہا کہ کیا حسین لباس زیب تن ہے اور ایک کم سن بچے کو کہنا پڑا کہ بادشاہ حضور کے تَن پہ تو کوئی کپڑا نہیں۔

پنجاب حکومت کا پرائیویٹ کمپنیاں بنانا اور اُن سے حکومتی کام کروانا الگ سکینڈل ہے‘ بلکہ میگا سکینڈل۔ اِن کمپنیوں میں منظور نظر سرکاری افسران بھاری تنخواہوں پہ رکھے گئے۔ اِس حرکت سے جہاں سرکاری خزانے پہ بوجھ پڑا وہاں حکومتی ادارے‘ جو بہت حد تک پہلے ہی ناکارہ تھے‘ مزید مفلوج ہو کے رہ گئے۔ ایسا گورننس کا ماڈل دنیا میں اور کہیں نہیں ملتا‘ لیکن پھر وہی بات کہ پوچھنے والا کوئی نہیں تھا۔ اب جو چیف جسٹس صاحب نے ان پرائیویٹ کمپنیوں کا کھاتہ کھولنے کا کہا ہے تو سارا معاملہ عوام کی نظروں کے سامنے آ رہا ہے۔ احد چیمہ تو ایک چابی تھی۔

اُس چابی کو چلانے والے ہاتھ اور تھے۔ اب معاملہ کھل رہا ہے تو کُھرا سیدھا چیف منسٹر صاحب کی ذات گرامی کی طرف جا رہا ہے کیونکہ احکام اُن کے ہوتے تھے جن کو احد چیمہ بجا لاتے تھے۔ احد چیمہ نیب کی تحویل میں ہیں اور چیف منسٹر ہاؤس کے پسینے چھوٹ رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں یہ داستان کہاں پہنچتی ہے۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بعد پنجاب میں اتنی لمبی حکمرانی کسی اور واحد شخص کی نہیں رہی۔ انگریزوں نے پنجاب پہ قبضہ 1849ء میں کیا تھا۔ دس سال میں پنجاب اور لاہور کا نقشہ بدل کے رکھ دیا۔ 2008ء سے آج تک شہباز شریف پنجاب کے حکمران ہیں لیکن پیچھے کیا چھوڑ کے جائیں گے؟ ایک دو میٹرو بسیں، ایک آدھ اورنج لائن ٹرین اور برباد خزانہ۔ بنیادی اصلاح کسی ایک شعبۂ زندگی کی بھی نہ کر سکے۔