بی جے پی سوشل میڈیا کیسے استعمال کرتی ہے؟ ریحان خان

حال ہی میں ہوئے ضمنی پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے بعد ارریا میں راشٹریہ جنتادل کے امیدوار سرفراز عالم کی کامیابی کے جشن میں کچھ نوجوان فیس بک سے لائیو ہوئے اور ان کے لائیو ویڈیو سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے ڈبنگ کی گئی جس میں "پاکستان زندہ باد" اور "بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے" جیسے اشتعال انگیز نعرے شامل کر کے ویڈیو وائرل کر دی گئی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ لائیو ویڈیو میں ارریا کے مسلم نوجوان تھے جن کی شناخت کے بعد پولیس نے وہ تندی اور فرض شناسی دکھائی، جو خال خال مواقع پر ہی نظر آتی ہے۔ پولیس نے ویڈیو کی تحقیق کیے بنا ویڈیو میں نظر آنے والے مسلم نوجوانوں کے خلاف شواہد اکٹھے کرنے شروع کر دیے۔ شبہ کی بنیاد پر دو نوجوانوں کی گرفتاریاں بھی عمل میں آگئیں اور بعض اطلاعات کے مطابق، قبل اس کے کہ وطن پرستوں کا ایک وحشی ہجوم خود مدعی اور منصف بن کر آن کی آن میں پہلو خان و اخلاق احمد کی طرح ان کا فیصلہ کر دیتا، انھوں نے ازخود پولیس کے روبرو خودسپردگی کردی۔ مسلم نوجوانوں نے اگر خودسپردگی کی ہے تو ان کا عمل قابل تحسین ہے اور موجودہ حالات میں ہر انسان کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ مارپیٹ پر آمادہ ہجوم اور سیاسی اشاروں پر کام کرنے والی پولیس میں سے پولیس کم مضر انتخاب ہے۔

ارریا کے سب ڈویژنل افسر کے مطابق اشتعال انگیز نعروں والی ویڈیو وائرل ہوجانے کے بعد کشیدگی برپا ہونے کا قوی خدشہ پیدا ہوگیا تھا، جس کی وجہ سے مذکورہ نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اشتعال انگیز ویڈیو کی جانچ کرائی جائے گی جبکہ پولیس کے پاس موجود پہلے سے موجود ایک مختلف ویڈیو میں وطن مخالف نعروں کی جگہ "کانٹو کریو باپ باپ، لالٹین چھاپ لالٹین چھاپ" کے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ یہ موقع ضمنی انتخابات کے نتائج میں لالٹین کے نشان والی راشٹریہ جنتادل کے امیدوار کی کامیابی کا تھا، اس لیے وہاں منطقی طور پر ایسے نعرے لگائے جا سکتے ہیں جو کہ غیر قانونی بھی نہیں ہے، "کانٹو کریو باپ باپ" کا بےضرر سا نعرہ کشیدگی پیدا کرنے میں "ایک دھکا اور دو، بابری مسجد توڑ دو" جیسے نعروں کا عشر عشیر بھی نہیں ہے، جبکہ آخر الذکر نعرے لگانے والے آج زیڈ پلس سیکیورٹی کے حصار میں رہتے ہیں۔


جس طرح ویڈیو میں "کانٹو کریو باپ باپ" جیسے نعرے لگانا ممکنات میں سے ہے، اسی طرح "پاکستان زندہ باد" اور "بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے" جیسے نعرے لگائے جانا بھی ناممکنات میں سے نہیں ہے۔ بہرحال راشٹریہ جنتا دل کے مسلم امیدورار سرفراز عالم نے بی جے پی کے امیدوار پر فتح پائی تھی، اور جہاں بی جے پی کے مخالفین ہوتے ہیں، وہاں اس قسم کے وطن مخالف نعرے لگتے ہیں، وائرل ہوتے ہیں اور پھر حقائق سامنے آنے پر بڑے بڑے میڈیا اداروں کو غلط رپورٹنگ پر خفت اٹھانی پڑتی ہے۔ جو کچھ ارریا میں ہوا ہے، وہ دو برس قبل دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ہوچکا ہے۔
سنگ اور ہاتھ وہی، وہ ہی سر و داغ جنوں

اب سوال یہ اٹھتا کہ وطن مخالف نعروں والی ویڈیو آن کی آن وائرل کس طرح ہوئی؟ جس سے ارریا میں نقص امن کا خطرہ تک پیدا ہوگیا۔ یوٹیوب پر دھرو راٹھی نامی ایک این آر آئی نوجوان مصروف کار ہے جو مختلف فیکٹس کی روشنی میں گفتگو کرتا ہے، چونکہ دھرو این آر آئی ہے، اس لیے اب تک محفوظ ہے۔ گزشتہ دنوں دھرو نے اپنے یوٹیوب چینل سے مہاویر نامی ایک نوجوان کا انٹرویو نشر کیا تھا جو 2012ء سے 2015ء تک بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ رہ چکا ہے۔ مہاویر کے مطابق بی جے پی کا آئی ٹی سیل اس کا ٹرمپ کارڈ ہے، جو آن کی آن میں کوئی بھی 'لہر' بنانے قادر ہے، اس آئی ٹی سیل میں 2015ء میں بیس ہزار سے زائد افراد کام کرتے تھے۔


فیس بک پر انھوں نے انڈین آرمی کے نام پر، متنازعہ اور مشہور شخصیتوں کے نام پر، مندروں اور دیوی دیوتاؤں کے نام پر پیجز بنا رکھے ہیں، جس پر بی جے پی کے حق میں مفید مواد شیئر کیا جاتا ہے۔ حتی کہ مسلم درگاہوں اور کعبہ و مدینہ کے نام سے بھی انہوں نے فیس بک پیجز بنا رکھے ہیں جن پر چار مذہبی یا ایمانی پوسٹس کے بعد ایک بی جے پی کو پروموٹ کرنے والا لنک رکھ دیا جاتا ہے۔ ان پیجز سے حرمین کی اذانیں لائیو نشر کی جاتی ہیں اور کمنٹس میں مسلمان سبحان اللہ کہتے نظر آتے ہیں۔ صرف انڈین آرمی کے نام سے فیس بک پر بی جے پی آئی ٹی سیل نے 600 سو سے زائد پیجز بنا رکھے ہیں اور ان میں سے بیشتر پیجز پر انڈین آرمی کے آفیشیل پیج سے زیادہ لائکس ہیں۔ کسی بھی معاملے میں، چھوٹی سے چھوٹی خبر میں ہندو مسلم منافرت کے پہلو تلاش کرنا بی جے پی کے آئی ٹی سیل میں مہاویر کی ذمہ داری تھی۔ مہاویر کا کہنا ہے کہ فیس بک پر بی جے پی کی گرفت اتنی سخت ہے کہ صرف ایک گھنٹے کے اندر وہ ملک بھر میں کشیدگی پیدا کر سکتی ہے۔ ہر آئی ٹی سیل کے ہر رکن کے پاس دس موبائل اور ان موبائل میں دس واٹس ایپ موجود ہوتے ہیں، مختلف ناموں والے دسیوں فیس بک اکاؤنٹس سے ایک کارکن مواد شیئر کرتا ہے، آئی ٹی سیل کے دیگر کارکنان اس کو لائک، شیئر اور کمنٹ کرتے ہیں۔ اعتراض کرنے والوں کو ماں بہن کی گالیاں اس امید پر دی جاتی ہیں کہ شاید گالم گفتار کی وجہ سے پردھان منتری بھی فالوورز میں شامل ہوجائیں۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے اور لہر تیار ہوجاتی ہے۔ مہاویر کے بقول ٹوئٹر پر ٹرینڈ چلانے کے لیے فی ٹویٹ چالیس روپے کے حساب سے ادائیگی بھی کی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کے علاوہ یہ آئی ٹی سیل فیک نیوز ویب سائٹ بھی چلاتا ہے، جس میں سے ایک ویب سائٹ "نیوز ٹرینڈ ڈاٹ نیوز" ہندوستان کی ٹاپ ٹین ویب سائٹس میں سے ہے جس پر یومیہ کروڑوں کا ٹریفک ہوتا ہے اور رینکنگ میں یہ فیک نیوز سائٹ انڈیا ٹائمز کی ویب سائٹ اور انسٹا گرام سے اوپر ہے،، اس کے اوپر صرف فیس بک، یوٹیوب اور گوگل وغیرہ ہی ہیں۔ ان سارے حالات میں بی جے پی کے حق میں ماحول بنانے والی ویڈیوز کا وائرل ہوجانا تو بالکل عام سی بات ہے۔