سینٹ الیکشن اور جماعت اسلامی کے ووٹ - احسن سرفراز

کچھ جماعتی دوست نکتہ اٹھا رہے ہیں کہ جماعت اگر قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے الیکشن پر اپنے چار ووٹوں کی بنیاد پر الگ امیدوار کھڑا کر سکتی تھی تو موجودہ سینیٹ الیکشن میں ن لیگ کے امیدوار کو کیوں سپورٹ کیا؟ اب بھی اپنا الگ امیدوار کھڑا کرکے کسی کی سپورٹ نہ کرتے یا اپوزیشن اتحاد کا حصہ بنتے؟

دوستوں سے گزارش ہے کہ یہ چیز پلے باندھ لیں کہ سیاست رستے بند کرنے کا نہیں بلکہ بند رستے کھولنے کا نام ہے۔ معاشرے میں متحرک سیاسی قوتوں سے کہیں نہ کہیں اشتراک عمل ناگزیر ہوتا ہے، ہم جنگل میں نہیں رہتے بلکہ ایک معاشرے کا حصہ ہیں جہاں انسان کسی کو ایک ہاتھ سے تعاون دے رہا ہوتا ہے تو دوسرے ہاتھ سے لے بھی رہا ہوتا ہے۔ سیاست میں وقت پر کیے گئے فیصلوں کی اہمیت ہوتی ہے اور بعض اوقات محض دو مختلف فیصلے وقت اور حالات کے مطابق کرنا ناگزیر ٹھہرتے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر پاکیزہ سیاست کسی نے نہیں کی اور نہ کوئی کر سکتا ہے۔ نبی کریم جب مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تو یہاں معاشرے کے مختلف طبقات میں ہم آہنگی اور خیر سگالی قائم کرنے کے لیے "میثاق مدینہ" کیا گیا، جس کا حصہ مسلمانوں کے علاوہ یہود اور مشرکین بھی تھے۔ سات سال بعد جب صحابہ طویل انتظار کے بعد پورے ولولے اور ذوق و شوق سے عمرہ کو نکلے تو کفار مکہ سخت مزاحم ہوئے، مسلمانوں کوعمرہ سے روکنے کے لیے ہر حد سے گزر جانے کی دھمکی تک دے ڈالی، صحابہ نے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کی افواہ پر نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر موت تک لڑنے کی بیعت کر لی۔ لیکن بالآخر صلح حدیبیہ کے ذریعے رستہ نکالا گیا جس کی مرکزی شق یہ تھی کہ مسلمان بغیر عمرہ کے اس بار واپس لوٹ جائیں گے اور اگلے سال ہی انھیں عمرہ کرنے کی اجازت ہو گی۔ بظاہر معاہدے کی شقیں ایسی تھیں کہ جس میں کفار مکہ کا پلہ بھاری لگتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اسے فتح مبین قرار دیا اور بعد کے واقعات نے یہ بات ثابت بھی کی کہ اس معاہدے کے ذریعے ملنے والے امن کا زیادہ فائدہ مسلمانوں کو پہنچا اور دو ہی سال میں اسلام اس تیزی سے پھیلا کہ دس ہزار قدوسیوں کا لشکر فاتح بن کر مکہ میں داخل ہوا۔ صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں نے مشرک قبائل سے بھی حلیفانہ معاہدے کے۔

اگر ہم جماعتی تاریخ کو دیکھیں تو مولانا مودودی 1956ء کی آئین سازی سے پہلے تمام مسالک کے علمائے کرام کے ساتھ بھی بیٹھے جنھوں نے تاریخی بائیس نکات پیش کیے جو پاکستان میں آئین سازی کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئے۔ پھر مولانا نے اپوزیشن کے ساتھ ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کی صدارت کی حمایت کی، اس اتحاد میں شیخ مجیب الرحمٰن تک شامل تھا۔ پھر ستتر میں مولانا کی زندگی ہی میں میاں طفیل محمد کی امارت کے دور میں بھٹو کے خلاف جماعت پی این اے کا حصہ بنی جس میں بعد المشرقین رکھنے والی مذہبی و قوم پرست جماعتیں بھی شامل ہوئیں جو کہ بنیادی طور ایک دوسرے کی سخت نظریاتی مخالف تھیں۔ بعد کے ادوار میں بھی پاکستان کی تمام ہی سیاسی جماعتیں جو کسی وقت ایک دوسرے کے خون کی پیاسی کہلاتی تھیں، انھیں وقت اور حالات نے اکٹھا ضرور بٹھایا۔

پاکستان میں تو پھر الحمدللہ ساری ہی جماعتیں ایک اسلامی آئین کو ماننے والی ہیں جبکہ بین الاقوامی سیاست میں بھی متحارب قومیں اور جنگوں میں ایک دوسرے کے گلے کاٹنے والے ممالک کو بعد ازاں تعاون کرنا پڑتا ہے۔ کل کے دشمن دوست کہلاتے ہیں اور دوست وقت اور حالات کے ساتھ دشمنی پر اتر آتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں آپس میں چھ کروڑ انسانوں کا خون بہانے والا یورپ آج ایک یونین کا حصہ بن کر شیر و شکر بن چکا ہے۔ پاکستان کے ہاتھوں ٹوٹنے والے روس کی دشمنی اب دوستی میں بدلنا شروع ہو چکی ہے۔ سو معاشرے میں پنپنے کے لیے حریفوں اور حلیفوں کا تعین وقت اور حالات کے تناظر میں بدلتا رہتا ہے۔

سیاست میں بھی دائمی حریف یا حلیف نامی کوئی چیز نہیں ہوتی، سیاسی جماعتیں اپنی ترجیحات اور پیش رفت کے تناظر میں دوسری جماعتوں کی مخالفت بھی کرتی ہیں اور حمایت بھی لیتی ہیں۔ جبکہ کسی ایک مؤقف کی حمایت یا مخالفت کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اب آپ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کے حلیف یا حریف بن گئے ہیں۔

پانامہ پر نواز شریف کے خلاف کیس کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ ہر اس فرد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ تھا جس کا نام پانامہ لیکس لسٹ میں تھا، نواز شریف چونکہ اس ملک کے بلند ترین عہدے پر فائز تھے، لہذا یہ ضروری تھا کہ احتساب کا عمل ان سے شروع کیا جائے۔ آج بھی جماعت اسلامی اس ملک میں قرض معاف کروانے والوں، بیرون ممالک دولت چھپانے والوں کے خلاف کاروائی کے لیے عدالت میں موجود ہے جس میں "احتساب سب کا" نعرہ ہی جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے۔

جب پچھلی بار جماعت اسلامی نے وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر اپنا ایک الگ امیدوار کھڑا کیا تو اس کی حیثیت محض علامتی تھی۔ اس وقت قومی اسمبلی میں ن لیگ کو واضح اکثریت حاصل تھی اور جماعت کے ووٹ کسی کو بھی پڑتے، رزلٹ پہلے سے طے شدہ تھا، لہذا جماعت نے محض اپنے کارکن کو بتانے کے لیے نہ ن لیگ کو ووٹ دیا اور نہ تحریک انصاف کو (جنھوں نے ویسے بھی جماعت سے ووٹ کے لیے رابطہ نہ کیا تھا) کہ ہم دونوں متحارب جماعتوں میں کسی کے ساتھ نہیں اور اپنی ترجیحات کو دیکھ کر ہی فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اس بار صورتحال یکسر مختلف تھی، جماعت کے دو ووٹ فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکے تھے، لہذا اس موقع پر الگ کھڑے ہونے کا مطلب یہ پیغام دینا تھا کہ ہم اتنے ہٹ دھرم ہیں کہ خواہ ہماری وجہ سے یہ سسٹم ڈیڈ لاک کا شکار ہو جائے، ہم کسی بھی فریق کے لیے تعاون کا ہاتھ نہیں بڑھائیں گے۔ ایک ایسے موقع پر جب الیکشن بالکل سر پر کھڑے ہیں، اور جماعت کو ملک بھر میں کسی نہ کسی جگہ الیکشن سے پہلے ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں یا الیکشن کے بعد حکومت سازی کے لیے دوسری جماعتوں کی ضرورت پڑ سکتی تھی، الگ تھلگ رہنا لازماً سیاسی بلنڈر اور ہٹ دھرمی کہلاتی۔

جماعت کے سامنے تین راستے تھے جس میں پہلا راستہ تھا کہ کوئی ایسا صاف کردار کا نمائندہ سامنے لانے کا مطالبہ کیا جائے جو سب کا مشترکہ ہو، جس کے تحت رضا ربانی کو امیدوار بنانے کا مطالبہ کیا گیا، جن کا تعلق پیپلزپارٹی سے تھا اور ان پر ن لیگ اور اکثر دوسری جماعتیں بھی متفق تھیں، دوسرے نمبر پر جس طرح اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے ہارس ٹریڈنگ کی سیاست کے تحت بلوچستان سے آزاد سینیٹرز کا ایک گروپ لایا گیا، اور طریقے سلیقے سے ان میں سے ایک بار بار جماعتیں بدلنے والی نا تجربہ کار شخصیت کو "بلوچستان کے حقوق" کے نام پر آگے لا کر آصف زرداری اور عمران خان کا مشترکہ امیدوار بنایا گیا، اور اس پینل کو فاٹا کے ارکان اور ایم کیو ایم کی سپورٹ بھی دلوائی گئی تو جماعت بھی اسٹیبلشمنٹ کے اس عمل کا حصہ بنتی، اور تیسرا راستہ خود ن لیگ کو کسی بہتر کردار کے حامل شخص کو نامزد کرنے کے لیے ابھارنا تھا تاکہ اسٹیبلشمنٹ کی انجینئرنگ، لوٹا کریسی اور ہارس ٹریڈنگ کے مقابلے میں ایک متبادل امیدوار سامنے آئے۔ لہذا خود جماعت کی خواہش پر بھی راجہ ظفر الحق جو کہ ایک بزرگ سیاستدان ہیں، اور ان کا دامن ہر قسم کی کرپشن سے صاف ہےم جو کبھی لوٹا کریسی کی سیاست کا حصہ نہیں بنےم امیدوار بنایا گیا اور جماعت نے اسٹیبلشمنٹ کے کھیل سے الگ رہ کر یہ واضح پیغام دیا کہ وہ کرپشن کے خلاف ضرور ہےم لیکن وہ سیاست میں کٹھ پتلیوں کے کھیل کا حصہ بننے کے لیے قطعاً تیار نہیں اور اس طرح کی ہر سازش کی بھی مزاحمت کرے گی۔

دریں حالات میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کی قیادت کا فیصلہ اصولی اور انتہائی دانشمندانہ تھا اور اس نے جماعت کا قد جمہوری تاریخ میں بلند کیا ہے، سراج صاحب نے قاضی حسین احمد اور سید منور حسن کے دکھائے ہوئے مزاحمت کے راستے کو چنا اور ثابت کیا کہ شفاف جمہوری روایات ہی اس ملک کا مقدر ہونی چاہییں۔ جماعت کی جنگ چہروں کے بجائے نظام کی تبدیلی کے لیے ہے اور جماعت کی سیاست کسی ایک فرد یا جماعت کی دشمنی پر مبنی نہیں بلکہ گندگی خواہ کسی بھی جماعت میں ہو اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے اور اچھائی خواہ کسی بھی جگہ ہو، اس کا ساتھ دینا چاہیے۔ "تعاونوا علی البر و التقوی و لاتعاونوا علی الاثم والعدوان" ہی قرآن کا پیغام ہے اور یہی جماعت کا بھی اصول ہے۔ حقیقی تبدیلی چہرے بدلنے کے بجائے رویے اور نظام کی خرابیاں بدلنے سے ہی آ سکتی ہے، اور اسے وہی جماعت لا سکتی ہے جس کی قیادت سمیت مکمل ٹیم بھی صاحب کردار اور صاف دامن ہو اور یہی ٹیم اپنی صادق اور امین قیادت کے زیر نگرانی ایک اسلامی و خوشحال پاکستان کی منزل کو یقینی بنا سکتی ہے۔

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • سبحان اللہ ماشااللہ
    بس درخواست یہ ہے کہ دوسرے بھی اگر دور کی کوڑیاں لایا کریں اور توجیہات دیا کریں تو ان پر شک نہ کیا کریں ان کی عرضیاں قبول کرلیا کریں
    اس آرٹیکل میں جماعت کے اس عجیب و غریب اقدام کو اتنے عظیم روح پرور اور پاکیزہ واقعات سے جوڑا گیا ہے کہ اگر میں اس آرٹیکل میں ذراسی تنقید کروں گا تو توہین پر مارا جاؤں گا
    مگر ایک گزارش ضرور کروں گا جماعت اسلامی کے لیے ایسی نون لیگ قابل قبول ہے جوایک نااہل شخص کو بچانے کے لیے ٹس سے مس نہیں ہو رہی ڈھٹائی کا انتہائی مظاہرہ کرتے ہوئے اس شخص کو صدر یا تاحیات رہنما بنا رہی ہے جس کے خلاف جماعت اسلامی کورٹ میں کیس لے کرگئی جو اب عالی عدلیہ کے مطابق صادق اور امین نہیں ہے جو اپنے آپ کو شیخ مجیب سے تعبیر کرتا ہے صبح شام عدلیہ کو گالی دیتا ہے ایسے شخص سے تو کوسوں دور رہنا بہتر تھا لیکن
    جماعت کو یہ سب منظور ہے