تم موٹے کیوں ہو؟ بشارت حمید

دنیا میں ہر پیدا ہونے والا بچہ یا بچی دوسرے اربوں‌ انسانوں سے منفرد خصوصیات اور عادات کا حامل ہوتا ہے جو اس کی اپنی شخصیت کا تعارف ہوتی ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہر ایک کے فنگر پرنٹس دوسروں سے الگ ہوتے ہیں تو پھر یہ کیوں‌ نہیں مانتے کہ ہر ایک اپنی ذات میں انوکھا ہے۔ کوئی پتلا ہے یا موٹا ہے تو وہ بائی چوائس ایسا پیدا نہیں ہوا، کوئی خوبصورت ہے یا بدصورت تو اس میں بھی اس کی نہ اپنی مرضی شامل ہے اور نہ ہی کوئی کمال۔ یہ تو خالق نے جیسا پیدا کرنا چاہا ویسا کر دیا۔ ہمارے معاشرے میں کسی کا اوور ویٹ ہونا ایک طنز اور گالی بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ کہ اگر کوئی موٹا ہے تو کیا اس کا جی نہیں چاہتا کہ وہ بھی دوسروں کی طرح سمارٹ نظر آئے، اور ہر چیز اسی طرح کھائے جیسے دوسرے لوگ کھاتے ہیں اور ان کا ایک چھٹانک وزن بھی نہیں‌ بڑھتا۔

کچھ لوگ بائی برتھ زیادہ وزن والے پیدا ہوتے ہیں اور پھر ساری زندگی اس وزن سے جان نہیں چھڑا پاتے۔ اگر سخت قسم کی ڈائٹنگ اور ورزش کر کے کم کر بھی لیں تو کچھ عرصے بعد پھر اسی پوزیشن پر پہنچ جاتے ہیں۔ اوپر سے معاشرے کے طنز اور طعنے ان کو نفسیاتی مسائل کا شکار بنا دیتے ہیں۔ یہ اپنی صلاحیتوں کا درست اظہار نہیں کر پاتے۔ اپنے زیادہ وزن کی وجہ سے دل ہی دل میں شرمندگی سی محسوس کرتے رہتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ زیادہ کھانے والا ہر بندہ موٹا نہیں ہوتا۔ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو روزانہ دو تین پراٹھوں‌کے ساتھ ناشتہ کرتے ہیں دوپہر اور رات کو بھی تین تین روٹیاں کھا لیتے ہیں، اس کے ساتھ نہ کوئی ورزش نہ واک لیکن سلم سمارٹ ہی رہتے ہیں۔ اور دوسرے طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو کبھی بھولے سے چکنائی والی ایک چیز ہی کھا لیں تو اسی دن ایک کلو وزن بڑھا ہوا محسوس ہونے لگتا ہے۔

ہر ایک کی فزیک دوسروں سے مختلف ہے، ہر ایک کا جسم دوسروں سے مختلف بناوٹ رکھتا ہے تو پھر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ اگر کسی کا وزن اکثر انسانوں کی نسبت زیادہ ہے تو یہ بھی اس کی مختلف خصوصیت ہے۔ جو سلم سمارٹ لوگ بھاری جسم والے لوگوں کو وزن کم کرنے کے مشورے مفت میں دیتے ہیں وہ ذرا یہ بھی بتائیں کہ ان کا وزن اگر کم ہے تو اس کو کم رکھنے کے لئے وہ خود کیا کوشش کرتے ہیں۔۔۔ آپکو اکثر لوگ ایسے ملیں گے جو کبھی واک پر بھی نہیں نکلے ہوں گے اور ہر کھانا رج کے کھاتے ہیں لیکن پھر بھی پتلے سوکھے ہی رہتے ہیں۔ اسی طرح ایک گھر میں ایک ہی ماں باپ کی اولاد میں کوئی پراٹھے بھی کھائے تو سلم رہے اور کوئی آئل کے ڈبے سے چھو کر بھی گزر جائے تو کلو وزن بڑھ جائے اس میں اس بندے کا کیا قصور کہ اس کی زندگی طعنوں سے اجیرن کر دی جائے۔

یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ میں موٹاپے کی حمایت یا وکالت نہیں کر رہا بلکہ اپنی آپ بیتی شیئر کر رہا ہوں کہ وزن کم کرنا اور پھر اس کو برقرار رکھنا اتنا آسان نہیں جتنا عام لوگ سمجھتے ہیں۔ جو لوگ جینیاتی مسائل کا شکار ہیں وہ جتنا بھی زور لگا لیں وزن کم کر ہی نہیں پاتے اور اگرخوش قسمتی سے کچھ کم ہو بھی جائے تو بہت جلدی واپس حاصل کر لیتے ہیں۔

قصہ مختصر یہ کہ موٹاپا ایک بیماری ہے، اور بیمار بندے کو بیماری کے طعنے نہیں دیے جاتے نہ ہی اس پر طنز کے تیر برسائے جاتے ہیں بلکہ بیماری سے لڑنے میں اس کی مدد کی جاتی ہے۔ اگر آپ کے اردگرد بھی ایسے لوگ ہیں تو ان کا مذاق اڑانے کے بجائے وزن کم کرنے کے لیے ان کی نفسیاتی کونسلنگ کریں تاکہ وہ بھی اپنے آپ میں اعتماد محسوس کریں اور جس حد تک ممکن ہو سکے، اپنا وزن مناسب درجے پر لا سکیں۔ اور اگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو پائیں تو بھی انکو سکون سے جینے کا حق دیا جائے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.