کھانا خود گرم کر لو - محمد عامر خاکوانی

ایک دو دنوں سے کھانا خود گرم کرو کے عنوان سے فیس بک پر پوسٹیں آ رہی تھیں، پوچھنے پر ایک دوست نے وہ تصویر بھیج دی، جس میں ایک خاتون کھانا خود گرم کرو والا پلے کارڑ اٹھائے احتجاجی واک کر رہی ہیں۔

بھائی سچی بات ہے کہ ہم تو وہ تصویر دیکھ کر ہی کانپ گئے۔ کھانا خود گرم کرنا تو خیر اتنی بڑی بات نہیں کہ مائیکروویو اوون کی موجودگی میں چند منٹوں کا تماشا ہے، مگر یہ صرف ایک کام تو نہیں، اللہ خواتین کو اجرعظیم دے، ان کے دم سے گھر کی رونق ہے اور مردوں کی راحت کا تمام تر سامان بھی انھی کا مرہون منت ہے۔ اگرچہ یہ بھی درست ہے کہ ازدواجی زندگی میں تلخی ہو تو زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔ مردوں کے لیے اس سے زیادہ ناخوشگوار اور تکلیف دہ اور کوئی چیز نہیں۔ یقیناً یہی بات بیویوں کے لیے بھی کہی جا سکتی ہے، بدتمیز، تنگ کرنے والا اور ظالم بے حس مرد یقیناً اپنی بیوی کے لئے عذاب بن جاتا ہوگا۔

میں تو اس حوالے سے خوش نصیب ہوں کہ مجھے ایک مثالی بیوی ملی ہے۔ ہم مرد اس کا اعتراف نہیں کرتے،یہ غلطی ہے، اسے ماننا چاہیے۔ گھر کے کام کرنے والی عورت کو گلوریفائی کرنا چاہیے، یہ اس کا حق بنتا ہے۔ اس کے بجائے نہایت بے رحمی بلکہ بے شرمی سے ایک فقرہ کہہ دیا جاتا ہے کہ تم سارا دن گھر میں بیٹھ کر کرتی کیا ہو؟ ایک دن گھر کا کام کرنا پڑ جائے تو چھٹی کا دودھ یاد آ جاتا ہے۔ ہاؤس وائف کا کام کسی بھی طرح سے آٹھ دس گھنٹہ باہر کام کرنے والے مرد سے کم مشکل نہیں۔ گھر بیٹھی عورت کو یہ فائدہ تو ہے کہ درمیان میں اسے چند منٹ کا وقفہ مل جاتا ہے، مگر چھوٹے بچوں کی ماں کو تو وہ بھی نہیں مل پاتا۔ جو عورتیں گھر سنبھالنے کے ساتھ ملازمت بھی کرتی ہیں، وہ تو عبادت کرنے والی جنتی خواتین ہیں۔ مرد کسی بھی طرح ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ باہر ملازمت کرنا اور پھر گھر سنھبالنا، بچوں کی نگہداشت، پھر اپنے مردوں کے ناز نخرے اٹھانا، یہ سب تقاضا کرتے ہے کہ عورت کا احترام کیا جائے، ان کے کردار کو تسلیم کرنے کے ساتھ ان کے ساتھ غیر معمولی محبت کا رویہ اپنایا جائے۔

میں روزانہ رات گیارہ بارہ بجے تک گھر پہنچتا ہوں، کبھی تو ایک ڈیڑھ بھی بج جاتے ہیں۔ میری بیوی ہمیشہ جاگتی ملتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ کھانا ہاٹ پاٹ میں رکھ کر سوجایا کرو۔ مگر اس کا اصرار بلکہ ضد کی حد تک اصرار ہوتا ہے کہ نہیں، میں آپ کو تازہ روٹی بنا کر دوں گی۔ تازہ گرم کھانا کھلانے کے بعد قہوہ بناکر دینا وہ کبھی نہیں بھولتی۔ رات کو تین بجے تک سونے کے بعد صبح سات بجے دھیمی آواز میں الارم کی آواز سے اٹھ کر چھوٹے بیٹے عبداللہ کو تیار کرا کر سکول پہنچا آنا، اس احتیاط کے ساتھ کہ آواز سے میری آنکھ نہ کھلے اور پھر واپس آ کر جو تھوڑی بہت نیند پوری ہو سکے، کرتی ہے۔ ایسی بیوی کی عظمت کے اگر گیت نہ گائے جائے تو یہ پرلے درجے کی بے شرمی ، بے حمیتی اور ناشکری ہوگی۔ جتنے گھروں سےمیں واقف ہوں، کم وبیش ہر جگہ عورت کا اسی طرز کا ایثٓار ، محنت اور خلوص نظر آتا ہے۔ یہ ہم مردوں کی نالائقی ہے کہ پھر بھی گلے شکوے کرتے رہتے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ صرف میاں بیوی کے رشتے کی بات کی ہے، عورت کے دوسرے روپ ماں، بہن ، بیٹی پر تو بات ہی نہیں ہوئی۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.