مغرب اور مسلمان عورت - ناصر فاروق

سورج سرد پڑ جائے، چاند ماند پڑجائے، ہوا رُک جائے، پاني ٹھہرجائے، درخت پھل دينا بند کردے، پھول مہکنا بند کردے، يہ سب اپنے کام ترک کردیں، ظاہر ہے، نتيجہ قيامت خيزہوگا اور کائنات کا شيرازہ بکھرجائے گا۔ رب العزت نے قرآن حکيم ميں صراحت سے نظام کائنات کا بےنقص ہونا، اور اشياء ميں کامل مطابقت کا کثرت سے ذکر کيا ہے، يہي مساوات عالم ہے۔ يہي فلسفہ مساوات انساني معاشرے کے لیے ہے، اس سلسلے ميں عورت کا معين کردار بنيادي ہے۔

اگرعورت ماں نہ رہے، اگر عورت بہن اور بيٹي نہ رہے، اگرعورت بيوي نہ رہے، بلا شبہ، انسانوں کا معاشرہ قائم نہ رہے گا۔ يہ سيدھا سا تاريخي سچ ہے۔ يہ سچ مغرب ميں زميني حقيقت بن چکا ہے۔ يہ سچ مشرق ميں پيش قدمي کر رہا ہے۔ دو حاليہ مظاہر فرانس اور سعودي عرب سے سامنے آ رہے ہيں۔ انھیں سمجھنے کے لیے اس سچ کا تاريخي تناظر ايک نظر ضروری ہوگا۔

مرد اور عورت انساني معاشرے کي اکائي ہيں۔ يہ اکائي خاندان تشکيل ديتي ہے۔ خاندان معاشرہ سازي کرتا ہے۔ مستحکم معاشرہ تہذيب کي تخليق ميں بنيادي کردار ادا کرتا ہے۔ يہ انساني تہذيب ہي دنيا کي منزل ہے، آخرت کی مراد ہے۔ عورت اس سارے سفرميں کليدي کردار ادا کرتي ہے۔ يہ شاہ کليد اگر ہاتھ سے نکل جائے، تہذيب کا شيرازہ بکھرجاتا ہے۔

مغرب میں عورت کا استیصال ابتداء سے ہے۔ يورپ کي Emancipation Movement سے شروع کرتے ہیں۔ زميندارانہ اور جاگيردارانہ مظالم کے خلاف عورتوں نے تحريک چلائي، زمينداروں کي جنسي ہراساني سے نجات کے لیے جدوجہد کي، ووٹ کے لیے آواز بلند کي، عائلي قوانين ميں برابري کا حق مانگا، مزدوري پرمردوں جتني اجرت کا مطالبہ کيا۔ مگر مظالم کچھ اور سنگين ہوگئے۔ 'صنعتي عہد' کي آمد نے شہروں، ديہاتوں، اور قصبات کي دنيا ہي بدل کر رکھ دي۔ حقوق کي تلاش ميں سرگرداں عورت مشيني فيکٹريوں کي بيگار ميں جا پھنسي۔ ہرے بھرے زرعي ماحول کے بچھڑے جب دھواں اڑاتي چمنيوں تلے ملے، مايوس چہروں پرسياہي چھائي تھي۔ عورتوں کو حقوق نہ ديے گئے، بلکہ مزيد جنسي ہراساني کا شکار بنايا گيا۔ سستي مزدوري نے اس حال ميں پہنچايا کہ جسم فروشي بھي شکم سيري نہ کرسکي۔ بچوں کوفيکٹريوں کي کال کوٹھڑيوں ميں بچپن بتانا پڑا۔ يہ ہے جديديت کي وہ آبياري، جس کے تناظرميں مغربي عورت کا حال سمجھنا بہتر ہوگا۔ کيونکہ حقوق اور مساوات کے حاليہ نعروں کا ماضي 'صنعتي عہد' کي ہولناک وراثت ہي ہے۔ عظيم انگريزي اديب چارلس ڈکنزکا پچپن لندن کي فيکٹريوں ميں جس طرح پائمال ہوا، اسے آپ بيتي ناول David Copperfield اور Great Expectations ميں ديکھا اور محسوس کيا جاسکتا ہے۔

يہ دور عورت کي تباہي اور خاندان کي بربادي ميں کوئي ثاني نہيں رکھتا۔ ايک ماں اور ايک بيوي کے جذبات مشينوں ميں کچلے گئے۔ جسم اور روح کا رشتہ جوڑتے جوڑتے عورت سب رشتے توڑ بيٹھي۔ اب وہ صرف پراڈکٹ بن چکي تھي، جسے پسند کيا جاتا تھا، خريدا جاتا تھا، بيچا جاتا تھا، اور بےعزت کيا جاتا تھا۔ عورت کي يہ حالت مزيد خراب ہوتي چلي گئي۔ عالمي جنگوں ميں مردوں کي موت نے اس پراڈکٹ کي قدر و قيمت کچھ اور گرادي۔ عورت کا بيڑہ غرق کرديا گيا۔ بيوائيں بيسوائيں بن کر رہ گئيں۔ رہي حقوق کي صورتحال، وہ فريب اور دھوکے کي زد ميں ہي رہي۔ عورت بہرحال مارکيٹ پراڈکٹ ہي رہي، اور آج بھي ہے۔ ترميم يہ ہوئي ہے کہ يہ 'پراڈکٹ' رنگ و روغن اور بيش قيمت زيب و آرائش ميں لپيٹ دي گئي ہے۔ آج کي جديد جاہليت ميں 'پراڈکٹ' کي جديد ترين حالت تاريخي شواہد کي شہادت دے رہي ہے۔ مغرب کي سب سے دولت مند اور مثالي نمونہ (ماڈلز، فنکارائيں) خواتين جنسي زيادتي اور ہراساني پر آج بھي نوحہ کناں ہيں۔

عام مغربي عورت کا حال فرانس سے تازہ ترين سروے ميں سامنے آيا ہے۔ فرانس کي کل خواتين کا بارہ فيصد يعني چاليس لاکھ ايک يا زائد بار جنسي زيادتي کا شکار ہو چکا ہے۔ فرانسيسي تھنک ٹینک فاؤنڈیشن کي افسوسناک رپورٹ کہتي ہے کہ تينتاليس فيصد خواتين کو کم از کم ايک بار ہراساں کيا گيا۔ اٹھاون فيصد فرانسيسي خواتين کو نازيبا تبصروں اور تجاويزکا سامنا کرنا پڑا۔ اس رپورٹ کا سب سے المناک پہلو يہ ہے کہ بياليس فيصد کيسز ميں بچيوں اور نوجوان لڑکيوں کواپنے ہي گھروں ميں نشانہ بنايا گيا۔ ان خواتين کا پانچواں حصہ خودکشي کي کوشش بھي کر چکا ہے۔ يہ جائزہ رپورٹ دوہزار ايک سو سڑسٹھ خواتين کي آراء سے تيار ہوئي ہے، يعني اصل صورتحال بہت زيادہ سنگين ہے۔ مالي مجبوريوں اورنشے کي حالتوں ميں جنسي استيصال اور بے راہ روي بےحساب ہے۔ اس ساري صورتحال ميں تشويش کا سارا حصہ لبرل سيکولرخواتين کا ہے۔ يہاں سارا احتجاج لادين عورت کا ہے۔ يہ رپورٹ کسي مذہبي تنظيم نے تيار نہيں کي، اور نہ ہي ہالي وڈ سے بلند ہوتي صدائے احتجاج کا کسي مذہب کسي الٰہياتي اخلاقيات سے کچھ لينا دينا ہے۔ عورت کي يہ حالت زارمغرب کا اصل روپ ہے، جو ريمپ پرجتنا خوشنما نظرآتا ہے، پس منظرميں اتنا ہي بھيانک اور داغدارہے۔

مشرق ميں عورت کي تباہي کا نيا منصوبہ سعودي عرب ميں رو بہ عمل ہے، مقصد اس کا اسلامي معاشرے کي تباہ کاري ہے۔ کيونکہ اسلامي معاشرے کي بربادي مشرق کي بربادي ہے، مشرق ميں اسلامي معاشرے کے سوا سب مکمل مغرب زدہ ہوچکے ہيں۔ سعودي عرب کے بادشاہ شاہ سلمان اور ولي عہد محمد بن سلمان نے مغرب سے 'وژن 2030' کا پراجيکٹ درآمد کيا ہے۔ اس کا سب سے اہم پہلو عرب مسلمان عورت کوگھر کي چار ديواري سے فيشن ريمپ تک پہنچانا ہے۔ مغرب کا فلسفہ 'مساوات' ہي استعمال کيا جا رہا ہے۔ بظاہر بےضرر قسم کي اجازتيں دي جا رہي ہيں، جو اسلام کي نسبت عرب ثقافت سے زيادہ متعلق ہيں۔ ان ہي اجازتوں ميں بے راہ روي کي راہ ہموار کي جارہي ہے۔ جيسے خواتين کا سينما اور خواتين کا فيشن شو وغيرہ۔ تفصيل روز ہي بتدريج سامنے آ رہي ہے۔ تاثر يہ ديا جا رہا ہے، کہ عرب يعني اسلامي معاشرہ مغربي معنوں ميں قدامت پرست ہے، اور اسے مغربي جديديت کي ضرورت ہے۔ اسلام کے خلاف جديد جہالت کي يہ دليل عالمي ذرائع ابلاغ کا 'سلوگن' بن چکي ہے۔

اب سوال يہ ہے کہ مغرب کي جديد عورت مسلمان عورت کے لیے کيسا معيار ہو سکتي ہے؟ کيا مشرقي اور مسلمان عورت کي تاريخ اور تکميل کا مغرب کي عورت سے کوئي موازنہ کيا جاسکتا ہے؟

مغرب کي عورت کا معياراور تاريخ کا ذکر آچکا ہے۔ يقينا اسلام ميں عورت کي يہ تاريخ نہيں ہے۔ بلا شبہ، اسلام ميں عورت کے لیے ذلت و غربت موجود نہيں۔ اس تاريخ ميں کہيں عورت کے ساتھ جنسي ہراساني و زيادتي موجود نہيں۔ يہاں معززگھرانے کا بچپن ہے۔ يہاں محبت بھري ممتا ہے، لاڈلي بيٹي ہے، وفادار بيوي ہے، اور ايک ايسا پرسکون خاندان ہے، جس کا سارا معاشي بوجھ مرد کے کاندھے پر ہے۔ يہاں کوئي ماں بہن بيٹي بازار میں بيچي نہيں جاتي، خريدي نہيں جاتي، بےعزت نہيں کي جاتي۔ يہاں عورت خاندان بناتي ہے۔ معاشرہ سازي کرتي ہے۔ تہذيب تشکيل ديتي ہے۔ انساني تہذيب کي واحد ضمانت اب مسلمان عورت ہي ہے۔ اس ليے يہ مغرب کا مرکزي ہدف ہے۔

کيا مغرب يہ ہدف حآصل کرسکتا ہے؟ ظاہر ہے، يہ ناممکن ہے۔ وجہ سادہ سي ہے۔ مسلمان خواتين کي غالب اکثريت اسلامي تشخص سے مطمئن ہے۔ يہ اکثريت خاندان کي اہميت سے واقف ہے۔ يہ اکثريت ہرگز ريمپ پر تماشا بننے کےلیے تيار نہيں۔ يہ اکثريت ہرگز رنگين پراڈکٹ بننے پر آمادہ نہيں۔ اس ليے کہ عورت کي عزت نفس يہ سب گوارا نہيں کرسکتي۔ مغرب کي اس جنگ ميں فتح مسلمان عورت کا مقدر ہے۔ يہ عورت ڈاکٹرعافيہ صديقي کي ناقابل تسخير روح ہے۔ يہ عورت ترک خاتون اول اميني اردوان کا وجود ہے۔ يہ عورت مريم رڈلے کا سا حوصلہ ہے۔ يہ عورت آسيہ اندرابي کا سا عزم ہے۔ يہ عورت مريم جميلہ کي سي ميراث ہے۔