انبیاء سے خلفاے راشدین تک - عظیم الرحمن عثمانی

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ کی رحمت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی تربیت کا اثر تھا کہ قرون وسطیٰ کے مردہ شہروں نے زندہ انسان پیدا کیے۔ گویا انسان کو جہالت کی عمیق گہرائیوں سے نکال کر انسانیت کی معراج پر پہنچا دیا۔ یہ تربیت یافتہ جماعت یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اجمعین ایسے عالی اوصاف کے مالک بنے کہ رہتی دنیا کے لیے مثال قرار پائے۔ راقم کا دیانتدارانہ احساس یہ ہے کہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ پیارے دوست اور شاگرد اخلاق اور اوصاف میں مختلف انبیاء کا عکس بن گئے تھے، بالخصوص خلفاے راشدین میں یہ پرتو اور بھی گہرا محسوس ہوتا ہے۔

خلیفہ اول صدیق اکبر یعنی محترم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حیات پر نظر ڈالتا ہوں تو رب العزت کی قسم یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حیات کو دیکھ رہا ۔ اگر ایک خلیل اللہ ہیں تو دوسرے خلیل رسول اللہ ہیں. (ﷺ)


پروانے کو چراغ ہے، بلبل کو پھول بس

صدیق کے لیے ہے خدا کا رسولﷺ بس


دونوں صدیقین کے گروہ کا تاج محسوس ہوتے ہیں۔ دونوں کے اوصاف میں ایمان کی گہرائی، صداقت، توکل وغیرہ ایک ہی جیسی شان کے ساتھ جلوہ گر محسوس ہوتے ۔ دونوں نے ایمان کو تحقیق و فکر کی گھاٹیوں سے گزر کر حاصل کیا ۔ ایک طرف ابراہیم ہیں جو بتوں کے انکار سے اپنا فکری سفر شروع کرتے ہیں، پھر دیگر فطرت کے مظاہر جیسے سورج، چاند، ستارے وغیرہ میں خدا کو ڈھونڈھتے ہیں اور بلآخر اپنی سلیم العقلی کے سبب یہ جان لیتے ہیں کہ یہ سب خود اپنی اصل میں مخلوق ہیں۔ خالق سبب نہیں مسبب الاسباب ہے۔ کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے، وہی خدا ہے۔ دکھائی بھی جو نہ دے نظر بھی جو آرہا ہے وہی خدا ہے! دوسری جانب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں جو اپنے تدبر و تفکر اور سلیم الفطرت ہونے کے سبب دعوت دین پہنچنے سے پہلے ہی ذہن و قلبی طور پر تیار ہوچکے تھے۔ چانچہ جب رسول کریم ﷺ کی دعوت پر لپک کر فوری لبیک کہنے والے پہلے مرد آپ ہی بنے۔ انسان فکری و عملی طور پر اکثر دو اقسام میں منقسم ہوتے ہیں۔ پہلی قسم ہے 'انٹرو ورٹ' یعنی خاموش طبع، نرم مزاج، سوچنے والے اذہان اور دوسری قسم ہے 'ایکسٹرو ورٹ' یعنی عملی میدان میں متحرک اور اپنا موقف عوام تک پورے زور و اعتماد کے ساتھ پہنچانے والے اشخاص۔ ہر انسان ان ہی میں سے کسی ایک قسم کا مزاج رکھتا ہے۔ گو تھوڑے سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو 'ایمبی ورٹ' یعنی بیک وقت دونوں بڑی اقسام ('انٹرو ورٹ' اور 'ایکسٹرو ورٹ') کے خواص اپنی فطرت میں سمیٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ دونوں ان ہی چند لوگوں یعنی 'ایمبی ورٹ' میں سے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ دونوں بزرگ جہاں حلیم المزاج اور تنہائی میں تدبر کرنے والے تھے، وہاں حق بات دوٹوک انداز میں عوام تک پہنچانے اور زبردست قائدانہ صلاحیتوں سے بھی مزین تھے۔

خلیفہ دوم محترم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حیات مبارکہ پر طائرانہ نظر ڈالیں تو ممکن ہی نہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یاد نہ آجائے۔ اگر ایک کلیم اللہ ہیں تو دوسرے کی تائید میں کلام اللہ کی آیات موجود ہیں۔ یہ دونوں بزرگ 'ایکسٹرو ورٹ' یعنی عملی میدان میں انتہائی متحرک اور حکم الہی یعنی شریعت کے اطلاق میں شدید محسوس ہوتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کی ملاقات کی روداد ایک سبق یہ بھی دیتی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام شریعت کے اطلاق میں کس قدر شدید تھے۔ اسی طرح عمر رضی اللہ عنہ کی حیات میں ایسے ان گنت واقعات نظر آتے ہیں جہاں دور نبوی ﷺ میں اور اپنے دور خلافت میں، آپ نے آگے بڑھ کر شرعی قوانین کے نفاز میں کلیدی کردار ادا کیا۔ غالباً یہی وجہ رہی کہ رسول پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام قتل خطاء کے نتیجے میں تربیتی مراحل سے گزرتے ہیں اور پھر نبوت سے سرفراز ہوتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ قتل عمد کی نیت سے نکلتے ہیں اور تربیت پاکر اسلام کی نعمت پاجاتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام آگ کی جانب بڑھتے ہیں اور اللہ کو خود سے ہم کلام پاتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیت اللہ میں چھپ کر رسول کریم ﷺ کی دوران نماز تلاوت سنتے ہیں اور اللہ رب العزت کو سورہ الحاقہ میں خود سے ہمکلام پاتے ہیں۔ جسمانی طور پر اور غصے کے اعتبار سے بھی یہ دونوں بزرگ ایک ہی شخصیت کا سا بیان محسوس ہوتے ہیں۔

خلیفہ سوم محترم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ میں حضرت ایوب علیہ السلام کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔ صبر و حلم کی وہی پیغمبرانہ شان حضرت عثمان رضی اللہ عنہ میں بھی جھلکتی ہے جو صابر و شاکر حضرت ایوب علیہ السلام کا خاصہ تھی۔ ایک طرف شدید ترین بیماری میں حضرت ایوب علیہ السلام کو ان کا تمام حلقہ احباب چھوڑ دیتا ہے مگر یہ اللہ کے ولی ذرہ برابر شکوہ نہیں کرتے اور دوسری طرف عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں جن کے دور خلافت میں ہی ان کے خلاف ایک زبردست محاذ برپا کردیا جاتا ہے، الزامات لگائے جاتے ہیں، یہاں تک کہ شہید کردیا جاتا ہے مگر یہ اللہ کے ولی صبر و استقامت کا ایسا پہاڑ بنے نظر آتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ بلکہ سچ پوچھیے تو ان کے حالات خلافت پڑھ کر کبھی ان کی نرمی طبیعت سے شکایت سی ہونے لگتی ہے۔ مگر وہ ہم جیسے عام انسان کہاں تھے؟ وہ تو سراسر صبر اور سر تا پیر محبت ہی محبت تھے۔ شاید یہی وجہ تھی جو رسول کریم ﷺ نے پہلے اپنی ایک بیٹی کو آپ کے نکاح میں دیا اور جب ان کا انتقال ہوا تو دوسری بیٹی کو بھی آپ کے نکاح میں دے دیا۔ اسی وجہ سے آپ کو ذوالنورین یعنی دو نور والا کہا جاتا ہے۔ نبی پاک ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر میری چالیس بیٹیاں بھی ہوتیں تو یکے بعد دیگرے عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دے دیتا۔ آپ دونوں بزرگ 'انٹرو ورٹ' یعنی خاموش طبع، شرمیلے، نرم مزاج، سوچنے والے انسان محسوس ہوتے ہیں۔

خلیفہ چہارم محترم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی مبارک شخصیت میں جلیل القدر رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت پوری آب و تاب سے چمکتی دمکتی نظر آتی ہے۔ اگر ایک اللہ کا کلمہ بن کر آئے تو دوسرے رسول اللہ کا کلمہ بن گئے۔ میرا اشارہ اس حدیث کی جانب ہے جس میں ارشاد ہوا کہ میں ﷺ علم کا شہر ہوں اور علی رضی اللہ عنہ اس کا دروازہ ہیں۔ کوئی مانے نہ مانے مگر دونوں بزرگوں کی شخصیت میں ایک روحانی پراسراریت ضرور نظر آتی ہے۔ جہاں عیسیٰ علیہ السلام اپنے بلیغ کلام اور حکیمانہ وعظ کے سبب مقبول و معروف ہیں، وہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکیمانہ اقوال و خطبات آج بھی امت کے لیے عظیم خزانہ ہیں۔ ان دونوں بزرگوں میں ایک زبردست مماثلت کا بیان مسند احمد کی ایک حدیث میں کچھ ان الفاظ میں بیان ہوا ہے کہ مزید کچھ کہنے لکھنے کی حاجت نہیں رہتی:
وعن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " فيك مثل من عيسى أبغضته اليهود حتى بهتوا أمه وأحبته النصارى حتى أنزلوه بالمنزلة التي ليست له " . ثم قال : يهلك في رجلان : محب مفرط يقرظني بما ليس في ومبغض يحمله شنآني على أن يبهتني . رواه أحمد

حضرت علی کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو فرمایا " تم میں عیسیٰ علیہ السلام سے ایک طرح کی مشابہت ہے، یہودیوں نے ان (عیسیٰ علیہ السلام) سے بغض رکھا تو اتنا زیادہ رکھا کہ ان کی ماں (مریم علیہ السلام) پر بہتان باندھا اور عیسائیوں نے ان سے محبت و وابستگی قائم کی تو اتنی کہ ان کو اس مرتبہ ومقام پر پہنچا دیا جو ان کے لیے ثابت نہیں ہے (یعنی ان کو " اللہ " یا ابن اللہ " قرار دے ڈالا معاذ اللہ)۔ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد حضرت علی نے کہا (مجھے یقین ہے کہ اس ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح میرے بارے میں بھی) دو شخص یعنی دو گروہ اس طرح ہلاک ہوں گے کہ ان میں سے ایک تو جو مجھ سے محبت رکھنے والا ہوگا اور اس محبت میں حد سے متجاوز ہوگا، مجھ کو ان خوبیوں اور بڑائیوں کا حامل قرار دے گا جو مجھ میں نہیں ہوں گی، اور ایک جو مجھ سے بغض وعناد رکھنے والا ہوگا، میری دشمنی سے مغلوب ہو کر مجھ پر بہتان باندھے گا۔" (احمد)
.

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں