ہوئے رُسوا ہم اپنے ہی ہاتھوں - ابراہیم جمال بٹ

’’مسائل و مصائب سے کسی کو مفر نہیں لیکن مسائل کو جھیلنا اور برداشت کرنا بہادری کی ایک اہم پہچان ہوتی ہے۔ جس نے بھی مصیبت پر صبر اور مسائل پر غور و فکر کرکے اُن کا حل نکالنے کی حتی المقدور کوششیں کی، اسی کو بہادر مانا جاتا ہے اور جس نے مصیبت پر برداشت اور مسائل پر غور نہ کیا اُسے دنیا ’عاقل، بہادر اور ہیرو‘ ہی کیوں نہ کہے، حقیقت میں وہ بزدلی ،عقلی کمزوری اور ناتوانی کا شکار ہوتا ہے۔‘‘
گویا ’مسائل‘ بہادری اور بزدلی کے درمیان ایک ایسی فرق کرنے والی شے ہے، جسے ہرگز دماغ سے نہ گل ہونے دینا چاہیے۔ اس دنیا میں کون کس مقام پر کھڑا ہے اور کس کی کیا حقیقت ہے اسے ان دو ’مسائل ومصیبت‘ کے وقت اپنا جائزہ لینا چاہیے، کیوں کہ یہ دو چیزیں ایسی ہیں جن سے انسان کو اپنے آپ کے بارے میں وہ راز واشگاف ہو کر واضح ہو جائے گا کہ وہ کن خزانے کا مالک ہے اور اس کے پاس کیا دولت ہے۔

آج کے مادی دور میں لوگ مسائل، مشکلات اور مصیبتوں کے ہر جگہ اور ہر مکاں پر شکار ہیں۔ اس میں نہ صرف وہ لوگ جو ایک خدا کے ماننے والے ہیں بلکہ تمام لوگ جن میں خدا بیزار لوگ اور ایک سے زیادہ معبود بنائے ہوئے لوگ بھی شامل ہیں، زندگی کے مختلف مسائل سے جوجھ رہے ہیں۔ ہر جانب ان مسائل ومصائب نے لوگوں کا جینا دوبھر کر کے رکھ دیاہے۔ موجودہ دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں مسائل کے اتھاہ سمندر نہ ہوں، جہاں عوام الناس پر مصیبتوں کے پہاڑ نہ ٹوٹ پڑ رہے ہوں۔ مسلمان ممالک غیروں سے زیادہ اپنوں کی وجہ سے مسائل ومصیبتوں کے شکار ہو رہے ہیں، ان پر اگرچہ سازشیں رچی جا رہی ہیں لیکن وہ ان سازشوں پر غور کرنے کے بجائے اپنی اپنی انا اور ہٹ دھرمی پر قائم رہ کر ایک دوسرے کو پچھاڑنے میں لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے درمیان روز بہ روز مسائل کے انبھار جمع ہو رہے ہیں، ان پر مصیبتوں کا نزول رکنے کا نام ہی نہیں لیتا ہے، ہر روز کوئی نئی مصیبت آکے جنم لیتی ہے۔ ان حالات میں مسلمان اقوام جو کہ اصل میں ایک ’’قوم‘‘ کی حیثیت سے وجود میں لائے جا چکے تھے، کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ ایک طرف اپنوں کا ڈر اور دوسری جانب غیروں کی سازشوں نے مسلمانوں کو تتر بتر کر کے رکھ دیا ہے۔ اس بکھراؤ کے نتیجے میں آج حالت یہ ہے کہ کسی مسلمان کو دوسرے بھائی کی فکر نہیں بلکہ اگریہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ ایک ہی قوم سے وابستہ لوگ اپنوں کے بھی وفادار نہیں۔ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مصداق آج حالت یہاں تک پہنچی ہے کہ ایک چھوٹے خطے کے مسلمانوں میں بھی اس قدر چپقلش پائی جا رہی ہیں کہ ایک دوسرے کی عزت ووقار کا بھی کوئی خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔ عام لوگ تو عام لوگ ہیں، ذی علم اور ذی حس طبقہ بھی اس میں اس قدر محوِ جدوجہد ہیں کہ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ آپس میں ہی ایک دوسرے کوپچھاڑنے ، دستار اُتارنے اور عزت ریزی کرنے سے مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔ کہیں رنگ ونسل کے نام پر، کہیں ذات پات کے نام پر، کہیں عرب وعجم کے نام پر اور کہیں مسلک وفرقہ وجماعت کے نام پرآج ایک دوسرے کی عزت کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے اور ظاہر ہے کہ اس ساری صورتحال سے ہمارے مصائب ومشکلات میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جائے گا بلکہ ہماری اس سوچ اور عمل سے سازشی ذہن رکھنے والے ان غیروں کے ہاتھ بھی مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک سو چوالیس سوال - مرزا فراز بیگ

امت کے موجودہ بکھراؤ اور اس سوچ کی وجہ سے آج نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ دشمن دشمنی کے روپ میں نہیں بلکہ اپنوں کا ہی روپ اختیار کر چکا ہے۔ اسے معلوم ہو چکا ہے کہ کس طرح اس بکھری ہوئی ملت کو مزید بکھیر کر تباہی کے دہانے پر پہنچانا ہے۔ اس لیے دیکھا جاتا ہے کہ ہر مسلم ملک کو مزید بکھیر دینے اور ٹکڑوں میں تبدیل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ’’جسے دیکھنا ہو دیکھ لے، عالم اسلام کے موجودہ بوسیدہ نقشے پر دشمنوں کی قینچی پورے زور سے چل رہی ہے۔ ہر چند ماہ بعد ہمیں کوئی نیا ’’پرخچہ‘‘ مل جاتا ہے۔‘‘ عرب جس کی لرز سے پوری دنیا کے غیر اقوام تھرتھرا رہے تھے، آج وہاں ظلم وفساد پھیلایا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ مسلم ممالک کا بکھرائو ہی تو ہے۔ عربستان سے لیکر عجمستان تک کا حال عیاں وبیاں ہے، جہاں کہیں بھی مسلمان رہتے ہیں ایک دوسرے کے مدمقابل پائے جا رہے ہیں۔ہم نے نہ عثمانیوں کی لاج رکھی نہ عباسیوں کادبدبہ قائم رکھ سکے۔ ہم نے از خود اپنی شاندار تاریخ کو داغدار کردیا ہے، ہم نے اغیار کو بدلہ لینے کے لیے ازخود موقع فراہم کیا ہے۔ 1924ء اسلامی خلافت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے میں ہماری یہی آپسی رسہ کشی اور ایک دوسرے کا گریبان پکڑ نا ذمہ دار ہے۔
بہرحال کسی نے اس حوالے سے کیا ہی خوب کہا ہے :
’’حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے بلکہ بدلنے کے منتظر ہوتے ہیں البتہ حالات کی تبدیلی اور ان میں بہتری تب ہی آسکتی ہے جب انسان اپنی انا اور ہٹ دھرمی چھوڑدے، بزدلی کے بجائے بہادری کا ثبوت دے اور صبر کا پیمانہ ہاتھ سے نہ جانے دے۔‘‘

’’صبر ناگزیر ہے، صبر کے بغیر خدا کی راہ میں کیابلکہ کسی بھی راہ میں بھی کوشش نہیں ہو سکتی۔ صبر کے متعدد پہلوؤں میں ایک یہ بھی ہے کہ جلد بازی سے شدید اجتناب کیا جائے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ کسی راہ میں جدوجہد کرتے ہوئے دشواریوں اور مخالفتوں اور مزاحمتوں کے مقابلہ میں استقامت دکھائی جائے اور قدم پیچھے نہ ہٹایا جائے۔ تیسرا پہلو یہ ہے کہ کوششوں کا کوئی نتیجہ اگر جلدی حاصل نہ ہو تب بھی ہمت نہیں ہاری جائے بلکہ پیہم سعی جاری رکھی جائے ایک اور پہلو یہ ہے کہ مقصد کی راہ میں بڑے سے بڑے خطرات، نقصانات اور خوف وطمع کے مواقع بھی اگر پیش آجائیں تو قدم کو لغزش نہ ہونے پائے اور یہ بھی صبر ہی کا ایک شعبہ ہے کہ اشتعالِ جذبات کے سخت سے سخت مواقع پر بھی آدمی اپنے ذہن کا توازن نہ کھوئے۔ جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی قدم نہ اٹھائے۔ ہمیشہ سکون عقل اور ٹھنڈی قوت فیصلہ کے ساتھ کام کرے۔‘‘ (سید مودودیؒ)

یہ بھی پڑھیں:   ایک سو چوالیس سوال - مرزا فراز بیگ

اس کے ساتھ ساتھ مسائل اور مشکلات اور مصائب کی شکار ہو چکی اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے مسلمان قوم کو اپنی ’’اصل قومیت‘‘پر کھڑے ہو نے کی ضرورت ہے۔ جس کے لیے انفرادی واجتماعی وملی مسائل ومشکلات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ امت مسائل ومشکلات کی شکار کیوں ہے؟ اس جانب توجہ فرمانے کی اشد ضرورت ہے، عوام کو باخبر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس پر مزید یہ کہ مصیبتیں تو پھر بھی آنی ہی ہیں بلکہ یہ مصیبتیں بھی آزمائش کا حصہ ہوتی ہیں ، مسلمان کو اس پر پختہ ایمان ہے لیکن اس سب کے باوجود مصیبتوں پر صبر کر کے ڈٹ جانے کا درس ہم بھلا بیٹھے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم بزدلی اور عملی ناتوانی کے شکار ہو چکے ہیں۔
’’جب مسلمان ایک بار پھر اپنی اصل شخصیت کا حامل بن جائے گا اور امت مسلمہ ازسر نو اپنے حقیقی مشن کی راہ میں جدوجہد کے لیے اٹھ کھڑی ہو جائے گی تو فطری طور پر وہ سب سے پہلے ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کرے گی جن میں اس مشن کی انجام دہی ممکن ہو۔ اس سلسلے میں اولین اہمیت مسلمان ممالک کے سماج کے موجودہ ڈھانچے کو بدل کر ایک عادلانہ سماج اور سوچ قائم کرنے کو حاصل ہے جس میں ہر فرد کو انسانیت کی تعمیر نو کے مشترکہ کام میں فکری اور عملی طور پر پورا پورا حصہ لینے کے یکساں مواقع میسر ہوں۔‘‘