مارکیٹ سسٹم ریاست کے بغیر قائم ہو جاتا ہے؟ محمد زاہدصدیق مغل

1) آپ کی ہونے والی والدہ کا حمل ٹھہرگیا ہے اور اب آپ کی پیدائش سے قبل انھیں "معیاری" ڈاکٹر و نرسنگ سسٹم کی ضرورت ہے۔ مگر انہیں خطرہ ہے کہ "مارکیٹ میں میسر" جعلی ڈاکٹر ان کے ہونے والے بچے کو نقصان نہ پہنچا دے۔ تو اب ضرورت ہے کہ ریاست ایک ایسا ادارہ بنائے جو کھرے اور کھوٹے ڈاکٹر اور ہسپتال کا معیار طے کرے اور کھوٹے کام کرنے والوں کے سراغ لگانے کا نظام بھی بنائے۔

2) اب آپ پیدا ہوگئے ہیں اور آپ کی والدہ نے بازار سے آپ کی پہلی خوراک خریدنا ہے، مگر انھیں ڈر ہے کہ "مارکیٹ میں میسر" سیریلز میں کہیں ملاوٹ نہ ہو۔ تو اب ضرورت ہے کہ ریاست ایک ایسا ادارہ تشکیل دے جو کھرے اور کھوٹے کھانے میں تمیز قائم کرے اور ان کا سراغ لگانے کا نظام بھی وضع کرے۔

3) اب آپ ذرا بڑے ہوگئے ہیں، کچھ فروٹ وغیرہ کھانے لگے ہیں مگر والدہ کو ڈر ہے کہ "مارکیٹ میں میسر" پھلوں میں کوئی زہریلی ادویات کا چھڑکاؤ نہ کرتا رہا ہو۔ تو اب ضرورت ہے کہ ریاست ایک ایسا ادارہ تشکیل دے جو کھرے و کھوٹے زرعی طریقوں کی نشاندہی کر سکے اور کھوٹے کام کرنے والوں کے سراغ لگانے کا نظام بھی بنائے۔

4) آپ بیمار ہوگئے ہیں اور والدہ پوائنٹ نمبر 1 کے سبب ملنے والے معیاری ڈاکٹر سے رابطہ کرتی ہیں، جو انہیں کچھ دوائیں تجویز کرتا ہے۔ مگر والدہ کو ڈر ہے کہ "مارکیٹ میں میسر" دوائیں کہیں جعلی نہ ہوں۔ تو اب ضرورت ہے کہ ریاست ایک ایسا ادارہ تشکیل دے جو کھری اور کھوٹی ادویات میں تمیز قائم کرے اور کھوٹے کام کرنے والوں کے سراغ لگانے کا نظام بھی بنائے۔

5) اب آپ بڑے ہوگئے ہیں اور سکول جانا ہے مگر والدہ کو ڈر ہے کہ "مارکیٹ میں میسر" سکول کہیں جعلی نہ ہو نیز جو کچھ آپ کو پڑھایا جانا ہے کہیں وہ نامناسب نہ ہو۔ تو اب ضرورت ہے کہ ریاست ایک ایسا ادارہ قائم کرے جو کھرے اور کھوٹے سکول کا معیار طے کرے اور کھوٹے کام کرنے والوں کے سراغ کا نظام بھی بنائے۔

یہ بھی پڑھیں:   حقوق الوالدین - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

6) آپ کی والدہ آپ کو سکول خود نہیں چھوڑ سکتیں کہ سکول دور ہے لہذا "مارکیٹ میں میسر" ایک گاڑی والے سے پک اینڈ ڈراپ کا معاہدہ کرلیا۔ مگر انہیں ڈر ہے کہ کہیں گاڑی دو نمبر یا ڈرائیور جعلی نہ ہو۔ تو اب ضرورت ہے کہ ریاست ایک ایسا ادارہ بنائے جو کھرے اور کھوٹے ڈرائیور اور گاڑی کا معیار طے کرے اور کھوٹے کام کرنے والوں کے سراغ کا نظام بھی بنائے۔

7) معاہدہ تو طے پاگیا ہے مگر اب انہیں یہ ڈر ہے کہ کہیں دوسرے لوگ غلط ڈرائیونگ کرتے ہوئے حادثہ نہ کر دیں۔ تو اب ضرورت ہے کہ ریاست ایک ایسا ادارہ بنائے جو ڈرائیونگ کے کھرے اور کھوٹے طریقوں کی نشان دہی کرے اور کھوٹے کام کرنے والوں کے سراغ کا نظام بھی بنائے۔

8) اب آپ کی والدہ کو یہ خطرہ ہے کہ سکول والے اور "مارکیٹ میں میسر" استاد کہیں میرے بچے کے ساتھ ناروا سلوک اختیار نہ کریں۔ تو اب ضرورت ہے کہ ریاست ایسا ادارہ قائم کرے جو سکول کے اندر بچے کے ساتھ روا رکھے جانے والے کھرے اور کھوٹے رویے کا معیار طے کرے اور کھوٹے کام کرنے والوں کے سراغ کا نظام بھی بنائے۔

9) اب والدہ کو ڈر ہے کہ "مارکیٹ میں میسر" سکول والے کہیں میرے بچے کی ذہانت کے باوجود اس کے ساتھ امتیازی سلوک کرکے کسی دوسرے کو آگے نہ کر دیں۔ تو اب ضرورت ہے کہ ریاست ایک ایسا ادارہ قائم کرے جو کھرے اور کھوٹے طالب علم کو پرکھنے کا پیمانہ قائم کرے اور کھوٹے کام کرنے والوں کے سراغ کا نظام بھی بنائے۔

10) والدین کو خطرہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی دوسرا بچہ میرے بچے کا لنچ چھین کر کھا جائے یا اس کے ساتھ مار پیٹ کرے۔ تو اب ضرورت ہے کہ ریاست ایک ایسا ادارہ قائم کرے جو طلبہ کے آپسی کھرے و کھوٹے رویے کو پرکھنے کا پیمانہ قائم کرے اور کھوٹے کام کرنے والوں کے سراغ کا نظام بھی بنائے۔

یہ بھی پڑھیں:   اصلاح کا واحد راستا - عبدالباسط ذوالفقار

دھیان رہے کہ ابھی بچہ پیدا ہوکر صرف سکول پہنچا ہے اور اس کی تعلیم ابھی شروع نہیں ہوئی۔ مارکیٹ اکانومی میں صرف اتنے سے سفر کے لیے اسے کم از کم دس ریاستی اداروں کی ضرورت ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نظام کے اندر پل بڑھ کر بڑا ہونے والا یہ بچہ کہتا ہے کہ
"مارکیٹ نظم از خود فطری طور پر قائم ہوجاتا ہے، ریاست کو اس میں مداخلت نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ریاست کی مداخلت سے یہ خراب ہوجاتا ہے۔"
ایسا اس لیے کیونکہ لبرل سیکولر فکر نے اسے یہ جھانسا دے رکھا ہے کہ مارکیٹ نظم "فطری" ہوتا ہے (یعنی یہ افراد کی فطری خود غرضانہ جستجو کے نتیجے میں خود بخود قائم ہوبھی جاتا ہے اور قائم رہ بھی سکتا ہے) نہ کہ "انجینئیرڈ"۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.