بابائے عمرانیات ابو زید عبدالرحمن ابن خلدون - محمد فہد حارث

ابن خلدون 732 ہجری میں تیونس میں پیدا ہونے والا وہ عظیم مفکر اور ماہر عمرانیات ہے جس کے ذکر کے بغیر عمرانیات اور معاشرت کی بحث ہمیشہ نامکمل رہتی ہے۔ ابن خلدون وہ پہلا آدمی ہے جس نے فلسفہ، تاریخ اور معاشروں کے مطالعہ کے بنیادی اصول متعین کیے اور معاشرتی مطالعہ کو ایک مستقل علم قرار دیا۔ آج معاشروں سے متعلق جتنے مباحث مغربی مفکرین کے ہاں ملتے ہیں، ان کی جڑیں ابن خلدون کے افکار سے ماخوذ ہیں۔ 1798 عیسوی میں پیدا ہونے والا فراسیسی فلسفی اگسٹ کومٹے ہو یا انقلابی عمرانی ماہر کارل مارکس جو کہ 1818ء میں پیدا ہوا، 1820ء عیسوی میں پیدا ہونے والا انگریز مفکر ہربرٹ اسپنسر ہو یا 1856 عیسوی میں پیدا ہونے والا جرمن مفکر جارج سمل ہو، 1863 عیسوی میں پیدا ہونے والا امریکی جارج ہربرٹ میڈ ہو یا پھر مشہور سوشیولوجسٹ ایمل درخائم (1858 عیسوی)، ان سب کے عمرانی افکار پر 1332 عیسوی میں پیدا ہونے والے ابن خلدون کے افکار و نظریات کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔

مغربی تہذیب کی ساری علمی اٹھان مسلم علمی روایت کی مرہون منت ہے جن کا بنیادی ماخذ مسلم اندلس کے تعلیمی ادارے تھے، لیکن صد افسوس کہ مغرب نے اس علمی روایت سے استفادہ کرکے اسے بالکل نظرانداز کردیا۔ تاہم ابن خلدون کو نظرانداز کرنا آسان نہیں تھا۔ بالآخر مغرب میں ابن خلدون کے نظریات کو فروغ ملا اور اس پر مطالعات کیے گیے۔ مشہور جرمن ماہر عمرانیات گم پلویٹس کے نزدیک ابن خلدون کلاسیکل سوشولوجیسٹ یعنی متقدم ماہرین عمرانیات کا پیش رو ہے۔ پروفیسر سوروکن کے خیال میں ابن خلدون اپنے نظریات و تحقیقات کے لحاظ سے اپنے عہد سے کہیں آگے تھا۔ جن افکار کو وہ 1350 عیسوی کے دوران زیر بحث لایا، مغربی مفکرین وہاں 500 سال کے بعد پہنچ سکے۔ اسی وجہ سے پروفیسر سوروکن کو اعتراف کرنا پڑا کہ فلسفہ تاریخ اور معاشرتی ارتقاء پر اس کے نظریات اولین حیثیت رکھتے ہیں۔ سترھویں صدی عیسوی میں ابن خلدون کے بارے میں مغرب میں تحریریں آنا شروع ہوئیں اور آہستہ آہستہ محققین نے ابن خلدون کو سمجھنا شروع کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   چار دیواری اور عقیدۂ پراگریس - انس اسلام

ابن خلدون وہ شخص ہے جس نے علم العمران کی اصطلاح استعمال کی، جو بعد میں سوشو لوجی Sociology کے طور پر مشہور ہوئی۔ یہ ابن خلدون ہی تھا، جس نے عصبیت کی اصطلاح استعمال کی جو جدید عمرانیات میں Solidarity کے طور پر اختیار کی گئی۔ درخائم اور دوسرے ماہرین عمرانیات نے اس پر اپنے نظریات کا تانا بانا بنا ہے۔ ابن خلدون پہلا مفکر ہے جس نے ابتدائی، متحرک، دیہی اور شہری معاشروں کے تعلقات کی تحریک کو دریافت کیا۔ افسوس کہ اگسٹ کومٹے سے لیکر جارج سمل تک اور کارل مارکس سے لیکر ٹیلکاٹ پارسن تک سب نے متحرک معاشروں کی بات کی لیکن کہیں بھی ابن خلدون کا ذکر تک نہیں کیا، گویا جان بوجھ کر ان علمی بنیادوں کاذکر ہی نہیں کرتے جس سے ان کی فکر ماخوذ ہے۔

جہاں تک مسلم علماء و مفکرین کی بات رہی تو جدید دور میں روایت پرست طبقہ نے ابن خلدون جیسے عبقری مفکر کو صرف ایک مورخ بنا کر پیش کیا، تاہم ہر وہ عالم جس نے اسلامی بنیادوں پر اٹھنے والے معاشروں کی بابت بات کی، اس نے ابن خلدون کی اصل حیثیت کو واضح کیا، جیسے جناب احمد شاکر، ڈاکٹر محمود احمد غازی، ڈاکٹر خالد علوی، فواد الباقی وغیرہم۔

Comments

محمد فہد حارث

محمد فہد حارث

محمد فہد حارث پیشے کے اعتبار سے ٹیلی کام انجینئر ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر ہیں۔ دینی علوم سے دلچسپی ہے۔ حدیث، فقہ، تاریخ اور فلسفہ اسلامی پسندیدہ موضوعات ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.