آگ بھڑکانے سے سسٹم نہیں چل پائے گا - محمد عامر خاکوانی

ملک کا سیاسی درجہ حرارت بہت تیزی سے اوپر کی جانب جا رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کے درمیان کشیدگی بڑھی، مگر ان سے کہیں زیادہ تیزی سے کارکنوں کے باہمی تعلقات خراب ہوئے۔ گرماگرمی کے واقعات آئے روز دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ میدان سیاست کی یہ تپش سوشل میڈیا تک آپہنچی۔ یار لوگ ایک دوسرے کو طعنے دینا، تیرچلاناشروع ہوگئے۔ تلخی بڑھ رہی ہے اور وہ وقت دور نہیں جب پرانے دوست ایک دوسرے پر قلم کی تلوار لیے حملہ آور ہوجائیں۔ ایک آدھ بار پہلے بھی ذکر آیا تھا کہ پانامہ کیس کے بعد کی سیاسی تقسیم نے ہماری پرانی فکری صف بندی کو درہم برہم کر دیا ہے۔ ایک نئی قسم کی لکیر کھینچ دی گئی ہے۔ میاں نواز شریف کو پسند کرنے والے ایک طرف اور آنجناب کی طرز سیاست سے بیزار لکیر کی دوسری طرف چلے گئے ہیں۔

ہمارے ہاں پرانی نظریاتی تقسیم رائٹ اور لیفٹ کی ہوا کرتی تھی۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد لیفٹسٹوں میں ایک ایسا انقلاب آیا، جدید تاریخ جس کی دوسری نظیر پیش نہیں کر سکی۔ جو خود کو لیفٹسٹ، مارکسسٹ کہلانے میں فخر محسوس کرتے تھے، یکایک انہوں نے قلابازی کھائی اور ان میں سے کچھ سوشل ڈیموکریٹ بن گئے اور زیادہ تر منڈی کی معیشت (کیپیٹل ازم)کے فوائد گنوانے لگے۔ این جی اوز ان کی دنیاوی رازق اور فارن فنڈنگ سے آنے والا پیسہ رزق بن گیا۔ لیفٹ تو تحلیل ہوگیا، اب رائٹ ونگ کے مذہبی سوچ رکھنے والے لوگوں اور لبرل، سیکولر سکول آف تھاٹ کے مابین نظریاتی کشمکش شروع ہوگئی۔ یہ لڑائی ابھی جاری ہے۔ اس دوران سیاسی تقسیم کے اثرات عجیب انداز میں پیدا ہوئے۔ رائٹ ونگ کے لوگوں میں سے کچھ میاں نواز شریف کو یوں پیارے ہوئے کہ انھوں نے مسلم لیگ ن کی اقتدار کی جنگ کے لیے سیکولر کیمپ سے ہاتھ ملا لیا۔ میاں کے دیوانے رائٹسٹ ہوں یا لبرل اور سیکولر، یہ دونوں حلقے شانہ بشانہ لڑائی کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ دوسری طرف رائٹ کا بڑا حلقہ میاں صاحب کی پروا نڈیا، پرولبرل پالیسیوں سے ناراض ہو کر ان کے مخالف کھڑا ہے۔ لبرل لکھنے والوں کا ایک حصہ بھی میاں نواز شریف کو جنرل ضیاء کی باقیات سمجھتا اور ان کے ماضی کو یاد رکھے ہوئے ہے۔ یہ لوگ میاں صاحب کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ سے متاثر نہیں ہوئے اور اسے نام نہاد بیانیہ قرار دیتے ہیں۔

بات ملک میں بڑھتی سیاسی کشیدگی سے شروع ہوئی تھی۔ اصل میں نظریاتی صف بندی تو تبدیل ہوئی ہے، مگر ماضی کی نسل میں زیادہ پختگی، برداشت اور تحمل تھا۔ وہ ایک دوسرے سے الجھتے بھی تھے، مگر حدود کا خیال رکھتے اور ذاتیات پر اترنے سے گریز کرتے۔ عطااللہ شاہ بخاری جیسے بزرگوں کے نہ صرف ملحد کمیونسٹوں سے سماجی تعلق تھے بلکہ وہ ان کے ہاں مقیم رہتے۔ سید مودودی کے جوش جیسے رند مست شاعر سے دوستانہ تعلقات تھے۔ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ ایک دوسرے سے یہ ڈٹ کر اختلاف کرتے، مگر ذاتی تعلق کو بگڑنے نہیں دیتے تھے۔ آج کے ”شہسوار“ الا ماشااللہ زیادہ بے مروت اور بے لحاظ ہیں۔ برسوں کا تعلق وہ ایک لمحے میں بھلا کر اختلاف کو دشمنی کی منزل تک پہنچا دیتے ہیں۔ اب نیا ٹرینڈ جوتا اچھالنے کا آیا ہے۔ جنرل مشرف کے خلاف بحالی عدلیہ کی تحریک میں کئی ایسے ناخوشگوار واقعات دیکھنے کو ملے۔ احمد رضا قصوری پر کسی نے سیاہ رنگ سپرے کر دیا، وہ وکیل صاحب بعد میں اس قصہ کو فخریہ بیان کرتے۔ سینئر قانون دان اور سیاستدان وسیم سجاد کو کراچی بار میں چائے نہیں پینے دی گئی، نعیم بخاری کے ساتھ بدتمیزی کے ایک سے زائد واقعات ہوئے۔ ڈاکٹر شیر افگن کو لاہور میں وکلاء نے گھیر لیا، بڑی مشکل سے انہیں بچایا گیا۔ بدقسمتی سے ان تمام واقعات پر عدلیہ بحالی تحریک کے حامی خوش ہوتے رہے۔ ان میں مسلم لیگ ن کے وکلا اور کارکن پیش پیش تھے۔ یہ سب غلط تھا، مگر اسے برداشت کیا جاتا رہا۔ تیز سیاسی فقرہ بازی اور بدتمیزی کی حد تک مخالف پر تنقید کا رواج عمران خان نے مستحکم کیا۔ وہ اپنے سیاسی مخالفین کے لیے نہایت سخت جملے استعمال کرتے رہے ہیں۔ ایسے تند وتیز حملے، جن کا کوئی جواز نہیں تھا۔ اگر آج کوئی یہ الزام لگائے کہ عمران خان نے سیاسی ٹمپریچر بڑھایا ہے تو اس کی بات کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ یہ اور بات کہ مسلم لیگ ن والے یہ سب کام اپنے وقت میں کرتے رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی قیادت خاص کر محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف انتہائی گھٹیا کردار کشی کی مہم مسلم لیگی میڈیا سیل نے چلائی۔ میاں نواز شریف کی امیج بلڈنگ کرنے والی اسی میڈیا سیل کے بعض ارکان جو آج سینئر ترین صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں، اب وہ ٹی وی کیمروں کے سامنے بیٹھ کر اخلاقیات کا بھاشن دیتے اور نوجوانوں کو سمجھاتے ہیں کہ سیاسی مخالفین کی عزت کیا کریں۔ ان کا ماضی سب کے سامنے ہے، اسی لیے لفظوں میں تاثیر نہیں رہی۔

یہ بھی پڑھیں:   خان صاحب کا احسان، نیا پاکستان - قادر خان یوسف زئی

پیپلزپارٹی پر کئی حوالوں سے سخت تنقید کی جا سکتی ہے، یہ مگر حقیقت ہے کہ انہیں مسلم لیگیوں کی بدزبانی اور کردار کشی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا میڈیا ٹرائل بھی بہت ہوا۔ صرف ایک مثال لے لیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے حوالے سے ایک فقرہ مشہور ہوا تھا کہ انہوں نے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے آذان کی آواز سن کر تقریر بند کر دی اور کہا کہ وقفہ کر لیں، اذان بج رہا ہے۔ یہ خبر اپنے سکول کالج کے زمانے میں پڑھی اور کوئی دوعشروں تک اس پر یقین کیے رکھا۔ ہم جیسے طالب علم سمجھتے تھے کہ بے نظیر بھٹو مغربی ماحول کی پروردہ ہیں، انہیں شاید اذان دیے جانے اور گانا بجانے کا لفظی فرق معلوم نہیں ہوگا۔ صحافت میں آنے کے بہت بعد میں پتہ چلا کہ وہ سب جھوٹ اور فکشن تھا اور فکشن نگار حسین حقانی تھے، جو ان دنوں میاں نواز شریف کے معتمد ترین ساتھی تھے۔ بڑی ہنرمندی کے ساتھ حسین حقانی اور ان کے دیگر سینئر صحافی ساتھیوں نے ایسی کہانیاں گھڑیں اور یوں انہیں پھیلا دیا کہ اخبار پڑھنے والے سچ ہی سمجھے۔ پیپلزپارٹی والے چیختے چلاتے رہے کہ یہ جھوٹ ہے، مگر کسی نے مان کر نہ دیا۔ کچھ عرصہ پہلے ایک سینئر صحافی نے گپ شپ میں بتایا کہ ضیا دور میں جب پیر پگاڑا مرحوم نے میاں نوازشریف کے خلاف طنزیہ جملے کہنا شروع کیے تو پیر صاحب کا توڑ کرنے کے لیے لاہور کے ایک صاحب کو چنا گیا، ان کے نام کے ساتھ پیر کا لفظ شامل کر کے پیر پگاڑا کے خلاف جوابی بیانات داغے گئے۔ اخبار پڑھنے والوں کو تاثر یہ ملتا کہ ایک پیر دوسرے پیر کے خلاف بیان دے رہا ہے، وہ نہیں جانتے تھے کہ پیر پگاڑا تو حروں کی مشہور گدی کے پیر ہیں، جبکہ یہ لاہوری پیر مسلم لیگی میڈیا سیل کی ایجاد ہیں اور عملی طور پر ان کی حیثیت صفر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان وزیر اعظم تو بن جائیں گے مگر - آصف محمود

لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ ماضی میں یہ سب ہوتا رہا ہے۔ آج کے معصوم اپنے ماضی کو نہ بھولیں۔ جھوٹ آج بھی پھیلایا جاتا ہے اور جرمنی کے مشہور پروپیگنڈہ ماہر گوئبلز کے قول کے مطابق بہت زیادہ جھوٹ بولا جاتا ہے تاکہ لوگ اس پر یقین لے آئیں۔ لیڈر حضرات ایک دوسرے پر زبانی کلامی حملے بھی بہت کر رہے ہیں۔ عمران خان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی قیادت کو نشانہ بناتے ہیں تو مسلم لیگ ن کا گالم گلوچ بریگیڈ (طلال، دانیال، راناثنااللہ ، مریم اورنگزیب، مشاہد اللہ وغیرہ) عمران کو ہدف بناتا ہے جبکہ بلاول بھٹو ن لیگ اور تحریک انصاف دونوں پر تیر برساتے ہیں۔ جوں جوں الیکشن قریب آئے گا، اس تنقید کا سلسلہ بڑھے گا۔ کارکنوں اورووٹروں کو اپنے اعصاب پر قابو پانا چاہیے۔ لیڈر لوگ لڑ جھگڑ کر ایک ہوجاتے ہیں۔ ٹاک شوز میں وہ ایک دوسرے پر جھپٹتے ہیں ، بریک میں ایک دوسرے کو لطیفے سناتے اور ہاتھ پر ہاتھ مار کر قہقہے لگاتے ہیں۔سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو لڑائی نہیں بڑھانی چاہیے۔ اختلاف وہ ضرور کریں، تنقید بھی ڈٹ کر کریں، مگر جوتے اچھالنے اور گالیاں دینے جیسی حرکتوں سے باز رہیں کہ اس سے ایسی آگ لگ سکتی ہے، جس سے پورا سسٹم دھماکے سے اڑ جائے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.