جماعت کا نیا انداز- عبدالقادر حسن

سینیٹ کے الیکشن کا مرحلہ بھی بالآخر بغیر کسی بدمزگی کے مکمل ہو گیا ماضی کی طرح سینیٹ الیکشن کے پہلے مرحلے میں سینیٹرز کے انتخاب سے لے کر دوسرے مرحلے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات تک ووٹوں کی خریدو فروخت کا شور و غوغا رہا ، ووٹوں کی خریداری کے الزامات لگائے گئے جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے اعلان کیا ہے کہ ووٹ کی خریداری کی تحقیقات کی جائیں گی۔

اگر دیکھا جائے تو اس خریدو فروخت میں کوئی عام لوگ ملوث نہیں تھے بلکہ یہ اشرافیہ کے الیکشن تھے اور اشرافیہ ہی ایک دوسرے کی خریدار رہی اور بکتی بھی رہی اور اب اشرافیہ سے ہی پوچھا جائے گا کہ ان کو کتنے میں خریدا گیا۔

پہلے مرحلے میں سینیٹرز کی عددی تعداد کے حساب سے مسلم لیگ نواز بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی لیکن دوسرے مرحلے میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے وقت یہ عددی برتری مسلم لیگ نواز اور اس کے اتحادیوں کے کسی کام نہ آسکی اور پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف پر مشتمل مشترکہ اپوزیشن کے متفقہ امیدواروں نے میدان مار لیا جس کو مسلم لیگ اور اس کے اتحادیوں نے بد ترین ہارس ٹریڈنگ قرار دیا بلکہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے حاصل بزنجو نے تو چیئرمین سینیٹ کو ماننے سے ہی انکار کر دیا۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ سینیٹ کے چیئرمین کا انتخاب ہمارے پسماندہ ترین صوبے بلوچستان سے ہوا ہے اور اس میں مرکزی کردار بھی بلوچستان کے سیاسی لیڈروں نے ادا کیا، انھوں نے جناب آصف علی زرداری کو اس بات کے لیے راضی کر لیا کہ وہ پیپلز پارٹی کی چیئرمینی سے دستبردار ہو جائیں کیونکہ صرف اسی صورت میں تحریک انصاف کے ووٹ مشترکہ امیدوار کو مل سکتے تھے اس پر لبیک کہتے ہوئے جناب زرداری نے چھوٹی چیئرمینی پر ہی اکتفا کیا اور تحریک انصاف کے ساتھ مل کر حکمران پارٹی کو شکست سے دوچار کر کے اپنے کئی ماہ پہلے کے اس چیلنج کو سچ ثابت کر دیا کہ چیئرمین سینیٹ حکمران پارٹی سے نہیں ہوگا۔ اس سارے قصے میں سب سے اہم کردار پاکستان تحریک انصاف نے ادا کیا جنہوں نے اپنے تمام ووٹ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جھولی میں ڈال دیے۔

عمران خان آہستہ آہستہ پاکستان کی سیاست کے رنگوں میں اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایک نازک موقع پر پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر سینیٹ کا الیکشن لڑنا ان کے لیے نقصان دہ ہو سکتا تھا لیکن عمران خان نے چھوٹے صوبے سے چیئرمین کا امیدوار لا کر اس متوقع نقصان کا ازالہ کر دیا اور مسلم لیگ نواز کو ایک اور دھکا دینے میں اپنا کردار ادا کیا ۔ عمران خان نے پہلی دفعہ سیاسی بصیرت اور داؤ پیچ استعمال کرتے ہوئے سیاسی کامیابی حاصل کی ہے۔ آیندہ انتخابات میں ان کی پارٹی کا کردار انتہائی اہم ہے لیکن اس کے لیے انھیں جوش کے بجائے ہوش اورعقلمندی سے اپنے کارڈ کھیلنے ہوں گے۔

پاکستانی سیاست ایک مشکل سیاست کا نام ہے ہمارے جماندرو سیاست دان کسی نئے کی مداخلت بالکل برداشت نہیں کرتے اسی لیے عمران خان کی پارٹی کو ہر روز ایک نئے اسکینڈل کا سامنا رہتا ہے ان میں سے کچھ اسکینڈلز کے تو وہ خود ذمے دار ہیں اور باقی ان کے سیاسی مخالفین کا پراپیگنڈہ کہے جا سکتے ہیں۔

مسلم لیگ نواز کی سینیٹ میں شکست نے ان کی مقبولیت میں کمی کی ہے اور نواز لیگ کو جو توقعات تھیں وہ پوری نہیں ہو سکیں۔ ان کا خیال تھا کہ وہ عوام میں جو بیانیہ پیش کر رہے ہیں سینیٹ میں جیت اس پر مہر تصدیق ہو گی لیکن سینیٹ میں نتیجہ ان کے خلاف آیا جس کا گلہ وہ اب اپنی اتحادی پارٹیوں سے کرتے پھر رہے ہیں کہ انھوں نے ان کو ووٹ نہیں دیے ۔

میاں نواز شریف کے اتحادیوں میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے حاصل بزنجو کے علاوہ محمود خان اچکزئی بھی ہیں جو کہ شروع دن سے نواز لیگ کے ساتھ ہیں ان کے سیاسی نظریات کے متعلق سب جانتے ہیں ، وہ بھی اس انتخاب کے بارے میں اپنے شک وشبہ کا اظہار کر رہے ہیں۔

ایک اور حیرت انگیز بات جو سینیٹ کے الیکشن کے دوران دیکھنے میں آئی وہ جماعت اسلامی کا اس الیکشن میں کردار تھا ،انھوں نے آخری لمحات میں نواز لیگ کی حمایت کا اعلان کر کے اپنے چاہنے والے کو حیران و پریشان کر دیا مجھے بھی ابھی تک یہ سمجھ نہیں آرہا کہ کس بنیاد پر اتنا بڑا فیصلہ کیا گیا اور کیا یہ فیصلہ فرد واحد کا تھا یا جماعت کی شوریٰ کی بھی اس فیصلے کو حمایت حاصل تھی۔ جماعت اسلامی ہر محاذ پرموجودہ حکومت کے خلاف ڈٹی ہوئی ہے ۔

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے اتحادی ہیں، پاناما کیس میں وہ نوازشریف کے خلاف کیس میں اہم فریق ہیں ہر روز ان کے امیر کی جانب سے موجودہ حکومت اور نظام پر تنقیدکی جاتی ہے اس سب کے باوجود میری سمجھ سے تو بالاتر ہے کہ وہ کون سے وجوہات تھیں جن کی بنا پر انھوں نے نواز لیگ کا ساتھ دیا۔ آیندہ الیکشن میں بھی نواز لیگ اور جماعت کا اتحاد نظر نہیں آرہا جہاں تک سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بات ہے تو جماعت اسلامی والے اس غلط فہمی سے باہر آجائیں کہ وہ پنجاب اورخاص طور پر لاہورسے کوئی کامیابی حاصل کر سکیں گے ۔

گزشتہ ضمنی الیکشن میں جتنے کم ووٹ جماعت کے امیدوار کو ملے اس سے تو اچھا تھا کہ وہ اپنا امیدوار کھڑا ہی نہ کرتے تا کہ جو بھرم قائم تھا وہی رہ جاتا لیکن جماعت میں شاید اب فیصلوں کا فقدان ہے اور شوریٰ عوام کی نبض پہچان نہیں رہی۔ بہر کیف یہ جماعت کا فیصلہ تھا اس کی اچھائی برائی کے وہ خود ذمے دار ہیں ہم جیسے تو پھر بھی ان کے لیے ہمیشہ خیر ہی مانگتے ہیں اور مانگتے رہیں گے۔

سینیٹ کا اہم مرحلہ تمام ہوااب اگلا مرحلہ عام انتخابات ہیں جو کہ کچھ زیادہ دور نہیں ۔ سیاسی پارٹیاں اپنے جلسے جلوس شروع کر چکی ہیں ،عوام نئے حکمران منتخب کرنے کے انتظار میں ہیں،دیکھتے ہیں عوامی فیصلہ کیا ہوتا ہے، اس کا فیصلہ الیکشن مہم میں ہی نظر آجائے گا جو کہ کچھ زیادہ دور نہیں ۔