نبوی منہج سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ - حامد کمال الدین

ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج" صرف اس قدر ہے دوستو کہ:

1. جہاں کوئی معیَّن ہدایات آپ کے کسی معیَّن اقدام کے سلسلہ میں آسمان سے اتر آئی ہوں وہاں اسی پر عمل کیا جائے۔ جیسے نبیﷺ و اصحابؓ کو مکہ میں قتال سے ممانعت (قِیل لَھُم کُفّوا أیدیَکم) تھی۔ حتیّٰ کہ ہجرت بھی وحی کے آنے پر ہوئی (إنهٗ قَد أُذِنَ لی) گویا ہجرت تک سے از جانبِ آسمان روک رکھا گیا تھا؛ یہاں تک کہ خود وحی ہی آ کر نہ کہہ دے کہ کب اور کہاں کو کرنی ہے۔ وغیرہ۔ آپ کے جملہ تحریکی اقدامات کےحق میں [مخصوص براہ راست آسمانی ہدایات] کا اترنا ظاہر ہے آج آپ کو حاصل نہیں۔ سو یہ چیپٹر کلوز ہو چکا۔ اب نصوص سے عمومی استدلال ہی باقی ہے۔ یہ رسولؐ کا خاصہ تھا کہ کچھ مخصوص اقدامات کا از جانبِ آسمان پابند کر رکھا جائے؛ آپ ’’منہجِ نبوی‘‘ کے تحت اس میں اپنے لیے ’’اسوہ‘‘ مت ڈھونڈیں۔ اب نصوص سے وہ عمومی استدلال ہے جس کا ’’مراحل‘‘ والے اس فلسفے سے کچھ تعلق نہیں کہ (اس مخصوص مرحلہ پر یہ کرنا ہے اور اس مخصوص مرحلہ پر یہ نہیں کرنا)۔ لہٰذا ’’نص‘‘ سے اب کسی بھی اقدام یا عمل پر استدلال کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ نصوص میں اس کی گنجائش ہو۔ پس ’’آسمانی ہدایات‘‘ کے حوالے سے ’’مرحلوں‘‘ والا مسئلہ ختم۔ یہاں سے ہم فارغ ہوئے۔ [رسول اللہﷺ نے ’’مکی مرحلہ‘‘ میں آسمانی ہدایات کی پابندی کے تحت جو کیا] ہمارے حق میں اب وہ اس چیز سے بدل دیا گیا ہے کہ [نصوصِ شریعت سے کس چیز پر استدلال ہو سکتا ہے اور کس چیز پر نہیں، قطع نظر اس سے کہ وہ نص کب اور کس دور میں اتری ہو]۔ ابن تیمیہ نے اس مسئلہ کو خاصا وضاحت سے بیان کیا ہے۔

2. اور جہاں نصوص میں کسی مخصوص اقدام کو کرنے یا کسی مخصوص اقدام سے رکنے کے حوالہ سے آسمانی صراحت (نص) نہ ہو... یعنی نصوص کی جانب سے شریعت میں ایک گنجائش ہو... وہاں حالات و واقعات کی مناسبت سے، اور اسلامی مصالح کی بھرپور رعایت سے، اپنی صوابدید استعمال کرنا۔ اور بس۔

پس مکہ کے تیرہ سال یا تو کچھ مخصوص آسمانی ہدایات کی پابندی ہوتی رہی یا حالات و واقعات کے ساتھ صوابدیدی تعامل۔ اول الذکر چیز [موقع بہ موقع آسمانی ہدایات کا اترنا] رسول اللہﷺ کے ساتھ دنیا سے اٹھ چکی اور اس کی جگہ پر نصوصِ شریعت سے عمومی استدلال رہ گیا۔ جبکہ دوسری چیز [[حالات و واقعات کی مناسبت سے، اور اسلامی مصالح کی رعایت سے، اپنی صوابدید سے کچھ راستہ بنا لینا، جو ہر ملک اور ہر دور کی صورتحال میں کسی دوسرے دور اور کسی دوسرے ملک کی صورتحال سے مختلف ہو سکتا ہے]] پوری طرح باقی ہے۔

’’نبوی منہج‘‘ اب قیامت تک کچھ ہے تو وہ اسی قدر ہے۔ یعنی نصوص کا عمومی اتباع اور اپنے حالات کے مطابق ایک صوابدیدی لائحۂ عمل اختیار کرنا۔ اس لحاظ سے ’’نبوی منہج‘‘ پر آج وہ تحریکیں ہیں جو [[شریعت کی ایک عمومی پابندی کے تحت رہتے ہوئے اپنے ماحول کی مناسبت سے ایک صوابدیدی لائحۂ عمل]] اختیار کرتی ہیں نہ کہ وہ تحریکیں جو رسول اللہﷺ و صحابہؓ کے ابتدائی سالوں سے ایک ’’روڈ میپ‘‘ کشید کر کے ’’نبوی منہج‘‘ کے زیرعنوان اسے لوگوں پر فرض ٹھہراتی ہیں اور اس ’’دلیل‘‘ سے اپنے وقت اور ماحول میں درکار صوابدیدی راستوں اور تدبیروں پر جگہ جگہ ناکے لگاتی ہیں۔ پچھلے بہت سالوں سے یہ ہمارے تحریکی عمل کو مسلسل ایک بند گلی میں دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ صوابدیدی (فی الحقیقت نبوی منہج پر چلنے والی) تحریکوں نے اسلام کی پیش قدمی کےلیے اگر کہیں پر کچھ راستہ بنایا بھی تو اِن کے خیال میں اس پر اُن کےلیے کوئی اجر تھوڑی ہے (کیونکہ اُن کا اجتہاد و صوابدید وہاں ہے جہاں شریعت نے اِن کے خیال میں اجازت ہی نہیں دی)!

بڑی حیرت ہوتی ہے جب کسی ملک میں اختیار کیے گئے تحریکی لائحۂ عمل پر ایک نوجوان ’’بحقِ شریعت‘‘ یہ کہہ کر معترض ہوتا ہےکہ بھائی آپ کیوں وقت ضائع کر رہے ہیں دین قائم کرنے کا یہ نبوی منہج ہی نہیں ہے؛ کیونکہ وہ تو ایک مخصوص ہی طریقہ ہے! (اور اس ’’مخصوص طریقے‘‘ سے اس کی مراد ہوتی ہے: نبوی جماعت کے وہ مخصوص اقدامات جو یا تو اُن مواقع کےلیے مخصوص آسمانی ہدایات کی پابندی ہوں گے یا پھر حالات و واقعات کے لحاظ سے اُس جماعت کی اپنی صوابدید۔ اب اُس (نبوی جماعت) کے وہ مخصوص اقدامات بھی، جو خاص اُن مواقع سے متعلق آسمانی ہدایات کی پابندی میں ہوئے، اپنی اُسی شکل و ہیئت کے ساتھ اِس نوجوان کےلیے ’’نبوی منہج‘‘ ٹھہرے اور اُس کے وہ اقدامات بھی جو ایک خاص دائرے میں اُس کی اپنی صوابدید سے ہوئے ہوں گے۔ یعنی دونوں اپنی اُسی ظاہری شکل و ہیئت کے ساتھ ’’منہجِ نبوی‘‘! حقیقت میں یہ حضرات نہ ’’نص‘‘ کی حقیقت کو سمجھ رہے ہیں اور نہ ’’صوابدید‘‘ کے معنیٰ کو۔ ظاہریہ بھی اس دور میں آ جائیں تو شاید یہ بات نہ کریں۔

Comments

حامد کمال الدین

حامد کمال الدین

حامد کمال الدین ایقاظ (ماہنامہ، ویب سائٹ) کے ایڈیٹر، اور 20 سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔ دین سے وابستہ تحریک اور معاشرہ، اصولِ سنت، تجدید اور تجدد کے مابین خط فاصل کا بیان ان کا دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.