ماں دیوتا یا انسان - ڈاکٹر عزیزہ انجم

بات روایت سے ہٹ کر نئے انداز میں کی جائے تو چونکا دیتی ہے۔ سننے والوں کی توجہ اپنی جانب کرتی ہے۔ سماعتوں کو بھلی لگتی ہے۔

ہندوستان کے مشہور شاعر جاوید اختر خوبصورت گفتگو کا فن جانتے ہیں۔ حال ہی میں فیس بک پر ان کی ماں کے حوالے سے گفتگو کی ویڈیو سننے کو ملی جو لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے سنی۔ انٹلیکچوئل گفتگو اور مباحث کا رواج افسوس ہے کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہندوستان میں ریختہ خوبصورت مجالس سجا رہی ہے لیکن پاکستان میں غالباً کوئی ایسا بڑا فورم نہیں۔ بھلا ہو سوشل میڈیا کا کہ ایسی ویب سائٹس آئیں اور اظہارِ خیال اور تبادلۂ فکر کی محفلیں جمیں اور بلاگز کی صورت گفت و شنید کا ذریعہ بنیں۔

ماں برصغیر کی معاشرت اور روایت میں انوکھے کردار کی حامل ہے۔ برصغیر کی ہر بیوی کو گلہ رہا ہے کہ اس کا میاں اپنی ماں کے تصوراتی پیکر کو سمائے اس سے دور رہتا ہے اور اس کی عقیدت و محبت کا مرکز ساری زندگی اس کی ماں رہتی ہے۔

جاوید اختر نے کہا پانچ ہزار سال سے برصغیر میں دال کا معیار گر رہا ہے کیونکہ ماں سے اچھی دال بیوی پکا ہی نہیں سکتی۔ ذاتی سی بات ہے لیکن میرے میاں کو بھی اپنی اماں کے ہاتھ کے کوفتے اور مچھلی جتنی اچھی لگتی رہی، اس سرور اور لطف کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن جاوید اختر صاحب بدلتے وقت کے ہاتھوں یہ حادثہ بھی ہوا ہے کہ آج کی نسل کو پیزا اور برگر پسند ہے، ماں کے ہاتھ کی دال نہیں۔

برصغیر کی روایتوں کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ خالص اسلامی تصور اور اسلامی تعلیمات کے مطابق بھی نہیں۔ دو مختلف عقائد اور نظریات کی حامل قومیں صدیوں ساتھ رہیں اور دونوں نے ایک دوسرے کے اثرات قبول اور جذب کیے۔ اسلام کو نہ وہ پتی ورتا بیوی مطلوب ہے جو شوہر کی ہر جائز اور ناجائز بات پر سر جھکاتی ہے، نہ ہی اسلام میں پریوار اتنا مقدس ہے کہ باقی خاندان کے افراد کی حق تلفی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   فاطمہ سہیل کی بہادری اور کولگیٹ کا اعتماد - افشاں نوید

اسلام میں ماں بلاشبہ سب سے زیادہ حسنِ سلوک کی حقدار ہے۔ ماں اور باپ دونوں کے بڑھاپے میں ان کے آگے کندھے جھکائے رکھنے، نرم لہجہ اختیار کرنے اور اف نہ کرنے کا حکم ہے۔ حدیث مبارکہ ہے کہ خدمت گزار اولاد کے ماں باپ کو محبت بھری نظروں سے دیکھنے کا ثواب حج اکبر کے برابر ہے۔ ایک روایت کے مطابق حلیمہ سعدیہ کے تشریف لانے پر حضور ؐ تعظیماً کھڑے ہو گئے اور بہت سا مال دیکر انھیں رخصت کیا۔ بچپن کی محسنہ اپنی چچی فاطمہ بنت اسدؓ کی وفات پر ان کو اچھے لفظوں میں یاد کیا۔ ان کی قبر میں لیٹے تاکہ ان کا سفر آخرت آسان ہو۔

ہمارے معاشرے میں اس حوالے سے جو اچھی مثالیں موجود ہیں اس کی وجہ یہی اسلامی تعلیمات ہیں۔ مسئلہ کہاں سے ہوتا ہے اور کیوں ہوتا ہے؟ کیوں جاوید اختر نے یہ بات کہی کہ ماں دیوتا بنی سنگھاسن پر بیٹھی رہتی ہے اور بیوی کے حصہ میں میاں کی پوری توجہ اور محبت نہیں آتی؟
اس کا جواب یہ ہے کہ سماج اور معاشرہ کسی کو بھی غیر فطری مقام دےگا تو دوسرے فریق کی حق تلفی تو ہوگی۔ قرآن نے سورۃ مجادلہ میں بیوی کو ماں کہنے اور ظہار کرنے پر سخت انداز میں تنبیہہ کی ہے، سزا رکھی ہے۔ یہ قرآن اور سنت ہی کی تعلیمات ہیں جو خواتین کو آبگینہ قرار دیتی ہیں۔ بیوی بچوں پر مال خرچ کرنا، ان کی کفالت مرد پر فرض ہے۔ بیوی کی نازبرداری سنت مطہرہ سے ثابت ہے۔ حضرت عائشہ ؓسے پیارے نبی ﷺ کو جس درجہ کی محبت تھی، اس کا کچھ حصہ مل جانا بھی مسلمان بیوی کی خوش قسمتی ہے۔

برصغیر کے مرد کو اپنے فرائض کی صحیح ادائیگی نہ محراب و منبر سے سکھائی گئی نہ گھروں کے ماحول میں اس کا اہتمام کیا گیا بلکہ جان بوجھ کر کوشش ہی نہیں کی گئی۔ مرد کو قوام کا حقیقی مطلب اور مفہوم بتایا گیا نہ ہی خاندان کے ادارے کی سربراہی کی تربیت کی گئی۔ نتیجہ یہ ہے کہ یا تو وہ بگڑا ہوا لاڈلا بیٹا ہوتا ہے جو پہلے ماں سے پھر بیوی سے محض لاڈ اٹھوانا جانتا ہے یا اپنے فرائض سے لاتعلق تلخ اور سخت لب و لہجہ والا مرد بنتا ہے جس کے پاس نہ ماں کو دینے کے لیے عزت و محبت ہوتی ہے نہ بیوی بچوں کے لیے۔

یہ بھی پڑھیں:   بیٹی کے سوال، والد کے جواب - احسن سرفراز

ماں اور بیوی کے درمیان تنازع کی ایک وجہ وہ جانبدارانہ رویہ بھی ہے جو اکثر گھروں میں پایا جاتا ہے۔ بیٹی کا شوہر اگر اس کا خیال رکھے، اس کی نازبرداری کرے، تو مائیں خوش اور اگر یہی بیٹا بہو کےساتھ کرے تو ماؤں کے ماتھے پر بل۔ نندیں کہتی ہیں کہ ان کی ماں ہل کر پانی نہ پیے، بھابھی پر لازم ہے انک ی ماں کا حد درجہ خیال رکھے، اور خود اپنی ساس اور سسرال کےساتھ ان کا رویہ کیا ہے، کوئی پوچھ نہیں سکتا۔ بیٹی کے لیے الگ گھر اس کا شرعی اور قانونی حق، بہو مطالبہ کرے تو ظلم۔ بیٹی میکہ آرام کرے تو بجا، بہو جائے تو جھگڑا کھڑا ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف بیویوں نے بھی شوہروں کی محبت اور اپنی خودمختاری کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور حق تلفی اور قرابت داروں کے ساتھ بدسلوکی کی کہانیاں لکھیں۔

اب تو عقیلہ اظہر کے الفاظ میں ماں صرف مہینے بھر کی ماں ہے جس کے لیے کسی بیٹے کے گھر میں مستقل جگہ بھی نہیں۔ خدا کے لیے ہم اپنے رویوں کا معاملات کا جائزہ لیں۔ خاندان میں اپنا صحیح کردار حقوق کی ادائیگی کے لحاظ ادا کریں اور معاشرے میں اس چلن کو عام کریں۔

Comments

Avatar

عزیزہ انجم

ڈاکٹر عزیزہ انجم 30 سال سے بطور فیملی فزیشن پریکٹس کر رہی ہیں۔ شاعری کا مجموعہ زیرِ طباعت ہے۔ سماجی اور معاشرتی موضوعات پر طویل عرصے سے لکھ رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.