قندیل- ھارون الرشید

ڈاکٹر وہاں سے اٹھا تو بدلا ہوا آدمی تھا۔ اسے لگا کہ اس کا راستہ قندیلوں سے جگمگاتا ہے۔ جگمگا رہا ہے اور انشا اللہ جگمگاتا رہے گا۔
اس عمارت میں مسافر پہ وہی بیتی جو لاہور کی بادشاہی مسجد میں‘ چیکو سلواکیہ کے کمیونسٹ ڈکٹیٹر مارشل ٹیٹو پہ گزری تھی۔

ناگواری سے وہ اڑھائی سو سالہ قدیم عمارت کی سیڑھیاں چڑھا۔ ایک کٹر ملحد کو عبادت گاہ سے کیا دلچسپی ہوتی۔ مہمان حکمراں کی مجبوری ہوتی ہے کہ میزبان ملک کی یادگاروں کو نمٹائے۔

تب سر اٹھا کر عالمگیری مسجد کو اس نے دیکھا تو دیکھتا رہ گیا۔ داراشکوہ نے میاں میر کا مقبرہ تعمیر کرنے کے لیے دوردراز سے لاکھوں ٹن سرخ پتھر منگوایا تھا۔ اس کے مقدر میں مگر دنیا کی عظیم ترین عبادت گاہ میں نصب ہونا لکھا تھا۔

اب سوالات کا ایک جہان اس کے دل میں جاگا۔ خوش بختی سے میزبان مختار مسعود‘ تاریخی عمارتوں کا شناور تھا۔ وہ آدمی جس نے مینار پاکستان تعمیر کیا۔ پھر اس طرح اس کی داستان لکھی کہ مینارِ پاکستان ہی کی طرح صدیوں تک دیکھی اور پڑھی جائے گی۔ میرے پاس اگر ویسا ہی قلم ہوتا‘ ویسا ہی گداز اور رچائو تو ایسی ہی ایک کہانی لکھنے کی کوشش کرتا۔ کچھ تحریریں عمارتوں کی طرح تابہ ابد زندہ رہتی ہیں۔ اقبالؔ کی نظم مسجدِ قرطبہ کے بارے میں کہا جاتا ہے: کلام کا ایسا معجزہ ہے کہ خود اس معجزے کی طرح باقی رہے گی۔

جب تک گردشِ لیل و نہار قائم ہے‘ پڑھنے والے اس سے حرارت کشید کرتے رہیں گے۔ مشرق کے فقیدالمثال شاعر نے کہا تھا:
جہان تازہ کی افکارِ تازہ سے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
پینتیس برس پہلے پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر نے ایک خواب دیکھا تھا۔ مغرب میں اگر کیمرج‘ہارورڈ اور آکسفرڈ ایسی یونیورسٹیاں قائم ہو سکتی ہیں‘ صدیوں جہاں علم کے چراغ جلیں اور اہلِ عزم پیدا ہوں تو پاکستان میں کیوں نہیں۔ ''یہ تو شوکت خانم ہسپتال سے بھی کشادہ تر عمارت ہے‘‘ علی میر اور طاہر سرور میر سے میں نے کہا۔ علی میر جو مزاحیہ اداکاری کے میدان میں خود ایک لیجنڈ ہیں۔ چند سال ادھر جگر کی بیماری سے‘ ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوا تھا۔ یہ زخم جواں سال آدمی کے دل میں زندہ رہا۔ اب اس نے اس زخم سے ایک چراغ جلا لیا ہے۔ ٹھیک یہی حادثہ طاہر سرور میر کے ساتھ بیتا۔ ایک دن پہلے ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ وہ ایک ایسے ادارے سے روشناس کرانا چاہتے ہیں‘ مستقبل میں دور دور تک جو چراغاں کرے گا۔ بتایا کہ یہ حیرت انگیز انسٹیٹیوٹ‘ میاں شہبازشریف کی نگرانی میں حکومت پنجاب کے سرمائے سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔

یاللعجب‘ شہبازشریف‘ عمران خان‘ عبدالستار ایدھی‘ ڈاکٹر ادیب رضوی یا ڈاکٹر امجد ثاقب کیسے ہوگئے۔ ایک گھنٹے پر پھیلی ہوئی ڈاکٹر سعید اختر کی گفتگو سے کھلا کہ اس ادارے کی حد تک تو ہو گئے۔ بندوں کے ساتھ اللہ کے معاملے عجیب ہیں۔ جو کام جس سے لینا چاہے۔

دوسروں کا معلوم نہیں۔ اپنا حال یہ تھا کہ بار بار آنسو ضبط کرنا پڑے۔ پینتیس برس پہلے خانیوال کا یہ فرزند امریکہ پہنچا۔ عالمگیر شہرت کے حامل اس سرزمین کے اداروں میں کام کرنے کا اسے موقع ملا‘ ایک دن اس خیال اور احساس کے ساتھ اس نے بتایا کہ ایسے ادارے پاکستان میں کیوں نہیں بن سکتے۔ ''آخر وہ ہم جیسے لوگ ہیں۔ دو ٹانگوں اور دوآنکھوں والے۔ ان کے کندھوں پر ایک سے زیادہ سر نہیں رکھے۔ ان کے سروں میں بھی وہی 1300 سی سی کے دماغ ہیں‘‘
اپنی دھیمی‘ دردمند آواز میں ڈاکٹر نے بتایا: ایک دن کا نہیں‘ یہ تین عشروں کا سپنا ہے‘ جو ان کے دل میں پیدا ہوا اور پروان چڑھتا رہا‘ حتیٰ کہ متشکل ہونے لگا۔ یہ پچاس ایکڑ پر پھیلی ہوئی ایک جلیل و جمیل عمارت ہے۔ پہلی نظر ہی میں آدمی مسحور ہو جاتا ہے۔ ''اب تک صرف دو لاکھ مربع فٹ تعمیر مکمل ہوئی ہے‘‘ ڈاکٹر نے کہا ''مکمل ہو جائے تو یہ بارہ لاکھ مربع فٹ کو محیط ہوگی۔

باغ میں ہسپتال‘‘ آسٹریلیا‘ امریکہ اور سنگاپور کے بہترین اداروں نے‘ جو عالمی معیار کے ہسپتال تعمیر کرنے کی نگرانی کرتے ہیں‘ پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر تشکیل دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ بالآخر سنگاپور کی ایک کمپنی کو چنا گیا۔

2000ء میں‘ اس توفیق کی دعا کرتے ہوئے کہ پروردگار عالم‘ افتادگانِ خاک کا درد بٹانے کی اسے توفیق دے‘ ڈاکٹر سعید اختر پاکستان میں وارد ہوئے اور اسلام آباد کے ایک ہسپتال سے وابستہ ہوگئے۔ شاید اس وقت تک جو پاکستان میں اپنی طرز کا سب سے بڑا شفاخانہ تھا۔

کبھی کبھی ایک چھوٹا سا حادثہ‘ امکانات کے ان گنت دروازے کھول دیتا ہے۔ ڈاکٹر سعید اختر کے ساتھ یہ واقعہ چند برس پہلے‘ اسلام آباد کے اسی ہسپتال میں پیش آیا۔ آزاد کشمیر کے ایک دوردراز گائوں سے تعلق رکھنے والی‘ ایک بوڑھی عورت ایک دن ان کے پاس لائی گئی۔

پورے انہماک سے اس کا معائنہ کرنے کے بعد‘ ڈاکٹر نے نسخہ لکھا اور مریضہ کے حوالے کردیا ''ایہہ کیہہ اے پتر‘‘ اس نے پوچھا۔ ڈاکٹر نے اسے بتایا: یہ اس کے مرض کی تفصیل اور دوائوں کی فہرست ہے‘ جو بازار سے خرید کر برتنا ہوں گی۔ معالج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑھیا نے دیکھا اور پہاڑی لہجے میں جو کچھ کہا‘ اس کا خلاصہ یہ ہے: میں تو تمہیں ایک دانا آدمی سمجھتی تھی‘ تم تو نرے کودن نکلے۔ اپنی کرسی سے وہ اٹھا۔ مریضہ کے ہاتھ سے پرچی پکڑ کر قریب ترین میڈیکل سٹور پر گیا۔ دوائیں خریدیں اور لا کر اس کی خدمت میں پیش کر دیں۔ ڈاکٹر سعید اختر‘ اس بڑھیا کو اپنا ایک عظیم محسن سمجھتے ہیں۔

اس نے انہیں وہ راہ دکھلائی جو پی کے ایل آئی Pakistan Kidney & Liver Institute پہ منتج ہوئی۔ جواں ہمت سعید اختر کو یقین ہے کہ دو سرکاری اور تیرہ غیر سرکاری ارکان پر مشتمل یہ ٹرسٹ‘ آخرکار ملک میں ایک کیمرج یا آکسفرڈ ایسے عظیم ادارے کا مثیل ہوگا۔ طب کی دنیا میں نہ صرف علاج بلکہ تعلیم اور تحقیق کا ایک نادر روزگار ادارہ۔

بیس لاکھ پاکستانی خاندانوں کو غیر سودی قرضے جاری کرنے والے ‘ اپنی نوعیت کے منفرد ادارے ''اخوت‘‘ کے معمار ڈاکٹر امجد ثاقب سے پوچھا جائے تو وہ بتاتے ہیں: میرے دل میں یہ خیال‘ چودہ سو برس پہلے کے مدینہ منورہ میں رونما ہونے معجزے کی یاد سے ہوا۔ تاریخ نے جسے ''مواخاۃ ‘‘ کے نام سے یاد رکھا ہے۔

فروغِ اسمِ محمدؐ ہو بستیوں میں منیرؔ
قدیم یاد نئے مسکنوں سے پیدا ہو
دس ہزار روپے سے ابتدا کرنے والی تنظیم‘ دس ارب روپے سے زیادہ کے اثاثے رکھتی ہے۔ تین سو تعلیمی ادارے چلانے کے علاوہ‘ جن میں بہترین معیار کا نینو ٹیکنالوجی کا کالج بھی ہے‘ ان دنوں وہ ایک یونیورسٹی کی تعمیر میں جتے ہیں۔ کتنے ہی خیرہ کن منصوبے اس کے سوا ہیں۔ تفصیل بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو پی کے ایل آئی کی کہانی بیچ میں رہ جائے گی‘ جو بجائے خود ایک سحرانگیز اور دل آویز داستاں ہے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ ڈاکٹر سعید اختر اور ان کے ساتھیوں سے مل کر‘ تمام مایوسی دھل گئی‘ چشمے کا اجلا پانی جیسے ملبوس دھو ڈالے۔

ایک عجیب امنگ کے ساتھ میں نے سوچا‘ جس ملک میں ایسے لوگ موجود ہوں۔ اس کے باب میں ناامیدی کا کیا جواز۔
گھنٹہ بھر لاہورکی لغو ٹریفک میں الجھے رہنے کے بعد‘ ابھی ابھی میں دفتر پہنچا ہوں۔ کالم کیا خاک لکھوں‘ ابھی تو اس سحر سے نجات نہیں پا سکا۔

چار برس ہوتے ہیں خانہ کعبہ کے نواح میں‘ اللہ کے ایک بندے سے ڈاکٹر سعید اختر کی ملاقات ہوئی‘ جنہیں معالج کی جستجو اور اس کے ٹوٹے ہوئے دل کی خبر تھی۔ اس آدمی نے ان سے یہ کہا: کیا اللہ کے رسولؐ کا یہ فرمان آپ نے سن رکھا ہے ''الخلق عیال اللہ‘‘ خدا کی مخلوق خدا کا خاندان ہے۔ پھر اس میں اضافہ کیا: اگر کوئی اللہ کے خاندان کی مدد کرنا چاہے تو وہ ناکام کیسے ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر وہاں سے اٹھا تو وہ ایک بدلا ہوا آدمی تھا۔ اسے لگا کہ اس کا راستہ قندیلوں سے جگمگاتا ہے۔ جگمگا رہا ہے اور انشا اللہ جگمگاتا رہے گا۔ (جاری)