ڈبل نااہل - امجد طفیل بھٹی

پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو گا جو کہ ایک سے زائد مرتبہ وزارت عظمیٰ سے بھی نکالا گیا ہو اور ہر طرح کی سیاست سے نااہل بھی قرار دیا گیا ہو ،سوائے میاں نواز شریف کے جن کو تین مرتبہ اپنی وزارت عظمیٰ کی آئینی مدت پوری کیے بغیر برطرف کیا گیا ۔ میاں صاحب کو ذرا کھلے ذہن سے اور مشیروں کے مشوروں کے بغیر یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ خرابی ہے کدھر ؟ کیا پاکستان کے سارے ادارے انکے مخالف ہیں ؟ یا پھر انکے اپنے اندر کوئی ایسی بڑی خامی موجود ہے جو کہ ہر بار انکا سر یعنی کہ انکی وزارت عظمیٰ کا سر لے لیتی ہے ، جنرل پرویز مشرف کی بار تو میاں صاحب نے خود ہی خود کو دس سال کے لیے سیاست سے دور رہنے کا معاہدہ کیا تھا مگر اب کی بار تو قانونی طریقے سے فیصلے کی زد میں آ کر نااہل قرار دیے گئے ہیں ۔ مگر میاں صاحب اور انکے چند ایک نمک حلال دوستوں نے ابھی تک “ میں ناں مانوں “ کی رٹ لگائی ہوئی ہے یعنی کہ پاکستان کی عدلیہ کے فیصلوں کو ہی ماننے سے انکار کیا ہوا ہے ، دوسرے لفظوں میں آئینِ پاکستان کو ہی نہیں مان رہے اور کہہ رہے ہیں کہ ایک ادارے کے ہاتھ پارلیمنٹ کی گردن تک پہنچ گئے ہیں حالانکہ میاں صاحب تو پارلیمنٹ کا حصہ ہی نہیں ہیں ۔ یہی ہمارے ملک کی سیاست کا المیہ ہے کہ یہاں وزیر ، مشیر اور ارکان پارلیمنٹ اپنے آپ کو آئین و قانون سے بالاتر سمجھتے ہوئے خود کو All in All سمجھنے لگتے ہیں ۔ ہر کرپشن سکینڈل ، ہر معاملے کے پیچھے جب بھی کسی سیاستدان کا نام آتا ہے تو وہ لوگ اس کو سیاسی انتقام کا نام دیتے ہوئے خود کو پاک صاف سمجھتے ہیں ۔

اب کی بار تو میاں صاحب کو عدالتوں میں کھلا موقع ملا تھا کہ خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے تمام تر ثبوت فراہم کرتے مگر وہ ناکام رہے حالانکہ مرکز میں اور پنجاب میں اپنی حکومت ہونے اور تمام تر حکومتی مشینری کو استعمال کرنے کے باوجود بھی وہ اپنے حق میں کوئی ایسا ٹھوس ثبوت نہ پیش کر سکے جو کہ اعلیٰ عدلیہ کے معزز ججز کو مطمعن کر سکتا ۔ اب یہ تو دنیا کا اصول ہے کہ جب بھی کسی ملزم کو عدالتوں کے ذریعے مجرم ثابت کیا گیا تو وہ خود کو بے گناہ اور بے قصور ہی کہتا ہے ، بالکل اسی طرح میاں صاحب بھی خود کو مظلوم تصور کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انکے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   جمہوریت اور جمہوری حقوق - حبیب الرحمٰن

جیسا کہ مسلم لیگ کے سینئر رہنما چوہدری نثار سینکڑوں مرتبہ یہ بیان دے چکے ہیں کہ میاں نواز شریف کو انکے خوشامدی مشیروں نے ڈبویا ہے جو کہ انکو اُلٹے سیدھے ، ڈٹے رہنے اور قومی اداروں کے خلاف محاذ کھولنے کے مشوروں سے نوازتے ہیں ۔ اور اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ہر حکومتی وزیر ہی توہین عدالت کے کیس میں سپریم کورٹ میں پیشیاں بھگت رہا ہے ۔ عدالت کے فیصلوں کو ماننے سے انکار کا مطلب ہی توہین عدالت ہے جو کہ مسلسل کی جارہی ہے ۔ اب اگر میاں صاحب تحریک عدل کی بات کرتے ہیں تو عوام تو یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ یہ تحریک اصل میں کس کے خلاف ہوگی ؟ اس کا منطقی انجام کیا ہوگا ؟ کیا ملک میں ایک بار پھر حالات آؤٹ آف کنٹرول ہوجائیں گے ؟ کیا پھر ملک میں مارشل لاء کی راہ ہموار ہو جائے گی ؟ پہلے ہی حکومتی جماعت جلد بازی میں آئینی ترمیم کے ذریعے نااہل شخص کو پارٹی صدارت سے نواز چکی ہے اور نتیجہ یہ نکلا کہ میاں صاحب کی نااہلی کے بطور پارٹی صدر کیے گئے فیصلوں پہ سوال کھڑا ہو گیا ہے ۔ دوسری طرف حکومتی جماعت کے مفاد پرست ٹولہ مسلسل میاں صاحب کو ہی اپنا لیڈر مان کر اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کر رہا ہیں ۔

جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ میاں صاحب ہر طرف سے بند گلی میں پھنس گئے ہیں اب نہ تو وزارت رہی اور نہ ہی سیاست میں کوئی کردار ، جبکہ خوشآمدی لوگ جہاں وزن دیکھیں گے خود بھی اُدھر جا کر بیٹھ جائیں گے ۔اس کی ایک بہت بڑی اور جیتی جاگتی مثال مولانا فضل الرحمان کی ہے جو کہ زرداری صاحب اور میاں صاحب کے دور اقتدار میں مضبوط اتحادی بنے رہے اور وزارتوں اور فنڈز کے مزے لُوٹتے رہے مگر جیسے ہی ان لوگوں کے اقتدار کا سورج غروب ہوا مولانا صاحب نے بڑی ہوشیاری سے خود کو نہ صرف ان لوگوں سے الگ کر لیا بلکہ یہ بھی کہہ دیا کہ میں نواز شریف اور زرداری کے ہوتے ہوئے ملک کے حالات بہتر نہیں ہو سکتے ۔ دوغلے پن اور منافقت کی انتہا ہے مگر عوام میں اس قدر سیاسی شعور کی کمی ہے کہ وہ کسی بات کو سمجھنے کو تیار ہی نہیں ہیں ۔ ایک ڈبل نااہل شخص کے جلسوں میں زور زور سے “ اک واری فِر شیر “ کے نعرے لگوا لگوا کر میاں صاحب کو جھوٹی تسلی کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آپ ہی سب کچھ ہیں ، آپکے بغیر ملک نہیں چل سکتا اور آپکو کوئی چھیڑ نہیں سکتا حالانکہ سب کچھ تو ہو چکا ، سر سے پانی گزر چکا ، میاں صاحب گھر جا چکے مگر کچھ مفاد پرست لوگ میاں صاحب کو “ ٹکرا جانے “ کی پالیسی پر گامزن کیے ہوئے ہیں جوکہ سراسر میاں صاحب کے پاؤں پہ کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے ،

یہ بھی پڑھیں:   فوج اقتدار بھی پلیٹ میں رکھ کے دے؟ - سمیع احمد کلیا

لگتا ہے کہ میں صاحب کے حواری اُنہیں آزاد نہیں دیکھنا چاہتے یا پھر اُنہیں راہ سے ہٹانا چاہتے ہیں تب ہی تو میاں صاحب نے اپنا موازنہ شیخ مجیب الرحمان سے کرنا شروع کردیا ہے اور یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ وہ ایک محب وطن شخص تھے اور انہیں حالات نے غداری پر مجبور کیا تھا اور ایسا نہ ہو کہ وہ بھی ایسا کر گزریں ، جبکہ انہیں پتہ ہے یہ ملک ہے تو ہی انکا نام ہے ورنہ انکے پلے کچھ بھی نہیں ہے ۔ یہ محض دھمکیاں ہی ہوسکتی ہیں تاکہ اداروں کو دباؤ میں لایا جا سکے اور فیصلوں کا رخ اپنے حق میں موڑا جا سکے ۔

Comments

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں