عمران خان سے غلطی کہاں ہوئی؟ آصف محمود

پاکستانی سیاست ولیوں کا تکیہ ہے نہ قلندروں کی درگاہ ۔ یہ زمینی حقائق کا ایک ایسا خارزار ہے جس میں محض مثالیت پسندی پر اصرار کرنے کا ایک ہی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ آدمی کی سیاست اقوالِ زریں کا ایک مجموعہ بن کر رہ جائے ۔ سوال اب یہ ہے کہ یہ برہنہ حقیقت جب عمران خان کے فیصلوں میں ظہور کرتی ہے تو کیا ان پر تنقید کی جانی چاہیے؟ میرے نزدیک اس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔

عمران خان سے غلطی کہاں ہوئی؟ کیا ان کی غلطی یہ ہے کہ وہ مثالیت پسندی پر اصرار کرنے کی بجائے تلخ زمینی حقائق کی روشنی میں فیصلے کر رہے ہیں اور غیر مقبول چہروں اور روایتی سیاست سے آلودہ لوگوں کو اپنی صف میں شامل کر ہے ہیں؟ میرے خیال میں اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ یہ عمران کی غلطی نہیں مجبوری ہے۔ عمران خان سے غلطی کہیں اور ہوئی ہے۔ وہ غلطی کیا ہے؟ اس کو جاننے کے لیے پورا سیاسی منظر نامہ سامنے رکھ کر ٹھنڈے دل سے اس کا جائزہ لینا ہو گا۔

سیاست خوابوں کے کسی جزیرے کا نام نہیں ، یہ بے رحم حقائق کے جبڑے سے امکانات تلاش کر لے لانے کا نام ہے۔ محض اخلاقی قوت یا نیک نامی کی بنیاد پر سیاست میں کامیاب نہیں ہوا جا سکتا۔یہ کام اگر ممکن ہوتا تو سید مودودی ؒ اور ایر مارشل اصغر خان ہماری سیاست میں ناکام ہوتے نہ ہی جسٹس وجیہہ الدین احمد ۔ یہ تجربات بتا رہے ہیں کہ اس میدان میں محض علمی وجاہت اور شخصی اوصاف کی بنیاد پر کامیابی ممکن نہیں ۔ کچھ دیگر لوازمات کی بھی ضرورت بھی یہاں قدم قدم پر محسوس ہوتی ہے اور اگر آپ کے پاس وہ موجود نہیں تو آپ اس میدان میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔

وہ لوازمات کیا ہیں؟ یہ فہرست کافی طویل ہو سکتی ہے لیکن موجودہ حالات میں ان میں سے دو عوامل ہیں جن کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ان میں سے ایک ’’ وننگ ہارسز‘‘ یعنی ایسے سیاستدان جو اپنی کسی بھی طریقے سے حاصل کردہ دولت اور طاقت کی بنیاد پر الیکشن جیت سکتے ہوں ۔ آپ جتنے مرضی اخلاقی بھاشن دے لیں حقیقت یہ ہے کہ نیم خواندہ سماج میں سیاست کرنا ہے تو ان عناصر سے بے نیاز نہیں ہوا جا سکتا ۔ آج بھی قومی اسمبلی کے درجنوں حلقے ایسے ہیں جہاں سے ’’ وننگ ہارسز‘‘ ہی کامیاب ہوتے ہیں اور جماعتی سیاست کی وہاں سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں ہے ۔ باقی کے حلقوں میں وننگ ہارسز کے ووٹ اور سیاسی جماعتوں کے ووٹ مل کر کسی کو کامیاب کرا سکتے ہیں۔ پورے ملک میں شاید بمشکل ڈیڑھ دو درجن حلقے ایسے ہوں جہاں صرف کسی سیاسی جماعت کا ٹکٹ انتخابی کامیابی کی ضمانت قرار دیا جا سکے۔ ان حالات میں عمران خان سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ ان ’ وننگ ہارسز‘ کے یکسر بے نیاز ہو جائے ایک غیر فطری مطالبہ ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف سزا۔۔ کیا واقعی احتساب ہونے جا رہا ہے؟ سید معظم معین

وننگ ہارسز کیساتھ اب ہر جماعت کے لیے یہ بھی ضروری ہو چکا ہے کہ اس کی صفوں میں ایسے لوگ موجود ہوں جنہیں نہ اپنی عزت کی پرواہ ہو نہ دوسروں کی ۔ انہیں جب اور جہاں اشارہ کیا جائے وہ کسی کی بھی پگڑی اچھال دیں ۔ ہر جماعت میں ایسے لوگ موجود ہیں اور نہ صرف موجود ہیں بلکہ ان کی باقاعدہ حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ سیاسی رہنما ان سے اس لیے خوش رہتے ہیں کہ وہ ان کے مخالفین کی پگڑیاں اچھالتے ہیں ۔اگر آپ کی صف میں معقول تعداد میں یہ طبقہ شامل نہ ہو تو مروجہ سیاست میں مخالفین تو جگتیں مار مار کر آپ کی سیاست کا آملیٹ بنا دیں ۔ کتابی طور پر یہ بات بھلے ہمیں اچھی نہ لگے لیکن نیم خواندہ سماج میں سیاست بہر حال ایسے ہی ہو رہی ہے۔

ہمارے ہاں ایک خاص عصبیت اور جہالت ہے ۔ یہاں صرف گاؤں کی بیٹھکوں میں ہی نہیں شہروں کے کارپوریٹ دفاتر میں بھی مزے لے لے کر سیاسی مخالفین کو وہ جگتیں سنائی جاتی ہیں جو رات چینلز پر یا جلسوں میں ان پر لگائی جا چکی ہوں ۔ یہاں اگر ایک طرف سے عابد شیر علی صاحب اور رانا ثناء اللہ صاحب مطلع کہیں اور انہیں ان کی زمین پر مقطع نہ سنایا جائے تو یہ شکست اور پسپائی تصور ہوتی ہے۔ قاضی حسین احمد مرحوم کے پاس ایسے لوگ نہیں تھے نواز شریف نے ان کے خلاف ایسی مہم چلوا دی کہ الامان ۔ بے نظیر بھٹو مرحومہ کے خلاف قومی اسمبلی میں وہ بے ہودگی کی گئی کہ ایک روز وہ باقاعدہ رو پڑیں ۔

عمران خان کسی ایسے ملک کی سیاست تو کر نہیں رہا جہاں شرح خواندگی نوے فیصد سے اوپر ہو۔یہ ایک نیم خواندہ معاشرہ ہے جہاں آج بھی دوسروں کی محرمات کے بارے ذو معنی فقرے کسنا اپنی کامیابی اور دوسروں کی ذلت تصور کیا جاتا ہے۔ عمران نے اس ملک میں سیاست کرنا تھی تو اس میدان کے شاہسوار بھی ڈھونڈنا تھے۔ا ب ہمیں بھلے اچھے نہ لگیں لیکن ان کے ساتھ ایسے لوگ موجود ہیں جو سیاسی مخالفین کے ساتھ انہی کی زبان میں بات کر سکتے ہیں ، بلکہ شاید ان سے بہتر کر سکتے ہیں۔

ایسے لوگوں کو عمران خان کے ساتھ دیکھ کر رومان پسند لوگ بد مزہ ہوتے ہیں لیکن یہ عمران خان کی مجبوری ہے۔ اب مشاعرہ برابری کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ ادھر سے عابد شیر علی مطلع کہتے ہیں تو ادھر سے فواد چودھری مقطع کہہ کر وہیں غزل مکمل کر دیتے ہیں ۔ لاہور اور وفاق ، ہر دو دربار کے ملک الشعراء کو خبر ہو کہ طرح مصرعہ دینے اب عامر لیاقت آ گئے ہیں ۔ گندا ہے پر دھندا ہے ۔ یہاں تو سیاست ایسے ہی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف سزا۔۔ کیا واقعی احتساب ہونے جا رہا ہے؟ سید معظم معین

اہم سوال اب یہ ہے کہ پھر عمران خان سے غلطی کہاں ہوئی؟ غلطی یہ ہوئی کہ وہ اپنے خوابوں اور اپنی مجبوریوں میں توازن نہیں رکھ پائے۔ ایک ان کا فلسفہ تھا جسے وہ ساتھ لے کر چلے اور چند ان کی ناگزیر برائیاں جو مروجہ سیاست کی ضرورت کے تحت اختیار کیں ، وہ ان دونوں میں فرق نہیں رکھ سکے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے تھا سیاست کی روایتی قباحتیں اگر اختیار کرنا ہی پڑ رہی ہیں تو انہیں قباحت سمجھ کر ہی اختیار کیا جائے اور اصل توجہ اپنے اس فلسفے پر رکھی جائے جو ان کا امتیازی وصف تھا۔ عمران یہ کام نہیں کر سکے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ ان کی اصل قوت وہ خواب ہیں جو انہوں نے لوگوں کو دکھائے۔ان کی اصل طاقت ان کا اخلاقی وجود ہے۔ وہ ایک رومانس کا عنوان ہیں۔ ان کی ذات سے وابستہ یہ رومان جس دن ٹوٹ گیا اس دن ان کی سیاست ختم ہو جائے گی۔ جس دن وہ دوسروں جیسے ہو گئے اس دن وہ ختم ہو گئے۔ وہ تب تک ہیں جب تک وہ دوسروں سے مختلف ہیں۔ یہ فرق نہ رہا تو سمجھیے کچھ بھی نہیں رہا۔

مروجہ سیاست کے تقاضے پورا کرتے کرتے مگر آج وہ وہاں پہنچ گئے ہیں کہ وہ اپنی اصل طاقت کے مرکز سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔ یہ مرکز ان کی انفرادیت اور ان کا اخلاقی وجود تھا۔ ان کی صف اول میں ایسے لوگ ضرور ہونے چاہییں تھے جو رومان کی علامت ہوتے روایت اور مجبوری کا نشان نہیں۔ آج سٹیج پر ان کے ساتھ جتنی بھی قیادت ہوتی ہے اسے غور سے دیکھیے کیا کوئی ایک بھی ایسا ہے جسے اس رومان سے کوئی نسبت ہو جسے لے کر عمران چلے تھے۔ کوئی روایتی سیاست کاوننگ ہارس ہے تو کوئی اپنی شیرینی گفتار سے حریفوں کی پگڑی اچھالنے کا ماہر، کوئی فن خوشامد اور خدمت گزاری میں یکتائے روزگار ہے تو کسی کی تجوری کرکٹ سٹیڈیم کے سائز کی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ رومان کہاں ہے جو عمران خان کی اصل طاقت ہے؟ چند چہرے ایسے ہوتے جنہیں دیکھ کر رومان باقی رہتا تو تحریک انصاف کی صفوں میں یہ اضطراب اور ارتعاش نہ ہوتا جو نومولود ٹائیگرز کی پارٹی میں شمولیت پر ہو رہا ہے۔ آپ اپنے ایک پلڑے میں بے شک حسب ضرورت ایک دو درجن نعیم الحق، عون چودھری، عامر کیانی ،عامر لیاقت اور تین چار درجن شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین وغیرہ رکھ لیں لیکن دوسرے پلڑے میں کوئی ایک تو معراج محمد خان یا جسٹس وجیہہ الدین احمد جیسا بھی رکھا ہوتا۔

عمران خان اپنے خوبصورت خوابوں اور اپنی ناگزیر برائیوں میں توازن نہیں رکھ سکے۔ یہی ان کی غلطی ہے ۔اور غلطی کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ یہ کبھی بانجھ نہیں ہوتی۔ اس کے ہاں اولاد نرینہ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.