سیاسی استحکام، ایک تجزیہ - عظیم الرحمن عثمانی

کبھی سوچا کہ پاکستان سمیت قریب تمام مسلم ممالک میں سیاسی صورتحال اتنی ابتر کیوں ہے؟ بھئی پاکستان کے بارے میں تو ہم مختلف طرح کی دانشوری بگھار لیتے ہیں کہ مثلاً کراچی کی گلی کے کنارے پر بیٹھے کوئی چچا میاں پان تھوکتے ہوئے کہیں گے کہ ایسا کرپٹ سیاستدانوں کی وجہ سے ہوا، یا پھر پشاور میں کوئی خان صاحب منہ میں نسوار دباتے ہوئے فرمائیں گے کہ ایسا وڈیرہ شاہی نظام کے سبب ہوا، یا پھر پنجاب میں کوئی پہلوان انکل اپنی توند سہلاتے ہوئے کہیں گے کہ دراصل فوجی قوتوں نے ملک میں جمہوریت کو پنپنے نہ دیا وغیرہ. مگر قبلہ اس مخمصے کا کیا کریں کہ ساری دنیا میں پھیلے مسلم ممالک ہماری ہی طرح سیاسی بحران کا شکار رہے ہیں۔گنتی کے دو چار مسلم ممالک جہاں صورتحال نسبتاً بہتر ہے، وہاں بھی ہر کچھ سال میں غیر یقینی صورتحال بن جاتی ہے جو پورے نظام کو درہم برہم کرکے رکھ دیتی ہے۔

کبھی سوچا کہ انگلینڈ اور امریکہ جیسے ممالک میں مارشل لاء کا خطرہ کیوں نہیں ہوتا؟ وہاں کوئی جرنیل مسائل ختم کرنے یا کرپشن روکنے کا نام لے کر حکومت کا تختہ کیوں نہیں الٹ دیتا؟ اچھا چلیں اتنا نہ سوچیں، بس یہ فرض کرلیں کہ انگلینڈ میں اس کی اپنی فوج حکومت پر قابض ہوجاتی ہے. بتائیے کہ اس پر عوامی ردعمل کیا ہوگا؟ کچھ اندازہ ہے؟ میں بتاتا ہوں۔ اول تو ایسا ہونا اگر ناممکن نہیں تو بہت بہت کم امکان رکھتا ہے، مگر اگر کسی بہت بڑی وجہ سے ایسا ہوجاتا ہے تو ساری عوام سڑکوں پر ہوگی، اور فوج اگر فوری ضرورت پوری ہوتے ہی واپس نہ گئی تو اس کے شدید خلاف ہوجائے گی۔ اس وقت تک انھیں شانت کرنا مممکن نہیں ہوسکتا جب تک جمہوری حکومت دوبارہ بحال نہ ہوجائے۔

اس کے بلکل برعکس وہ رویہ ہے جو مسلم ممالک میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص نظر آتا ہے۔ یہاں تو ڈکٹیٹر مشرف کے آنے پر بھی مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں اور مشرف کے جانے پر بھی دھمال ڈالے جاتے ہیں۔ مغربی دنیا اور اسلامی دنیا کے رویوں میں موجود اس عجیب تضاد پر آپ حیران و پریشان نہیں ہوتے؟ المیہ یہ ہے کہ ہماری اکثریت اس فرق کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتی، بلکہ ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ کر کبھی فوج کے آجانے کو خوشحالی کی نوید مانتی ہے، اور کبھی کرپٹ سیاسی قیادت میں ہی اپنا نجات دہندہ ڈھونڈھتی دلفریب نعرے لگاتی ہے کہ 'جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے'۔ مگر سیاسی و فوجی چہرے بدلتے رہتے ہیں اور خوشحالی و استحکام کی تمنا لیے نسل بعد از نسل ختم ہوتی رہتی ہیں۔ ایک گروہ یہ پکارتا رہتا ہے کہ 'بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہرحال بہتر ہے' اور دوسرا گروہ تنک کر کہتا ہے کہ 'میاں کون سی جمہوریت؟ یہاں آمریت کی بدترین شکل کا نام ہی جمہوریت ہے'۔ بس یہ اکھاڑا سجا رہتا ہے اور استحصال شکلیں بدل کر اسی طرح جاری و ساری رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فوج اقتدار بھی پلیٹ میں رکھ کے دے؟ - سمیع احمد کلیا

مغرب کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ان کا موجودہ نظام ایک زبردست انقلاب بلکہ بغاوت کے نتیجے میں تشکیل پایا ہے۔ یہ بغاوت اس مذہبی اور سامراجی قوتوں کے خلاف تھی جس نے انہیں دیوار سے لگا دیا تھا۔ یہ بغاوت اتنی شدید تھی کہ مذہب سے نفرت اور الحاد سے رغبت ان کا وطیرہ بن گئی۔ بادشاہت کا خاتمہ کردیا گیا۔ انہوں نے بحیثیت قوم مذہبی عقائد کو پہلے جزوی اور پھر مکمل ترک کردیا۔ مگر عقائد کا ہونا انسان کی انفرادی اور اجتماعی مجبوری ہے۔ اگر کوئی عقائد کا ایک ہار اپنے گلے سے اتارے گا تو جلد ہی عقائد کا ایک خود تیار کردہ طوق اپنے گلے میں سجا لے گا۔ مغرب کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ اس نے چرچ کے خود ساختہ عقائد سے جب جان چھڑائی تو ساتھ ہی نئے عقائد اپنے لیے منتخب بھی کر لیے۔ آپ مانیں نہ مانیں مگر جمہوریت، سیکولرزم، لبرٹی، لبرلزم اب مغرب کے عقائد ہیں۔ ان کی مخالفت پر وہ اتنا ہی سیخ پا ہوتے ہیں جتنا کوئی مذہبی اپنے مذہبی عقائد کی مخالفت پر۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے لیے فوج کا جمہوری حکومت کو گرانا ایسا ہی سنگین جرم ہے جیسے مثال کے طور پر مسلمانوں کے لیے توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم۔ کسی مسلمان ملک کی عوام کے لیے چونکہ یہ جمہوری یا لبرل یا سیکولر نظریات ان کے عقائد جیسے نہیں ہیں اور نہ ہی کبھی ہوسکتے ہیں، اس لیے ان میں مغربی عوام کی طرح اس ضمن میں شدت نہیں پائی جاتی۔ وہ تو ان نظریات کو فقط یہ سوچ کر گلے لگائے بیٹھے ہیں کہ جیسے ان نظریات کے اچھے ثمرات مغرب کو ملے ہیں، ویسے ہی شاید ہم بھی حاصل کرپائیں گے۔ مگر عقائد کا یہ بنیادی فرق اس خواب کو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیتا۔ ہمارے لبرل طبقے کی طبیعت ناگفتہ پر یہ بات کتنی ہی گراں کیوں نہ گزرے، مگر سچ یہی ہے کہ مغربی نظام کا جو فارمولا مغربی الحاد زدہ اقوام کے استحکام کا سبب بنا ہے۔ وہ فارمولا مسلم ممالک میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   جمہوریت مضبوط کیسے؟ - حافظ یوسف سراج

دھیان رہے کہ ہم یہاں یہ دعویٰ نہیں کر رہے کہ مغربی نظام برا یا اچھا ہے بلکہ فقط اتنا کہہ رہے ہیں کہ یہ نظام مسلم اذہان رکھنے والے ممالک میں کارگر نہیں ہوسکتا۔ آپ اپنے دس نمبر کے پیر کو سات نمبر کے جوتے میں فٹ کرنا چاہیں گے تو پیر الگ زخمی ہوگا اور جوتا الگ ادھڑ جائے گا۔ مسلمانوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنا نظام اسلامی بنیادوں پر ہی ترتیب دیں۔ مغربی عقائد اپنائیں گے تو یونہی منافق بنے رہیں گے۔ ہمارے عقائد اسلامی ہیں لہٰذا کارگر اور دیرپا نظام کے سوتے بھی اسلامی عقائد ہی سے پھوٹ سکتے ہیں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمیں اس نظام کے نعرے مارنے والے بھی جو لوگ ملے، ان کی اکثریت میں نری جذباتیت کے سوا عملی میدان کے لیے کچھ خاص نہ تھا۔ مگر اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہوسکتا کہ کوشش و امید ترک کردی جائے، جیسا عرض کیا کہ دیرپا نظام مسلمانوں کے لیے وہی ہوگا، جو اپنی توثیق اور تائید اسلام سے پیش کرے ورنہ تاش کے پتوں کا محل تو بن سکتا ہے، مضبوط قلعہ نہیں۔ اقبال یہی بات ہمیں کچھ ان الفاظ میں سمجھا گئے تھے۔


اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں