سلطان الاولیاء حضرت خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمۃ- عبدالرشید طلحہ نعمانیؔ

ساتویں صدی ہجری میں ہندوستان،نہایت پرآشوب،جاں گسل اور خطرناک حالات سے دوچارتھا،ہر طرف افراتفری کا عالم تھا،مسلم ممالک میں کشت وخون کا بازار گرم تھا، منگولوں کی بربریت عام تھی، عدل وانصاف سے سرسبز و شاداب علاقے ظلم وجورکی بادخزاں سے ویران اور سنسان ہوچکے تھے ،ملت اسلامیہ کئی فرقوں میں بٹ کراپنی قوت وشوکت کھو چکی تھی، سفاکی اور بے رحمی اس قدر عام تھی کہ ایک دوسرے کے خون سے ہولی کھیلی جارہی تھی،ملحدین نے پورے ملک میں قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا تھاکہ یکایک رحمت خداوندی جوش میں آئی اورخراسان سے ایک قدسی صفت انسان کی ہندوستان آمد ہوئی؛جس نے اپنے علوم ومعارف سے پورے ہندوستان کواس طرح مسخر کیا کہ صدیاں گزر گئیں؛مگر آج بھی اس کانام لیتے ہوئے سر عقیدت سے جھک جاتا ہے ،گردنیں خم ہوجاتی ہیں اورغیرمعمولی روشن وتابناک کارناموں کی ایک طویل فہرست دل ودماغ کے پردۂ سیمیں پر جھلملانے لگتی ہے ؛جنہیں دنیا فخر الکاملین، قطب العارفین،حجۃ الاولیاء، سراج الاتقیاء، قدوۃ الاصفیا ء، خواجہء خواجگاں ،سلطان الہند شیخ الاسلام حضرت خوا جہ معین الدین چشتی اجمیری کے نام سے جانتی ہے ؛جنہوں نے اسلامی علوم ، دعوتی جدو جہد اور اصلاح و تربیت کے ذریعہ ہندوستان میں اخلاقی و روحانی سلطنت کی ایسی بنیاد رکھی کہ ہرطرف توحید و حق کے زمزمے بلند ہونے لگے ، شعائر اسلام کی تابندگی لوٹ آئی، مسلمانوں کے قلوب میں ایمان کی ٹمٹماتی شمعیں روشن وتاباں ہوگئیں،حق کی خاطر مرمٹنے کے جذبات فروغ پانے لگے ،امن وسلامتی کی فضائیں اورراحت وسکون کی ہوائیں چوطرف عام ہوگئیں،ہرچند کہ پہلی صدی ہجری میں ہی یہاں تبلیغِ اسلام کے دستے آنے شروع ہوگئے تھے ؛ لیکن آپ کی آمد کے بعد آپ کی ایمانی ، روحانی ، اخلاقی تعلیما ت نے ہندوستان میں اسلام کو جلا بخشا اور ہزاروں ہزارکی تعداد میں لوگ جوق در جوق مشرف بہ اسلام ہوئے ۔

ولادت باسعادت:
حضرت خواجہ معین الدین چشتی 14 رجب 537 ہجری م ماہ اپریل 1143ء بروز دوشنبہ صبح صادق کے وقت جنوبی ایران کے علاقے سیستان کے ایک متمول گھرانے میں پیدا ہوئے ،آپ نسبی اعتبار سے نجیب الطرفین سید تھے ،آپ کا شجرہ عالیہ بارہ واسطوں سے امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جاملتا ہے ۔ آپ کے والد گرامی خواجہ غیاث الدین کاشمار دولت مندتجاراوربااثرافرادمیں ہوتاتھا ؛مگرمال و ثروت کے ساتھ ساتھ آپ عابد و زاہد شخص تھے ، دولت کی فراوانی کے باوجود ابتداء
ہی سے بہت قناعت پسند تھے ۔

آپ ابھی پندرہ سال کی عمرہی کو پہنچے تھے کہ والدماجد کا وصال ہوگیا،والدہ محترمہ بی بی نور نے آپ کی تعلیم وتربیت کی طرف خاص توجہ فرمائی ؛مگر جلد ہی دست قضا نے انھیں بھی آپ سے چھین لیا اور آپ کشمکش حیات میں تنہا رہ گئے ۔ والدین کے ورثے سے ایک باغ اور ایک پن چکی آپ کو ملی تھی لہٰذا آپ نے باغبانی کو معیشت کا ذریعہ بنایا اور باغ کی دیکھ بھال میں مصروف ہوگئے ۔ اپنے ہاتھوں سے باغ کی حفاظت کرتے اور پانی وکھاد وغیرہ دینے کے ساتھ اس کی کاٹ چھانٹ کرتے تھے ۔

آپ کی زندگی کا انقلابی واقعہ:
والدین کے انتقال کے بعد اچانک ایک روحانی واقعے نے آپ کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ ایک روز آپ اپنے باغ میں مصروف تھے کہ ایک مجذوب فقیر کا ادھر گزر ہوا جس کا نام ابراہیم قندوزی تھا۔

خواجہ صاحب نے انھیں باغ میں آتا دیکھا تو خوش ہوئے اور انگوروں کا ایک تازہ خوشے سے ان کی ضیافت کی ۔صاحب نظر نے صاحبِ دل کو پہچان لیا اور محسوس کرلیا کہ نوجوان کام کا آدمی ہے ۔ اپنی گٹھری سے روٹی کا ایک خشک ٹکڑا نکال کر بڑھایا۔ خواجہ صاحب نے اسے کھایا تو عشق وعرفان کی کیفیات نے دل پر اثر جمانا شروع کردیا۔ ایک روحانی انقلاب کا احسا س ہونے لگا۔ بزرگ تو اپنا کام کرکے چلے گئے مگر جلد ہی آپ نے اپنا باغ اور پن چکی فروخت کرڈالی اور حاصل شدہ رقم غریبوں میں تقسیم کر کے علم دین حاصل کر نے کے لیے نکل پڑے ۔

خواجہ صاحب نے سب سے پہلے بخارا اورسمرقندجاکرظاہری علوم کی تحصیل کی اس کے بعد مرشد کامل کی تلاش میں نکل پڑے ۔اس زمانے میں عراق کے قصبہ ہارون میں سلسلہء چشتیہ کے عظیم بزرگ اوراپنے وقت کے ولی کامل حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ رہتے تھے ، ان کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اوراکتساب فیض کرنے لگے ، دوران عبادت وریاضت متعدداہل اللہ سے ملاقاتیں ہوتی رہیں، اندازہ ہے کہ تقریباً ڈھائی سال تک آپ اپنے مرشد کی خدمت میں رہے ، اسی بیچ حج بیت اللہ کا فریضہ بھی ادا کیا ۔ خواجہ صاحب کے بارے میں آپ کے مرید وخلیفہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے لکھا ہے کہ آپ طویل عبادتیں کیا کرتے تھے اور مسلسل کئی کئی دن تک روزے رکھا کرتے تھے ۔ افطار بہت کم مقدار میں کرتے تھے ۔ جسم پر معمولی لباس ہوتا تھا اور اس پر بھی کئی کئی پیوند لگے ہوتے تھے ۔

ہندوستان آمد:
صاحب خزینۃ الاصفیاء تحریر فرماتے ہیں کہ جب حضرت خواجہ معین الدین قدس اللہ سرہ اپنے پیر روشن ضمیر سے اجازت حاصل کر کے رخصت ہوئے تو اطراف عالم میں سفر فرماتے ہوئے دردمندوں کی چارہ سازی ، تشنگان علوم ومعارف کی سیرابی فرماتے رہے ۔ جہاں آپ کی شہرت ہوجاتی وہاں سے چھپ کر چلے جاتے ۔

جب حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی ہندوستان آمد ہوئی؛آپ کی استقامت کا امتحان شروع ہوگیا،چناں چہ پِرتھوی راج نے اپنے علاقہ میں اسلام کی روشنی دیکھی توتاب نہ لاسکااور اپنی ناپاک سازشوں سے شمع اسلام کو بجھانے کی کوشش کرنے لگا،آپ کو اور آپ کے وابستگان کو ہندوستان سے رخصت کرنے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنے لگا،مصائب ومشکلات میں الجھانے کی کوشش کی ، جہاں کہیں آپ تشریف فرماہوئے وہاں سے چلے جانے کے لئے زحمت دیجاتی ، ستم کی انتہاء یہ تھی کہ حضرت خواجہ اجمیری رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے جاں نثاروں کے لئے پانی پر پابندی لگادی گئی، اجمیر کے تالاب اناساگر پر سپاہیوں کا پہرا لگادیا گیا گویا حکمران وقت آپ کے ساتھ انسانیت سوز حرکتیں کرنے کے درپے ہوگیا؛بلکہ اس سے بھی بد ترسلوک کرنے لگا ، ان سب کے باوجود بھی آپ کی ثابت قدمی میں حبہ برابر فرق نہ آیا، آپ اشاعت دین متین کے لئے مکمل کمربستہ رہے اور کبھی اپنے پائے استقلال کو ڈگمگانے نہ دیا۔

قوت کرادار :
حضرت اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے تعلیمات اسلامیہ کی ترویج واشاعت نہایت ہی خوش اسلوبی سے انجام دی ، آپ کے صدق وصفا ،خلوص ووفاکو دیکھ کر لوگ صداقت شعار وراست باز ہوئے ، آپ کے حلم وبردباری، جود وسخاوت اور دیگر اخلاق عالیہ سے متاثرہوکر لوگ عمدہ اخلاق کے حامل اور پاکیزہ صفات کے پیکر ہوئے ، محض دہلی سے اجمیر تک سفر کے دوران کئی لاکھ افراد مشرف بہ اسلام ہوئے ۔
حضرت خواجہ صاحب کے ارشادات عالیہ:
1۔۔۔ گناہ تمہیں اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا مسلمان بھائی کو ذلیل و خوار کرنا۔

2۔۔۔ نیکوں کی صحبت نیک کام کرنے سے بہتر ہے اور بروں کی صحبت برائی کرنے سے بدتر ہے ۔

3۔۔۔ یقین ایک نور ہے جس سے انسان منور ہو جاتا ہے اسکے بعد محبوبوں اور متقیوں میں شامل ہوجاتاہے ۔

4۔۔۔ جوچاہتاہے کہ محشر کی ہولناکیوں سے محفوظ رہے ،وہ بھوکوں کو کھلائے ،ننگوں کو پہنائے اورمصیبت زدوں کی فریاد رسی کرے ۔

5۔۔۔ شقی وہ ہے جو نافرمانی کرے اور سمجھے کہ میں مقبول بندہ ہوں۔

6۔۔۔ کوئی شخص صرف اورادووظائف سے قرب الٰہی حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ نماز نہ پڑھے ۔

7۔۔۔ جو شخص فرائض الٰہیہ کو ادا نہیں کرتا وہ حرام روزی کھاتاہے ۔
وصال :
رشد و ہدایت کا یہ آفتاب ،انقلاب دعوت کا یہ ماہتاب ۷۹ سال کی عمر میں 6رجب 633 کو افق عالم سے ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا۔
اس مختصر سے عرصے میں آپ کے عمدہ اخلاق ،روشن کرداراور دل نشیں دعوت کے نتیجے میں لاتعداد لوگ اسلام میں داخل ہوئے ،لاکھوں نے ایمان کی تجدید کی ،ہزاروں نے بادہ علم و عرفاں پیا۔

آپ کے بعدآپ کے خلفاء اور خلفاء کے خلفاء بھی تبلیغ دین اور خدمت خلق کے کام میں مصروف رہے ، ان میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، شیخ حمید الدین ناگوری، شیخ وجیہ الدین ، سلطان مسعود غازی اور شیخ وحیدالدین خراسانی کے نام سرفہرست ہیں؛ جنھیں آپ نے الگ الگ علاقوں میں تبلیغ اسلام کے کام میں لگایا تھا،خواجہ صاحب کے تربیت یافتہ ان بزرگوں اور ان کے بعد ان کے خلفاء اور جانشینوں کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ ملک کے گوشے گوشے میں اسلام کی روشنی عام ہونے لگی اور ہر طرف اذان وقرآن کی آوازیں سنائی دینے لگیں،اس طرح آج ہندوستان میں جو اسلام وتوحیدکی روشنی نظر آتی ہے یہ کہیں نہ کہیں اسی چراغ کا نور ہے جسے خواجہ صاحب نے روشن کیا تھا۔

ایک اہم پیغام:
دورِ حاضر میں بالخصوص ہندوستان کے جاں بہ لب حالات اور فرقہ وارانہ ماحول میں حضرت خواجہ اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کے اس ناقابلِ فراموش اخلاقی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ اخلاقی قدروں کووسعت دی جائے ،کردار کا ہتھیار استعمال کیاجائے ،ہندوستانی مسلمانوں خصوصاً علمائے کرام کی ذمہ داری ہے اور دور حاضر اس کا متقاضی ہے کہ عالمی امن کی بقا، عدل ومساوات کا فروغ، مذہب وعقیدہ کی آزادی، رواداری ویکجہتی، باہمی امداد و تعاون، انسانی جذبات و احساسات کا احترام، انسانی ضمیر کی تربیت اور آزادی فکر وخیال کے حوالہ سے اسلام کے اقدار حیات کو اجاگر کریں اور خواجہ صاحب کی ان امن پسندپاکیزہ تعلیمات کو نشرکرنے میں نمایاں کردار اداکریں۔

نشہ پلاکے گرانا تو سب کو آتا ہے
مزہ تو تب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی