میرا سراج لالا - زبیر منصوری

میرا سراج لالا!
اسے منافق کہاگیا، وہ پلٹ کر کچھ نہیں بولا۔
اس کے کارٹون بنائے گئے، وہ مسکرایا اور صرف نظر کر لیا۔
اسے کہا گیا کہ وہ ِبک گیا ہے، اس نے ایک نظر اپنے معمولی لائف اسٹائل پر ڈالی، مسکرایا اور پلٹ کر نہ دیکھا۔
اسے کہا گیا کہ وہ سینیٹر ہماری وجہ سے بنا، اس نے پلٹ کر اپنے ان تین ساتھی سنیٹرز کی طرف دیکھا، جنھیں اس کے ووٹوں نے سینیٹ کی سیڑھیاں چڑھنے کا موقع دیا تھا، اور آگے بڑھ گیا۔
اس کی سادگی کو ڈرامہ قرار دیاگیا اس نے اپنے گھر اور حالات پر ایک نظر ڈالی، وہ پھر حسب معمول مسکرایا اور خاموش رہا۔
اسے اصولوں کا فالودہ بنا دینے والوں نے سختی، بد اخلاقی اور درشتگی سے بے اصول کہا، اس نے مسکرا کر جواب دیا کہ مگر میں نے تو پہلا نام رضا ربانی کا تجویز کیا، اصرار کیا، سب کو دعوت دی، میں تو ممنون کے مقابل آپ کے وجیہہ کے ساتھ کھڑا ہو گیا تھا۔ میں نے کچھ مانگے بغیر چوہدری سرور کو سینیٹ بھجوایا، اور اپنے اسی اصول کے تحت اگر میں نے موجود امیدواروں میں سے سب سے زیادہ وضع دار اور شریف آدمی ظفر الحق کو سپورٹ کر دیا تو آپ کی نظر میں قابل گردن زدنی ٹھہرا؟

لوگ بھول گئے۔
وہ چاہتا تو پیشکش قبول کرکے برسوں پہلے وزیراعلی بن جاتا، جب مگر اس نے کہا کہ نہیں تحریک انصاف کے پاس اکثریت ہے، حکومت اس کا حق ہے، اور پھر اس لالا نے برسوں عہد نبھایا، جس کے صرف سر ہلا دینے سے اقتدار اختتام کو پہنچ جاتا۔


وہ لالا آج بھی ”میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے“ کا علمبردار بنا ہوا ہے۔ وہ آج بھی کارکنوں سے کہتا ہے کہ تلخ ترش جواب نہ دو، چاہے کسی کو خود مجھے گالی دیتا ہوا بھی پاؤ تو درگزر کر دو، معاف کر دو۔ اس لیے کہ مرشد مودودی رح کا وہ فرمانبردار شاگرد سمجھتا ہے کہ مذاق کا جواب مذاق اڑانے سے دے کر، اور توہین و تضحیک اور الزامات اور دوسرے کو لاجواب کر دینے سے دل نہیں جیتے جاتے، دلوں کی تو محبت فاتح عالم ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عالمی یوم حجاب اور پاکستان - میر افسر امان

لالا جانتا ہے کہ رابطہ چاہے کچے دھاگے کا ہی ہو، خیر لاتا ہے، خیر خواہی چاہے زبانی ہی ہو دل کو نرم کرتی ہے۔
لالا جانتا ہے کہ یہ سب لوگ، اس قوم کے لوگ، اس امت کے لوگ، ہمارے بھائی ہیں، ہمارے جیسے ہیں، ہمیں عزیز ہیں۔ اور دعوت کہتی ہے کہ گالی کا جواب نرمی اور محبت سے دیا جائے تب ہی بات کرنے، بات سننے اور بات کے دلوں تک گھر کرنے کے راستے بنتے ہیں۔

سراج لالا!
آپ کے کارکن نظریاتی کارکن ہیں۔
لالا! یہ آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔ یہ اپنی بات پیش کریں گے تو سلیقہ، دلیل، اچھی زبان، نرمی اور خیر خواہی ان کے ہتھیار ہوں گے۔ یہ آپ کے میمنہ اور میسرہ میں لڑیں گے، کیونکہ انہوں نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی آخری سانس تک جدوجہد کی بیعت جو کر رکھی ہے۔

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.