جامعہ کراچی پر میڈیائی یلغار کیوں؟ چند نکات - ڈاکٹر اُسامہ شفیق

جامعہ کراچی بدقسمتی سے ایک میڈیا چینل کی منفی خبروں کی زینت بنا ہوا ہے. یہ ایک ایسا ایشو ہے جو یقیناً اہمیت کا حامل ہے. یہ ہم سب کے لیے انتہائی حساس معاملہ ہے. ایک استاد پر جنسی ہراسانی کے الزامات یقیناً پہلے بھی لگتے رہے ہیں، لیکن چینلز آنے کے بعد قبل از وقت میڈیا ٹرائل کسی کی بھی زندگی کو تباہ کرنے کا باعث بن سکتا ہے. نیز اس پروپیگنڈے اور اس کے محرکات کو بھی سمجھنا انتہائی ضروری ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم نا دانستہ طور پر کسی کو نقصان پہنچانے کا سبب بنیں.

ایک استاد پر طالبہ نے کچھ عرصے قبل جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات اس وقت عائد کیے، جب اس کے ساتھی طالب علموں کو مذکورہ استاد نے امتحان میں فیل کردیا. ان طلبہ نے پہلے استاد سے پاس کرنے کی درخواست کی. بعد ازاں اسکروٹنی کے لیے درخواست دی. شعبے کے چیئرمین اور ڈین کی جانب سے اسکروٹنی کرنے کے بعد بھی یہی بات سامنے آئی کہ یہ طالب علم درست فیل ہوئے ہیں. اس پر مذکورہ طالبہ نے استاد کو کہا کہ وہ ان طالب علموں کو پاس کردے. استاد کے انکار پر وہ طالبہ جنسی ہراساں کرنے کے الزامات لگانے لگی اور کمیٹی میں درخواست دائر کی. یہ طالبہ پاس آؤٹ ہے. جو گفتگو سامنے آئی ہے، اسے پرھنے کے بعد ہراساں کرنے کا الزام عائد نہیں کیا جاسکتا ہے. البتہ اس پر بات ضرور ہوسکتی ہے کہ ایک استاد کو غیر ضروری گفتگو نہیں کرنی چاہیے.

سندھ یونیورسٹیز ترمیمی بل 2018 کے خلاف صرف جامعہ کراچی سے ہی آواز بلند کی جارہی ہے. اس تحریک کی قیادت اساتذہ کے ہاتھ میں ہے لہذا اس تحریک سے طلباء کو لاتعلق کرنے، اساتذہ اور طلباء کے درمیان خلیج وسیع کرنے کے لیے اس وقت تین ماہ پرانے معاملہ کو ایک چینل کی جانب سے اٹھایا جارہا ہے اور اس سے بڑھ کر مذکورہ چینل نے صحافتی اخلاقیات کی دھجیاں اڑا دی ہیں. ایک جانب ایک استاد کو بنیاد بناکر پوری اساتذہ برادری کو نشانہ بنایا جارہا ہے. افوسناک صورت حال دیکھیے کہ استاد کے لیے بھیڑیے کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے. دوسری جانب جامعہ کراچی پر یہ پہلا میڈیائی حملہ نہیں ہے. کچھ عرصہ قبل بدنام زمانہ راؤ انوار نے بھی جامعہ کراچی کے طلباء کا تعلق داعش سے جوڑنے کی کوشش کی تھی. اس وقت بھی یہ بات ثابت کردی گئی تھی کہ مذکورہ طلباء داعش کے ہیں اور جامعہ میں داعش کا منظم نیٹ ورک موجود ہے. اس کے پس منظر میں جامعہ کراچی کو بدنام کرنا، انتظامیہ کو دباؤ میں لانا اور جامعہ کراچی کی قیمتی اراضی پر راؤ انوار کے ذریعے قبضہ تھا. نہ صرف اس سے جامعہ کراچی محفوظ رہا بلکہ راؤ انوار کے کارنامے بھی لوگوں کے سامنے طشت ازبام ہوئے. اب مذکورہ چینل سندھ یونیورسٹیز ترمیمی بل 2018 سے توجہ ہٹانے کے لیے اس مہم کو چلارہا ہے. ہدف صرف اور صرف جامعہ کراچی ہے. اگر جنسی ہراساں کرنا مسئلہ ہے تو کیوں تمام جامعات کی بات نہیں کی جاتی؟ چینل کی طرف سے چلائی جانے والی مہم دیکھ کر بآسانی نتیجے تک پہنچا جاسکتا ہے.


یاد رکھیں یہ مہم جامعہ کراچی کی مزاحم قوت کو توڑنے کی مہم ہے. گذشتہ ادوار میں سب سے بڑی مزاحم قوت طلباء یونین کو تشدد کا الزام لگاکر مکمل طور پر بند کردیا گیا. اب اساتذہ پر الزامات کی باری ہے اور ان کی مزاحمت کو کچل کر سب کو سونے دینے پر مقتدر قوتوں کا گٹھ جوڑ ہے. جامعہ کراچی کو بدنام کرکے کراچی کے متوسط اور غریب طبقے کو سرکاری جامعات میں آنے سے روکا جائے گا. جامعہ کراچی کا حال بھی سرکاری اسکولوں اور کالجوں جیسا ہوجائے گا. سب طلباء اعلی تعلیم کے لیے بھی نجی جامعات کا رخ کریں گے اور سندھ میں یہ کیوں نہ ھو جبکہ سندھ ایچ ای سی کا سربراہ خود نجی جامعہ کا مالک ھے. اگر سرکاری خزانے سے کسی ایک چینل کو کچھ رقم دے کر جامعہ کراچی کو تباہ کیا جائے تو اس کا لازمی فائدہ حکومت سندھ اور نجی جامعات کو ہی ہوگا.

یہ سازش نہایت رکیک، گھناؤنی ہے اور نتائج کے لحاظ سے دور رس. اس کو ناکام بنانے کے لیے پوری قوت کے ساتھ سندھ یونیورسٹیز ترمیمی بل 2018 کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی. یہ میرے اور آپ کے بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے. یقین مانیں اگر جامعہ کراچی تباہ ہوئی تو اس کا نقصان پورے شہر کا نقصان ہے.

Comments

ڈاکٹر اسامہ شفیق

ڈاکٹر اسامہ شفیق

ڈاکٹر اسامہ شفیق شعبہ ماس کمیونیکیشن جامعہ کراچی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بالکل درست .متوسط طبقہ کے بچوں کا محستقبل جامعہ کراچی کے تحفظ سے وابستہ ہے.اسکے خلاف سازش کو طشت از بام کرنا سارے شہر کی ذمہ داری ہےلیکن اسکی قیمت گسی صورت کسی بے گناہ طالبعلم یا استاد سے بالجبر ادا نہ کرواءی جاءے