سینیٹ الیکشن، ایک نئے بیانیے کی بنیاد - ثمینہ رشید

جس سینیٹ کے الیکشن کی دھوم کئی ماہ سے جاری تھی، آخرکار وہ ایک ہنگامہ خیزی کے بعد اختتام کو پہنچے۔ پاکستان کی تاریخ میں سینیٹ کے کسی الیکشن کو شاید ہی اتنی توجہ نصیب ہوئی ہو یا زیر بحث لایا گیا ہو جتنا کہ اس مرتبہ ہوا۔ خان صاحب نے اپنی سیاست کی اب تک کی بہترین چال سے سینیٹ کے الیکشن کا رخ ہی موڑ دیا تھا۔ بلوچستان سے سینیٹ چیئرمین کے لیے حمایت کا اعلان کرکے انھوں نے آصف زرداری کو بھی اپنے نمائندے سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا۔ اور انہیں عمران خان کی بلوچستان سے سینیٹ چیئرمین لانے کی پالیسی کی حمایت کرنا پڑگئی۔ نتیجتا اپوزیشن کے مشترکہ حمایت یافتہ صادق سنجرانی ستاون ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ بظاہر یہ اتنا آسان معلوم نہ ہوتا تھا اور ووٹ کی گنتی ہونے تک یہ فیصلہ ایک سرپرائز تھا۔ عمران خان کے لیے اس فیصلے کے بہت سے مثبت ثمرات ہیں۔ انہوں نے اس عمل سے بلوچستان کے لوگوں کے دلوں میں نہ صرف ایک اچھا امیج بنالیا ہے بلکہ ایک طرح سے آنے والے الیکشن کے کمپین کی بنیاد بھی رکھ دی ہے۔ بلوچستان کی سیاست اور زمینی حقائق مختلف ہیں اور اس کا ادراک کرتے ہوئے تحریک انصاف ان کے لیے انتخابات میں ایک نیا اور روایتی سیاستدانوں سے ہٹ کر تیسرا آپشن ثابت ہو سکتی ہے۔ گو کچھ کہنا شاید قبل از وقت ہو لیکن لوگوں کی جانب سے اس تیسرے آپشن کو خوش آمدید کہا جاسکتا ہے۔

سینیٹ انتخاب کے نتیجے کے دو واضح اثرات ہیں
اس کا ایک اثر تو یہ ہے کہ جس نئے بیانیے کا آغاز میاں نواز شریف نے جی ٹی روڈ کی ناکام ریلی سے کیا تھا، اور جس کے بارے میں تقریبا اسی فیصد تک میڈیا، صحافیوں اور دانشوروں کا ماننا تھا کہ نیا بیانیہ تیزی سے مقبول ہورہا ہے، اور میاں صاحب اداروں سے براہ راست تصادم کی پالیسی کے ذریعے ایک مومینٹم بناچکے ہیں اور مسلم لیگ نون کو مستقبل میں اس کا بہت فائدہ پہنچے گا وغیرہ وغیرہ۔ نتائج نے اس غبارے سے ہوا نکال دی ہے اورِ وہ زمین بوس ہوچکا ہے۔ اندازہ ہوتا ہے کہ مومینٹم کا شور زیادہ تر پروپیگنڈے پر مبنی تھا اور اس کی کوئی منطقی بنیاد نہ ہونے کی وجہ سے اس کا پردہ آج نہیں تو کل بہرحال چاک ہونا تھا، لیکن سینیٹ الیکشن کے نتائج نے یہ کام بہت جلد اور آسانی سے کر دیا ہے۔ تین ماہ سےایک پروپیگنڈہ تو یہ تھا کہ سینیٹ کے الیکشن ہونگے ہی نہیں۔ حتی کے سینیئر وفاقی وزرا اور کابینہ کے ارکان تک نے یہ بیان دیا کہ سینیٹ کے الیکشن ہوتے نظر نہیں آتے اور یہ کہ ہمیں دیوار سے لگایا جارہا ہے۔ سینیٹ کے انتخابات ہوئے اور وقت پر ہوئے لیکن حکومت کے جھوٹے پروپیگنڈے کی وجہ بخوبی سامنے آئی۔ شاید حکومت پر اپنا انجام نوشتۂ دیوار کی طرح واضح تھا اس لیے انہوں نے سینیٹ الیکشن سے پہلے ہی رضا ربانی کا نام لے کر خود کو بیک فٹ پر کر لیا تھا۔ تیرہ مارچ کو جنرل ورکرز کنونشن میں شہباز شریف کے بلامقابلہ منتخب ہونے کی تقریب میں میاں نواز شریف کا شکست خوردہ لہجہ اس بات کا غماز تھا کہ ان کا بیانیہ منہ کے بل گر چکا ہے، ان کی مایوسی اور رنجیدہ لہجہ چھپائے نہیں چھپ رہا تھا۔ پانامہ کیس کے حوالے سے کیے گئے غلط فیصلے اور ٹی آر اوز پر ہٹ دھرمی کا نتیجہ اس قدر خطرناک ہوسکتا ہے یہ شاید نواز شریف نے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔ لیکن وقت کسی کا نہیں ہوتا۔ تاریخ شاہد ہے کہ اقتدار کی بھول بھلیوں پر واپسی کا سفر مشکل اور تکلیف دہ ہی ہوا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دھرنے کی قَسم، مارچ میں دم نکلا! نعیم مسعود

دوسرا اہم اثر یا پہلو تحریک انصاف کو ملک کی سیاست میں مرکزی حیثیت کا حاصل ہونا ہے۔ اس وقت صرف تیرہ ووٹ رکھنے والی تحریک انصاف اپنی سیاسی حکمتِ عملی سے نہ صرف خود کو فرنٹ فٹ پر کھیلنے کی پوزیشن میں لے آئی ہے، بلکہ ایک ایک ایسی جماعت بن کر ابھری ہے جو آئندہ الیکشن میں وفاق کی علامت ہوگی۔ جس کے نمائندے بلاشبہ چاروں صوبوں میں ہوں گے۔ 2013ء میں پنجاب سے پہلی مرتبہ نون لیگ کو چیلنج کرنے والی اور بغیر مضبوط حکمت عملی اور روایتی داؤ پیچ کے تیس کے قریب نشستیں جیتنے والی واحد جماعت تحریک انصاف تھی۔ پانچ سال کے تجربے کے بعد اس الیکشن کے نتائج اور آنے والے دنوں میں شریف فیملی کے حوالے سے کورٹ کیسسزکے فیصلوں سے تحریک انصاف کو پاکستان کی سیاست میں عموما اور پنجاب کی سیاست میں خصوصا تقویت حاصل ہوگی۔ ہمدردی کی بنیاد پر ووٹ کی امید رکھنے کی خواہشمند نون لیگ کو اس مرتبہ ہمدردی کی بنیاد پر یہ ٹارگٹ حاصل کرنا بالکل آسان نہیں ہوگا۔

نتائج سے پنجاب کے الیکٹیبلز کو ایک طرح کا ریڈ الرٹ مل گیا ہے۔ آنے والے چند ہفتوں میں پنجاب سے الیکٹیبلز کا نون لیگ سے علیحدہ ہونا بعید از قیاس نہیں۔ لیکن اس سے زیادہ روشن پہلو اس مومینٹم کا آغاز ہے جو عمران خان کی نئی حکمت عملی سے وجود میں آیا ہے اور اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ فیصل آباد اور گوجرانوالہ جیسے شہروں میں ممبر سازی کی کمپین پر شاندار ریسپانس اس بات کا مظہر ہے کہ جس مومینٹم کی بنیاد ملک کے اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی پر رکھی گئی تھی، اس کو ایک خاص وقت کے بعد اسی طرح زمین بوس ہوجانا تھا. جس طرح نواز شریف کا بیانیہ زمین بوس ہوچکا ہے۔ اصل بیانیہ وہی ہوگا جس کی بنیاد اداروں کی مضبوطی، ملکی سالمیت، قانون کی حکمرانی، انصاف کی فراہمی اور چیک اینڈ بیلنس پر ہوگی۔ اس بیانئیے کا مومینٹم خود عوام تشکیل دیں گے اور اسک و عملی شکل میں نافذ کرنے کے لیے تحریک انصاف اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔

Comments

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ویب سائٹ شاہکار کی چیف ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.