زرداری سب پہ بھاری؟ حافظ یوسف سراج

سینیٹ انتخاب میں ووٹ ڈالے جا چکے تھے۔ اب گنتی جاری تھی ۔ بیلٹ باکس سے ایک ایک پرچی نکال کے پرکھی جا رہی تھی۔ اپوزیشن کے امیدوار صادق سنجرانی اور ن لیگ کے راجہ ظفرالحق، دونوں امیدواروں میں سے جو پرچی جس کے نام کی نکلتی ، اسی کے باکس میں رکھ دی جاتی۔ یہ مرحلہ نمٹ جانے کے بعد گنتی ہونا تھی اور پھر اعلان ہو جاتا کہ کون آئندہ کے لیے سینیٹ کی چیئرمینی کا حق دار قرار پایا۔ نتیجے کے اعلان کے انتظار میں لیکن سینیٹرز نہیں رہے۔ جوں جوں پرچیاں الگ الگ ڈبوں میں رکھی جاتی رہیں، توں توں وہ شمار کرتے گئے، جونہی سینیٹرز کی خود کردہ گنتی کے مطابق صادق سنجرانی کا ووٹ جیت کی تعداد سے آگے بڑھا، انھوں نے تالی پیٹ ڈالی اور یکایک سینیٹ ، ایک زرداری سب پہ بھاری کے نعروں سے گونج اٹھا۔ زرداری واقعی بھاری ثابت ہو چکا تھا۔ اس نے سینیٹ کی اکثریتی پارٹی ن لیگ کو گیم سے باہر نکال دیا تھا۔ مولانا فضل الرحمٰن کا تبصرہ اس پر دلچسپ تھا۔ فرمایا، بھاری زرداری نہیں، جو زرداری پر بھاری ہے ، وہی اصل میں سب پر بھاری ہے۔ سیاست میں نظریہ کے حامی تبصرہ نگار زرداری کی اس جیت کو اس کی شکست سے تعبیر کر رہے ہیں ، ان کے خیال میں زرداری پارٹی پر گذشتہ انتخاب میں نہیں ، دراصل اب بھاری ثابت ہوا ہے۔ گذشتہ انتخاب میں پارٹی سکڑی تھی ، جبکہ اب پارٹی کا نظریہ ہی لپیٹ دیا گیا۔ بھٹو اور بی بی نے بڑی جدوجہد کے بعد پارٹی کی شناخت اینٹی اسٹیبلشمنٹ رکھی تھی ، جبکہ زرداری نے آج وہ داغ پوری طرح سے دھو دیا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا عمران خان کے سابقہ بیانات چلا کے اس کے زرداری سے موجودہ تعاون پر طنز کر رہا ہے ، یہ بھی کچھ نئی بات نہیں۔ سیاست میں دوست ہوتے ہیں نہ دشمن ، بس سیاسی حریف ہوتے ہیں یا حلیف۔ ان حریفوں اور حلیفوں کی ترتیب بھی حسبِ موقع بدلتی رہتی ہے۔ پھر ایسا طرزِ عمل ہر پارٹی اور ہر لیڈر بوقتِ ضرورت اختیار کر چکا ہے۔ مشرف کے چہیتے ن لیگ میں اور زرداری کے چہیتے تحریک ِ انصاف میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ چھوٹے میاں نے جس زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنا تھا، ایک دن اسے ہم نے بڑے میاں کے محل میں ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے پایا۔ ویسے بھی لوگ سادھو سنت کہلانے کو تو سیاست کرتے نہیں۔ جماعت ِ اسلامی پر بھی تبرا کرنا مناسب نہیں۔ ہارے ہوئے اور مشکل میں پھنسے ہوئے پلڑے میں وزن ڈالنا ظرف کی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف سزا۔۔ کیا واقعی احتساب ہونے جا رہا ہے؟ سید معظم معین

اصل مشکل حالات اب ن لیگ کے لیے بننے والے ہیں۔ ن لیگ کے دوست اس صورتحال پر سخت رنجیدہ ہیں۔ سینیٹ کی چیئرمینی وہ اپنا حق سمجھتے تھے۔ ظاہر ہے وہ اکثریتی پارٹی تھی بھی۔ ہر کھیل مگر محض طاقت سے نہیں ، ہنرکاری سے بھی کھیلا جاتا ہے۔ سیاست کا کھیل کچھ زیادہ ہی۔ ن لیگ خوش قسمت رہی کہ زیادہ تر اسے موزوں حالات ہی ملے۔ کچھ مشکلیں بھی ان پر آئیں ، مگر ا س دوران بھی انھیں دوستوں کے کندھے اور سرپرستوں کے سائے میسر رہے۔ جنرل جیلانی سے لے کر مشرف مشکل میں سعودی حمایت تک ، ن لیگ کے لیے سفرِ سیاست جتنا آسان رہا ، ویسا البتہ اب آسان رہتا نظر نہیں آتا۔ اسٹیبلشمنٹ کو تو خود میاں صاحب نے للکار لیا۔ امام ِ کعبہ کی میاں نواز شریف کے ساتھ عدمِ ملاقات کے آئینے میں ، میاں کے حق میں سعودیہ کی آئندہ پالیسی بھی بخوبی دیکھی جا سکتی ہے۔ آج ن لیگ صورتحال کے جس گرداب میں آن پھنسی ہے، ن لیگ اسے زیادتی اور ناانصافی تو سمجھ رہی ہے، یہ بات لیکن اسے بھولنی نہیں چاہئے کہ کندھا دے کر اوپر لانے والے کندھا ہٹا لینے کا بھی حق رکھتے ہیں۔ پھر اسے ہٹا دینے پر مجبور بھی خود میاں صاحب نے سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ اسے انھوں نے نظرئیے کا نام دیا ہے۔ ظاہر ہے ، نظریہ قربانی مانگتا ہے، پارٹی اگر بچانی ہے تو قربانی تو اب دینی ہی ہوگی۔ ن لیگ کی صدارت چھوٹے میاں کو دے کر ایک قربانی تو دے دی گئی۔ یہ بھی اگرچہ آسان نہ تھی۔ ظاہر ہے، قربانی دینے کا مطلب پانا نہیں ، کھونا ہوتا ہے۔ جب آپ قربانی دینے لگتے ہیں تو پانے کی چاہ میں آئے کئی لوگ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ کروڑوں خرچ کر کے سیاست میں لوگ قربانیاں دینے آتے بھی نہیں۔ بد قسمتی سے خود سیاست دانوں نے اس معیار تک ابھی ہماری سیاست پہنچنے بھی نہیں دی۔ چنانچہ شہرت سن کے اور فیشن دیکھ کے آئے لوگ آئندہ الیکشن میں نیا فیشن اپنانے کی بھی سوچیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف سزا۔۔ کیا واقعی احتساب ہونے جا رہا ہے؟ سید معظم معین

دراصل میاں صاحب کو اب فرصت میں بیٹھ کے بہت کچھ نیا سوچنا ہوگا۔ نئے سفر پر پرانے تجربے کام نہیں آئیں گے۔ انھیں ضرور سوچنا چاہیے کہ جس لڑائی پر وہ نکلنا چاہ رہے ہیں، اکیلے وہ اسے نہیں لڑ سکتے۔ انھیں سوچنا ہو گا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کے نام پر شروع کی گئی ان کی جنگ میں خود انھی کا سیاسی قبیلہ کیوں ان سے الگ جا کھڑا ہوا۔ جذباتی لوگ اس پر کئی جلے اور کڑے تبصرے کریں گے ، سیاست لیکن زمینی حقائق پر استوار ہوتی ہے۔ یہ سوچنا ہی پڑے گا کہ آخر کیوں میثاقِ جمہوریت پر دستخط کرنے والی پی پی کو مخالف صف میں کھڑے ہونا پڑا۔ یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ سیاست کی کوئی لڑائی اکیلا آدمی نہیں لڑ سکتا۔ کسی نے لکڑی سے کہا ، لوہے کی کلہاڑی نے تمھیں کاٹ ڈالا۔ لکڑی بولی، اگر میری ہم جنس لکڑی لوہے کو دستہ فراہم نہ کرتی تو وہ کبھی مجھے کاٹ نہ سکتی۔ اس اہم موقع پر لکڑی لوہے کے ساتھ کیوں جا ملی ہے، میاں صاحب کو اس سوال کا بھی جواب ڈھونڈنا ہے۔ اگر وہ واقعی اپنے نظرئیے پر کاربند رہنا چاہتے ہیں تو تب ، وگرنہ نظریے سے کسی بھی وقت واپس بھی لوٹا جا سکتا ہے، جیسے جناب زرداری کی پارٹی لوٹ آئی۔ یاد رکھنے کی آخری بات یہ ہے کہ طاقت کوئی بھی ہو، وہ حالات سے فائدہ تو اٹھا سکتی ہے، حالات پیدا نہیں کر سکتی ، جس سے کوئی ہمارے خلاف فائدہ اٹھا سکے ، وہ حالات ہمارے اپنے ہی پیدا کردہ ہوتے ہیں۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.