حرمتِ مؤمن - در صدف ایمان

کوئی نئی بات تو ہے نہیں، ہر چند ماہ بعد کسی نہ کسی ملک میں مظلوم مسلمان ہوتے ہیں، اور دشمنان مسلم، اب چاہے وجہ کوئی بھی ہو، سیاسی فکری، اقتصادی، اعتقادی، مفادی، تختہ مشق مسلمان ہی ہوتا ہے، اور بدقسمتی سے دشمنان اسلام و امت مسلمہ کے ساتھ ہاتھ کچھ کلمہ گو اور نام کے مسلمانوں کا بھی ہوتا ہے۔ کاش بےدریغ قتل کرنے والوں کو معلوم ہو کہ اﷲ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک مؤمن کے جسم و جان اور عزت و آبرو کی کیا اہمیت ہے؟ وہ جان سکتے کہ مؤمن کی حرمت کیا ہے؟ ایک مؤمن کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا؟ حرمت مؤمن کو کعبہ سے بھی بڑھ کر بیان کیا۔

کاش اس دنیوی عیش و عشرت و سکون و حکمرانی کے لیے مدد کرنے والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان یاد ہوتا:
مَنْ أَعَانَ عَلَی قَتْلِ مُؤْمِنٍ بِشَطْرِ کَلِمَةٍ، لَقِيَ اﷲَ عزوجل مَکْتُوْبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ : آيِسٌ مِنْ رَحْمَةِ اﷲِ.(. ابن ماجه، السنن)
’’جس شخص نے چند کلمات کے ذریعہ بھی کسی مؤمن کے قتل میں کسی کی مدد کی تو وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ اس کی آنکھوں کے درمیان پیشانی پر لکھا ہوگا، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس شخص۔‘‘

اس حدیث مبارکہ میں واضح و صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ مدد کرنا کیا ہے؟ مقام افسوس ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں وہ کیا قرار دیا جائے گا، یا پھر شاید انھیں اس بات سے غرض ہی نہیں کہ حرمت مؤمن، حرمت اسلام ہے کیا؟

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا: (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مؤمن کے جان و مال کی حرمت اﷲ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے، اور ہمیں مؤمن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہیے۔‘‘ (ابن ماجہ، السنن، کتاب الفتن)

یہ بھی پڑھیں:   امتِ مسلمہ کی زبوں حالی - مفتی منیب الرحمن

کعبہ وہ مقام جہاں جانے کے لیے لوگ پوری پوری زندگی انتظار کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں، دعا کرتے ہیں، اس مقام سے، اس بیت اللہ سے بڑھ کر ایک مؤمن کی حرمت قرار دی گئی، مگر مقام افسوس کہ وقتی و ذاتی مفاد نے آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔ آج پانی کی خون بہایا جا رہا ہے، ہتھیار نہیں ہتھیاروں سے حملہ کیا جارہا ہے، ایک وجود کے کئی ٹکڑے کیے جا رہے ہیں، مگر فرمان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھنا بھول گئے، جس میں فرمایا گیا:
''تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے، تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ کو ڈگمگا دے اور وہ (قتلِ ناحق کے نتیجے میں) جہنم کے گڑھے میں جا گرے۔'' (صحیح مسلم)

ایک اور حدیث مبارکہ میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
نَهَی رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَنْ يُتَعَاطَی السَّيْفُ مَسْلُولًا
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ننگی تلوار لینے دینے سے منع فرمایا۔‘‘

ایک بنا نیام کی تلوار لینے دینے سے منع فرمانا کہ مبادا کوئی نقصان پہنچ جائے، اس کے مقابلے میں آتشزدگی ،فولادی ہتھیاروں سے حملہ کرنا کہیں زیادہ بڑا گناہ و ظلم ہے۔

کسی انسانی جان کی قدر و قیمت اور حرمت کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے بغیر کسی وجہ کے ایک فرد کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیاہے۔ اﷲ عزوجل نے تکریم انسانیت کے حوالے سے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا :
مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا (المائدة، 5 : 32)
’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   امتِ مسلمہ کی زبوں حالی - مفتی منیب الرحمن

اس آیت کریمہ سے کسی انسانی جان کی قدر و قیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نہ چھوٹا بڑا، بوڑھا جوان، مسلم غیر مسلم، ہر جان اہم ہے۔ پھر نہ جانے کیوں اتنا خون بہایا جارہا ہے؟ لہو اتنا سستا کیوں کردیا گیا؟ کبھی برما، کبھی فلسطین، کبھی غزہ، کبھی شام، کبھی کشمیر، کب ہوگا یہ سلسلہ بند؟ کیا اقتدار والوں کا فرض نہیں بنتا کہ اس ظلم عظیم کے خلاف آواز بلند کریں، اور اس کی روک تھام کےلیے اقدامات کریں۔

Comments

در صدف ایمان

در صدف ایمان

در صدف ایمان الایمان اسلامک اکیڈمی کراچی کی ڈائریکٹر ہیں۔ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں