محبت کی لفٹ یا - آفاق احمد

فائز ایک کامیاب ارب پتی بزنس مین کا اکلوتا بیٹا، خود بھی بزنس ٹائیکون بن چکا تھا، جس کاروبار میں ہاتھ ڈالتا، وہ سونا تو کیا ہیرے اُگلنا شروع کردیتا۔
شوق بھی اس کے اپنی سوسائٹی والے تھے۔
سیما سے دوستی ہفتہ پہلے ایک فنکشن میں ہوئی تھی، سیما اگرچہ شادی شدہ تھی لیکن اونچی سوسائٹی میں اُٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے اسے اپنا شوہر اور اپنا سٹیٹس کھٹکنا شروع ہوچکا تھا۔
فائز پہلے ہی ملاقات میں سیما کی ہلچل جان چکا تھا، وہ خواتین کی آزادی کا داعی تھا، لڑکی کی بھی اپنی مرضی ہے، اس کی اپنی زندگی ہے وہ جیسے مرضی گزارے۔
سیما بہت خوبصورت اور انتہائی جاذبِ نظر لڑکی تھی اور فائز پوری گیدرنگ میں اسے دور سے ہی بھانپ چکا تھا۔
خیالات کے تبادلے سے ہوتے ہوئے بات ڈنر تک پہنچی، شہر کے سب سے بڑے ہوٹل میں پرتعیش ڈنر، خوابناک ماحول اور فائز کی خوبصورت، دل موہ لینے والی باتیں، سیما تو مکمل اُس کے سحر میں آچکی تھی۔
فائز باتوں سے آگے بڑھنا چاہتا تھا اور سیما بھی اس پر راضی تھی۔
آخرکار طے ہوا کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات وہ دونوں اکٹھے گزاریں گے، دنیا سے الگ تھلگ اپنی خوابناک دنیا میں تن تنہا، دنیا و مافیہا سے بے نیاز۔
فائز نے ایک لگژیریس ہوٹل میں پورا سویٹ بک کراویا تھا جو اس جیسے رئیس زادوں کے لیے خصوصی طور پر بنائے گئے تھے اور ہوٹل کی بیسمنٹ میں موجود تھے، ان کی خاص بات ہر دفعہ مخلتف اور چونکا دینے والا ماحول دینا تھا۔
فائز، سیما سے پہلے بھی یہاں چھ دفعہ آچکا تھا۔

ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات آچکی تھی جس کا فائز اور سیما دونوں کو بے چینی اور بے تابی سے انتظار تھا، لمحہ لمحہ بھاری لگ رہا تھا۔
فائز ہرطرح کی تیاری کرچکا تھا، پہلے رُوف ٹاپ کے ایک گوشے میں ڈنر کا انتظام تھا جس کے بعد انہوں نے بیسمنٹ میں موجود مخصوص سویٹ میں جانا تھا۔
فائز وقت پر پہنچ چکا تھا لیکن سیما ابھی تک نہ پہنچ پائی تھی۔
اتنے میں سیما سامنے سے آتی نظر آئی، ہر طرف پرفیوم اور پاؤڈر کی بھینی بھینی سی خوشبو پھیل چکی تھی، سیما نے بے ساختہ فائز سے مصافحہ کیا اور وہ دونوں مخصوص جگہ پر بیٹھ گئے۔
فائز انتظار کی کوفت ختم کرنے کے لیے ہلکا سا جام چڑھا چکا تھا اور اس کی آواز، آنکھیں قدرے خُمار آلود ہوچکی تھیں اگرچہ ہوش قائم دائم تھا۔
انہوں نے کھانا شروع کیا۔
کتنا خوبصورت ماحول ہے، ایسا معلوم ہورہا ہے کہ ستاروں کے درمیان بیٹھے ہوں اور چودھویں کے چاند پر کھانا چُن دیا گیا ہو، اور ساتھ ساتھ معلوم ہورہا ہو کہ محبت کیا ہوتی ہے.
سیما سرگوشی کے انداز میں بولی۔
تم نے اچھا کیا کہ آگئی ورنہ انتظار تو مجھے پریشان کیے دے رہا تھا۔ فائز نے اُس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔
بس میرا شوہر، میرا Typical شوہر ہی آڑے آرہا تھا، جب میں نے تیار ہونا شروع کیا تو اُس کے سوال جواب شروع ہوگئے تھے۔
اچھا ٹھہرو! نیچے سویٹ میں ہی چلتے ہیں، تمھارے لیے سرپرائز ہے۔ فائز نے بات قطع کرتے ہوئے کہا۔
اور وہ دونوں لفٹ کی طرف چلنا شروع ہوگئے۔
لفٹ میں مطلوبہ بٹن دبا کر فائز نے اُسے بات جاری رکھنے کو کہا۔
وہ پوچھ رہا تھا کہ کہاں جارہی ہو۔ میں نے جواب دیا کہ جہاں میری مرضی ہوگی میں وہاں جاؤں گی، میں کوئی قیدی نہیں ہوں۔ پھر وہ خاموشی سے میرے پاس آکر کھڑا ہوگیا اور میری تیاری دیکھنے لگا۔ کہنے لگا کہ تم پر گلابی رنگ بہت جچتا ہے لیکن ساتھ اگر مسکراہٹ ہو۔
سیما ترنگ میں باتیں کئے جاری تھی۔
گلابی، نہیں سیما، تم جو رنگ پہنو تمھارا حصہ بن جاتا ہے، لگتا ہے کہ تمھارے لیے ہی بنا ہو۔ تم بہت ہی زیادہ خوبصورت ہو۔ فائز خمار آلود لہجے میں بولا اور سیما کے چہرے پر سُرخی کی لہر دوڑ گئی۔
پھر جب میں گھر سے نکلنے لگی تو اُس نے میرا ہاتھ تھام لیا اور اتنی زور سے دبایا کہ میری ہلکی سی چیخ نکل گئی، ہونہہ! وحشی انسان ہے وہ۔ وہ تنگ نظر انسان ہے، سمجھتا ہی نہیں کہ عورت بھی آزاد ہے، وہ بھی آزادی سے جینا چاہتی ہے۔
لاؤ! میں تمھارا نازک ہاتھ سہلا دوں۔
فائز ترنگ میں بولا۔
فائز! تم سے ملی تو معلوم ہوا کہ محبت کیا ہوتی ہے۔ سیما مسکراتے ہوئے بولی۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا جنت میں لائبریری نہیں ہوگی؟ - عطا رحمانی

لفٹ تیزی سے نیچے جارہی تھی، اس کی رفتار نہایت تیز تھی لیکن فائز اور سیما ایک دوسرے میں اتنا مگن تھے کہ وہ رفتار اور وقت کا اندازہ ہی نہ لگا پارہے تھے۔
چلو! کوئی اور بات کرتے ہیں، کیوں اُس بور آدمی کے تذکرے سے یہ رومانٹک ماحول خراب کریں۔آج پوری رات فقط ہماری ہے، کوئی اور نہیں ہوگا۔
فائز نے سیما کو مخاطب کیا۔
لفٹ نیچے جارہی تھی، نیچے سے نیچے اگرچہ لائٹ بیسمنٹ کے B پر رک چکی تھی، لفٹ سے باہر بھی گُھپ اندھیرا معلوم ہورہا تھا۔
پہلی دفعہ دونوں کو کچھ خوف معلوم ہوا لیکن فائز اسی خیال میں تھا کہ ہوٹل والوں کا کوئی نیا سرپرائز ہے۔
فائز! ہمیں نیچے جاتے ہوئے بیس منٹ ہوچلے ہیں، اس کی رفتار بھی بہت تیز ہے، بھلا اتنا نیچے کیسے کوئی سویٹ ہوسکتا ہے۔
سیما، فائز کا بازو پکڑ چکی تھی لیکن یہ پکڑنا گھبراہٹ اور وحشت کا حامل تھا نہ کہ رومانویت کا۔
فائز بھی کچھ کچھ گھبرا چکا تھا، اس نے ایمرجنسی بٹن دبایا لیکن کوئی رسپانس نہ آیا پھر اُس نے ایمرجنسی کال کی کوشش کی لیکن کوئی ٹُون موجود نہ تھی، موبائل نکالا تو اُس کے بھی سگنل موجود نہ تھے۔
اب فائز بھی بُری طرح گھبرا چکا تھا۔
لفٹ تیزی سے نیچے جاتے جارہی تھی۔
کہاں؟؟؟ کچھ پتہ نہ تھا۔
مجھے تو ایسے لگتا ہے جیسے یہ دوزخ میں جارہی ہو۔ سیما نے خوفزدہ ہوتے ہوئے کہا۔
وہ اتنی خوفزدہ تھی کہ زاروقطار رونا شروع ہوگئی۔
دیکھو! رونے کی ضرورت نہیں، عقل اور ہوش سے کام لینا چاہیے۔ فائز نے اپنا خوف چُھپاتے ہوئے کہا۔
دونوں لفٹ کے فرش پر سمٹ کر بیٹھ چکے تھے۔
لفٹ میں عجیب ناگوار قسم کی بدبو پھیل چکی تھی۔
جس نے عطر اور پرفیومز کی خوشبو ہوا کردی تھی۔
ہم تو لطف اندوز ہونے باہر نکلے تھے، معلوم نہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ سیما نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا۔
پھر اچانک لفٹ رُک گئی۔

لفٹ کی درز میں سے تیز آتشی روشنی چھلکنے لگی اور ساتھ ہی دروازہ کُھلنا شروع ہوا۔
باہر کا منظر نہایت خوفناک تھا، ہر طرف جلتی ہوئی آگ نظر آرہی تھی اور ساتھ ہی بے بسی کے ساتھ نہایت تکلیف دہ اور دل دہلا دینے والی چیخیں۔
ایک عجیب الخلقت بد ہیئت مخلوق جس سے ناگوار بدبو کے بھبھکے اُٹھ رہے تھے، لفٹ کے دروازے کے باہر کھڑی تھی۔۔۔۔
وہ ادب سے جُھکتے ہوئے بولی: شام بخیر دوستو! خوش آمدید، دوزخ میں خوش آمدید۔
Good Evening! Welcome to Hell
وہ دونوں باہر آگئے، فائز کے ذہن میں صرف ایک فیصد شائبہ تھا کہ شاید یہ ہوٹل والوں کا سرپرائز ہو اگرچہ دل مانے نہ دے رہا تھا۔۔۔
یہ دوزخ ہے، آپ یہاں ایک رات کے لیے لائے گئے ہیں۔
یہ سُن کر سیما، فائز کے بازو سے چمٹ گئی۔
آپ دونوں کا کیا رشتہ ہے؟
شوہر بیوی؟ بہن بھائی؟
باپ بیٹی ہو نہیں سکتے، ہاہاہا۔ وہ عجیب الخلقت مخلوق قہقہے لگانے لگی۔
وہ والا رشتہ ہے نا، وہ والا رشتہ، شیطان کی پسند والا نا۔
So U R on Devil's Path
Hahaha
آئیں نا، گھبرا کیوں رہے ہوں، ہر کوئی آزاد ہے نا، ہر کسی کی اپنی مرضی ہے نا، آجائیں نا۔
ساتھ ہی لفٹ کا دروازہ ایک ہیبت ناک آواز سے بند ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں:   خدا اور اس کی جنت کا مخمصہ - جویریہ سعید

وہ میکانکی انداز میں اُس بدہیئت مخلوق کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔
عجیب عجیب مناظر تھے، ناقابلِ بیان۔
سیما کو اپنا شوہر یاد آرہا تھا، جیسا بھی تھا وہ شیطانی راستہ نہ تھا، رحمانی راستہ تھا۔
وہ لوگ چلتے گئے، پرطرف کچے گوشت کے جلنے کی بدبو پھیلی ہوئی تھی۔
پھر وہ بڑے بڑے ستونوں کے پاس پہنچ گئے۔
چلو شاباش، اس ستون کے اندر چلے جاؤ۔ آج رات اسی ستون میں گزارنی ہے تم دونوں نے۔
آہا ایڈونچر، آہا میری مرضی، آہا محبت، آہا رومانویت، آہا پیار۔
ہاہاہاہاہا
یہ یہ کیا ہے؟ ان ستونوں میں کیا ہے؟؟؟
فائز ہکلاتے ہوئے بولا۔
اچھا! خود ہی دیکھ لو۔ اُس مخلوق نے اشارہ کیا تو پردے ہٹ گئے۔
وہ نیچے سے اوپر تاحدِ نظر آگ کے ستون تھے جن کے اندر مرد عورت بے لباس موجود تھے، جل رہے تھے، چیخ رہے تھے، کراہ رہے تھے لیکن مر نہ رہے تھے۔
فائز اور سیما سمٹ کر پیچھے ہوگئے۔
ہم کیوں؟ ہم کیوں جائیں اس میں؟
یہ اپنی مرضی کا پیار، محبت کرنے والوں کی جگہ ہے۔
یہ ناجائز مراسم والوں کی جگہ ہے۔
یہ
illicit lovers
کا مقام ہے۔
یہ غیر شادی شدہ جوڑوں کی جگہ ہے جو محبت اور پیار کے نام پر اپنی ہوس پوری کرتے ہیں اور اسے اپنی مرضی، اپنا حق گردانتے ہیں۔
ہاہاہاہاہا۔
وہ بدہیئت مخلوق فائز اور سیما کو دھکے دینے لگی۔
ادھر اور ہرکارے بھی آچکے تھے، انہوں نے فائز کو اندر دھکیل دیا۔
فائز کی دلدوز اور فلک شگاف چیخیں ہر طرف پھیل چکی تھیں۔
اب وہ سیما کی طرف بڑھنے لگے۔
نہیں، میں نہیں، میں نے کبھی زنا نہیں کیا۔ سیما چلائی۔
تم آج فائز کے پاس رات گزارنے کیوں آئی تھی؟؟؟
ہاں ہاں، اسی لیے آئی تھی لیکن ابھی کیا تو کچھ نہیں، مجھے معاف کردو، میں نے پہلے بھی کبھی ایسا نہیں کیا۔ سیما ہذیانی انداز میں چلا رہی تھی، چیخ رہی تھی۔

سیما! کیا ہوا تمھیں؟؟؟ کیوں چیخ رہی ہو؟؟؟ اچانک سیما کو اپنے شوہر محسن کی آواز آئی۔
محسن! محسن! بچا لو مجھے، پلیز بچا لو مجھے، آگ کے ستونوں سے بچا لو مجھے، جہنم سے بچا لو مجھے۔
چھوڑ دو اسے، یہ اپنے شوہر کو پکار رہی ہے، یہ رحمانی راستے کی طرف جا رہی ہے، یہ سچی ہے کہ اس نے کبھی زنا نہیں کیا، چھوڑ دو اسے۔
بدہیئت مخلوق کی آواز آئی۔
سب ہرکارے پیچھے ہٹنے لگے اور ساتھ ہی سیما کی آنکھ کُھل گئی، وہ محسن کی بانہوں میں تھی، پسینے میں شرابور۔
کیا کوئی خواب دیکھ لیا ہے؟؟؟
محسن نے پریشانی میں پوچھا۔
ہاں! بہت بھیانک اور ایک ہیرو مجھے اُس میں سے بچا کر لے گیا، اور جانتے ہو کہ وہ ہیرو کون ہے؟؟؟
سیما نے محبت بھری نگاہوں سے محسن کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
نہیں، بھلا میں کیسے جانوں کہ جب خواب تُم نے دیکھا ہے۔
محسن نے حیرت سے جواب دیا۔
او بھولے سجن! وہ ہیرو تم ہو، صرف تم۔
سیما نے مسکراتے ہوئے کہا اور محسن کے کندھوں پر سر رکھ دیا۔

نوٹ: اس کہانی کا مرکزی خیال سویڈن کے مشہور کہانی نگار پارلیکر گوسٹ کی کہانی ''دوزخ جانے والی لفٹ'' سے لیا گیا ہے۔