عمران خان کا ایک اور بلنڈر - محمد عامر خاکوانی

عامر لیاقت حسین کا پی ٹی آئی میں آنا افسوسناک امر ہے۔ تحریک انصاف کو ایسے بدنام، گھٹیا اور متنازع لوگوں سے دور رہنا چاہیے، خاص کر الیکشن سے پہلے کی نازک صورتحال میں تو وہ معمولی غلطی بھی افورڈ نہیں کر سکتے۔ عامر لیاقت جیسے شخص کا پارٹی کو فائدہ ایک فیصد اگر ہوبھی گیا تو اس سے ہزار گنا زیادہ نقصان پہنچائے گا۔

ہمارے بعض دوستوں کا خیال ہےکہ جنگ میں ہر چیز جائز ہے، عمران خان کرپٹ مافیا کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے، ایسے میں وہ پارٹی میں آنے والے ہر شخص کو قبول کرے گا، انکار کیسے کر سکتا ہے؟ ممکن ہے عملی تقاضا یہی ہو، مگر تحریک انصاف جیسی جماعتیں بنی ہی رومانویت آمیز خواب دیکھنے والوں کے لیے ہیں۔ پریکٹیکل اور سیاسی حرکیات کے ماہرین کے لیے تو ن لیگ اور پیپلزپارٹی موجود ہیں، تحریک انصاف میں جو شامل ہوتا ہے، یا اس کی حمایت کرتا ہے، وہ کرتا ہی آئیڈیلسٹ ایجنڈے کی بنیاد پر ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ جو عام رواج ہے، اس سے ہٹ کر درست کیا جائے، چاہے وہ آئیڈیل لگے، مگر اس جانب قدم تو اٹھایا جائے۔ پی ٹی آئی بنیادی طور پر رومانس ہے، اگرچہ اس میں بےرحم حقیقت پسندی غالب آ رہی ہے، مگر اس کی قوت اس کا نظریاتی ہونا، تبدیلی کی شدید خواہش اور رومانٹک آئیڈیل ازم ہے۔ عمران خان اس سے جتنا دور ہوتے جائیں گے، آخری تجزیے میں ان کے ہاتھ سے عوامی قوت پھسلتی جائے گی۔

عمران خان بدترین غلطیاں کرنے کی عام شہرت رکھتے ہیں، یہ ان کی ایک اور بڑی غلطی ہے۔ اس شخص نے جناب ہارون الرشید کے خلاف انتہائی گھٹیا اور شرمناک کالم لکھا تھا۔ ایسی بدبودار اور گھٹیا تحریر کہ اسے کالم کہتے ہوئے شرم آئے۔ افسوس کہ عمران خان نے عامر لیاقت کو شامل کرتے ہوئے اپنے دیرینہ دوست اور ایک طرح سے تحریک انصاف کے محسن ہارون الرشید کا بھی خیال نہیں رکھا۔ دوست کیا انھوں نے تو اپنا بھی خیال نہیں رکھا، خود ان کے خلاف عامر لیاقت نے کالموں کی سیریز لکھی، اور ٹی وی شوز میں ایسے پرسنل اٹیک کیے، جنھیں بیان بھی نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   خان صاحب کا احسان، نیا پاکستان - قادر خان یوسف زئی

عامر لیاقت حسین کی خامیاں بے شمار ہیں، گھٹیا پن، بدزبانی، مخالفین کے لیے پست ترین سطح تک اتر جانا اور اس کے ساتھ مذہبی منافرت پھیلانے کے بھی وہ ماہر ہیں۔ مخالفین پر وہ مذہبی حوالوں سے بھی گھٹیا وار کرنے سے باز نہیں آتے۔ کل سے تحریک انصاف کے کارکن سوشل میڈیا پر منہ چھپائے پھر رہے ہیں، ہر ایک شدید تاسف اور شرمساری سے دوچار ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے، مجھے اس پر خوشی ہوئی کہ انصافین لکھنے والوں نے اندھا دھند عامر لیاقت کا دفاع شروع نہیں کر دیا۔ کئی لوگوں نے کھل کر تنقید کی، کچھ نے دبے الفاظ میں اور بعض رنجیدہ ہو کر خاموش رہے۔

پی ٹی آئی کے کارکن، ووٹر اور حامی اور کر بھی کیا سکتے ہیں؟ ان کے لیڈر نے انہیں شرمندہ کرایا، اس پر انہوں نے احتجاج کیا، ممکن ہے بعض زیادہ جذباتی پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کر لیں، مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس آپشن کوئی نہیں۔ الیکشن سر پر ہے۔ پی ٹی آئی نہیں تو پھر ن لیگ ہی آپشن ہے، ایسی بدترین آپشن سے انہیں یہی بہتر لگا ہوگا کہ خاموشی سے اس مصبیت کو برداشت کریں اور اپنی توجہ اصل ہدف کی طرف مرکوز کریں۔

پی ٹی آئی کے کارکنوں کی مجبوری ہوگی، میرا ایسا کوئی ایشو نہیں۔ ہم کسی بھی پارٹی کے رکن ہیں نہ ہی غیر مشروط حمایت پر یقین رکھتے ہیں۔ ایشو ٹو ایشو رائے دیتے ہیں، جو پارٹی ریفارمز کی بات کرے گی، اس کی حمایت کریں گے۔ جو غلطی کرے گی، اس پر تنقید ہوگی۔ میرے نزدیک عامر لیاقت حسین کو تحریک انصاف میں شامل کرنا عمران خان کی بدترین غلطی ہے۔ اسے شدید موقع پرستی کی سیاست ہی کہا جا سکتا ہے۔ جس کا کوئی جواز ہے نہ دلیل۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں