"ڈاکٹری" کی چاہت میں؟ ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

بات یہاں سے شروع ہوئی کہ خودکشی کے لیے کون سا زہر سب سے بہتر ہے، میتھس، بائیولوجی، کیمسٹری، فزکس؟ جواب دیا جو سب سے زیادہ کمزور ہے، اس زہر کو روزانہ رات سونے سے پہلے ایک بیڈ پر لیٹ کر نیند آنے تک آنکھوں کے رستے اپنے ذہن میں انڈیلتے رہیے۔ یہ سلو پوائزننگ اس زہر کو تیز اثر کر دے گی، نتیجتا خود کشی یا خود خوشی کچھ عرصے میں ظاہر ہو جائے گی۔ اگر کسی کو نیند نہ آتی ہو، اس کے لیے بھی یہی زہر معمولی مقدار میں روزانہ رات استعمال کیجیے۔ مجرب نسخہ ہے۔ مجھے فزکس کے زہر کے روزانہ استعمال سے اچھی نیند کے ساتھ ساتھ فزکس کے سالانہ امتحان میں 98 فیصد نمبر بھی ملے تھے، جبکہ میں فزکس کی کتاب کو سونے سے پہلے اس نیت سے آنکھوں کے سامنے کھول لیا کرتی تھی کہ جلد نیند آ جائے گی۔ کتاب ہاتھ میں پکڑتے ہی پہلی جمائی آتی، اور پھر " سلسلے ہوئے" کے مصداق تانتا بندھ جاتا۔

رات حسین خوابوں میں بسر ہوتی۔ خود کو سفید اوور آل میں ملبوس کنگز اینڈ کوئینز آل ایٹ کے ای کے مصداق ایک کوئین دیکھتی۔گلے میں کوئین قلوپطرہ کے حسین ناگ کی مانند اسٹیتھو اسکوپ لٹکائی ہوتی۔ ملکہ کے تاج کی جگہ ہیڈ لیمپ لشکارے مارتا اور ڈاکٹر ملکہ اپنی راجدھانی یعنی میو اسپتال کے وارڈز کا راؤنڈ لگایا کرتیں۔ کنیزوں کے لشکر کی جگہ پروفیسر ڈاکٹر ملکہ رابعہ درانی کے اسٹوڈنٹ ہاؤس آفیسرز کا لشکر جرار ہوتا، لیکن تا بہ کے۔ آنکھ کھلتی تو نظام سقہ کی ایک دن کی بادشاہی کا اختتام ہو جاتا، نظام سقہ نے تو پھر بھی 24 گھنٹے بادشاہت کے حلوے مانڈے اڑا لیے تھے، بےچاری ڈاکٹر ملکہ تو الارم کے صور اسرافیل پھونکتے ہی اپنے خواب محل سے محل بدر کر دی جاتی تھیں۔ خدا گواہ ہے کہ زمانہ قدیم کے چابی سے چلنے والے الارم کی آواز صور اسرافیل سے کم ڈراؤنی نہ تھی۔ تھوڑے ہی عرصے بعد ملکہ محترمہ اس الارم کے خوف سے وقت مقررہ سے پانچ منٹ پہلے ہی بیدار ہو جایا کرتیں، تاکہ اس الارم کی کرکٹ آواز کو زن کر جو دل کی دھڑکنیں ناخوشگوار انداز میں بےترتیب ہوتی تھیں، اس سے بچا جا سکے۔ ہاں اگر الارم کے بجائے کوئی من موہن دلکش آواز علی الصبح جگایا کرتی، جس سے دل کی دھڑکن کا بےترتیب ہونا خوشگوار عمل ہوتا، تب مزید پانچ منٹ کی نیند گوارا تھی لیکن کہاں جی۔ بچپن کا خواب تھا جو والد صاحب محترم کے والد محترم یعنی دادا جی حضور نے ابا جی حضور کے لیے دیکھا تھا، لیکن پھندہ تعبیر کچھ تنگ ہونے کی وجہ سے اس ناچیز کے ناتواں کندھوں پر دھری نازک گردن میں فٹ آیا تھا۔ پھر بقول شاعر یوں گزری:

"ڈاکٹری" کی چاہت میں زندگی گنوائی ہے
عارضی محبت تھی مستقل نبھائی ہے۔

تو بات ہو رہی تھی درجہ دہم اور ایف ایس سی میں پڑھے جانے سائنس مضامین کے ساتھ ہمارے قریبی دوستانہ یا زود رنجانہ تعلقات کی۔ علم طبیعات تو طبیعت کے لیے یوں موزوں ٹھہرا کہ نیند خواب اور طبیعات کا چوکی دامن کا ساتھ ہوگیا۔ فزکس کی کتاب کھلتے ہی گویا نندیا پور کا در وا ہو جاتا۔ کتاب میں لکھے الفاظ گویا ''کھل جا سم سم'' کا منتر تھے یا ٹائم مشین کہ ہم پلک جھپکتے ہی دوسرے جہان کی سیر کو نکل جاتے، لیکن کیمسٹری کے مضمون سے کچھ دوستی نہ ہو پائی، سو اس زہر کو اپنے اندر بس 80 سے 85 فیصد مارکس تک ہی اتار پائے۔ اس زہر سے دوستی نہ ہونے کی بنیادی وجوہات میں اس کے مرکبات کی بدبو کے علاوہ کالج میں زہر کیمسٹری کی طبیبہ (لیکچرار) صاحبہ کا مجھ جیسی "سب کہہ دو" پر عمل پیرا سٹوڈنٹ سے معاندانہ رویہ بھی تھا۔ جنہیں یہ خار تھی کہ میں ٹیوشن کیوں پڑھتی ہوں؟ جبکہ میرے ہی ٹیوشن گروپ میں پڑھنے والی وہ لڑکیاں جنھوں نے معلمہ صاحبہ کو یہ یقین دلا رکھا تھا کہ بس میڈم ہم تو آپ کا لیکچر لیتے ہیں اور گھر جا کر خود پڑھتے ہیں، انہیں معلمہ محترمہ نے سر آنکھوں پر بٹھا رکھا تھا۔ سو ہمارا درست جواب بھی ٹیوشن کے کھاتے جاتا۔ رفتہ رفتہ جب ہم سمجھ گئے کہ معلمہ صاحبہ کو ان کے سوال کے جواب میں سر سے بلند کر کے زور زور سے ہلتا میرا ہاتھ اور میڈم میڈم کی گردان سنائی اور دکھائی دینا بند ہو چکی ہے، تو پھر ہم نے کیمسٹری کے لیکچر میں زبان کے ساتھ ساتھ کانوں کو بھی چپ شاہ کا روزہ رکھوانا شروع کر دیا۔ نہ سوال سنتے تھے نہ جواب دینے کے لیے اتاولے ہوتے تھے۔ پھر ایک روز قدرت کو ہمارے صبر پر ترس آیا۔ اس روز صبح فجر کے وقت سے آسمان برسنا شروع ہوا تو یہ بھول گیا کہ برس کے سفید بھی ہوا جاتا ہے۔ بارش رک نہیں رہی تھی جبکہ داخلے کے پرچے لیے جا رہے تھے۔ کالج سے چھٹی لینا ممکن نہ تھا، ڈرائیور ڈیوٹی پر آ نہ سکا، سو ابا جی نے اپنی شہزادی کو خود کالج ڈراپ کرنے کی ٹھانی۔ ابو آفس جانے کے لیے تیار تھے۔ جیپ میں ابو کے ساتھ پسنجر سیٹ پر شہزادی بارش میں لانگ ڈرائیو کے مزے لے رہی تھی کہ شہر کے مرکزی چوک سے گزرتے اس کی نظر معلمہ علم کیمیا پر پڑی، جو اپنی فائل سر پر تانے سواری کے انتظار میں تھیں۔ شہزادی نے گاڑی روکنے کی درخواست کی۔ اپنی استاد کو ان کے شوہر کے ساتھ بصد احترام کار میں بٹھایا اور کالج تک کا سفر ابو اور معلمہ کے شریک سفر کے ابتدائی تعارف کے دوران خاموشی سے کٹا۔ اس روز کے بعد سے معلمہ کیمیا کو نہ صرف شہزادی کا نام یاد ہوگیا بلکہ شہزادی کی لیاقت بھی رجسٹر ہوگئی۔ خدا جانے اس کی وجہ بارش والے دن کی لفٹ تھی یا ابا جی حضور کا کروایا تعارف، لیکن شہزادی کبھی بھی اپنی معلمہ کیمیا میں در آنے والی کیمیائی تبدیلی کی درست وجہ نہ جان سکی۔

جماعت دھم میں حساب اور بائیولوجی کے درمیان دلچسپ چپقلش رہتی۔ حساب کے فارمولے حل کرتے کرتے پیریڈ کا گھنٹہ بجتے ہی بائیولوجی میں ڈارون کا بندر، مینڈل کے مٹر کی پھلیاں اور مینڈک کا نظام تنفس، سانس لینے لگتے۔ بچپن کا خواب ڈاکٹری تھا لیکن حساب کے فارمولے بوجھنا اچھا لگتا۔ بائیولوجی کی ڈرائینگز روح کے نہاں خانے میں مدفون آرٹسٹ میں زندگی پھونکتے۔ فیصلہ تھا یا تلوار کی دھار، بائیو، انجینیئرنگ یا میڈیکل، آخری نتیجے میں آرٹسٹ کی بنائی ڈرائینگ نے میتھس کے 87 نمبر کے مقابلے میں بائیولوجی میں 88 نمبر دلوا دیے تو آخری قرعہ میڈیکل کے نام نکل آیا۔ محنت عادت تھی اور والد کے خواب کی تعبیر شہزادی کا خواب تھا۔ سو دن رات، دھوپ چھاؤں، بارش برکھا، کچھ پیر کی زنجیر نہ بن پایا اور ایف ایس سی کی شہزادی، کے ای (کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج) کی کوئین بن گئی۔ اس ملکہ کے اندر کا آرٹسٹ آج بھی کبھی نثر میں اور کبھی نظم میں تو کبھی اس کی منتخب کردہ تصاویر و کلام میں جھلکتا ہے تو کبھی سر پر کیپ پہنے منہ پر ماسک لگائے، گلوز زدہ ہاتھوں میں پکڑے نشتر سے انسانی جسم کے کینوس پر تہہ در تہہ اپنی لگائی اسٹروکس میں اپنی نفاست کا اظہار کرتا ہے۔ ایک سرجن بھی مصور ہی ہوتا ہے، بس اس کی بنائی تصاویر چند خاص آنکھیں ہی دیکھ پاتی ہیں۔

سائنس مضامین زہر نہیں آب حیات ہیں، اگر ان سے دوستی کر لی جائے۔ ہر خشک مضمون کو عزم کے پیالے میں ڈال کر اس میں تھوڑی سی محبت گھول لیں، ارتکاز کی ہوائیاں چھڑکیں اور مزیدار زود ہضم مضمون کی ڈش نوش جاں فرمائیں۔ آخر میں ماں کی دعا کا ہاضمہ والا چورن پھانک لیں۔ ان شاءاللہ کوئی مضمون بھی زہر جیسا ری ایکٹ نہیں کرے گا۔ سلامت رہیے

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.