اسلامک بینکنگ سے مضاربہ بینکنگ تک - حافظ محمد زبیر

اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ہمیں اسلامی بینکاری سے مضاربہ بینکاری کے ماڈل کی طرف قدم بڑھانا چاہیے۔ مروجہ اسلامی بینکاری کے بارے میں یہ واضح کر چکا ہوں کہ یہ میری رائے میں کوئی 10 فی صد اسلامی ہوگی۔ وہی کار لینزنگ، ہوم فنانسنگ وغیرہ جو کنوینشنل بینکنگ میں ہو رہی تھی، اسی ماڈل کی ڈینٹنگ پینٹنگ کر کے اسے اسلامک بینکنگ کے نام سے رائج کر دیا گیا۔

اگر ہم واقعی میں اسلامک بینکنگ چاہتے ہیں تو ہمیں کنوینشنل بینکنگ کی پراڈکٹس اور ماڈلز کی ڈینٹنگ پیٹنگ کے بجائے تخلیقی اور کریئیٹو کام کرتے ہوئے نئے ماڈلز متعارف کروانے ہوں گے کہ جن میں کنوینشنل بینکنگ کی جھلک تک نہ ہو۔ فی الحال جو کرنے کا کام ہے، وہ اسلامک بینکنگ سے مضاربہ بینکنگ کی طرف بڑھنے کا کام ہے۔ اور یہ کام مروجہ اسلامی بینک اور ان سے منسلک شریعہ ایڈوائزر کرنے والے نہیں ہیں کہ میں ان میں سے بعض کے نمائندوں کے ساتھ کھپائی کر چکا ہوں۔ شاید یہ کچھ نئے افراد کے کرنے کا کام ہے۔

مضاربہ بینکنگ سے مراد یہ ہے کہ مروجہ اسلامک بینکنگ کے ماڈل کو حیلوں اور چالاکیوں (tricks) سے نکال کر واقعی میں بزنس اور تجارت کے رستے پر ڈال دیا جائے اور یہی بزنس ایکٹوٹی آہستہ آہستہ اتنی زیادہ بڑھ جائے کہ مضاربہ بینک، بینک نہ رہے بلکہ مضاربہ کمپنی بن جائے۔ ابھی ان بینکوں سے یہ تقاضا کرنا مشکل ہے کہ یہ کسی نئے مضاربہ بیسڈ ماڈل کو اپنی بینکاری کی بنیاد بنائیں اور کنوینشنل بینکنگ کے ماڈلز کی ڈینٹنگ پینٹنگ سے باز آ جائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اتنا بڑا رسک نہیں لیں گے اور نہ لینا چاہتے ہیں۔

فی الحال ان اسلامی بینکوں کو یہ تجویز کیا جا سکتا ہے کہ انہی کے ماڈلز میں کچھ بنیادی تبدیلیوں کے ساتھ اسلامک بینکنگ کو واقعی میں تجارت اور بزنس بنایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ہوم فنانسنگ میں اسلامی بینک یہ کام کرے کہ سوسائیٹیز ڈویلپ کرے جیسا کہ ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن ڈویلپ کیا ہے۔ تو بینک ہاؤسنگ اسکیم بنانے کے لیے جگہ خریدے، اسے ڈویلپ کرے، پلاٹنگ کر کے انسٹالمنٹس پر فروخت کرے یا گھر بنا کر فروخت کرے تو حرج نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو ایسی ہوم فنانسنگ پر اعتراض ہوگا۔

تو مضاربہ بینکنگ کی غرض سے اس قسم کی پراڈکٹس ڈویلپ کرنے کے لیے اہل علم کی ایک "مضابہ بینکنگ ریویو کمیٹی" ہونی چاہیے۔ یہ کمیٹی مضاربہ پراڈکٹس کے ابتدائی ڈرافٹس تیار کر کے اسلامی بینکوں کو تجویز کرے اور اگر وہ اسے لاگو کرنے پر تیار نہ ہوں تو سوسائٹی میں دینی ذہن رکھنے والے انویسٹرز کو اس کے لیے موٹیویٹ کیا جائے، اگرچہ اس میں کچھ قانونی رکاوٹیں ہیں لیکن مضاربہ کمیٹی کے قیام کا یہی مقصد ہو کہ وہ اس کے جمیع پہلووں کا جائزہ لے کر اس کی رکاوٹوں کو ایڈریس کرتے ہوئے کوئی لائحہ عمل پیش کرے۔

"مضاربہ بینکنگ ریویو کمیٹی" کے لیے جو نام اس وقت ذہن میں ہیں، ان میں ڈاکٹر زاہد صدیق مغل صاحب، ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب، حافظ عمار خان ناصر صاحب، حامد کمال الدین صاحب، حافظ عاطف وحید صاحب ہیں، بلکہ خود راقم بھی اس کام کے لیے حاضر ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس کے لیے کنوینیئر کون بنے؟ شاید زاہد صدیق مغل صاحب بہترین آپشن ہیں کہ وہ ایک واٹس ایپ گروپ بنا کر اس مجوزہ کمیٹی کے کسی اجلاس کے امکان کے بارے مجوزہ افراد سے رائے لے لیں کہ اسلام آباد میں ہو جائے یا لاہور میں کسی جگہ جیسا کہ قرآن اکیڈمی میں بھی ہو سکتا ہے۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.