اسٹیفن ہاکنگ- امجد اسلام امجد

اسٹیفن ہاکنگ کی موت کی خبر سنتے ہی اس کے حوالے سے جو پہلی بات دھیان میں آئی اور ابھی تک ذہن سے چمٹی ہوئی ہے وہ علامہ اقبال کا ایک انتہائی فکر انگیز‘ بے مثال اور ایک اعتبار سے خطرناک شعر ہے جس میں انھوں نے تخلیق کائنات کے مابعد الطبیاتی اور بگ بینگ کے سائنسی تصور کو ایک نئی شکل دے کر ایک دوسرے سے قریب تر کر دیا ہے کہ

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

کہ آرہی ہے دما دم صدائے کن فیکوں
آئن سٹائن کے بعد جدید سائنس میں اسٹیفن ہاکنگ نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی جس کی وجہ اس کے سائنسی انکشافات اور بالخصوص بلیک ہول کے بارے میں نظریات تھے۔

اس میں شک نہیں کہ اس کی افسانوی نوعیت کی بیماری اور معذوری نے بھی اس شہرت میں بہت اضافہ کیا لیکن یہ بھی امر واقع ہے کہ کائنات کے سربستہ رازوں کو کھولنے اور اس کے عقلی اور طبیعاتی جواز کو سمجھنے اور سمجھانے میں اس کا کام بے حد اہم اور تہلکہ خیز ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے یہاں سوشل میڈیا میں ایک طبقہ ہر بات کو کھینچ کھانچ کر مذہب اور ایمانیات کے دائرے میں بند کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس میں اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ خود رب کریم کے اس پیغام ہی کی نفی کرنے لگتا ہے کہ اس کائنات میں کوئی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی گئی اور عقل و فہم کی قوت سے ان کے درمیان رشتوں کو دریافت کر کے کام میں لایا جا سکتا ہے اب اگر کچھ لوگ اس تلاش کے عمل میں خالق کائنات اور اس کے ’’حرف کن‘‘ کو اس طرح سے نہیں مانتے تو اس سے نہ صرف رب کائنات کو کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ انکار سے اس کی پہچان کے نئے نئے راستے بھی کھلتے ہیں اور منزل کی طرف جانے والے تمام رستے بظاہر مختلف نظر آنے کے باوجود بھی حقیقت میں اپنے اندر ایک اشتراک کی کیفیت رکھتے ہیں۔

اگر اسٹیفن ہاکنگ یا اسی کی طرح کے بے شمار لوگ بھی شخصی خدا کے تصور سے انحراف کرے یا اس کو ہماری طرح تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں تو ہمیں ان کی عاقبت کی فکر کرنے کے بجائے ان کی تحقیق اور ذہانت کی تحسین‘ تفہیم اور اس سے استفادے تک ہی اپنے آپ کو محدود رکھنا چاہیے کہ رب کریم کی حیثیت اور حشر کے روز کا علم صرف اسی کے پاس ہے اور یہ کہ یہ سب تماشا اسی کی مرضی اور ارادے کے مطابق ہو رہا ہے اور اس کی الوہیت اقرار اور انکار کے سب جھگڑوں سے بے نیاز اور بالاتر ہے۔

بات اسٹیفن ہاکنگ کے جسمانی وجود کی معذوری اور اس کے ذہن کی انتہائی غیرمعمولی کارکردگی اور صلاحیت کی ہے جو اپنی جگہ پر قدرت کا ایک انوکھا روپ ہے کہ جو کام لاکھوں جسم اور ذہن مل کر نہیں کر سکتے وہ ایک شخص کی پلک کی جنبش میں سمٹ آیا ہے۔ میرے مرحوم دوست ارشاد صدیقی کے بیٹے اور برادر عزیز انور مسعود کے داماد حاشر ابن ارشاد نے اسٹیفن ہاکنگ سے کیے گئے کچھ سوالات کے جوابوں کو انگریزی سے اردو میں منتقل کیا ہے۔ ان میں سے چند ایک کا مطالعہ ہمیں اس عظیم اور بے مثال انسانی دماغ کی حیرت انگیز قوت اور صلاحیت سے کچھ اس طرح سے متعارف کراتا ہے کہ:

سوال، اگر خدا نہیں ہے تو اس کے وجود کا تصور اتنا مقبول کیسے ہو سکتا ہے؟

جواب۔ میں نے یہ دعویٰ کبھی نہیں کیا کہ خدا وجود نہیں رکھتا‘ ہم اس جہان میں کیوں ہیں؟

یہ سوال جب بھی ایک انسانی ذہن میں اٹھتا ہے تو اس کی توجیہہ کا نام وہ خدا ہی رکھتا ہے فرق اتنا ہے کہ میرے خیال میں یہ توجیہہ طبیعاتی قوانین پر مشتمل ہے نہ کہ ایک ایسا وجود جس سے ایک ذاتی تعلق استوار کرنا ممکن ہو میرا خدا ایک غیرشخصی خدا ہے۔

سوال۔ ایسی کونسی سائنسی دریافت یا پیشرفت ہے جسے آپ اپنی زندگی میں دیکھنے کے متمنی ہیں؟

جواب۔ میں چاہتا ہوں کہ جوہری ادغام سے روز مرہ کی توانائی کی ضروریات پوری ہونے کا عملی راستہ نکلے اس سے ہم توانائی کے ایک ایسے نہ ختم ہونے والے ذریعے سے متعارف ہوں گے جس میں نہ تو آلودگی کا کوئی خطرہ ہے اور نہ ہی گلوبل وارمنگ یا زمینی تپش کا۔

سوال۔ لوگ آپ سے توقع کرتے ہیں کہ آپ زندگی کی تمام گتھیوں کا راز سلجھا سکتے ہیں کیا توقعات کا یہ بوجھ آپ کو ایک بہت بڑی ذمے داری محسوس نہیں ہوتا؟

جواب۔ دیکھئے سچ تو یہ ہے کہ میرے پاس زندگی کے ہر مسئلے کا حل نہیں ہے‘ طبیعات اور ریاضی ہمیں یہ تو بتا سکتے ہیں کہ کائنات کا آغاز کیسے ہوا لیکن وہ انسانی رویوں کی پیش گوئی نہیں کر سکتے انسانی رویے بہت پیچیدہ ہیں اور ان کی کوئی قابل عمل مساوات تشکیل دینا قریباً نا ممکن ہے۔ میں بھی خود کو اس بارے میں اتنا ہی حیران و پریشان اور لاعلم محسوس کرتا ہوں جتنا کوئی اور شخص۔

سوال۔ کیا کبھی کوئی ایسا وقت آئے گا جب انسان طبیعات کے بارے میں سب کچھ جان جائے گا؟

جواب۔ میں امید کرتا ہوں کہ ایسا وقت نہیں آئے گا ورنہ میں کہاں سے اپنی روزی کماؤں گا۔

اس آخری جواب پر طرح طرح کے ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا ہے حالانکہ اس کا تعلق صرف اس سینس آف ہیومر سے ہے جو ہم سب کا ایک خوب صورت اجتماعی ورثہ ہے۔ البتہ اسٹیفن ہاکنگ کا یہ کمال ضرور ہے کہ اس نے اس میں اپنی روزی کمانے کے استعارے کو شامل کر کے اس بات کو ایک عجیب اور تخلیقی شکل دے دی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس کی آخرت کا معاملہ اس پر اور رب کائنات پر چھوڑ دیں اور صرف یہ دیکھیں کہ اس نے ہمارے لیے علم اور معلومات کے جن خزانوں کے دروازے کھولے ہیں ان کے اندر کیا ہے شاعر تو صرف یہ کہہ کر خاموش ہو گیا کہ

اس حرف ’’کن‘‘ کی ایک امانت ہے میرے پاس

لیکن یہ کائنات مجھے بولنے تو دے!

اسٹیفن ہاکنگ ان منتخب اور برگزیدہ لوگوں سے ایک تھا جنہوں نے خدا اور کائنات سے اپنی زبان میں مکالمہ بھی کیا اور ہمیں اس سے آگاہ بھی رکھا۔