ہیٹ کرائم، قانون سازی اور حکومتی غفلت - ثمینہ رشید

مہذب معاشرے کے موجودہ شکل میں آنے کے پیچھے صدیوں کی جدوجہد شامل ہے۔ ریاست کی ابتداء سے تشکیل تک کے کئی مراحل اس میں شامل ہیں ۔ ریاست کو بتدریج ایسے اختیارات سونپے گئے جس کے تحت اس میں رہنے والے لوگوں کے جان و مال اور عزت کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔ اسے چلانے کے لیے ادارے وجود میں آئے، اور ایسے مختلف نظام بنائے گئے جس میں اختیارات کی تقسیم کے ذریعے اداروں کی خودمختاری کے ساتھ ان پر چیک اینڈ بیلنس کو بھی یقینی بنایا گیا۔ ان سب اداروں کا کام ریاست میں امن و امان قائم کرنا، انصاف کی فراہمی، شہریوں کے حقوق کا تحفظ اور ان کے لیے صحت، تعلیم اور روزگار جیسی سہولتوں کی فراہمی کرنا ہے۔

قانون سازی، اس کا صحیح معنوں میں نفاذ اور کسی قانون شکنی کی صورت میں انصاف کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری میں سے ایک ہے۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال میں جب معاشرہ عدم برداشت، مذہبی انتہاپسندی، دہشت گردی اور مختلف اندرونی و بیرونی انتشار کا شکار ہے، ان پیچیدہ مسائل کے پیشِ نظر مختلف طرح کی قانون سازی وقت کا اہم ترین تقاضا ہے تاکہ اگر سخت قوانین کی موجودگی میں انتشار کی فضا پیدا ہونے کے عمل کو مکمل طور پر روکا نہ جاسکے تو کم ضرور کیا جاسکے۔

پچھلے ایک دو عشروں میں مذہبی انتہاپسندی کے پیشِ نظر قانون کو ہاتھ میں لینے کے کئی واقعات سامنے آتے رہے ہیں، اور اب عالم یہ ہے کہ معصوم شہریوں سے زندگی جیسا حق چھین لینا عام ہوتا جا رہا ہے۔ معاشرے میں عدم برداشت کے نتیجے میں ہونے والے جرائم کئی ذمہ داری بظاہر تو جرم سر انجام دینے والے کے سر ڈال دی جاتی ہے، لیکن اس وجہ سے جرم کے اصل ذمہ داران اور مجرم کی ذہن سازی کرنے والے لوگ سزا سے صاف بچ نکلتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ، اس سلسلے میں واضح قوانین کا نہ ہونا ہے۔ یوں تو پوری دنیا میں ہی بدلتے حالات اور بڑھتی دہشت گردی کے واقعات نے کئی ممالک کو اس سلسلے میں سوچنے پر مجبور کیا۔ یورپ اور برطانیہ میں اس حوالے سے کئی سخت قوانین بنائے جا چکے ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ مسلمان اقلیتوں کو ہی ہوا ہے، جن کے خلاف نفرت آمیز جرائم کی شرح میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

دنیا کا کوئی مہذب معاشرہ اپنے شہریوں کے خلاف نفرت پھیلانے جیسے عمل کی حمایت نہیں کرسکتا۔ پاکستان اس مرض کا شکار کافی عشروں سے ہے، مگر اس سلسلے میں قانون سازی کی گئی نہ اب تک سنجیدہ نوعیت کے مباحث ہو سکے ہیں۔ موجودہ حکومت کو اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے اور وہ اپنے پسند کے قوانین کو چند گھنٹوں میں اسمبلی سے پاس کرانے کا ریکارڈ بھی رکھتی ہے، لیکن کئی عوامی نوعیت کے سنجیدہ مسائل پچھلے تقریباً پانچ سالوں میں اس کی توجہ سے محروم رہے ہیں، جیسا کہ نفرت کی وجہ سے جنم لینے والے جرائم۔ پچھلے دو عشروں میں خصوصا ملک میں اس کی شرح بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اشتعال انگیز اور نفرت پھیلانے والے لٹریچر، تقریروں یا ذہن سازی کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانون کا فقدان ہے۔ مشعال خان کا بیہمانہ تشدد کے بعد قتل اس کی ایک بہت بڑی مثال ہے۔ یہی نہیں بلکہ ملک میں موجود اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور مسلکی حوالوں سے نفرت انگریزی پھیلانے سے روکنے کے لیے بھی قانون سازی ہی ایک مؤثر ہتھیار بن سکتا ہے۔

قانون سازی اور اس کا نفاذ اس مسئلے کے ایک پہلو کا احاطہ کرتا ہے۔ حکومت کو اس کے ساتھ مختلف پالیسیز کے ذریعے ان افراد کی ذہن سازی کے حوالے سے بھی کام کرنا پڑے گا جو مذہب اور مسلک کے نام پر نفرت کا پرچار کرکے معاشرے کو انتشار کا شکار بنا رہے ہیں، تاکہ بتدریج اس مسئلے کا جڑ سے خاتمہ کیا جاسکے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں مختلف زبان و کلچر کے ساتھ ساتھ مختلف مذہبی مسالک کے حوالے سے عدم برداشت کا رویہ زور پکڑ رہا ہو، وہاں اس حوالے سے کام ہونا بے حد اہم ہوجاتا ہے۔ موجودہ حکومت نے جب نئے بیانئے کا پرچار کیا اور نہایت اہتمام سے اس کا اعلان کیا گیا تو بہت سے لوگوں کو کئی اور مسائل بشمول نفرت آمیز جرائم کے حوالے سے کسی اچھی پالیسی کا انتظار تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

نیا بیانیہ جو صدر ممنون حسین نے "پیغامِ پاکستان" کے نام سے 16 جنوری کو جاری کیا وہ ایک کتاب پر مشتمل تھا۔ اس کتاب میں 18 سو سے زائد علما کرام کا متفقہ فتویٰ شائع کیا گیا ہے جس میں دہشت گردی، خونریزی اور خود کش حملوں کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک اہم پیش رفت تھی لیکن بہت محدود اور مایوس کن اور اصل مسئلے پر فوکس نہ کرنے جیسی۔ دہشت گردی، خون ریزی اور خود کش حملے نتیجہ ہیں، اس ذہن سازی کا جو نفرت انگیز لٹریچر کے ذریعے کی جاتی ہے اور پھر اس سے متاثر ہونے والے اذہان کو دہشت گردی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

ہم اس بیانیے میں کھڑی فصل کو ختم کرنے کا مطالبہ تو کرتے ہیں لیکن اس فصل کے بیج بونے والے ہاتھوں کو روکنے کے حوالے سے کچھ نہیں کرتے۔ بدقسمتی سے موجودہ حکومت کی مشینری کی زیادہ تر توجہ کا مرکز پارٹی لیڈر شپ یعنی نواز شریف کے پانامہ کیس اور نااہلی کے بعد کے مسائل ہی رہے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر حکومت مؤثر قانون سازی جیسا اہم کام کرچکی ہوتی۔ اس صورت میں اس ملک کی عوام کی طرف نکلنے والے کچھ فرائض کی ادائیگی بھی کرجاتی، یہ بات یقیناً آئندہ الیکشن کے نتائج پر حقیقی معنوں میں اثرانداز ہوسکتی تھی۔ لیکن وقت تیزی سے گزر چکا ہے۔ اور وقت تو ہے ہی بڑا ظالم ہے کہ کسی کا انتظار نہیں کرتا، تاریخ پر اپنے انمٹ نقوش البتہ ضرور چھوڑ جاتا ہے۔

Comments

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ویب سائٹ شاہکار کی چیف ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.