امریکہ میں گن فائرنگ کے بڑھتے واقعات - فارینہ الماس

کہتے ہیں کہ دوسروں کا برا چاہنے والے کے ساتھ خود بھی برا ہی ہوتا ہے، اسے ایک سادہ سی کہاوت میں یوں بھی سمجھا جاتا ہے کہ دوسروں کے لیے گڑھا کھودنے والا خود ہی اس گڑھے میں جا گر تا ہے۔ اگر اسے مزید سمجھنا ہو تو ایک مثال امریکہ کی بھی دی جا سکتی ہے، جس نے دنیا میں جہاں جہاں بدامنی اور جنگ کی کیفیت رہی، وہاں اپنا اسلحہ بیچا اور خوب دھن کمایا۔ یہاں تک بھی کہ جہاں امن کی نہریں بہا کرتی تھیں، وہاں دھونس، جبر، قلت اور افلاس کے بیج بو کر اپنی اسلحہ ساز فیکٹریوں کا کاروبار خوب چمکایا۔ اور انسانی ہڈیوں کے پرخچے اڑانے والے ہتھیار وں کی ترسیل وافر تعداد میں کی۔ اس نے اپنے مفادات کی اغراض کو افضل جانتے ہوئے بہت سی قوموں کو باہمی دست و گریباں کرنے کی خاطر دوستی کی آڑ میں بھی بارود مہیا کیا۔ وہ اسلحے کا ایسا بیوپاری ہے جو پوری دنیا کا تقریباً 80 فیصد اسلحہ بیچتا ہے۔ 2016ء میں اوبامہ سرکار نے اسلحے کی فروخت سے 43 کھرب اور 20 ارب روپے کمائے۔ امن پر تحقیق کرنے والے سویڈش ادارے ”سپری“ کے مطابق ”اسلحے کی تجارت میں عالمی سطح پر سب سے زیادہ فائدہ امریکہ کا ہے جو بارود، ٹینک، اور ڈرون بنانے پر اربوں امریکی ڈالر خرچ کرتا اور ہر سال اس کاروبار میں مزیداضافہ کرتا ہے۔ دنیا میں اسلحے کا کاروبار کرنے والی 38 اہم کمپنیوں کا تعلق بھی امریکہ سے ہی ہے۔“ اس کے خریدار وں کی فہرست میں ترقی پذیر و پسماندہ ممالک خصوصاً اسلامی ممالک سرفہرست رہے ہیں۔ جو ہتھیار اپنے ہی ہم مذہب اور ہم نسل لوگوں پر خرچ کرتے اور تاحال کشت و خون کے دریا بہا رہے ہیں۔

لیکن اس سارے کھیل میں نقصان خود امریکہ کو بھی اٹھانا پڑا جس کی کوئی تلافی اس کے خود کے پاس نہیں۔ وہی بارود جو وہ دوسروں میں تقسیم کر کے سپر پاور بنا اور اس حیثیت سے آج بھی مستفید ہو رہا ہے، اب یہ بارود اس کی نوجوان نسل کی قتل و غارت گری میں استعمال ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں ہر سو افراد میں سے نوے افراد کے پاس اسلحہ ہے۔ اور 2016ء تک اسلحے کی تعداد 26 کروڑ 50 لاکھ ہو چکی تھی۔ جبکہ اس سلسلے میں پاکستان جیسا دہشت گردی کا شکار ملک بھی پرائیویٹ گنز رکھنے دنیا میں 61 ویں نمبر پر ہے۔ سوال یہ ہے کہ بظاہر پرامن دکھائی دینے والے ملک امریکہ میں عوام کو اپنے پاس اتنا وافر اسلحہ رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس فراوانی کا باعث خود ایک طرف امریکہ کی اسلحہ سازی کی بڑھتی صنعت اور اس صنعت کے معاشی مفادات ہیں تو دوسری طرف امریکہ میں ہونے والے پرہجوم مقامات پر فائرنگ کے واقعات جو 60 کی دہائی میں شروع ہوئے، جن میں کمی کے لیے طاقت کا مقابلہ طاقت سے کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان واقعات و حادثات میں کمی کے بجائے بڑھاوا ہی ہوا۔

آج امریکہ ، ہجوم پر گن فائرنگ کے واقعات میں دنیا بھر میں سرفہرست ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 1968ء سے 2011ء تک یہاں بندوق یا پستول سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد تمام جنگوں میں ہونے والی امریکی ہلاکتوں سے بھی زیادہ تھیں۔ ایک تحقیقاتی ادارے کے مطابق ان ہلاکتوں کی تعداد 14 لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔ جبکہ جنگ آزادی سے لے کر عراق جنگ سمیت ان ہلاکتوں کی تعداد 12لاکھ تھی۔ 2013ء سے اب تک کے واقعات کی تعداد تقریباً 291ء ہے ۔ 2007ء میں ورجینیا ٹیکنیکل یونیورسٹی میں فائرنگ کے واقعے میں 32 لوگ مارے گئے۔ کچھ عرصہ پہلے واشنگٹن کے ایک شاپنگ مال میں ایک شخص کی فائرنگ سے پانچ افراد کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ کیلیفورنیا میں ایک نمازی کو چاقو مار دینے، مین ہیٹن میں ایک باحجاب لڑکی کے کپڑوں کو آگ لگا دینے یا فلوریڈا میں فائرنگ سے ایک شخص کے ہاتھوں پولیس افسر کی ہلاکت جیسے پرتشدد واقعات کو تو معمولی واقعات قرار دے کر بھلا دیا جاتا ہے، لیکن جب بڑے پیمانے پر افراد پر حملہ ہو تو وہ خبر کافی دنوں اہمیت اختیار کیے رکھتی ہے مثلاً 2015ء میں برناڈینو میں نئے شادی شدہ جوڑے کے، معذور افراد کے سینٹر میں فائرنگ کر کے 14 افراد کو موت کی نیند سلا دینا ، 2012ء میں نیو ٹاؤن میں ایک سکول میں مسلح شخص کی فائرنگ سے 27 افراد کی ہلاکت۔ 2017ء میں لاس ویگاس کے میوزک کنسرٹ کے دوران فائرنگ سے 58 افراد اور 2017ء میں ہی ٹیکساس کے ایک چرچ میں فائرنگ سے 26 افراد کی ہلاکت کے واقعات بہت لرزہ خیز ثابت ہوئے۔ ابھی حالیہ واقعہ جو 16 فروری 2018ء کو ریاست فلوریڈا کے ایک ہائی سکول میں پیش آیا۔ اس میں ایک نوجوان نیکولس کروز نے فائرنگ سے 17افراد کو موت کے گھات اتار دیا۔ اور کمال حیرت کی بات تھی کہ وہ اپنا جرم انجام دے کر چالیس منٹ تک میکڈونلڈ کے برگر اور ڈرنک سے لطف اندوز ہوتا رہا۔

یہ بھی پڑھیں:   ہاں یہ سازش ہے - جاوید چوہدری

ان واقعات کے تسلسل میں اضافے کے ساتھ ساتھ دل دہلا دینے والی بات یہ رہی کہ تعلیمی ادارے بڑی تعداد میں ان کا شکار بنے۔ 1996ء سے 2012ء تک سکولوں میں ہونے والے فائرنگ کے واقعات کی تعداد پچاس تھی، جبکہ 2012ء سے اب تک کے واقعات کی تعداد 160سے بھی ذیادہ ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ میں تعلیم کا نظام معاشرے کے کرداری و ثقافتی نظام کی اصلاح میں ہرگز بھی مددگار نہیں۔

سابق صدر اوباما نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ ”گن کلچر امریکی سماج کا حصہ بن چکا ہے۔ اور فائرنگ و اجتماعی قتل کے واقعات امریکہ میں ایک معمول بن چکے ہیں۔ “
امریکہ میں اس کلچر کو روکنے کے لیے جو قانون سازی کی گئی، وہ طاقت کا جواب طاقت سے دینے ہی کی حکمت عملی کا عکس تھی۔ اور اس کے تحت ہر شخص کو آزادی دی گئی کہ وہ اپنے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھا سکتا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ مسلح معاشرہ زیادہ شائستہ اور محفوظ ہوتا ہے۔ لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ ایسا معاشرہ بہت جلد ایک خونی معاشرے میں بدل جاتا ہے۔ 2005ء میں بنایا گیا قانون ” اسٹینڈ یور گراؤنڈ “ اسی سوچ کی تفسیر تھا۔ جسے اپنانے کے بعد امریکہ میں ایسے واقعات کی تعداد تین گنا زیادہ ہو گئی۔ اسی حکمت عملی کا اظہار خود ٹرمپ نے بھی اپنے ایک بیان سے کیا کہ ” اسکولوں کے اساتذہ اور طلبہ کو بھی اپنے ڈیفنس میں اسلحہ چلانا سیکھنا چاہیے“

آسڑیلیا میں 1987ء سے 1996ء تک کے دوران ایسے چار بڑے واقعات رونما ہوئے جن کے بعد ان کے عوام کی رائے گن اونر شپ کے سخت خلاف پائی گئی۔ اسی کے تحت وہاں پارلیمنٹ نے گن اونر شپ کے خلاف سخت قانون پاس کیا جس کے نتیجے میں ان واقعات پر قابو پالیا گیا۔ امریکہ میں بھی اب حالیہ واقعات کے بعد عوام کی سطح پر اس نقطہ نظر کی بھرپور مخالفت ہوتی نظر آئی۔ دوسری طرف اسلحہ ساز اداروں کی سیاسی لابیوں پر بھی انگلی اٹھائی جانے لگی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پون صدی کی لاحاصل جنگ - پروفیسر جمیل چودھری

عموماً ایسے واقعات کے محرکات میں فرد کی نفسیات کو مورد الزام ٹھہرا کر باقی تمام تر عوامل سے بری الذمہ ہوجانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اکثر واقعات میں ملزم کو موقع پر ہی ہلاک کر کے دوسرے عوامل پر سوچنے کی بھی راہ بند کردی جاتی ہے۔ تعصب، نسل پرستی کا عنصر بھی اس میں غالب رہا جیسا کہ اکثر مسلمانوں پر یا ہندوؤں اور سکھوں پر حملے کیے گئے۔ مثلاً ایک واقعے میں سکھوں کے گوردوارے پر حملہ کر کے چھ افراد کو ہلاک کر دیا گیا، اسی طرح نمازیوں پر حملے کرنا یا نوجوان ہندوؤں کو جان سے ماردینا، یہ امریکیوں کی سخت ترین نسل پرستی کی بدترین مثالیں رہیں۔ تعلیمی اداروں کے اکثر واقعات میں ادارے ہی کے کسی سابق طالب علم کا ہاتھ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ طالب عملوں کے نفسیاتی مسائل کو بہتر طور پر حل کرنے کے بجائے انھیں ادارے سے نکال کر سزا دی جاتی ہے جس کا بدلہ وہ ایسے واقعات سے لیتے ہیں۔ ڈپریشن، غصہ اور تناؤ جیسے عوارض کے علاوہ نئی امریکی نسل میں ابھرنے والی ایک بیماری خود پرستی بھی ہے جس کے تحت وہ نامور ہونے کے جنون میں ایسی کارروائیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں تاکہ میڈیا پر انہیں خاص کوریج مل سکے۔ یہ تھیوری خود امریکی نفسیات دانوں کی دی گئی ایک ریسرچ کا حصہ ہے، جس میں امریکیوں کی اٹینشن سیکنگ عادت یا جنون کی نشان دہی کی گئی ہے۔

امریکہ میں بڑھتے ہوئے پر تشدد واقعات کے بعد اب اسے سوچ لینا چاہیے کہ وہ دنیا کی یا اپنی سپر پاور حیثیت کو بچانے کی فکر کرنے کے بجائے اب اپنی عوام اور اپنی نئی نسل کی فکر کرے۔ اسے اب عالمی ٹھیکیداری کو چھوڑ کر اپنے معاشرے کو بچانے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔ کیونکہ ان واقعات میں اب وہ الزام مسلمانوں پر دھر کر بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ اپنی تمام تر توجہ اپنے اندرونی مسائل سے نپٹنے مین صرف کرتا ہے تو دنیا ایسی کئی عالمی سازشوں سے محفوظ ہو جائے گی جو امریکہ اور اسرائیل کی ملی بھگت سے ترتیب دی جاتی ہیں۔ اگر اس کا عوامی ردعمل اس کی اسلحہ ساز صنعت کو نکیل ڈالنے میں کامیاب ہو جائے تو شاید تیسری دنیا کو اندرونی و بیرونی جنگی صورتحال سے نکلنے میں مدد مل سکے۔ انہیں اپنے مسائل کو خود اپنے وسائل اور حکمت عملیوں سے حل کرنے اور اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کے مواقع میسر آسکیں۔ وہ خود انحصاری سے وہ آزادی پاسکیں جو ان کی عزت نفس کو بحال کر سکے۔

Comments

فارینہ الماس

فارینہ الماس

فارینہ الماس کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی روح میں گھلا ہوا ہے۔ ساتویں جماعت میں خواتین پر ہونے والے ظلم کے خلاف افسانہ لکھا جو نوائے وقت میں شائع ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم۔اے کیا، دوران تعلیم افسانوں کا مجموعہ اور ایک ناول کتابی شکل میں منظر عام پر آئے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.