سپریم کور ٹ کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟ محمدعامر خاکوانی

دو بنیادی نوعیت کے سوال ہمارے سامنے آئے ہیں۔پہلا یہ کہ کیا سپریم کورٹ کو اپنے معمول کے عدالتی کیسز نمٹانے کے ساتھ ساتھ سوموٹو نوٹس لے کر اہم عوامی ایشوز کی سماعت کرنی چاہیے؟دوسرا سوال اس بحث کو ایک قدم آگے لے جاتا ہے کہ کیا سپریم کورٹ اپنے فعال کردار (جوڈیشل ایکٹوازم)کے ذریعے کوئی ٹھوس، بامقصد(Meaningful)تبدیلی لا سکتی ہے؟

ان دونوں سوالات پر آنے والے جواب مختلف ہوسکتے ہیں۔ممکن ہے کسی سیاسی جماعت اور اس کے حامی گروہ کوفعال عدالتی کردار سے پریشانی ہو کہ اس طرح سے ان کی انتظامی کمزوریاں سامنے آ رہی ہیں۔عوامی حلقے البتہ ریلیف ملنے پر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں۔ ایک عام آدمی عدالتوں سے امیدیں وابستہ کرلیتا ہے۔ طاقتور، استحصالی طبقات اور بااثر شخصیات سے بچنے کا اس کے پاس یہی ایک فورم ہے۔ اگر عدالتیں غریبوں کی توقعات پر پورا نہ اتریں تو ان کے حوصلے مکمل طور پر ٹوٹ جاتے ہیں۔ اس لئے یہ تو واضح ہوچکا کہ پاکستان جیسے معاشروں میں جہاں حکومتیں ڈیلیور نہیں کرتیں، پارلیمنٹ میں عوامی مسائل کے حل کے بجائے ارکان اپنے فنڈز لینے اور کھا پی لینے میں زیادہ دلچسپی لیں، وہاں عدالت کبھی نارمل انداز میں کام نہیں کر سکتی۔اعلیٰ عدالتوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی جوڈیشل ایکٹوازم پر چلنا پڑتا ہے۔بھارتی عدلیہ کی مثال انہی کالموں میں کئی بار دی جا چکی ہے۔ جوڈیشل ایکٹوازم کے حوالے سے بھارت کی ہائی کورٹس اور سپریم کورٹس کا کردار نہایت فعال، پرجوش اور بھرپور رہا ہے۔ پرسنل انٹرسٹ لیٹیگیشن(PIL)کے ذریعے بھارتی ججوں نے عام آدمی کو بے پناہ ریلیف پہنچایا۔غریب کسانوں اور مزدوروںکے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں لکھے خطوط کا نوٹس لے کر انہیں رٹ میں بدل دیا اور عوامی شکایات کا حل نکالا۔ بنگلہ دیشی سپریم کورٹ نے بھی کسی حد تک ان اصولوں کی پابندی کی۔ دنیا کے کئی اور ممالک میں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ پاکستان میں بھی عدالتیں ایسا کر سکتی ہیں۔جج صاحبان اگر اپنی ہفتہ وار چھٹی کو عدالت لگا کر اہم عوامی کیس سنیں، صاف پانی، زہریلے دودھ، جعلی تعلیمی اداروں اور دیگر اہم قومی مسائل پر نوٹس لیں، سرکاری محکموںکی اصلاح کی کوشش کریں اورسوئے ہوئے حکام کو جھنجھوڑ کر جگائیں، انہیںخدمت کے لئے مجبور کریں تو اس کا م کو کون براکہے گا؟ ایسا کرنے کے لئے کمال درجہ ڈھٹائی اور بے حسی درکار ہے۔

اس پر البتہ بات ہوسکتی ہے کہ عدالت کو کس طرح ڈیلیور کرنا چاہیے اورکن بنیادی چیزوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
سب سے پہلے تو یہ جان اور مان لینا چاہیے کہ جوڈیشل ایکٹوازم کی طاقتور طبقات کی جانب سے مخالفت ہوگی۔ سیاسی جماعتیں قطعاً یہ نہیں چاہیں گی کہ سپریم کورٹ ان کی حکمرانی کا مزاخراب کرے۔ان جماعتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ میڈیا اور دیگر اہم شعبوں میں موجود ہیں، وہ پوری قوت سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے عدلیہ کو متنازع بنا دیتے ہیں۔بیوروکریسی بھی دل وجاں سے اس تجربے کوناکام بنانا چاہیے گی۔ عدالتی فعالیت سے سب سے زیادہ نقصان بیوروکریسی کو پہنچتا ہے۔منہ زور پولیس افسران اوراکڑی ہوئی گردنوں والے بیوروکریٹ ججوں کے سامنے بھیگی بلی بنے کھڑے ہونے پرمجبور ہوتے ہیں، ان کے بلنڈرز پر جواب طلبی ہوتی اور میڈیا میں منفی خبریں شائع
کی جاتی ہیں۔ بیوروکریسی تو یہی چاہے گی کہ عدالت عظمیٰ کوئی ایسی غلطی کرے، جس سے کسی دلدل میں اسے پھنسانے کا موقعہ ملے۔ مثال کے طور پرافتخار چودھری صاحب کے دور میں سپریم کورٹ نے چینی کی قیمت میںخوفناک رفتار سے بڑھتے ہوئے اضافہ کا نوٹس لیا اور کم داموں چینی فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ یہ کام اتنا مشکل نہ تھا۔ میکنزم بنایا جا سکتا تھا، مگر بیوروکریسی نے ایسا رنگ دکھا یا کہ چینی مارکیٹ سے غائب ہوگئی اور عملی طور پر سپریم کورٹ کا حکم مذاق بن کر رہ گیا۔ لوگ یہ کہنے لگے کہ چلو مہنگی سہی، چینی بازار میں مل تو رہی تھی، اس فیصلے کے بعد تو اب چینی نظر ہی نہیں آ رہی۔

یہ بھی پڑھیں:   یہی انصاف ترے عہد میں ہے اے شہ حسن - فضل ہادی حسن

عدالت عظمیٰ کو ان تمام معاملات میں بڑی احتیاط اور دانشمندی سے کام لینا ہوگا۔ بڑے پراجیکٹس کی خرید فروخت میں رکاوٹ بننا بھی بعد میں مسائل اور طعنے سننے کا باعث بنتا ہے۔ جیسے آصف زرداری کی حکومت آنے سے پہلے سٹیل ملز منافع میں تھی، اعلیٰ حضرت زرداری صاحب نے ایسا چکر چلایا کہ صرف دو برسوں میں پانچ ارب سالانہ منافع دینی والی سٹیل مل دیوالیہ ہوگئی۔ اسے اونے پونے داموں فروخت بھی کر دیا گیا، شائد اسی لئے منافع بخش ادارے کو تباہ کیا گیاتھا ۔سپریم کورٹ نے وہ مشکوک فروخت ختم کرائی ۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ سٹیل ملز کی کوئی اور اچھی ڈیل کرتی یا پھر اسے دوبارہ سے منافع بخش بنانے کی کوشش کرتی۔ ایسا کچھ نہ کیا گیا ، الٹا عدالتوں کے خلاف چارج شیٹ میں اسے بطورحوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ یہی رینٹل کیسز میں ہوا، مبینہ طور پر بجلی فراہم کرنے کی نیت سے ترکی کا جہاز ادھر کھڑا رہا، اسے کروڑوں کی ادائیگی ہورہی تھی، جبکہ بجلی کا ایک یونٹ نہیں بنایا جا رہا تھا۔ عدالت نے نوٹس لے کر یہ معاہدہ منسوخ کرایا۔ ایسا ہی ریکوڈک ذخائر کے معاملے میں کیا گیا۔ دراصل ان دونوں کیسز میں واضح طور پر کک بیکس لے کر ایسے معاہدے کئے گئے جو واضح طور پر دوسری پارٹی کے حق میں تھے۔ سپریم کورٹ نے ملک وقوم کو نقصان عظیم سے بچانے کے لئے مداخلت کی۔ بدنیتی پر محمول معاہدوںکی وجہ سے یہ دونوں پارٹیاں عالمی سطح پر مقدمات جیت گئیں۔ اس میں قصور کس کا ہے؟ ان بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کا جنہوں نے پیسے پکڑ کر ملک بیچنے کی کوشش کی یا عدالت جس نے نیک نیتی سے ملک کو بچانے کی کوشش کی؟ یہ دونوں واقعات مگر عدالت عظمیٰ کے جوڈیشل ایکٹو ازم کے خلاف دلیل کے طورپر پیش کئے جاتے ہیں۔ ان بدبختوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں، جنہوں نے قومی ادارے تباہ کئے اور پھر ایسے شرمناک معاہدے کئے،جن میں اپنے ہاتھ کاٹ کر فریق مخالف کے حوالے کر دئیے گئے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کو ماضی کی ان مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔

ہسپتالوں پر چھاپے یا دیگر محکموں کی اصلاح کے لئے فیلڈ میں جانے کا وقتی فائدہ تو ہوگا۔ ایک دو دنوں کےلئے بعض چیزیں بہتر ہوجائیں گی، مگر جج صاحبان روزانہ کھلی کچہری نہیں لگا سکتے، روزانہ ہسپتالوں کے وزٹ کرنا یا منظم فالو اپ کرنا ان کے لئے مشکل ہوگا۔ اس لئے زیادہ بنیادی نوعیت کے ایشوز پر اپنی توجہ مرکوز کی جائیں، ایسی تبدیلیاں جو دیرپا ہوں، عوام کو ان سے ریلیف پہنچے اور حکومت، بیوروکریسی یا میڈیاکے لئے ان پر کچھ کرنا ممکن بھی نہ ہو۔ دودھ کے ڈبوں والے معاملے میںعدالت عظمیٰ نے قوم پر احسان کیا ہے۔ کارپوریٹ پریشر بہت اہم عنصر ہے۔ میڈیا کے لئے بڑی اشتہاری پارٹیوں کی خبریں لگانا ، انہیں ایکسپوز کرنا ممکن نہیں۔ ڈبے کے دودھ، بنکوں کی لوٹ مار، موبائل کمپنیوں کے استحصال اور اس طرح کے دیگر کارپوریٹ اداروں کی من مانیوں سے صرف عدالت ہی بچا سکتی ہے۔ صاف پانی کےلئے چی ف جسٹس ثاقب نثار نے غیر معمولی دلچسپی لی ہے۔ یہ کام ہے جو انہیں دیر تک زندہ کر سکتا ہے۔پینے کے مضر صحت پانی کے حوالے سے کسی بھی حکومت نے کچھ نہیں کیا، اس پر مجرمانہ غفلت ہوئی۔ عدالت اس معاملے کو جس حد تک آگے بڑھا سکے، لے کر جانا چاہیے۔ یہ عام آدمی پر احسان ہوگا۔سپریم کورٹ کو پنجاب اور سندھ (کراچی)کے ساتھ خیبر پختون خوا بھی جانا چاہیے۔ وہاں بھی کئی مسائل ہیں، ہسپتالوں میں سب ٹھیک نہیں ہے۔ اس سے یہ تاثر بھی دور ہوگا کہ عدالت کا کوئی سیاسی ایجنڈا یا ہدف ہے اور وہ صرف ایک جماعت کو نشانہ بنا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آرٹیکل 6 نہ سہی ، دفعہ 121 تو لگتی ہے؟ آصف محمود

اگلے روز اخبار میں چھوٹی سی خبر شائع ہوئی کہ قاضی حسین احمد مرحوم اور دیگرکی فحاشی کے حوالے سے دائر رٹ کو بھی دوبارہ سے دیکھنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کو یہ معاملہ ضرور دیکھنا چاہیے۔ کارپوریٹ اداروں کی طرح الیکٹرانک میڈیا کے بگڑے معاملات درست کرنا بھی کسی کےلئے ممکن نہیں۔ چینلز خود ایسا نہیں کر سکتے، حکومت یہ پنگا لینا نہیں چاہتی، اپوزیشن بھی اس پر خاموش رہے گی، پیمرا بغیر دانت کا شیر ہے۔ نجی چینلز پر جس انداز میں اخلاقیات کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، پرائم ٹائم پرنیم عریاں فحش، قابل اعتراض اشتہار دھڑلے سے چلتے ہیں۔ بھارتی ماڈلز کو بلاجواز کاسٹ کیا جاتا ہے۔ بالی وڈ کے سپر سٹار اداکار تو ایک طرف ، کسی اشہتار میں عام سے لڑکے کو دکھانا ہو ،تب بھی کسی بھارتی ماڈل کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ انٹرٹینمنٹ چینلز پر دیوی ، دیوتاﺅں والے خالص بھارتی ہندو کلچر میں ڈوبے ڈرامے دکھائے جاتے ہیں۔ کوئی ان چینلز سے پوچھنے والا نہیں۔ ہمارے بچے ، بچیاں ماﺅں سے سوال کرتے ہیں ،” امی آپ بندیا کیوں نہیں لگاتیں، ہم شادیوں میں پھیرے کب لیں گے، کڑوا چوتھ ، درگا دیوی کے تہوار کب منائیں جائیں گے؟ “ہمارے کلچر، اخلاقیات ، پورے سماجی فیبرک کونہایت بے رحمی سے درہم برہم کیا جا رہا ہے ۔ یہ وہ کام ہے جو سپریم کو رٹ کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے۔ لبرلز، سیکولر حلقے اس پر برہم ہوں گے، مگر ملک وقوم کی خاطر کسی کو تو ان معاملات پر سٹینڈ لینا چاہیے۔ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار پر قدرت نے بھاری ذمہ داری عائد کی ہے۔کاش وہ اس جانب توجہ دیں اور بے مہار الیکٹرانک میڈیا کی سمت اور حدود وقیود کا تعین کر ڈالیں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.