جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا اتحاد کیوں نہ ہوسکا؟ عبیداللہ عابد

ہمارے یہاں بعض‌لوگ سخت غضب ناک ہیں کہ جماعت اسلامی تحریک انصاف کے ساتھ کیوں‌ نہیں چلتی، حد تو یہ ہے کہ اس نے اب اتحاد بھی مذہبی جماعتوں بالخصوص مولانافضل الرحمن سے کر لیا ہے۔ جب سے ایم ایم اے کے احیا کی خبریں آنے لگیں، جناب ہارون الرشید بھی جماعت اسلامی کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے حالیہ کالم مطبوعہ 21 مارچ 2018 میں‌ لکھا: "جماعتِ اسلامی حضرت مولانا فضل الرحمٰن کی دہلیز پہ سرنگوں ہو چکی۔ مولانا فضل الرحمٰن قاضی حسین احمد کو برتنے میں کامیاب رہے۔"

بزرگ کالم نگارگزشتہ کئی کالموں‌ میں بھی جماعت پر اسی باب میں برستے رہے ہیں۔ وہ اپنے حالیہ کالم میں جماعت اسلامی کی تعریف بھی کرتے ہیں کہ جماعتِ اسلامی کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ اس کے مقتدر شاذ ہی کبھی کرپشن میں ملوث پائے گئے، خاص طور پر دونوں ادوار میں پختون خوا میں اس کے وزرا"۔ ہارون صاحب اس تناظر میں حیران ہوتے ہیں کہ "اس کے باوجود مولانا فضل الرحمٰن ایسے آدمی کو کیونکر وہ گوارا کرتے ہیں"۔ ویسے بزرگ اخبار نویس جماعت اسلامی کے لیے چند آپشنز کا ذکر بھی کر دیتے تو بہتر ہوتا۔ کیا وہ تحریک انصاف سے جڑی رہے جس کے سربراہ کے بارے میں ہارون صاحب خود اپنے حالیہ کالم میں‌ لکھتے ہیں: "چن چن کر بدنام لوٹے عمران خاں نے اپنی پارٹی میں جمع کر لیے ہیں۔" مزید کچھ باتیں انھوں نے سابقہ کالموں میں بھی لکھیں، جنھیں نقل کرنے کی خواہش ہے لیکن یہ تحریر طویل ہوجائے گی۔ پھر خود وہ اپنے ایک کالم میں بتا چکے ہیں کہ جماعت اسلامی نے تحریک انصاف سے اتحاد کی کوشش کی مگر ایسا نہ ہو سکا۔ اب اگر تحریک انصاف خواہش مند ہی نہیں تو جماعت اسلامی کو کیونکر مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان ہوش کے ناخن لیں - ابو محمد

جب سے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی صوبہ خیبرپختونخوا حکومت میں اتحادی بنے ہیں، عمران خان کے اردگرد جمع ایک لابی نے ہزارہا کوشش کی کہ اس اتحاد کو چلنے نہ دیا جائے۔ اس لابی کے لوگ جماعت اسلامی کو مسلسل تنقید کا نشانہ بناتے رہے، جناب ہارون الرشید اس لابی سے بخوبی واقف ہیں۔ ردعمل میں جماعت اسلامی کے کارکنان بھی ان کے حملوں کا جواب دیتے رہے۔ گزشتہ ساڑھے چار، پانچ برسوں کے دوران تحریک انصاف کی اس سیکولرلابی نے بھرپورکوشش کی کہ کسی ضمنی انتخاب میں بھی تحریک انصاف جماعت اسلامی کے امیدوار کی حمایت نہ کرے، البتہ وہ اپنے امیدوار کے لیے جماعت اسلامی کی حمایت مانگنے آجاتے تھے۔ (جی ہاں! اسی جماعت اسلامی سے جس کو وہ پاکستانی سیاست سے غیرمتعلق قرار دیتے رہتے ہیں)۔ دیر کے اضلاع میں ہونے والے ضمنی الیکشنز میں تحریک انصاف نے جماعت اسلامی کی حمایت کا اعلان کر کے بھی ن لیگ، پیپلزپارٹی، اے این پی وغیرھم کے مشترکہ امیدوار کو ووٹ دیا۔ اس بدعہدی نے تحریک اور جماعت کے درمیان قربت کے بجائے دوری پیدا کی۔

بدقسمتی سے عمران خان سیکولر لابی کے نرغے میں ہیں، اسی کی سنتے اور اسی کی مانتے ہیں۔ دوسرا تحریک انصاف کے سربراہ کا اپنا طرزعمل بھی عجیب و غریب ہوتا ہے، وہ ایک فیصلہ کرتے ہیں اور اس کے بعد جماعت اسلامی سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اس فیصلہ کی حمایت کرے۔ عمران خان کو ابھی تک معلوم نہیں‌ ہو سکا کہ جماعت اسلامی ایک علیحدہ تشخص کی حامل جماعت ہے، ظاہر ہے کہ فیصلہ کرنے سے پہلے جماعت کے ساتھ مشاورت کریں‌گے تو وہ اس فیصلے میں شریک ہوگی۔ بعض اوقات تو بعد ازاں بتانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی جاتی رہی، جیسے جماعت اسلامی تحریک انصاف کا کوئی ذیلی ونگ ہے، اور بتائے یا مشورہ کے بغیر بھی حمایت کرنا اس کے لیے ضروری فرض کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا ڈیم بنانے کا یہی ایک طریقہ ہے؟ محمد عامر خاکوانی

گزشتہ پانچ برسوں‌کے دوران میں جماعت اسلامی کے وزرا تحریک انصاف حکومت کی بعض بے دین پالیسیوں کے شدید مخالف رہے، بعض‌اقدامات روکنے کے لیے جماعت اسلامی نے حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دی، تب صوبائی حکومت نے ہوش کے ناخن لیے۔ تحریک انصاف وہی تعلیمی نصاب صوبے پر مسلط کرناچاہتی تھی جو اے این پی حکومت نے تیار کیا تھا۔ کوئی تفصیل جانناچاہے تو ذرا سی محنت سے یہ ساری کہانی معلوم ہوسکتی ہے کہ اے این پی حکومت نے نصاب سے کیا کیا اچھی چیزیں خارج کیں اور کیا کیا بری چیزیں شامل کیں۔

اس تناظر میں جماعت اسلامی نے بہتر سمجھا کہ تحریک انصاف کی مسلسل بےاعتنائی کے بعد اس کے ساتھ لڑائی جھگڑے کی حالت میں رہنے کے بجائے کسی دوسرے اتحاد کا رخ‌ کیا جائے، ظاہر ہے کہ پاکستانی سیاست میں حصہ لینے والی ہر جماعت اور پارٹی اپنے سیاسی نفع و نقصان کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے، اگرعمران خان چئیرمین سینیٹ کے الیکشن میں اپنے سیاسی نفع و نقصان کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ہی بقول "پاکستان کے سب سے بڑے ڈاکو" سے ہاتھ ملاسکتے ہیں تو جماعت اسلامی دینی جماعتوں‌کے اتحاد میں شامل کیوں نہیں ہوسکتی!

جناب ہارون الرشید عمران خان کے غلط طرزعمل کا ذکر متعدد بار کر چکے ہیں۔ وہ عمران خان کے باب میں بار بار مایوسی کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ مجھے کامل یقین ہے کہ ان کے ذہن میں بھی تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے اتحادکا آپشن نہیں ہوگا۔ متحدہ مجلس عمل کے احیا پر اذیت محسوس کرنے والے باقی لوگ بھی کسی آپشن کا ذکر کریں تو شاید ان کی بات کچھ سمجھ بھی آئے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • عمران صاحب نے سیاست کو بھی کرکٹ سمجھ رکھا ہے۔ کھل کے چوکے چھکے لگاتے ہیں۔پھر سوچتے ہیں ۔ ۔ ۔ خود کرپشن سے پاک ہیں۔ مگر ارد گرد سارے کرپٹ لوگ اکٹھے کر لیے ہیں۔ ۔ ۔ اس میں شک نہیں کہ کرپشن سے متعلق آگاہی عمران خان نے عوام کو دی۔ ۔ ۔ جماعت اسلامی ایککرپشن فری سیاسی جماعت ہے۔ ۔ ۔ اس لیے عمران سے اتحاد کیا تھا۔ عمران خان کے سیکولر ساتھی ہر وقت جماعت کو پریشان کرتے رہے۔ ۔ ۔ ۔ عمران کان نوجوانوں میں بے حیاحی کو عام کیا۔ناچ گانے کو جلسوں مینں عام کیا۔ ۔ ۔ آکل فیس بک پر ان کے سیکٹری اطلاعات کی ایک نیم لباس خاتون کے ساتھ نازیباحرکات اور ناش دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ وجہ ہے کہ جماعت نے عمران سے اتحاد توڑا