زنگار - ریحان اصغر سید

عامر خاکوانی صاحب کے منتحب کالموں پر مشتمل کتاب ''زنگار'' جب سے شائع ہو کر مارکیٹ میں آئی ہے، ہم اس انتظار میں تھے کہ کہیں سے تحفے میں یا مفت ہاتھ لگے تو ہم بھی پڑھنے کی سعادت حاصل کر لیں۔ کتابوں کے بارے میں ہم نے اپنے لیے دو اصول وضح کر رکھے ہیں جس پر ہم سختی سی کار بند رہتے ہیں۔
نمبر ایک: کسی بھی ایسے مصنف کی کتاب خرید کر نہیں پڑھنی جس سے ہمیں دلی لگاؤ ہو، کیونکہ محبت کے تعلق میں جہاں پیسے کا معاملہ آ جائے وہاں تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ آپ کتاب کے مواد کو ادا کی گئی رقم کے ترازو میں رکھ کر تولتے رہتے ہیں۔ جس سے مصنف اور قاری میں شکر رنجی اور کدورت پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے دوستی اور محبت کو تجارت کی نظر ہونے سے بچایا جائے۔
اور دوسرا اصول یہ ہے کہ کسی ایسے مصنف کی کتاب بھی خرید کر نہ پڑھی جائے جس سے آپ کو کسی قسم کا قلبی تعلق محسوس نہ ہوتا ہو۔

اگرچہ زنگار چھپنے کے بعد برادر مکرم اشفاق بھائی نے ہم کو تسلی دی تھی کہ عامر بھائی کی کتاب کی دستخط شدہ کاپی دلوا دوں گا لیکن ہمیں اشفاق بھائی کی اس بات پر اتنا ہی اعتبار تھا جتنا دنیا ہماری دہشت گردوں کے خلاف کیے گئے اقدامات کے دعووں کے بارے میں کرتی ہے۔ اگرچہ کم لیکن معجزے اور کرامات ابھی بھی وقوع پذیر ہوتے ہیں، اس لیے ''زنگار'' بھی اشفاق بھائی کی وساطت سے ہم تک پہنچ ہی گئی۔

زنگار میں ہم نے جو پہلی چیز نوٹ کی، وہ کتاب میں بُک مارک کے دھاگے کا نہ ہونا تھا۔ یہ چیز دیکھ کر ہم فاضل مصنف اور پبلشر کی دوراندیشی کے قائل ہو گئے۔ بجا طور پر یہ ایسی کتاب ہے جس کو شروع کرنے کے بعد قاری ختم کیے بغیر رکھ نہیں پاتا، اس لیے اس میں بک مارک رکھنا وقت اور وسائل کی بربادی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ کتاب کی ورق گردانی کے دوران جو پہلا کالم پڑھا، وہ دس بارہ سال پرانا تھا، اس میں لفظ انٹیجنیسا کا مانوس لفظ دیکھ کر مزاج پر عجیب روحانی مسرت سی طاری ہو گئی۔

کتاب کے شروع میں عامر بھائی نے اپنا تفصیلی تعارف پیش کیا ہے۔ اپنے صحافتی کیرئیر کے آغاز میں پیش آنے والی مشکلات، اور اپنی تحریر کے سفر کی روداد بھی لکھی ہے۔ جو دلچسپ ہونے کے علاوہ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ کامیابی کے زینے پر پہنچنے کے بعد بھی عامر بھائی اپنے محسنوں کو بھولے نہیں اور فردا فردا ہر کسی کا اس میں ذکر کیا ہے۔

زنگار کئی حوالوں سے ایک مخلتف کتاب ہے۔ ہمارے ملک میں عامر بھائی کے علاوہ بہت کم اخبار نویس ایسے ہیں جو توازن اور اعتدال سے لکھتے ہیں اور جن کی تحریروں سے امید کی روشنی پھوٹتی محسوس ہوتی ہے۔ مجھے زنگار مجموعی طور پر ایک موٹیوشنل کتاب لگی ہے۔ جو انسان اور معاشرے کو مخالف حالات کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہونے کی ہمت اور حوصلہ عطا کرتی ہے۔ اس کتاب میں کئی کالم ایسے ہیں جنھیں پڑھنے کے بعد انسان اپنے اندر ریڈ بُل انرجی ڈرنک پینے کے بعد والی انرجی محسوس کرتا ہے۔ کتاب کے مصنف چونکہ خود روایت پسند، مذہبی ذوق رکھنے والے اور اپنے معاشرے کی اقدار کے معاملے میں حساس ہیں، اس لیے یہی چیز مجموعی طور پر کتاب میں بھی نظر آتی ہے۔ بیشتر کالم پڑھ کے آپ جانتے ہیں کہ گویا یہی میرے دل کی آواز تھی، جسے مصنف نے بڑے خوبصورت الفاظ کا لبادہ پہنا کے اور قوی دلائل سے مزین کر کے میرے سامنے پیش کر دیا ہے۔ کتاب کا انداز تحریر، الفاظ کا چناؤ بہت سلیس، سادہ اور رواں ہے۔ اس لیے جو لوگ مطالعے کے عادی نہیں، ان کے لیے بھی یہ کتاب پڑھنا بہت آسان ہے۔ میرا خیال ہے خاص طور پر نوجوانوں کے لیے یہ کتاب انتہائی مفید ہے اور انھیں ضرور پڑھنی چاہیے۔