میرا جسم میری مرضی خواتین کا مسئلہ نہیں - سخاوت حسین

"کھانا گرم کرلو"
"میرا جسم میری مرضی"
جس معاشرے میں سرمایہ درانہ نظام نے اپنے پنجے گاڑے ہوں۔ جہاں تھر کی عورت، جہاں سندھ کی ہاری، جہاں پنجاب کی مظلوم عورت کبھی غیرت کے نام پر ماری جاتی ہو، کبھی عزت اور کبھی پنچایت میں کئی مردوں کے جبر کا نشانہ بنتی ہو، جہاں کی غریب عورت دس بچے پیدا کرکے بھی مرد کی محبت حاصل نہیں کر پاتی، وہاں کھانا گرم نہیں زندگیاں سرد ہوتی ہیں۔

سرمایہ درانہ نظام کے نعرے بھی دلچسپ ہوتے ہیں۔ کبھی یکم مئی کو امیر لوگ مزدور ڈے مناتے ہیں تو مزدور ایک دن بھوکا رہ کر کسمپرسی کا شکار رہتا ہے، اور امیر بینر اٹھائے سڑکوں پر مزدوروں کے حق میں نعرہ لگاتے نظر آتے ہیں، جبکہ اپنے دفاتر، کالجوں اور بڑی یونیورسٹیوں میں مزدوروں اور جاب کرنے والے افراد کو کسی بھی قسم کے حقوق دینے کو ہرگز تیار نہیں ہوتے تو کبھی کھلی رنگت والی خواتین ، بینروں سے آویزاں منقش لفظوں کے پر پر سوار، اپنے مسائل سامنے لاتی ہیں۔ ایسے مسائل جو عام خواتین کے ہوتے ہی نہیں۔ ایسے مسائل جس کا سامنا عام عورت کرتی ہی نہیں۔

لوئر مڈل کلاس کا مسئلہ کھانا گرم کرنا نہیں۔ اس گرم کھانے تک رسائی ہے۔ اس کھانے تک رسائی کے لیے وہ عورت کن مراحل سے گزرتی ہے، یہ وہی جانتی ہے۔ وہ عورت جو دس گھروں میں کام کرتی ہے، وہ عورت جو ماسی بن کر ہوس کا نشانہ بنتے ہوئے اور کبھی اتوار بازاروں اور سڑکوں کنارے مردوں کےشانہ بشانہ سبنزیاں اور دیگر چیزیں بیچتی ہوئی نظر آتی ہے۔ درحقیقت دو بچے گود میں لے کر دل مضبوط کرکے سڑکوں پر اپنی پروڈکٹ کو بیچنے کے لیے صدائیں بلند کرتی ہے، تو اس کا مسئلہ تب اس سبزی یا پھل کو بیچ کر گھر چلانا ہوتا ہے۔ اس کا مسئلہ یہ سلوگنز نہیں۔

وہ عورت جو پنچایت کے ظلم کا شکار ہوتی ہے، اس کا مسئلہ کھانا گرم کرنا ہرگز نہیں ہے، نہ ہی اس کا مسئلہ میرا جسم میری مرضی ہے۔ اس عورت کا مسئلہ بس اتنا ہے کہ اسے انسان سمجھا جائے، اس کی تکریم کی جائے۔ اسے بازار میں ہوس کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ وہ بس میں بیٹھے تو اسے عزت کی خاطر ہی سہی سیٹ دی جائے۔ اس کا چہرہ تیزاب سے محفوظ رہے۔ اسے روز سوکن کا ڈر نہ دلایا جائے۔ روز طلاق کی دھمکی نہ دی جائے۔ اسے روز "تو کرتی ہی کیا ہے" جیسے طعنے نہ سننے پڑیں۔ اسی بیٹی کہہ کر دکھ کے سمندر میں نہ پھینکا جائے۔ وہ اگر کہیں ملازمت کر رہی ہے تو وہاں اسے تحفظ حاصل ہو۔

کھانا گرم کرنا دراصل کسی کا مسئلہ ہے ہی نہیں۔ امیر کلاس کے کھانے وہی غریب عورت چند پیسوں کے عوض چولہے پر گرم کرتی ہے جن کے حقوق کے لیے شاید وہ امیر خواتین بینر اٹھاتی نظر آتی ہیں۔ ورکنگ کلاس کی خواتین کے بچے انہی غریب خواتین کے پاس پلتے ہیں۔ ان عورتوں کا مسئلہ جسم بھی نہیں ہے۔ انہیں بس زبردستی کسی کھونٹے سے نہ باندھا جائے۔ ان کی مرضی پوچھ لی جائے یہ بس یہی چاہتی ہیں۔ انہیں ونی نہ کیا جائے۔ انہیں پنچایت کے فیصلوں کی بھینٹ نہ چڑھا یا جائے۔ امیر کلاس کو اس نعرے کی ویسے بھی ضرورت نہیں ہے۔وہ پہلے سے ہی آزاد ہیں۔ عورت کو جگائیے مگر اسے سرمایہ درانہ نظام میں مت سلائیے۔

امیر خواتین بس اتنا کریں کہ جب کوئی غریب ماسی ان کے امیر شوہر، بھائی، بیٹے کے ظلم کا نشانہ بنے تو اس وقت اس مرد کی وکالت کے بجائے اس عورت کی ہمنوا بنیں۔ اسے انصاف دلائیں۔ وہ عورتیں جو ان کے پاس کام کرتی ہیں یا گھروں میں کام کرتی ہیں، انہیں بھی انسان سمجھیں۔ ان کا بھی احساس کریں۔ انہیں بنیادی انسانی حقوق تو پہلے دیں پھر ایڈوانس حقوق کی طرف آئیے۔

کم از کم مس شرمین کی طرح سسٹر کو ریکویسٹ بھیجنے پر ڈاکٹر معطل کیا جائے، ایسا نظام بھی نہ ہو۔ عورت کو آزادی کے خواب دکھا کر اس کا استحصال نہ کیا جائے۔ مرد کے سلوک کو تبدیل کرنا ہے تو وہ نعرے بلند کریں۔ کھانا یا جسم کی آزادی چند افراد کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کی خواتین کا یہ مسئلہ نہیں ہے۔
یقین نہیں آتا تو ذرا سروے کر لیجیے۔

Comments

سخاوت حسین

سخاوت حسین

سخاوت حسین نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر کیا ہے، دل میں جہاں گردی کا شوق رکھتے ہیں، افسانہ، سماجی مسائل اور حالات حاضرہ پر لکھنا پسند ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.